Welcome Guest! To enable all features please try to register or login.
9 Pages123>»
1433 Hijree
imbajjo Offline
#1 Posted : Saturday, November 26, 2011 9:08:12 AM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 10/13/2010(UTC)
Posts: 1,710
Points: 5,160
Woman
Location: kuwait

Thanks: 33 times
Was thanked: 35 time(s) in 28 post(s)

بسمِ اللہِ الرّحمٰنِ الرّحیم
آج چھبّیس نومبر بروز ہفتہ،
کویت میں یکم محرّم الحرام ہے
یا اللہ
تمام تعریفیں آپ ہی کے لیئے ہیں۔۔
ہم آپ سے دعا کرتے ہیں کہ
ہم سب کے لیئے یہ سال باعثِ خیر و برکت ہو
ہم سب کے لیئے یہ سال خوشیوں کا پیغام لائے،
ہم سبکی فکریں اور پریشانیاں دُور ہوں
ہم سبکی جائز حاجات اپنی بارگاہ میں قبول فرمائیے
ہم سبکو اپنے پسندیدہ بندوں میں ،
اپنے شکرگزار بندوں میں شامل فرمایئے
ہمیں قرآن سمجھنے اور اُس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمایئے
ہم سے راضی ہوجایئے آمین
آمین یا ربَّ العٰلمین

---

Sponsor  
 
Jia Offline
#2 Posted : Saturday, November 26, 2011 10:40:57 AM(UTC)

Rank: The KP Queen

Groups: Member, Moderators
Joined: 11/30/2008(UTC)
Posts: 5,993
Points: 4,062
Woman
Location: karachi

Thanks: 16 times
Was thanked: 18 time(s) in 17 post(s)

آمین یا ربَّ العٰلمین

---

وَقُل رَّبِّ ٱرۡحَمۡهُمَا كَمَا رَبَّيَانِى صَغِيرً۬ا
اے میرے رب جس طرح انہوں(والدین) نے مجھے بچپن سےپالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما
( سورة بنیٓ اسرآئیل / الإسرَاء آیت 24
Submit Your Recipe | Dinnerware Showcase

imbajjo Offline
#3 Posted : Wednesday, November 30, 2011 8:50:07 AM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 10/13/2010(UTC)
Posts: 1,710
Points: 5,160
Woman
Location: kuwait

Thanks: 33 times
Was thanked: 35 time(s) in 28 post(s)
سورۃ النساء
--
آیت نمبر 46 - 48

--
توبہ کی اہمیت
--
اِس درس کا آغاز ہورہا ہے آیت نمبر چھیالیس سے اور اِسکا مضمون پہلی آیات سے ملتا جلتا ہے
گذشتہ درس میں آپ سُن چکے کہ
ہم سے پہلے جن لوگوں کو کتاب دی گئی اللہ پاک اُنکےبارےمیں فرماتےہیں کہ
"وہ گمراہی کو خریدتےہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ تمہیں بھی سیدھے راستے سے ہٹادیں"

اور اب آیت نمبر چھیالیس میں فرمایا:
"اور جو لوگ یہودی ہوگئے ہیں وہ کلام کو اُسکے موقعوں سے پھیردیتے ہیں۔۔۔"


ایک ہے "جو لوگ یہودی ہیں"
اور دوسرا ہے "جولوگ یہودی ہوگئے ہیں"
دونوں میں فرق ہے۔۔
جولوگ یہودی ہیں، ابتداء ہی سے ۔۔ نسلاً۔۔۔ ،
اسلیئے کہ یہودیت جو ہے یہ ایک نسلی مذہب ہے،
جو حضرت یعقوب علیہ السّلام
یا یہ کہہ لیں کہ حضرت اسرائیل علیہ السّلام کی نسل سے تعلق رکھنے والےہیں، وہ اپنے آپکو یہودی کہتے ہیں
اور کچھ لوگ وہ ہیں جو یہودی "ہوگئے"
یہاں اُن عربوں کی طرف اشارہ ہے جو نسل کےاعتبار سے یہودی نہیں تھےلیکن یہودیوں کی صحبت میں رہ کر،یہودیوں کے رنگ میں رنگ گئے اور اُنکے عظائم اور عقائد بھی یہودیوں جیسےہوگئے

تو اللہ فرماتے ہیں:
"اور جو لوگ یہودی ہوگئے ہیں وہ کلام کو اُسکے موقعوں سے پھیردیتے ہیں۔۔۔"


{تحریف کردیتےہیں، بائیبل کےماننےوالوں نے بائیبل میں لفظی تحریف بھی کی ہےاورمعنوی تحریف بھی کی ہےاور بائیبل میں تحریف کا ہونا ایک ایسی حقیقت ہے جسے صرف مسلمان محقّقین اور
علماء نے ثابت نہیں کیا،بلکہ خود عیسائی محقّقین نے بھی اِسے تسلیم کیا ہے۔

کہ بائیبل کے اندر، یعنی تورات اور اِنجیل میں تحریف ہوئی ہے،لفظی تحریف بھی اور معنوی تحریف بھی،
لفظی تحریف تو یہ کہ ایک لفظ کی جگہ دوسرا لفظ، ایک آیت کی جگہ دوسری آیت،اُسمیں شامل کردینا-
ایسی بات جو تورات اور انجیل میں تھی اُسکو نکال دینا۔
اور جو نہیں تھی اُسکو ڈال دینا۔
یہ تو لفظی تحریف ہوگئی۔۔
الحمدللہ ، اللہ کی آخری کتاب، قرآنِ کریم اس قسم کی تحریف سےمکمل طورپرمحفوظ ہے۔۔کوئی لفظ، کوئی آیت، کوئی سورت،کوئی جملہ تو کیا بدلا جاسکےگا،ہمارا یقین ہےکہ سوا چودہ سو سال کے عرصےمیں،اسکی کسی "حرکت" ، "شوشے" ، کسی "زبر" ، " زیر" ، "پیش" میں بھی کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکی۔۔
اور تحریف کی دوسری قِسم ہے ، معنوی تحریف ،
کہ الفاظ کے معانی اپنی خواہشات اور اپنی مرضی کے
مطابق بیان کردینا۔}

تو اللہ فرماتے ہیں:
"اور جو لوگ یہودی ہوگئے ہیں وہ کلام کو اُسکے موقعوں سے پھیردیتے ہیں۔۔۔اور وہ کہتے ہیں ہم نے سُن لیا مگر مانا نہیں"

{نافرمانی کی۔۔ ظاہری مطلب تو یہ تھا کہ 'ہم آپکی سُنینگے اور غیر کی نافرمانی کرینگے'
۔ اور دِل میں مطلب یہ لیتے
'ہم نے کانوں سے تو سُن لیا،لیکن دِل سے تیری بات نہیں مانینگے'
یہ بھی تحریف کہ زبان سے تو کچھ اور کہتے اور دل میں اسکا مفہوم اور معنیٰ کچھ اور لیتے}

دوسری مثال : وہ کہتے۔۔ 'آپ سُنیں اور آپکو سُنوایا نہ جائے'
{ظاہری مطلب تو یہ کہ 'آپ ہماری بات سُنیں اور آپکو کوئی تکلیف دہ بات سُننی نہ پڑے'
لیکن دل میں مفہوم یہ لیتے۔۔ 'سُن اور {معاذاللہ} تُو بہرہ ہوجائے'

تجھے کچھ سننا نہ پڑے، تو کچھ سن نہ سکے یا اگر سنے تو شر کی بات سنے، اللہ کرے تجھے کوئی خیر کی بات سننے کو نہ ملے، دل میں یہ مطلب مُراد لیتے}

اب یہ کون بیان فرمارہا ہے؟ میرا اللہ۔۔ جو اُنکے دل کو جانتا تھا
ظاہری الفاظ تو بڑے پُرکشش تھے اور پُر تاثیر تھے اور پُر عشق تھے
لیکن انکے اندر نجاست بھری ہوئی تھی،انکے دلوں میں، اور دلوں کا حال جاننے والا۔۔۔ اللہ۔

تو عزیز قارئین صرف ظاہری شعر و شاعری سے اللہ خوش نہیں ہوتا،اللہ دل کو جانتا ہے، کہ دل میں کیا ہے؟ ہزار ہم کہتے رہیں، 'ہم حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم پر قربان، ہم حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم پر قربان' اور دل میں یہ بات نہیں ہے تو اللہ کے ہاں اس زبانی جمع خرچ کی کوئی قدر و قیمت نہیں

تیسری مثال۔۔ "راعِنا میں دین میں طعنہ زنی کی راہ سے زبانوں کو توڑتے موڑتے ہیں"
{عجیب انداز میں کہہ کر پکارتے۔۔اب ایک تو عربی کا لفظ ہے "راعِنا" ۔۔۔ اسکا معنیٰ تو یہ تھا
'ہمارا خیال کریں، بات سمجھ نہیں آئی دوبارہ سمجھادیں، ہماری رعایت کریں'
لیکن وہ اپنی زبان میں اسکو توڑ پھوڑ کر بولتےتھے۔۔ جسکا ایک معنیٰ تو بنتا تھا احمق اور بےوقوف اور دوسرے معنیٰ کے اعتبارسےبھی بڑی سخت گالی تھی انکی زبان میں، تو وہ گالی والا معنیٰ مراد لیتےاورحماقت والامعنیٰ مراد لیتے۔۔۔

۔۔۔ مسلمانوں کو پتہ نہیں تھا۔ مسلمان سیدھے سادے بھولے بھالے،اور مسلمانوں کی زبان عربی--تو مسلمان بھی انکا دیکھا دیکھی بعض اوقات یہی لفظ بولتے۔۔
حضورصلّی اللہ علیہ وسلّم سے کہتے "راعنا" ۔۔۔
حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم ہمارا خیال کیجیئے، بات سمجھ نہیں آئی، بات دہرادیجیئے

مگر میرا اللہ تو جانتا تھا کہ 'یہ میرے حبیب صلّی اللہ علیہ وسلّم کی بےادبی کررہےہیں'
اور ظالم چاہتے ہیں کہ ہم گالی دیں اور سرِ عام دیں اور پتہ بھی نہ چلےکہ گالی دےرہےہیں
بلکہ نہ صرف خود گالی دیں بلکہ مسلمانوں کی زبان سےبھی گالی کہلوائیں}
اللہ اکبر----
کیا آج بھی ایسا نہیں ہے؟



یہ بد بخت۔۔۔
میرے اور آپکے آقا صلّی اللہ علیہ وسلّم کے دشمن۔۔
یہ چاہتے ہیں کہ حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کی شان میں گستاخی کریں
اور یہ چاہتے ہیں کہ مسلمان بھی گستاخی کریں،
کہتے ہیں 'ہم بار بار کارٹون بنائیںگے، بار بار گالیاں دینگے، تاکہ مسلمانوں کے اندر تحمّل پیدا ہوجائے' ان بد بختوں کے ہاں بے غیرتی کا نام ہے = تحمّل۔ رواداری ، برداشت۔۔
وہ اللہ جانتا تھا کہ یہ کس نیّت سے کہتے ہیں؟ تو اللہ پاک نے مسلمانوں کو منع کردیا
"تم آئندہ یہ لفظ نہیں بولنا"
ہم پڑھ چکے سورت البقرہ کی آیت نمبر ایک سو چار میں:
اللہ نے فرمایا
"اے ایمان والو تم{ وہ لفظ نہ بولو جس لفظ سے میرے حبیب صلّی اللہ علیہ وسلّم کی توہین کا پہلو نکلتا ہے} راعِنا نہ کہو۔۔ تم اسکے بجائے اُنظرنا کا لفظ بول لیا کرو"
معنیٰ دونوں کا ایک لیکن "راعنا" میں گالی کا احتمال تھا،بےادبی کا امکان تھا اور "اُنظرنا" میں یہ پہلو نہیں ہے،تو اللہ نے فرمایا کہ تم یہ لفظ بول لو۔

آیت کے اگلے حصے میں ارشاد ہے:
"اور اگر وہ کہتے، ہم نے سن لیا اور ہم نے قبول کرلیا ، اور سُنیئے۔۔{ راعنا کے بجائے} انظرنا کہتے - یہ انکے لیئے زیادہ بہتر تھا اور درست تر- لیکن اللہ نے ان پر لعنت کی انکے کفر کی وجہ سے۔۔۔۔۔۔"

{جس پر اللہ کی لعنت ہوجائے تو کیا ہوتا ہے؟ وہ اللہ کی رحمت سے محروم ہوجاتا ہے
لعنت کا معنیٰ یہ ہے کہ تم اللہ کی رحمت سے محروم ہوجاوَ،اسی لیئے ہمیں منع کیا گیا ہے کہ کسی پر لعنت نہ کرو۔ کسی متعیّن پر لعنت نہ کرو۔۔ یوں تو کہہ سکتے ہیں کہ چوروں پر، قاتلوں پر اللہ کی لعنت ہو، لیکن متعیّن طور پر کسی کی طرف اشارہ کرکے یہ نہ کہا جائے کہ تیرے اوپر اللہ کی لعنت ہو۔۔۔ چاہےدشمن ہی کیوں نہ ہو، کیوں کوئی اللہ کی رحمت سے محروم ہوجائے؟ اب بتایئے۔۔۔ کہاں تو یہ تعلیم ہے کہ دشمن کو بھی متعیّن کرکے یہ نہ کہو،کہ تمہارےاوپر اللہ کی لعنت۔۔ اور کہاں ہم؟ کہ اپنی اولاد تک کو کہہ دیتے ہیں کہ تمہارے اوپر اللہ کی لعنت ہو۔۔۔۔اپنے عزیزوں کو کہہ دیتے ہیں۔۔۔ذرہ ذرہ سے اختلاف پرکہہ دیتے ہیں۔}
بالخصوص جیسا کہ حدیث سے ثابت ہے،کہ عورتوں میں یہ عادت زیادہ ہے۔۔ اور ہمارے آقا صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا کہ:
"عورتوں کے دوزخ میں جانےکی ایک وجہ یہ بھی ہوگی کہ یہ لعنت بہت کرتی ہیں"
{بد دعا بہت دیتی ہیں۔۔۔ تو ہم سبکو چاہیئے کہ اپنی زبان کے استعمال میں اور بد دعا دینے میں احتیاط سےکام لیں}
۔۔
اب آیت نمبر سینتالیس:
"اےوہ لوگو جنکو کتاب دی گئی ہے، ایمان لے آوَ اس کتاب پر،جو ہم نے نازل کی ہے،اور یہ کتاب تصدیق کرتی ہے اُن کتابوں کی،جو تمہارے پاس ہیں"

{قرآن پہلی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے،اسمیں کوئی شک نہیں۔۔ یہ بات اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں بار بار بیان کی۔۔۔ قرآن پہلی کتابوں پر مصدّق بھی ہے-- قرآن پہلی کتابوں پر مہیمن بھی ہے۔۔۔۔

مصدّق، یعنی پہلی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے:
قرآن بتاتا ہے کہ تورات، اللہ کی کتاب ہے،
قرآن بتاتا ہے کہ انجیل، اللہ کی کتاب ہے،
قرآن بتاتا ہے کہ زبُور، اللہ کی کتاب ہے،
اور قرآن بتاتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السّلام ،
حضرت اسمعٰیل علیہ السّلام، حضرت موسیٰ علیہ السّلام،حضرت عیسیٰ علیہ السّلام،
حضرت یحییٰ علیہ السّلام ، حضرت یونس علیہ السّلام، حضرت داوَد علیہ السّلام ،
یہ سارے کےسارے ، اللہ کے نبی تھے ، اِن پر صحیفےنازل ہوئے۔۔ بلکہ ہمیں قرآن نہ بتاتا تو ہمیں پتہ ہی نہ چلتا۔۔ اور پہلی کتابوں میں جو بنیادی مضامین ہیں،قرآن انکی بھی تصدیق کرتا ہے،اور بنیادی مضامین تو تمام آسمانی کتابوں میں مشترک ہیں، بنیادی مضامین میں کوئی اختلاف نہیں،
توحید کا مضمون ساری کتابوں میں، نبوّت کا مضمون ساری کتابوں میں،
آخرت کا مضمون ساری کتابوں میں،اللہ کی عبادت کا مضمون ساری کتابوں میں،
نماز کا مضمون، زکوٰة کا مضمون ساری کتابوں میں،
مخلوقِ خدا کی بہتری کے بارے میں سوچنا،یہ مضمون ساری کتابوں میں،
اخلاقِ حسنہ کی تعریف،یہ مضمون ساری کتابوں میں،
اور بُرے اخلاق کی مذمّت،یہ مضمون ساری کتابوں میں ہے،
تو جو بنیادی مضامین ہیں ان میں ساری کتابیں متفق ہیں،
نماز، زکوٰة وغیرہ ایسے اعمال ہیں جو ہر شریعت میں تھے،
ہر نبی علیہ السّلام کی تعلیمات میں تھے۔۔۔تو قرآن پہلی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے}

تو اللہ فرما رہے ہیں۔۔
کہ یہ کتاب کوئی الگ کتاب نہیں،تمہارے پاس جو کچھ ہے اسکےموافق ہے،اسکی تصدیق کرتی ہے۔۔
حیرت کی بات نہیں ہے؟ مسلمان یہ تسلیم کرتے ہیں کہ سینا پر حضرت موسیٰ علیہ السّلام کو تورات ملی،
اور انجیل پر مسلمان کا ایمان،
لیکن یہود و نصاریٰ تسلیم نہیں کرتے کہ فاران میں اور غارِ حرا میں محمد الرّسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کو قرآن ملا،
وہ نہیں مانتے اور ہم مانتے ہیں،
عجیب بات ہے،
ہمیں کہتے ہیں تنگ دل، تنگ نظر، تنگ ظرف۔۔
بتایئے۔۔جوسارےنبیوں کو مانتے ہیں اور سبکی تعریف کرتے ہیں،
اور ساری کتابوں کی تصدیق کرتے ہیں، وہ تنگ نظر ہیں یا وہ ؟
جو اپنی کتاب کے علاوہ ہر کتاب کا انکار کرتے ہیں۔
اور اپنے نبی کے علاوہ سب نبیوں سے بُغض رکھتے ہیں۔ وہ تنگ نظر ہیں؟

الحمدللہ اللہ پاک نے ہمیں، وُسعتِ نظر سے نوازا ہے،اور یہ وُسعتِ نظر اور وُسعتِ قلب ہمیں قران سے مِلی ہے،
ہمیں محمد الرّسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے قدموں کی خاک سے ملی ہے،آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی تعلیمات سے ملی ہیں،
اگر ہم قرآن کے ماننے والے نہ ہوتے اور حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کے ماننے والے نہ ہوتے ،
تو ہم بھی تنگ نظر ہوتے،تنگ دل ہوتے، دوسرے نبیوں پر کیچڑ اُچھالتے،
لیکن ہم ایسا نہیں کرتے،
ہمارے مُنہ سے تو کبھی کسی نبی کا نام نکل جائے اور ہم "علیہ السّلام" نہ کہیں تو ڈر جاتے ہیں۔
کہ نبی کا نام لِیا ، "علیہ السّلام " کیوں نہ کہا؟
اہتمام کرتے ہیں کہ جس نبی کا بھی نام لیں ، ہم ۔۔ "علیہ السّلام " ، "علیہ السّلام " ، "علیہ السّلام " ، کہیں ۔
لیکن دنیا کا کوئی دوسرا مذہب نہیں ہے , جو ہمارے پیارے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کا نام اسطرح ادب و احترام سے لیتا ہو۔۔ {تحقیق کر کے دیکھ لیجیئے} کوئی مذہب ایسا نہیں ہے۔ بہت سے لوگ جو یورپ والوں کی وُسعتِ قلبی سے، فراخدلی سے، وُسعتِ نظر سے، رواداری سے، اور انکے تحمّل کی جھوٹی داستانوں سے بڑے متاَثر ہوتے ہیں، وہ کبھی انکو قریب سے دیکھیں کہ وہ اسلام، پیغمبرِ اسلام صلّی اللہ علیہ وسلّم ، کتابِ اسلام،اور اُمّتِ اسلام، سے کسقدر دِلوں میں نفرت رکھتے ہیں، اگر انکے بس میں ہو تو وہ اِن سبکا نام و نشان دنیا سے مِٹادیں۔ مگر مِٹا نہیں سکتے ۔۔ اسلیئے کہ یہ وہ چراغ ہیں جِسے جلائے رکھنے کی ضمانت اللہ نے لی ہے۔۔ اور اللہ جلائے رکھےگا۔۔

"اےوہ لوگو جنکو کتاب دی گئی ہے، ایمان لے آوَ اس کتاب پر،جو ہم نے نازل کی ہے،اور یہ کتاب تصدیق کرتی ہے اُن کتابوں کی،جو تمہارے پاس ہیں۔۔۔ قبل اسکے کہ ہم چہروں کو مِٹا ڈالیں۔ اور چہروں کو انکے پیچھے کی جانب اُلٹادیں۔۔"

{اللہ کا یہ عذاب آسکتا ہے اُسکے لیئے جو اللہ کی کتاب کو ٹھکرائےاور اللہ کی کتاب پر ایمان نہ لائے، یہ عذاب کہ اللہ پاک اسکے چہرے کو مِٹاڈالےیا چہرےکواسکےپیچھےکی جانب الٹادے، اللہ یہ کرسکتا ہے۔۔ دو مطلب ہیں اسکے،
ایک مطلب چہرے کو مِٹاڈالنے کا یہ کہ چہرہ بالکل سپاٹ اور صاف ہوجائے،نہ اسمیں آنکھ نہ ہونٹ، بالکل سیدھا،اور اللہ عبرت کے لیئے بعض اوقات ایسا کر بھی دیتا ہے اور یہ بھی کرسکتے ہیں کہ چہرےکوبالکل پیچھے کی جانب الٹادیں، ایک مطلب تو یہ ہوا اور دوسرا مطلب یہ کہ اگر تم ایمان نہ لائے اور ہماری کتاب کی تصدیق نہ کی توہم تمہیں ذلیل کردینگے

"۔۔۔۔ یا اُن پر لعنت کردیں، جیسا کہ ہم نے لعنت کی ہفتے والوں پر۔۔۔"

{کون تھے ہفتے والے؟ جنہیں اللہ پاک نے "یوم السّبت" میں ہفتے کے دن میں عبادت کا حُکم دیا تھا اور وہ ہفتے کےدِن میں عبادت کرتے بھی تھے،لیکن اللہ نے کہا تھا کہ پورا ہفتے کا دن میری عبادت میں گزارو۔اُنہوں نے تاویل کی,
حیلےبازی سےکام لِیا، اورجیساکہ آپ جانتے ہیں،وہ پہلے سے کھودے گئے گڑھے کے اندر مچھلیاں جمع کرلیتے تھے اور اتوار کے دن پکڑتےتھے، کہتے تھے کہ "ہم ہفتےکےدِن شکار نہیں کرتے،اللہ پاک نے شکار کرنے سے منع کِیاہے۔" ۔۔۔۔ لیکن اللہ نے تو کہا تھا کہ "پورا" ہفتےکا دِن، صبح سے شام تک میری عبادت کرنا ہے اور کُچھ نہیں کرنا۔۔ تو اُنہوں نے تاویل کی کہ ہم ہفتےکےدِن شکارتونہیں کرینگے،لیکن گڑھوں کے اندر مچھلیاں ڈال لینگے،شکار کرینگے اتوار کے دن۔۔ انکا امتحان اللہ نے ایسے لیا تھا کہ ہفتے کے دن مچھلیاں زیادہ آتی تھیں، للچاتے تھے کہ کیا کریں؟ عبادت کریں یا شکار کریں؟ تو شیطان نے یہ تیسرا طریقہ انہیں بتادیا کہ عبادت بھی کرلو اور یہ جمع بھی کرلو۔۔۔ یہ انکا امتحان تھا اسمیں ناکام ہوگئے۔
یہ مچھلیاں تو انکا ذریعۃ معاش تھیں،اُنکے گزران کا ذریعہ تھیں، اور میرے بھائیو۔۔ میری بہنو یہ کرکٹ کے مقابلے ،
یہ ہمارا ذریعۃ معاش تو نہیں ہیں۔۔ یہ ہماری گُزران تو نہیں ہیں۔۔ اِن سے ہمارا پیٹ تو نہیں پلتا ہے۔۔ اِن سے ہمارے گھر تو نہیں بنتے۔۔ لیکن کیا آج ہمارا بھی امتحان نہیں ہورہا---؟
کرکٹ کے مقابلے ہوئے اور مسجد سے نمازی کم۔۔ پتہ چلا کہ مَیچ ہورہا ہے۔۔ عَین تراویح کا وقت۔۔ اور نمازی غائب۔۔
رمضان کا مہینہ، بابرکت مہینہ، تلاوت کا مہینہ، قرآن سُننے سُنانے کا مہینہ،
اور امتحان لیا گیا کرکت مَیچ کے ذریعے ۔۔ اور مسلمان پِھسل گیا۔۔ نمازی پِھسل گیا، بِہک گیا۔۔ نماز کو چھوڑکر ، ٹی وی کے سامنے جا کر بیٹھ گیا۔۔
لعنت ہوئی ہے اُن لوگوں پر جنہوں نے ہفتے کے دن کی بے حُرمتی کی تھی، ہم رمضان کے مہینےکی بےحُرمتی کررہےہیں۔ آدھا مہینہ تو ہمارا ، کرکٹ کے مقابلےمیں گُزرگیا۔اور اب آدھا مہینہ سیاستدانوں کی کُشتی اور دھینگا مُشتی دیکھتےہوئےگُزرجائیگا۔۔

(ye bayaan hy, 30 september 2007, bamutaabiq 15 Ramazaan ul Mubaarak, 1428 Hijree.. ka)

یہ تو لڑتے ہی رہے۔۔ ساٹھ سال ہوگئے لڑتے ہوئے، لڑتےہی رہے، کُرسی کے لیئے ، اقتدار کے لیئے، لڑ ہی رہےہیں۔ مُلک کی بقا کی کوئی پرواہ نہیں۔۔ بس اپنی ذات، اپنی شخصیت، اپنی کرسی، اپنا اقتدار،تو اب باقی پندرہ دن ہمارے اسمیں گُزر جائینگے، رات کو خبرنامہ اور صبح اخبار۔۔ اور باقی وقت میں تبصرے۔۔ فضول قِسم کے تبصرے۔۔ حالانکہ ہمارے تبصروں سے کُچھ بھی نہیں ہوتا،اُنکی صحت پرکوئی اثرنہیں پڑتا۔ --تو اللہ فرما تے ہیں
"یا ہم انکے چہروں کو پیچھے کی جانب اُلٹادیں، یا اُن پر لعنت کردیں،جیسا کہ ہم نے لعنت کی ہفتے والوں پر،اور اللہ کا حُکم پورا ہوکر رہتا ہے-"
{اللہ جو فیصلہ کردے،وہ ہوکر رہتا ہے۔۔ }

اب آیت نمبر اڑتالیس۔۔۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے:
"پورے قرآن میں مجھے سب سے زیادہ محبوب یہ آیت ہے"
اپنے اپنے ذوق کی بات ہے۔۔ ویسے صحابۃ اکرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا ذوق تو ایسا تھا کہ ہوسکتا ہے کہ وہ ہر آیت کے بارے میں یہی کہیں۔ کہ مجھے سب سے زیادہ یہی آیت پسند ہے۔۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے شاگردوں کو قرآن پڑھاتے اورکہتے۔۔ :
" جن چیزوں پر سورج طلوع ہوتا ہے، اللہ کی قَسَم اُن سب سے زیادہ بہتر ہے یہ آیت"
شاگرد بڑے متوجّہ ہوکر سُنتے۔۔ کہ ایسی کونسی بات ہے اِس آیتِ کریمہ میں۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ آیت پڑھاتے۔۔ اور پھر اگلی آیت کے بارے میں بھی وہی فرماتے۔۔
"ارے غور سے سُنو یہ آیت جو ہے، یہ ساری کائنات سے بہتر ہے، زمین سے بہتر، آسمان سے بہتر، سورج سے بہتر۔۔چاند سے بہتر، دولت سے بہتر، تخت و تاج سے بہتر، یہ ہر چیز سے بہتر ہے۔۔ "
تو اُنکی نظر میں تو سارا قرآن ہی بہتر تھا۔۔ سارا قرآن ہی محبوب۔۔
اور ہماری نظر میں۔۔
"کُلُو وَاشرَبُو" کی آیت سب سے زیادہ محبوب۔ مطلب: "کھاوَ اور پِیو"
بس۔۔
اور اسکو "جنّتی عمل" کہتے ہیں۔۔
--
تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتےہیں کہ
"پورے قرآن میں مجھے سب سے زیادہ محبوب یہ آیت ہے"
کیوں؟ اسلیئے کہ اس آیت میں اللہ کی مغفرت کا ذکر ہے۔ اللہ کی بخشش کا ذکر ہے
تو آیت نمبر اڑتالیس میں اللہ فرماتے ہیں:
{توجّہ سے پڑھیئےگا}

"بےشک اللہ نہیں بخشےگا کہ اُسکےساتھ شِرک کِیا جائے۔۔۔،"
{شِرک ناقابلِ معافی جُرم ہے۔۔ اللہ اپنی ذات میں بھی یکتا، اللہ اپنی صفات میں بھی یکتا۔۔ صرف اللہ دیتا ہے اور کوئی نہیں دےسکتا۔۔ عزّت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے،
اور کسی کےہاتھ میں نہیں،
شِفا صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے،اور کسی کے ہاتھ میں نہیں،
اولاد صرف اللہ دےسکتاہے،کوئی اور نہیں دےسکتا۔
رِزق دینےوالاصرف اللہ ہے،اور کوئی نہیں۔
زندگی اور موت کا نظام صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے،کسی اور کے ہاتھ میں نہیں،
نہ نبی کے ہاتھ میں، نہ فرشتے کے ہاتھ میں،
نہ ولی کے ہاتھ میں، نہ قُطب کے ہاتھ میں، نہ ابدال کے ہاتھ میں،
نہ پِیر کےہاتھ میں، نہ سَیّد کےہاتھ میں،نہ شیخ کےہاتھ میں،
کسی کے ہاتھ میں نہیں ہے
--
توحید۔۔
توحید میں کامل رہیئے-شِرک سے نفرت کیجیئے- ایسےنفرت جیسے ہمیں آگ میں کوئی پھینکے،تو آگ میں پھینکنےسےہمیں نفرت ہوگی،اور بھاگیں گے ، بچنا چاہیںگے،اِسی طریقےسےشِرک سے بچنے کی کوشش کریں،
شِرک مت کریں۔۔۔ اللہ کے بندوں سے محبّت تو کریں،لیکن اللہ کے بندوں کی عبادت نہ کریں،
عبادت صرف اللہ کے لیئے ہے۔اور کسی کے لیئے نہیں،
رُکوع صرف اللہ کے لیئے، سجدہ صرف اللہ کے لیئے،نذر نیاز صرف اللہ کے لیئے،
صدقہ خیرات صرف اللہ کے لیئے،قولی،بدنی،مالی عبادت،صرف اللہ کے لیئے،
اور کسی کے لیئے نہیں ہے، گیارہویں شریف بھی صرف اللہ کے لیئے،
اور بارہویں شریف بھی صرف اللہ کے لیئے،ہر صدقہ خیرات اللہ کے لئیے ہے۔۔
تو فرمایا:
"بےشک اللہ نہیں بخشےگا کہ اُسکےساتھ شِرک کِیا جائے،اور اِسکے علاوہ جسے چاہےگا معاف کردےگا۔۔۔۔"

{اس وجہ سے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے یہ آیتِ کریمہ سب سے زیادہ محبوب ہے۔۔ اللہ کہہ رہا ہے، کہ جسے چاہونگا معاف کردونگا۔۔جسےچاہونگا۔۔
۔اللہ کی مشیعت پر منحصر ہے، مغفرت، معافی---

دیکھیئے اسلامی تاریخ میں دو بڑے فِرقےگُزرےہیں اب تو تقریباً نہ ہونےکےبرابرہیں،لیکن ایک زمانے میں انکا بڑا چرچہ تھا، خوارج اور معتزلہ
اورآپکوحیرت ہوگی کہ تھے دونوں فرقے،بہت زیادہ عبادت کرنےوالے۔۔بہت زیادہ تقویٰ والے۔۔۔ بلکہ ابھی جو انکا موَقّف آپ اِدھر پڑھنے والے ہیں۔ یہ موقّف بھی اُنہوں نے اختیار کیا خوفِ خُدا کی بِنا پر۔ گناہوں سے نفرت کی بِنا پر،اور اللہ کو راضی کرنےکےلیئے،[شیطان بعض اوقات یوں بھی گمراہ کرتا ہے،خوفِ خُدا کےپردےمیں گمراہ کرتا ہے،دینداری کےپردے میں بھی گمراہ کرتا ہے]
تو خوارج کا موَقّف یہ تھا کہ " ہر گناہ شرک ہے۔ اور ہر گناہ کی سزا، ابدی عذاب ہے،اور کسی گناہ کو بھی اللہ معاف نہیں کریگا" ۔۔ یہ اُنکا قول--
اور معتزلہ کہتےتھے کہ "ہر گناہ شرک تو نہیں ہے لیکن کوئی گناہ توبہ کےبغیرمعاف نہیں ہوسکتا"
۔۔اب دیکھا آپ نے۔۔ یہ دونوں قول بظاہر خوفِ خُداپرمبنی ہیں۔۔یعنی گناہ سے بہت زیادہ ڈرتے تھے
اور گناہ سے بچتےتھے،اسلیئے کہ اُنکے خیال میں گناہ جو بھی ہےوہ ناقابلِ معافی ہے۔ لیکن مسلمان کہتے ہیں،
اہلِ سُنّت والجماعت کہتے ہیں:
کہ نہیں،توبہ سے تو شرک بھی معاف ہوسکتا ہے۔ کُفر بھی معاف ہوسکتا ہے، ہرگناہ معاف ہوسکتا ہے، توبہ کے علاوہ اللہ کی مشیعت سے بھی گناہ معاف ہوسکتےہیں، اللہ چاہےتوکسی کو معاف کردے،اللہ کی مشیعت پر ہم قطعاً پابندی نہیں لگاسکتے،کہ اللہ فلاں کو معاف نہیں کرسکتا اور فلاں کو معاف نہیں کرسکتا۔اسی لیئے تو ہمیں حُکم ہے میرے بھائیو ،میری بہنو۔ کسی گناہگار کو نفرت کی نظر سے نہ دیکھو،گناہ سےتونفرت کرو لیکن گناہگار کو نفرت کی نظر سے نہ دیکھو---ممکن ہے،اُسکی کچھ ایسی چُھپی ہوئی، پوشیدہ نیکیاں ہوں جو اللہ کے علم میں ہوں اور ہمارے علم میں نہ ہوں--اور اللہ پاک اُن نیکیوں کی برکت سے اُسکےگناہوں کو معاف کرکے اسکو جنّت کا حقدار بنادیں۔۔۔ تو اللہ کی مشیعت پر ہے، اللہ چاہے تو معاف کرسکتا ہے۔

تو اللہ کی مشیعت۔۔ مغفرت کا ایک وسیلہ ہے۔۔ مغفرت کے مختلف وسائل میں سے ایک وسیلہ،ایک ذریعہ اللہ کی مشیعت ہے- اللہ چاہے تو معاف کردے۔۔ اللہ کہہ دے کہ ہاں یہ جُھوٹا سچّا میرے قرآن کی خدمت میں لگاہواتھا،اگرچہ عمل کوئی اتنے نہیں ہیں۔۔ جاوَ میں نے اسے معاف کردیا۔۔ اللہ کہہ سکتا ہے۔۔ ہم تو اُمیدوار ہیں الحمدللہ۔۔ مایوس نہیں ہیں۔ صاف بات ہے مایوس نہیں ہیں۔۔اُمیدوں پر جی رہے ہیں،اپنی حد تک عمل بھی کرتے ہیں، نِری اُمیدیں نہیں۔۔
لیکن اصل --اُمیدیں ہی ہیں ہمارا سرمایہ،
کہ امید ہے اللہ معاف کردےگا۔ تو مغفرت کے وسائل میں سے ایک وسیلہ "اللہ کی مشیعت" ہے،
دوسرا وسیلہ "دعا" ہے،
تیسرا وسیلہ "نیکیوں کا کرنا" بھی ہے،
یاد رکھیں نیکیوں کے کرنے سے بھی گناہ معاف ہوتے ہیں،اللہ کہتے ہیں
"نیکیاں ، بُرائیوں کو ختم کردیتی ہیں"
کئی بُرائیاں ہیں جو نیکی کی برکت سے معاف ہوجاتی ہیں
اللہ کے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کا فرمان ہے:
"ایک نماز سے دوسری نماز کے درمیان، ایک جمعہ سے دوسرے جمعے کے درمیان، اور ایک رمضان سے دوسرے رمضان کےدرمیان جو مسلمان سے صغیرہ گناہ سرزد ہوتے ہیں وہ اللہ پاک، نماز کی برکت سے، جمعے کی برکت سے، رمضان کی برکت سے معاف کردیتے ہیں ، بشرطیکہ وہ کبیرہ سے بچنے والا ہو"
تو نیکیاں، گناہوں کو مٹانے اور معاف کروانے کا تیسرا وسیلہ ہیں
اور گناہوں کی معافی کا ، چوتھا وسیلہ اور سب سے اہم وسیلہ،سب سے موَثر وسیلہ "توبہ" ہے-
سچّے دل سے توبہ

اللہ کو توبہ بہت پسند ہے،اور اللہ توبہ کرنےوالوں کوبہت پسندکرتاہے
اللہ کے محبوب بن جاتے ہیں،کونسے گناہگار؟ جو توبہ کرتے ہیں۔۔اور جو پاک صاف رہتے ہیں
سورۃ بقرہ مین اللہ فرماتے ہیں۔۔
"بےشک اللہ محبوب رکھتا ہے توبہ کرنے والوں کو اور پاک صاف رہنے والوں کو"
اللہ نے دونوں کو اکٹھے ذکر کیا۔۔ توّابین اور متطھّرین کو
اسلیئے کہ توبہ بھی پاکی اور صفائی کا ذریعہ ہے،کپڑوں پر گندگی لگ جائے،صاف پانی سے دُھل جاتی ہے،
اور دل پر گندگی لگ جائے،آنکھوں سے بہنےوالےتوبہ کے آنسووَں سے دُھل جاتی ہے۔
دل صاف ہوجاتا ہے، صاف شفّاف۔ چمک اُٹھتا ہے، ایسا چمک اُٹھتا ہے کہ وہ دل اللہ کا محبوب بن جاتا ہے-
توبہ کرنے والا دل، رونے والا دل۔۔۔
اور اللہ نے سورۃ نور میں فرمایا:
"اور اے ایمان والو۔۔ تم سارےکےسارےتوبہ کرلو۔تاکہ تم کامیاب ہوجاوَ"
{خطاب کافروں سے نہیں ہے، مشرکوں سے نہیں ہے، مومنوں سے ہے--کامیابی ملے گی کس سے؟ توبہ کرنے سے}
---
.
.
مولانا صاحب کی یہ بات
اللہ ہمارے دلوں میں اُتاردے اور یہ بات دُور دُور تک پہنچادے:
" ربّ کعبہ کی قَسم، اِسوقت ساری اُمّت کو توبہ کرنے کی ضرورت ہے
ڈاکٹر توبہ کریں، سائنسدان توبہ کریں،
تاجر توبہ کریں، ملازمت پیشہ توبہ کریں،
عُلماء توبہ کریں، حُکمران توبہ کریں،
لیڈر توبہ کریں، ہر طبقےکےلیئےضروری ہےتوبہ کرنا،
انفرادی سطح پر بھی اور اجتماعی سطح پر بھی،
مُلکی سطح پر بھی،اور بین الاقوامی سطح پر بھی،
ربّ کعبہ کی قَسَم، مسلمان اُمّت کی ذلّت، عزّت میں نہیں بدل سکتی،
اور زوال ،کمال میں نہیں بدل سکتا جب تک کہ یہ پُوری اُمّت توبہ نہیں کریگی۔
توبہ کے بغیر ذلت عزت میں نہیں بدلےگی،
بُھول جایئے، ہم اسی طریقے سے پِٹتے رہینگے ، مار کھاتے رہینگے جب تک کہ توبہ نہیں کرینگے۔
.
.
---
اور اللہ فرماتےہیں سورۃ تحریم میں:
"اےایمان والو-- اللہ کی طرف خالص توبہ کرو"

جی ہاں خالص توبہ۔۔ ہماری توبہ کہاں خالص ہوتی ہے؟ کسی اللہ والے نے کہا ہے
"ہمارا جو استغفار ہے۔۔ اِس پر بھی استغفار کی ضرورت ہے"
کہ ہم نے کیسا مکّاری والا استغفار کِیا ہے۔۔ مکّاری والی توبہ کی ہے۔۔ چکّر بازی والی توبہ کی ہے۔۔ ہم نے تو توبہ کو مذاق بنا لِیا ہے ۔۔ جبکہ اللہ کہہ رہا ہے کہ خالص توبہ کرو۔۔
اللہ اکبر۔۔
ہر کوئی توبہ کرے۔۔ پندرہ سال کی عمر سے چالیس سال کی عمر تک ۔۔ جب سے بالغ ہوئے آج تک، چالیس، پچّاس، ساٹھ سال کی عمر تک، اللہ کے حکم توڑتے رہے، گناہ کرتے رہے۔۔۔ ظلم کرتے رہے۔۔ اللہ کہتا ہے اب تو توبہ کرلے۔۔
اور پیارےنبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نےفرمایا:
"اے لوگو--- اللہ کی طرف توبہ کرو اور استغفار کرو۔۔۔ میں ایک دن میں سَو بار توبہ کرتا ہوں"
غور کیجیئے یہ کسکا قول ہے۔۔
نبیوں کا سردار، معصوموں کا سردار،
ولیوں کا سردار۔۔ صلحاء کا سردار،
مجاہدین کا سردار، پاکوں کا سردار۔۔
وہ تو توبہ کرے دن میں سَو بار،
اور ہم؟
جو سر کے بالوں سےلےکر پیروں کےناخن تک گناہوں میں ڈوبے ہوئے۔۔۔
نظریں گندی، کان گندے، زبانیں گندی، دماغ گندے، دل گندے،
جِسم پُورا گناہوں کی گندگی سے آلودہ۔ اور ہمیں ساٹھ سال میں ایک بار بھی توبہ کی توفیق نصیب نہیں ہوتی۔۔ توبہ ہی نہیں کرتے۔۔
اور یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ توبہ کی قبولیت کی شرطوں میں سے ایک شرط یہ ہے کہ

"انسان گناہوں سے رُک جائے"
دوسری شرط یہ ہے کہ "گناہ پر نادم اور شرمندہ ہو"
اور تیسری شرط یہ ہے کہ " آئندہ نہ کرنے کا عزم کرے"
۔۔۔ یہ نہیں کہا جا رہا کہ "آئندہ نہ کرے"

ہوجائے تو ہوجائے
لیکن عزم تو کرے۔۔ کہ آئندہ نہیں کرونگا
ہوگیا۔۔ پھر توبہ کرلے۔۔ لیکن عزم کرے۔۔۔
یا ربّ -- آئندہ نماز نہیں چھوڑونگا
اللہ-- آج تک میں نے زکوٰة نہیں دی، گذشتہ بھی دیتا ہوں،آئندہ بھی زکوٰة دِیا کرونگا
اے اللہ -- مَیں منافقت کرتا رہا، آئندہ نہیں کرونگا
جُھوٹ بولتا رہا ۔۔۔ آئندہ نہیں بولونگا
غیبت کرتا رہا ۔۔۔ آئندہ نہیں کرونگا
بدکاری، شراب نوشی، ظلم ، کرتا رہا، آئندہ نہیں کرونگا
عزم کریں، عزم --- یہ تیسری شرط ہے
اور چوتھی شرط یہ ہے کہ گناہ سے اپنے آپکو بَری بھی کروائے اور اُسکی تلافی بھی کرے۔ اگر کسی کا حق دبایا تھا ، اُسکا حق اسکو واپس کرے

صرف عمرہ کرنے سے، حج کرنے سے اور چِلّہ لگانے سے اور اعتکاف بیٹھنے سے اور توبہ کرنےسے حقوق العباد معاف نہیں ہونگے
لوگ طلم کرتے ہیں ظلم۔۔
کروڑوں کی، لاکھوں کی، زمینوں پر قبضہ جمالیتےہیں
دوسرےکاحق کھاجاتےہیں اورجاتےہیں،عمرہ کرکےآجاتےہیں
سمجھتے ہیں مَیں پاک ہوگیاہوں،جیسے اُس دن تھا جب ماں کےپیٹ سے پیدا ہوا تھا
نہیں۔۔ناپاک ہو تم۔۔ اللہ کہتا ہے، اللہ کے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کہتے ہیں
تم نے حقوق العباد پر ڈاکہ ڈالا ہے
ایک نہیں، لاکھ عمرےکرلو،لاکھ چِلّےلگالو۔ حقوق العباد نہیں معاف ہونگے
حقوق العباد ادا کرنےپڑینگے

معافی مانگنی پڑےگی: "بھائی یہ میں نے زیادتی کی تھی، معاف کردے"
ہاں معاف کروانےکی کوئی صورت نہ ہو،تو پھر اُسکے لیئے معافی مانگے، اُسکے لیئےاستغفارکرے،ایصالِ ثواب کرےجسکاحق دبایا تھا،جس پر زیادتی کی تھی،تب معاف ہوگا۔
یہ براَت اور تلافی کی شرط کو لوگوں نےبُھلا ہی دِیا۔توبہ کا مطلب سمجھے کہ بس بیٹھ گیا۔۔
" یا اللہ-- معاف کردے،میں نے فلاں کا پلاٹ دبایا تھا، معاف کردے۔۔ اور فلاں کا حق کھایا تھا ، معاف کردے"

نہیں۔۔۔ اللہ کہتا ہے کہ پہلے اُس سےمعاف کرواوَ جسکا حق کھایا تھا۔۔
---
.
.

{مولانا صاحب درس کے آخر میں دست بستہ گذارش کررہےہیں ہم سب سے، کہ "خُدارا سچّے دل سے توبہ کرلیجیئے۔۔ اب تو توبہ کرلیجئیے،
وہ مالک جانتا ہے جو دِلوں کا مالک ہے۔۔
کہ آپکی خدمت میں حاضری کا مقصد،
نہ کسی صِلے کی تمنّا ہے، نہ کسی ستائش کی آرزو ہے۔۔۔ اللہ کا کلام سُنانا ہے، توبہ کی دعوت دینا ہے}
.
.
---
آیت کا آخری حصّہ ہے:
"اور جس نے اللہ کے ساتھ شرک کِیا ، اُس نے بہت بڑا گناہ سمیٹا ہے"

اللہ پاک ہمیں ہر قِسم کے شرک سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
و اٰخِرُ دعوانا عَنِ الحمدللہِ ربّ العٰلمین


.....
http://darsequran.com/sp...peech_htmls/parah05.php
.....
alizeh Offline
#4 Posted : Saturday, December 03, 2011 9:20:58 AM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member, Moderators
Joined: 12/22/2008(UTC)
Posts: 1,386
Points: 3,755

Assalam-0-Alaikum,

bajjo itni achi post k liye Allah aapko jazae khair day,

Allah rabbul izat sab musalmaon ko sachay dil say tauba ki taufeq ata farmain,
aur chotay baray tamam gunahon pe maaf farmadain,bayshak Allah ta'ala maaf farmanay walay hain. (Aameen sum aameen)
imbajjo Offline
#5 Posted : Sunday, December 04, 2011 12:29:58 PM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 10/13/2010(UTC)
Posts: 1,710
Points: 5,160
Woman
Location: kuwait

Thanks: 33 times
Was thanked: 35 time(s) in 28 post(s)

http://darsequran.com/sp...peech_htmls/parah05.php
---
cassette no : 210
سورۃ النساء کی آیت نمبر 49 - 58 ..
---
بیان کا عنوان : امانت
---
آیت نمبر اُننچاس میں اللہ فرماتے ہیں:
ترجمہ:
"کیا آپ نے اُن لوگوں کو نہیں دیکھا،جو اپنے آپکو پاکیزہ ٹھہراتےہیں..."

{کیا آپ نے اُن لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنی تعریفیں کرتے ہیں۔ اپنے آپکو اللہ کا محبوب، اللہ کا پیارا، اور جنّتی کہتے ہیں۔۔ تفسیروں میں لِکھا ہےکہ یہود و نصاریٰ یہ دعوے کرتے تھے،کہ ہم اللہ کے محبوب اور اللہ کے پیارے ہیں،
یہودی کہتے تھے کہ جنّت میں صرف یہودی داخل ہوسکتے ہیں اور کوئی نہیں،
اور عیسائی کہتے تھے کہ جنّت میں صرف عیسائی داخل ہوسکتے ہیں اور کوئی نہیں۔
تو اُن لوگوں کی مذمّت بیان کی۔۔
کہ آپ نے دیکھا ان لوگوں کو جو گھمنڈ اور فخر میں مبتلا ہیں،
جیسےاللہ پاک نے یہود و نصاریٰ کی مذمّت کی ،اسی طریقےسےاُن سارے لوگوں کی مذمّت ہےجو محض نسل کی بِنا پر،
نسب کی بِنا پر،خاندان کی بِنا پر اور قومِیت کی بِنا پراپنے آپکودوسروں سےممتازسمجھتےہیں اورمقدّس سمجھتےہیں۔۔
ہمارےزمانےکےپِیرزادے، سیّدزادے،شاہزادے اور مُلّازادے،بعض اوقات عِلم و عمل کے بغیر محض اپنےآپکواِسلیئےبڑاسمجھتےہیں کہ ہم بڑوں کی اولاد ہیں،اور اُنہوں نے لوگوں کےذہن میں بھی یہ بات بِٹھا رکھی ہے،کہ چونکہ ہم بڑوں کی اولاد ہیں،اسلیئے ہمارے اعمال خواہ کیسےہی کیوں نہ ہوں،جنّت ہماری ہے،نہ صرف یہ کہ ہم جنّت میں جائینگےبلکہ اُنکی باتوں سےتو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ پاک نے اُنکو جنّت کا ٹھیکےدار بھی بنا رکھا ہے۔۔وہ جِسے چاہینگےجنّت میں لےجائینگے

جنّتی ہونے کے سرٹیفیکیٹ وہ تقسیم کرتےپھرتےہیں،نذرانوں کےبدلے،اور ہدیوں کےبدلےاور چندوں کےبدلے، -
-تویاد رکھیئےکہ ایمان اور عمل کےبغیرکُچھ نہیں ہے،
کسی سیّد کا بیٹا ہونا،اورکسی شاہ کا بیٹا ہونا،اور پِیر کا بیٹا ہونا،اور مولوی کا بیٹا ہونا تو کیا کام آئیگا۔۔
نبی کا بیٹا ہونا بھی ایمان اور عمل کےبغیر کام نہیں آسکتا۔۔ نوح علیہ السّلام کا بیٹا، اُنکی آنکھوں کےسامنےسیلاب میں غرق ہوگیا۔۔ اور وہ کہتے رہ گئے۔۔ "اے اللہ-- یہ میرا بیٹا ہے" ۔۔۔ اللہ نے فرمایا : "یہ تیرے اَہَل میں سے نہیں ہے،اسلیئے کہ اسکے اعمال اچھے نہیں ہیں" اور فرمایا: "اے نوح {علیہ السّلام}-- جس بات کا تجھے عِلم نہیں ہے اُسکے بارےمیں مجھ سےسوال نہیں کرو۔۔ میں تجھے نصیحت کرتا ہوں ، کہیں تم جاہلوں میں سے نہ ہوجانا"
حضرت نوح علیہ السّلام نے فوراً معافی مانگی :
"اللہ مجھے پتہ نہیں تھا"
اللہ اکبر۔۔۔
اللہ کا نبی کہتا ہے
فوراً اپنے عدمِ عِلم کا اعتراف کرلیا۔۔
" اللہ مجھے پتہ نہیں تھا، اللہ مجھے معاف فرمادے، مجھ پر رحم فرمادے،اگر تُو نے معاف نہ کِیا،اور رحم نہ کِیا تو میں تو تباہ ہوجاوَنگا۔۔"
--
تو بڑے کا بیٹا ہونا کسی کام نہیں آسکتا
میں قربان جاوَں پیارے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کے قدموں کی خاک پر،
جنہوں نے اپنی اولاد اور اپنے متعلّقین کے ذہنوں سے یہ بات نکال دی تھی کہ

" یہ مت سمجھنا کہ تم میری اولاد ہو لہٰذہ تمہیں عمل کرنےکی ضرورت نہیں ہے"

اپنی لختِ جِگر، خاتونِ جنّت، سیّدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سےفرمایا:
"اے فاطمہ{رضی اللہ تعالیٰ عنہا}-- آخرت کی تیّاری تمہیں خود کرنی ہوگی۔محمد {صلّی اللہ علیہ وسلّم} کی بیٹی ہونا تمہارے کسی کام نہیں آئیگا"
--
تو اللہ اِس بات کو پسند نہیں کرتےکہ کوئی اپنی تعریف کرے اور اپنے آپکو جنّتی کہے، اس بات کو پسند نہیں کِیا گیا۔۔
دیکھیئے میں اور آپ الحمدلِلہ اُمید تو رکھتےہیں،اللہ کےفضل سے،
اللہ کےکرم سےانشاءاللہ ہمیں جنّت کے کسی کونے کھدرے میں اور اللہ والوں کی جوتیوں میں جگہ مِلجائیگی،
لیکن یقین سے نہیں کہہ سکتے۔ کہ میں تو جنّتی ہوں،
حضرت عُمر بن خطّاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول آپ نے سُنا ہوگا
وہ فرماتے ہیں:
"مجھےاللہ کی رحمت کی امید اتنی ہےکہ اگر قیامت کے دن یہ اعلان سُنوں کہ آج سارے لوگ دوزخ میں جائینگے اور ایک جنّت میں جائیگا تو مَیں امید رکھونگا کہ شاید وہ ایک میں ہی ہوں
اور ڈر اتنا ہے کہ اگر قیامت کے دن اعلان ہوگیا کہ آج سارے جنّت میں جائینگے سوائے ایک کے
تو میں ڈرونگا کہ کہیں وہ ایک، مَیں نہ ہوں"
.
اسی کا نام ایمان ہے
ایمان کیا ہے؟ اُمید اور خوف کےدرمیان۔۔
الحمدللہ ہم امید رکھتے ہیں اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے،
نا امیدی تو ہمارے قریب ہی نہیں آتی۔۔
میرا اللہ کہتا ہے نا امید نہ ہوجاوَ۔۔اور اللہ کہتا ہے:

ترجمہ:
"اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہوجاوَ،اللہ کی رحمت سے صرف کافر نا امید ہوتا ہے مومن کبھی اللہ کی رحمت سے نا امید نہیں ہوتا"
.
تو نا امیدی کی بات ہم کیوں کریں؟ ہاں ڈر ہے۔۔

ڈر ہے۔۔۔ اسلیئے کہ گناہ بہت ہیں
جو ٹُوٹی پُھوٹی عبادت ہے وہ اس قابل نہیں کہ اللہ کےسامنےپیش کی جاسکے۔۔
بس اللہ اپنے فضل کا معاملہ فرمائے تو انشاءاللہ دوزخ سےنجات مل ہی جائیگی
--
تو منع کِیا گیا کہ اپنی تعریف مت کرو
تمہاری تعریف کا کوئی اعتبار نہیں
خود اپنی تعریف کرنےسے بھی منع کیا گیا اور
دوسرے کی تعریف میں مبالغہ کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے

ہمارا دَور لفّاظی کا دَور ہے
مبالغےکا دَور ہے،لوگ ایسے تعریف کرتے ہیں ۔۔ آسمان پر چڑھادیتےہیں،
جِسےچِیخ چِیخ کر بولنا آتا ہو،اُسے کہتے ہیں "علّامہ صاحب" چنانچہ اعلان کرتے ہیں کہ
"شیرِ پنجاب، اور فخرِ زمان، اور غزالئ دوران، علّامہ فلاں صاحب ،خطاب فرمائینگے"
اور وہ بےوقوف یہ سمجھتا ہے کہ واقعی مَیں "علّامہ صاحب" ہوں ۔۔ اسلیئے کہ: "لوگ کہتے ہیں" ۔۔
بلکہ بعض اپنا تعارُف کراتے ہیں،"مَیں تو کُچھ نہیں ہوں، لیکن لوگ کہتے ہیں،کہ علّامہ صاحب ہوں"
[اِسکا مطلب یہ کہ آپ بھی مجھے کہا کریں، علّامہ صاحب]
تو اس سے منع کِیا گیا کہ کسی کی تعریف میں مبالغہ نہ کریں
.
ایک اللہ والےنےفرمایا کہ:
"جب کوئی تمہاری تعریف کرےتوسمجھ لو کہ یہ تمہاری تعریف نہیں کررہا ۔۔ اللہ کی ستّاری کی تعریف کررہاہے،
جس نے تمہارے گناہوں پر اور عَیبوں پر پردہ ڈالا ہوا ہے،
اگر وہ پردہ اُٹھادیتا تو یہ تمہاری تعریف نہ کرتا، تمہارے مُنہ پر تُھوک دیتا"
.
اللہ کے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نے یہاں تک فرمادیا کہ:
"جو تمہاری تعریف کرتاہےاُسکے منہ پہ مٹّی ڈالو"
.
[اسلیئےکہ لوگ تعریف کرکےدماغ خراب کردیتےہیں،اتنی تعریف کرتے ہیں، اتنی تعریف کرتے ہیں، بانس پر چڑھادیتےہیں]
ایک حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم کی خدمت میں ایک صاحب نےکسی کی بڑی تعریف کی۔
نبئ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا:
"افسوس ہے تیرے اوپر، تُو نے تو اپنے بھائی کی گردن کو توڑدِیا"
اور فرمایا کہ اگر کسی کی تعریف کرنی ہی ہو تو یوں کہہ دو کہ میرا خیال یہ ہے کہ یہ ایسے ہیں۔۔
باقی یقینی طور پرکہہ دینا اور بہت زیادہ مبالغہ کرنا منع ہے،
اسلیئے کہ ہماری صحیح حقیقت تو اللہ جانتا ہے۔ یہ دنیا والےنہیں جانتے۔۔
ہاں یہ الگ بات ہے کہ ہمیں ہر مسلمان کےبارےمیں اچھا گُمان رکھنا چاہیئے
.
یہ بھی نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کی تعلیم ہے
ہر مسلمان کےبارےمیں اچھا گُمان رکھو،بدگُمانی نہ کرو
یہ سوچو کہ "مجھ سے اچھے ہیں"
.
توفرمایا:
ترجمہ:
""کیا آپ نے اُن لوگوں کو نہیں دیکھا،جو اپنے آپکو پاکیزہ ٹھہراتےہیں...بلکہ اللہ پاکیزہ ٹھہرائیگا،جِسےچاہےگا"
.
{اصل اعتبار تو اللہ کی تعریف کا ہے۔۔ اور اللہ جو تعریف کرتا ہے نا۔۔ بڑے بڑے لقب نہیں دیتا۔۔ بس اللہ تو یوں کہہ دےگا کہ "یہ میرا بندہ تھا" ۔۔ یہ اللہ کی سب سے بڑی تعریف ہے، اللہ کسی کےبارےمیں کہہ دےقیامت کےدِن کہ "اس نے میرا بندہ بن کر زندگی گزاری" ۔۔ ربّ کعبہ کی قَسم ، اس سے بڑی تعریف کوئی نہیں}
انسانوں میں سے تو سب سے زیادہ تعریف کےقابل تو، پیارےنبی صلّی اللہ علیہ وسلّم ہیں،
لیکن اللہ نے حُضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کی جوتعریف فرمائی۔۔ وہ کیا؟
کہ "میرے بندے ہیں"
اللہ نے کہا کہ نماز میں کہا کرو:
اَشھَدُ اَن لا اِلٰہَ اِلاَّ اللہ وَ اَشھَدُ اَنَّ مُحَمَّدً عَبدُہ وَرَسُولُہ
سب سے بڑی تعریف حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کی کیا ہے؟ کہ حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم اللہ کے بندےہیں

ویسےاللہ نے حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کو خاتمُ النَّبِیّین بھی کہا
رَحمَتُ لّلعٰلَمِین بھی کہا،
یٰس بھی کہا ،
طٰہٰ بھی کہا،
یاایُّھَاالنَّبِیُّ بھی کہا،
یاایُّھَاالرَّسُول بھی کہا،
لیکن عُلماء نے لکھا ہے، کہ حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کی سب سے بڑی تعریف یہ ہے کہ اللہ نے حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کو
عَبدُہ کہا
"میرا بندہ ہے"
.
اور بڑا پیارا شعر ہے اقبال کا،کہتے ہیں:
.
عبد دیگر، عبدہ چیزِ دیگر
ما سراپا انتظار ہوں منتظر
.
مطلب: بندہ ہونا اور چیز ہے، اور اُسکا بندہ ہونا اور چیز ہے
ہم سارےانتظارمیں رہتےہیں،اور جو "عَبدُہ" ہے، اللہ اُسکا انتظارکرتاہے
۔۔
سب سے بڑے "عَبدُہ" تو حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم ہیں
لیکن جس نے یہ زندگی اللہ کی مرضی کےمطابق گُزاری،وہ بھی قیامت کے دن "عَبدُہ" کہلائیگا
اللہ کہےگا۔۔یہ میرا بندہ ہے،اور اللہ انتظار کریگا اُسکا کہ اسکی زبان سے کیا نکلتاہے؟
.
خودی کو کر بُلند اِتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خُدا بندےسےخود پُوچھے، بتا ۔۔ تیری رضا کیا ہے
۔۔
جب "عَبدُہ" کےمقام پر فائز ہوجاتاہےتوپھر اللہ پوچھتے ہیں کہ
بتا ۔۔ تیری رضا کیا ہے
۔۔
تم دنیا میں یہ دیکھ کرچلتےتھےکہ میرا اللہ کیا چاہتاہے؟
قیامت کےدِن مَیں یہ دیکھونگاکہ میرا بندہ کیا چاہتا ہے؟
۔۔۔
ترجمہ:
"کیا آپ نے اُن لوگوں کو نہیں دیکھا،جو اپنے آپکو پاکیزہ ٹھہراتےہیں...بلکہ اللہ پاکیزہ ٹھہرائیگا،جِسےچاہےگا
اور ذرّہ بھی طُلم نہیں کِیا جائیگا"
{اللہ کہتا ہے،ظلم نہیں کِیاجائیگا،لیکن تمہاری اپنی تعریفیں کرنےسےمیرےہاں تم بڑےنہیں بن جاوَگے
ہاں جسکی مَیں تعریف کرونگا،وہی بڑا ہوگا

تم اپنی تعریف کرلو-- بڑے نہیں بنوگے
اور کسی اور کی تعریف کرلو-- وہ بڑا نہیں بنےگا
اصل بڑا وہ ہوگا جسکی مَیں تعریف کرونگا}
--
آیت نمبر پچّاس:
ترجمہ:
"دیکھیئے یہ کیسا جھوٹا طوفان باندھتے ہیں اللہ پر۔۔۔"
.
{کہتےہیں،چونکہ مَیں بنی اسرائیل کی نسل سے ہوں، لہٰذہ مَیں جنّتی، مَیں اللہ کا چہیتا،
چونکہ مَیں فلاں بڑےپِیر کا بیٹا ہوں،لہٰذہ مَیں جنّتی،
چونکہ مَیں فلاں بڑے خاندان سےمیرا تعلّق ہے،لہٰذہ مَیں جنّتی،
اللہ کہتا ہے،یہ جھوٹ بولتے ہیں،میرے ہاں نسب نہیں پُوچھاجاتا،
کِس کے بیٹےہو؟ کِس کے پوتے ہو؟ کِس کے نواسےہو؟
--- یہ پُوچھاجاتاہےکہ تم کیا ہو؟ تمہارےپاس کیا ہے؟
قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے:
ترجمہ:
"باپ دادا کے کام ،اُن کے اعمال آئینگے اور تمہارے کام، تمہارے اعمال آئینگے"
.
باپ دادا کے کام تمہیں فائدہ نہیں دینگے،یہ ذہن سےنکال دو
۔۔۔۔۔
دیکھیئے یہ کیسا جھوٹا طوفان باندھتے ہیں اللہ پر۔۔۔یہ کافی ہے صریح جُرم کے لیئے"
...

آیت نمبر اکیاون:
میں دو لفظ استعمال ہوئے ہیں ، "جِبت" اور "طاغوت"
جبت = بُت
طاغوت= شیطان
اللہ کےسِوا جسکی بھی عبادت کی جائے وہ جِبت ہے
اور ہر وہ چیز جو انسان کو سرکش بنادے وہ طاغوت ہے
دولت سرکش بنادے تو دولت طاغوت ہے
اور کُرسی سرکش بنادے تو کُرسی طاغوت ہے
یہودیوں کے علماء مکّے گئے، قریش والوں نے اُن سے سوال کِیا،
دیکھو.. ہم حاجیوں کی خدمت کرتے ہیں انکو پانی پلاتے ہیں اور کعبہ کی صفائی کرتے ہیں۔
کعبہ کی دربانی کرتے ہیں , تو کون بہتر ہیں ہم دونوں میں سے؟
ہم بہتر ہیں یا یہ مسلمان بہتر ہیں؟

تویہودی [باوجودیکہ،کتاب کا عِلم رکھتے تھے،انہوں] نے کہا، نہیں تم اُن سے بہتر ہو۔۔
--
آیت نمبر باون:
ترجمہ:
"یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی۔۔۔"
{کیوں لعنت کی اللہ نے؟ --
توحید اور نبوّت کو پہچاننےکےباوجود،وہ شِرک کی تعریف کرتے ہیں۔۔
اور مشرکین کی تعریف کرتےہیں۔۔ بُغض کی وجہ سے، حسد کی وجہ سے۔۔۔}
.
"یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی۔۔۔اور جس پر اللہ لعنت کردے، تم اُسکا کسی کو مددگار نہیں پاوَگے"
.
{جس پر اللہ کی لعنت ہوجائے کسی کی مدد اسکےکام نہیں آسکتی،کسی کی سفارش اسکو فائدہ نہیں دےسکتی،بہت سے اعمال ایسے ہیں جنکے بارے میں حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا کہ انکے کرنے والے پر اللہ لعنت کرتا ہے ۔۔ تو ہمیں اُن اعمال سے اپنے آپکو بچاکررکھناہے،اسلیئے کہ اللہ کہتا ہے کہ جس پر میں لعنت کردوں تو اسکا کوئی مددگار نہیں ہوسکتا}
---
آیت نمبر تریپن:
{اللہ کہتے ہیں ۔۔ یہ یہودی،اتنے تنگ دِل ہیں کہ دینی عظمت تو الگ رہی،اگر اللہ پاک اِنکو دنیا کی عزّت بھی عطا کرتے تو یہ کسی کو دنیا میں سے ایک تِل کے برابر بھی نہیں دینگے}
---
آیت نمبر چَوَّن:
{یہودیوں کو حسد یہ تھا کہ نبئ آخِرُالزّماں صلّی اللہ علیہ وسلّم ، بنو اسرائیل میں کیوں نہیں آیا؟
اور بنو اسمٰعیل میں کیوں آگیا؟
تو اللہ کہتے ہیں۔۔ کیا یہ مَیں نے وعدہ کِیا تھا؟
کہ میرا فضل صرف بنو اسرائیل تک محدود رہیگا۔۔
اور مَیں کسی اور کو دنیا میں اپنا فضل عطا نہیں کرونگا۔۔
یا عطا کرنا چاہوں تو تم سے مشورہ کرونگا۔۔ ؟
کہ کسی اور کو اپنا فضل دوں یا کہ نہ دوں؟
میری مرضی ہے۔۔۔ مَیں جِسے چاہوں عزّت و عظمت سے نوازدوں۔۔۔
چاہوں تو بنو اسرائیل میں نبی پیدا کردوں۔۔
اور چاہوں تو بنو اسمٰعیل میں نبی پیدا کردوں۔۔
۔
اور اللہ نے کِیا۔۔ زیادہ انبیاء علیہم السّلام تو آئے بنو اسرائیل میں۔۔۔
لیکن انبیاء کے سردار صلّی اللہ علیہ وسلّم، آئے بنو اسمٰعیل میں}
---
آیت نمبر پچپن:
ترجمہ:
"اُن میں سےبعض وہ ہیں جو آپ پر ایمان رکھتے ہیں،اور بعض ایسے ہیں جو آپ سے اعراض کرتے ہیں۔۔ [دُور بھاگتے ہیں] اور دہکتا ہوا جہنّم ہی اِنکے لیئے کافی ہے"
---
آیت نمبر چھپّن:
{دنیا کی آگ تو ایسی ہے کہ اگر کسی کو دنیا کی آگ میں ڈال دِیا جائے، جلے گا۔۔ گھنٹہ جلےگا۔۔ آدھا گھنٹہ جلےگا۔۔ پانچ منٹ جلےگا۔۔۔ جل کر راکھ ہوجائےگا۔۔ جِلد ایسی ہوجائیگی کوئلہ، کہ پھر آگ اُس پر کوئی اثر نہیں کریگی۔۔ اور تکلیف کا احساس نہیں ہوگا۔۔ تو اللہ فرماتے ہیں کہ یہ مت سمجھنا کہ دوزخ میں بھی ایسا ہی ہوگا۔۔ کہ تمہیں دوزخ میں ڈالا ، ہڈّیاں جل گئیں اور جِلد کوئلہ ہوگئی۔۔تو اب دوزخ کی آگ تمہیں کوئی تکلیف نہیں دےگی۔۔
یہ مت سمجھنا۔۔ ہم بار بار جِلد کو بدلتےرہینگے۔۔۔ تمہارے چمڑے کو بدلتے رہینگے تاکہ تم عذاب کو خوب چکّھو۔۔}
.
اَللّٰہمَّ اَجِرنا مِنَ النَّار
اَللّٰہمَّ اِنّی اَعُوذُبِکَ مِن عَذابِ جَہَنَّم ، وَ مِن عَذَابِ القَبر
۔۔۔
میرے بھائیو۔۔ میری بہنو ۔۔ میرے عزیزو۔۔۔
دوزخ کا معاملہ بڑا سخت ہے ۔۔۔
میں اور آپ دوزخ کی آگ کا ہزارواں حصّہ بھی برداشت کرنےکی طاقت نہیں رکھتےہیں۔۔
اور آج اللہ نے ہمیں موقع دِیا ہے، کہ ہم اپنےاوپر دوزخ کی آگ کو حرام کرلیں۔۔
اللہ کے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم بتاتے رہے، لوگوں کو بتاتے رہے،
اور علماء نے بتایا۔۔
لوگو ۔۔ ہم بتارہےہیں۔۔
ایسا طریقہ ہے کہ تم دوزخ کی آگ سےبچ سکتےہو۔۔
اور دوزخ کی آگ کو اپنے اوپر حرام کرسکتے ہو۔۔
اب بھی موقع ہے۔۔
آپ تیس سال کے ہیں۔۔ چالیس سال کے ہیں۔۔ پچاس سال کے ہیں۔۔ ستّر سال کے ہیں۔۔
زندگی گناہوں میں گزری ہے۔۔۔ اب باز آجاوَ۔۔
توبہ کرلو۔۔ ندامت کے آنسوں بہا دو۔۔
آئندہ کے لیئے گناہ نہ کرنے کا عزم کرلو۔۔
جوہوچکا ، اُسکی تلافی کی صورت کرلو،
اللہ دوزخ کی آگ کو حرام کردینگے، وگرنہ،ہمارے بس میں نہیں ہے،
ہم برداشت نہیں کرسکتےدوزخ کی آگ کو،
.
اللہ فرماتے ہیں کہ جب اُنکی جِلدیں، اُنکے چمڑے پک جائینگے، توہم اُنکےچمڑوں کو بدل کر دوسرا چمڑا دےدینگے۔ نیا چمڑا۔۔
وہ جلےگا، تیسرا۔۔ بار بار چمڑے بدلتےرہینگے،تاکہ وہ عذاب کوچکھتےرہیں۔
.
ترجمہ:
"بےشک اللہ غالب ہے حکمت والا ہے، [اسکے لیئے ایسا کرنا کچھ بھی مشکل نہیں ہے]"
---
آیت نمبر ستاون:
{یہ میرے اللہ کا کلام ہے۔ اللہ ایسا نہیں کرتا،کہ دوزخ کی سزائیں بیان کرتا جائے،
اگر ایسا کرتا تو بندے مایوس ہوجاتے،
تو اللہ پاک دوزخ کا ذکر کرتے ہیں تو ساتھ ہی جنّت کا بھی ذکر کردیتے ہیں،
اللہ کافروں کا ذکر کرتے ہیں تو ایمان والوں کا بھی ذکر کردیتےہیں،
اپنی پکڑ کا ذکر کرتے ہیں تو اپنی مغفرت اور بخشش کا بھی ذکر کردیتے ہیں
اس آیت میں جنّت کے گھنے سائے کا ذکر ہے
سُبحان اللہ۔۔ کیسے سائے ہونگے کیسی جنّت ہوگی۔۔ کیسی نعمتیں ہونگی۔۔
آج ہم دنیا میں جنّت کی نعمتوں کی پوری حقیقت نہ بیان کرسکتے ہیں نہ سمجھ سکتےہیں۔
اللہ نے خود کہا قرآن میں:
ترجمہ:
"مَیں نے تمہارے لیئے جنّت کی جو ٹھنڈک چُھپا رکھی ہے ،کوئی بھی آج دنیا میں رہتے ہوئے اُسے جان نہیں سکتا"
.
اور ہمارے پیارے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا:
"وہاں ایسی نعمتیں ہیں جنکو نہ کسی آنکھ نےدیکھااور نہ کسی دِل پر اُنکا خیال گُزرا۔"
--
یہ باتیں تو اللہ ہمیں سمجھانے کے لیئے کرتے ہیں۔۔
باغ ہونگے، نہریں ہونگی، اور دودھ ہوگا اور شہد ہوگا، اور پھل ہونگے۔۔
۔ کیسے ہونگے؟ کیا حقیقت ہوگی۔۔؟ یہ ہم سمجھ نہیں سکتے،
یہ تو ہمارے فہم کے قریب کرنےکےلیئے،ہماری عقل کے قریب کرنےکےلیئے،
تاکہ ہم بات کو سمجھ سکیں،
ہم تو اندھے ہیں۔۔ آخرت کےبارےمیں اندھے ہیں،
ہم نے دیکھا نہیں ہے،
ہاں --- ہمارے پیارے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نےدیکھا
ہم نے نہیں دیکھا۔۔ ہم تو ایمان رکھتے ہیں۔۔
دیکھا نہیں ہے۔۔ اندھے ہیں۔۔
تو اللہ ہماری سمجھ سے قریب کرنےکےلیئےبات کو بیان کرتے ہیں۔۔
---
آج کے درس کی آخری آیت۔۔
آیت نمبر اٹھاون:
ترجمہ :
"بےشک اللہ تمہیں حُکم دیتا ہے کہ امانتیں، امانت والوں کےحوالےکردو۔۔۔۔۔"
.
تفسیروں میں اس آیتِ کریمہ کا ایک شانِ نُزول لِکھا ہے:
اصل میں آپ جانتے ہیں کہ زمانۃ جاہلیت میں بھی کعبے کی خِدمت کو بڑا اعزاز سمجھا جاتا تھا۔۔
مشرک بھی، ابو جہل بھی، ابو لہب بھی،
یہ کعبےکی خدمت کو اپنے لیئے بہت بڑی عزّت سمجھتے تھے،کہ
"مَیں کعبےکی خدمت کرنےوالاہوں"
"مَیں نے حاجِیوں کوپانی پِلایا"
اور "مَیں کعبے کا چوکیدار ہوں" اور "مَیں کعبےکی صفائی کرتاہوں"
مشرک بھی یہ سمجھتے تھے اور آج ہم مسلمان ہوکر مسجد کی خدمت کرنےکواپنےلیئےعیب سمجھتےہیں۔۔
"خادِم کرےصفائی۔۔مَیں کیوں کروں؟"
]جبکہ ،اللہ کے گھر کی صفائی کرنا، اللہ کےگھر میں جھاڑو دینا،
یہ ذلّت کی بات نہیں ہے، عزّت کی بات ہے۔۔ نصیبےکی بات ہے،
خادِم تو تنخواہ لے کر کرتا ہے، ہم کرینگے اللہ کی رضا کے لیئے،
اللہ کے گھر میں جھاڑو دینگے،اللہ کے گھر کی صفائی کرینگے۔
جو حقیقتاً اللہ کی رضا کے لیئے ، اللہ کے گھر کا خادِم بن جائے،تو اِس سے بڑا مقام کوئی نہیں ہے،
جسے بادشاہوں کےبادشاہ کے دربار میں صفائی کا موقع ملے، کیوں نہ اپنی قسمت پر ناز کرے۔۔
بعض ایسے حضرات کے واقعات پڑھنے میں آتے ہیں جنہیں ، کعبہ یا روضۃ اقدس میں داخل ہونے کاموقع مِلا
تو اُنہوں نے اپنی ڈاڑھی سے، اپنے چہرے سے وہاں کی صفائی کرنی شروع کردی
کہ پتہ نہیں یہ موقع پھر دوبارہ ملے گا یا نہیں ملےگا؟[
.
تو زمانۃ جاہلیت میں بھی کعبےکی خدمت کو باعثِ عزّت سمجھاجاتاتھا

اور انہوں نے آپس میں مختلف خدمتیں تقسیم کر رکھی تھیں،
عثمان بن طلحہ تھے ایک صاحب،اُنکے ذمّے یہ تھا کہ وہ کعبے کا دروازہ کھولتےتھے،
کلید بردار تھے،کعبےکی چابی اُنکےپاس تھی،
تومختلف اوقات میں لوگوں کے لیئے کعبے کا دروازہ کھولا کرتے تھے،
اور کہتے ہیں کہ عام طور پر پِیر اور جمعرات کو کعبے کا دروازہ کھولاجاتاتھا،
۔۔۔ ہجرت سے پہلےایک دفعہ نبئ کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم نے کعبےمیں داخل ہونا چاہا،
تو عثمان بن طلحہ نے بڑے سخت الفاظ کہہ کر آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم کو اندر داخل ہونے نہیں دِیا۔
عثمان کو پتہ ہی نہیں تھا کہ مَیں اپنے آقا کو محروم کررہا ہوں

پتہ ہی نہیں تھا کہ مَیں کعبےکےمحافظ کو محروم کررہاہوں،
حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا۔۔ کہ عثمان ایک دن آئیگا کہ کعبے کی کنجی،
کعبے کی چابی میرے ہاتھ میں ہوگی،پھر مَیں جسےچاہونگا،دونگا۔۔
[ حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم نے پیشنگوئی فرمائی]،
بےبسی کا دَور ہے،بےچارگی کا دَور ہے،گُمنامی کا دَور ہے،
کوئی جانتا ہی نہیں ہے، کوئی مانتا ہی نہیں ہے،
اور آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرما رہے ہیں کہ عثمان ایک دن آئیگا،یہ چابی میرے ہاتھ میں ہوگی،
پھر جسے چاہونگا،دونگا
۔۔عثمان نے کہا، اگر ایسا وقت آیا تو وہ وقت قریش کی ہلاکت اور ذلّت کا وقت ہوگا،
حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا، نہیں عثمان وہ وقت قریش کی آبادی اور عزّت کا وقت ہوگا۔
اُس دن قریش کو عزت ملےگی اور قریش آباد ہونگے۔۔
پھرایسا ہوا۔۔
حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لے گئے ،
پھر مکہ فتح ہوا، مکّہ آئے واپس اور عثمان سے چابی لی
اور حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کعبے میں داخل ہوئے،
نماز ادا کی، کعبےسےباہرنکلے ۔۔۔ تو کئی اُمیدوار ہیں۔۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ اُمید رکھتے ہیں
اور دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین اُمید رکھتےہیں۔
کہ چابی مجھے دےدی جائے، مَیں کعبے کا دربان بن جاوَں،
لیکن حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم نے پوچھا،
"عثمان بن طلحہ کہاں ہیں؟"
حاضر ہوئے۔۔ حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا۔۔ عثمان لو چابی، اسلیئے کہ میرے اللہ نے کہا،
"امانت ، امانت والوں کے حوالے کردو"

آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم رکھ سکتےتھے چابی۔۔
آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم فاتح تھے مکّہ کے،
بڑے بڑے سردار سر جُھکائے کھڑے تھے
لیکن حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا
"نہیں ہم خیانت کرنے والے نہیں ہیں۔۔ ہم امانت کا خیال کرنے والے ہیں۔۔ "
میرا اللہ کہتا ہے:
"بےشک اللہ تمہیں حُکم دیتا ہے کہ امانتیں، امانت والوں کےحوالےکردو۔۔۔۔۔"
۔۔
عثمان نے چابی لی اور ساتھ ہی کلمہ پڑھا۔۔
لا الہ الّا اللہ ، محمّد الرّسولُ اللہ
۔۔۔
یہ تو ہے اس آیتِ کریمہ کا شانِ نزول
لیکن یاد رکھیں ، کوئی آیت بھی اپنےشانِ نزول کےساتھ خاص نہیں ہے،
بلکہ اُسکا مفہوم عام ہوتا ہے،اسی لیئے اللہ نے یہاں ، "امانت" نہیں کہا "امانات" کہا۔۔
جمع کا صیغہ ہے، امانات۔۔
"بےشک اللہ تمہیں حُکم دیتا ہے کہ امانتیں، امانت والوں کےحوالےکردو۔۔۔۔۔"
{امانت میں خیانت نہ کرو۔۔
"معارف القرآن" اُٹھا کر دیکھ لیجیئے ، "مفتئ اعظم پاکستان" ، حضرت مفتی محمّد شفیع صاحب ، نَوَّرَ اللہ مرقدہ نے
اس آیت کے مفہوم کو بڑا وسیع کِیا ہے کہ ساری امانتوں کا لحاظ کرنا ضروری ہےاور امانت میں بہت ساری چیزیں آتی ہیں،

یہ ہمارا جسم، یہ اللہ کی امانت ہے ، یہ ہمارا نہیں ہے
یہ آنکھیں ، اللہ کی امانت ہیں
یہ کان، اللہ کی امانت ہیں
یہ زبان ، اللہ کی امانت ہے
۔۔ ہم میں سےجو آنکھوں کو بد نظری کے لیئے استعمال کر رہے ہیں، امانت میں خیانت کررہےہیں
ہم جو روزمرّہ کے معمولات میں، روانی سے جھوٹ بولتے ہیں، غیبت کرتے ہیں ہم جان لیں کہ ہم اللہ کی امانت میں خیانت کررہےہیں
وہ ہاتھ جو ظلم کےلیئےاستعمال ہورہےہیں ، ان ہاتھوں میں خیانت ہورہی ہے۔۔
اب دیکھیئے، اس جسم کو اگر اللہ کی مرضی کے مطابق ٹکڑے ٹکڑے کروادے تو شہادت کا مقام ملتا ہے
اور اگر اس امانت میں خیانت کرتے ہوئے خود کُشی کرلے ، تو جہنّم کا ایندھن بنتا ہے۔۔
خودکشی حرام ہے۔۔ اللہ کی امانت اللہ کی مرضی کے مطابق استعمال کرلے تو شہادت کا مقام،
اور اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرے۔۔
[گلےپرچُھری پھیرلی،زہر کھا لِیا، اپنے آپکو بلندی سے گِرا لِیا،]
امانت میں خیانت کی ہے اور جو جس طریقےسےخودکشی کرےگا،
اسے قیامت کے دن بار بار اُسی طریقےسے عذاب دِیا جائیگا،
ہر مسلمان جانتا ہے کہ خود کشی حرام ہے،
اور جانتا ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیئے،
آپ دیکھیں اسی لیئے ، پوری دنیا میں خود کشی کا تناسب مسلمانوں میں سب سے کم ہے۔۔ غربت کے باوجود۔۔۔
کئی ایسے غریب ہیں ہم جانتے ہیں ، جنکے پاس سر چُھپانےکےلیئےجھونپڑا تک نہیں ہے،

دو وقت کی ڈھنگ کی روٹی نہیں پکتی۔۔ کِتنوں کے ہاں سالن ہی نہیں پکتا۔۔
بُھوک ہے لیکن خودکشی نہیں،
بیماری ہے۔۔ خودکشی نہیں،
بےروزگاری ہے۔۔ خودکشی نہیں،
-- ہے ۔۔ مگر اُتنی نہیں جتنی مغرب کے خوشحال مُلکوں میں ہے۔۔
معلومات کےبطابق سب سے خوشحال مُلک سُویڈن ہے، جہاں ہر شہری کو ہر سہولت حاصل ہے
علاج مفت، تعلیم مفت، سہولتیں ساری،
لیکن دنیا میں سب سے زیادہ خودکشی سُویڈن میں ہوتی ہے۔
اللہ اکبر--
معلوم ہوا اِس خودکشی کا تعلّق غریبی اور خوشحالی سے نہیں ہے۔۔۔
ایمان اور کُفر سےہے،
جسکےاندر ایمان ہو وہ کبھی خودکشی نہیں کرتا،خاص طور پر تو اللہ کا ذِکر کرنےوالا ہو،کبھی خودکشی نہیں کرتا،پریشانیوں کےبادل برستے ہیں، مصیبتوں کی آندھیاں چلتی ہیں،حوادث کے طُوفان آتے ہیں، گِھر جاتا ہے ہر طرف سے مصیبتیں ہی مصیبتیں، لیکن پھر بھی خودکشی نہیں کرتا،
"یا اللہ تُو رحم فرمادے، اللہ تُو کرم فرمادے"
.
خودکشی وہ کرتا ہے،جو یہ سمجھتا ہے کہ میرا تو اب کوئی نہیں۔
اور مسلمان ہر وقت سمجھتا ہے کہ میرا اللہ تو ہے۔
جب تک یہ احساس اور یقین رہتا ہے،مسلمان خودکشی نہیں کرتا،
---

تو یہ جسم اللہ کی امانت ہے، خدارا دِل میں اُتار لیجیئے۔۔ یہ جسم اللہ کی امانت ہے
آنکھوں سے خیانت نہ کریں۔۔
زبان سے خیانت نہ کریں۔۔
کانوں سے خیانت نہ کریں۔۔
ہاتھوں سے، پَیروں سے خیانت نہ کریں۔۔
یہ اللہ کی امانت ہے۔ جو اِسے اللہ کی نافرمانی کے لیئے استعمال کرتا ہے وہ اللہ کی امانت میں خیانت کرتا ہے۔
مال بھی اللہ کی امانت ہے، مسلمان کی سوچ یہ ہے کہ مال میرا نہیں.. اللہ کا ہے،
اللہ بھی بار بار قرآن میں یہی کہتا ہے:
"ہم نے دِیا"
.
اور یہ جو سوچ ہے کہ مال میرا ہے، میں نے اپنی ذہانت سے، اپنے عِلم سے کمایا،
یہ مومن کی سوچ نہیں ہے، کافر کی سوچ ہے۔
یہ قارون کی سوچ ہے۔۔ سورۃ القصص میں ہے،حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے قارون کو سمجھایا:
"تم بھی[اللہ کے بندوں کے ساتھ] احسان کرو جیسا اللہ نے تمہارے ساتھ احسان کِیا ہے"
تو قارون نے کہا:
یہ مال مجھے اللہ نے نہیں دِیا، میرے عِلم اور ذہانت کی وجہ سے مجھے مِلا ہے۔

یہ قارون کی سوچ ہے
جو شخص مال کو اللہ کی مرضی کے مطابق استعمال کرتا ہے،وہ امانت کا حق ادا کرتاہے،
اور جو حرام میں استعمال کرتا ہے، فضول خرچی کرتا ہے،نمود و نمائش کے لیئے استعمال کرتا ہے
وہ اللہ کی امانت میں خیانت کرتا ہے۔۔
چند مسلمان ہیں , واقعی جنکا مال اللہ کی رضا کے لیئے استعمال ہورہا ہے۔
وگرنہ اکثریت وہ ہے۔۔ پچانوے فیصد ، ننانوے فیصد مسلمان وہ ہیں
جنکا مال اللہ کی رضا کے خلاف استعمال ہورہاہے، نمود و نمائش، دکھاوا، اسراف ، فضول خرچی
حرام کے کام، گناہ کے کام--
--
اور ہاں، یہ اولاد بھی اللہ کی امانت ہے،اللہ جسے چاہتا ہے،دیتا ہے،جسے چاہتا ہے،نہیں دیتا۔۔
حضرت اُمّ سُلَیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بیٹا فوت ہوگیا۔۔
شوہر سفر سے واپس آئے، وہ چاہتی تھیں کہ سفر کی تھکن ہے انکو جلدی پریشان نہ کروں،شوہر کی تکلیف اور تھکاوٹ کا احساس کرتے ہوئے،ظاہر ہی نہیں کِیا کہ بیٹا فوت ہوگیا ہے،صبح ہوئی،توشوہرسےکہنےلگیں کہ اگر کسی شخص نے ہمارےپاس امانت رکھوائی ہوئی ہو اور وہ امانت واپس مانگے،تو ہمیں واپس کردینی چاہیئے یا منع کردینا چاہیئے؟
{یہ تمہید باندھی} ۔۔
انہوں نے کہا، منع کیوں کرنا ہے؟ ہم کوئی خیانت کرنےوالےتھوڑےہی ہیں۔۔
جسکی امانت ہے اسکو واپس کردینگے جب وہ مانگےگا،

توکہنےلگیں کہ دیکھو وہ بیٹا اللہ کی امانت تھا، اللہ نےاپنی امانت واپس مانگ لی،
وہ تو انتقال کرچکا، اللہ اپنی امانت واپس لےچُکا،مَیں نے بتایا اسلیئے نہیں تاکہ تم پریشان نہ ہوجاوَ،
اُنہیں بڑا غُصّہ بھی آیا کہ پُوری رات ایسے گُزر گئی، میرا بیٹا فوت ہوگیا تم نے مجھے بتایا نہیں؟
گئے نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم کی خدمت میں۔۔
حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا،
ابو طلحہ ۔۔ مبارک ہو، اللہ نے تمہیں سمجھدار بیوی عطا کی ہے، مبارک ہو{اللہ اسمیں برکت دےگا} ۔۔
اور اللہ نے ایسی برکت دی کہ ابو طلحہ کے بیٹے، حضرت عبداللہ، -- اللہ نے اُنکو نَو بیٹے دیئے، نَو کے نَو قرآن کے خادم اور حافظ،
۔۔تو اولاد بھی اللہ کی امانت، اس امانت میں بھی خیانت کرنا جائز نہیں ہے۔

جولوگ اپنے بچوں کی غلط تربیت کرتےہیں یا اپنے بچوں کو تباہ ہوتے دیکھتےہیں،مگر روک ٹوک نہیں کرتے،
اولاد اللہ کے حُکموں کو توڑ رہی ہے،مگر روک ٹوک نہیں کرتے،وہ امانت میں خیانت کے مرتکب ہورہےہیں،
اللہ کہتا ہے:
"اےلوگو اپنے آپکو بھی دوزخ کی آگ سے بچاوَ ، اور اپنے اہل و عیال کو بھی دوزخ کی آگ سے بچاوَ "
۔۔۔
کسی کو اللہ پاک عہدہ اور منصب عطا کردے،یہ بھی امانت ہے، اِس امانت میں بھی خیانت جائز نہیں ہے،
عالِم کے پاس عِلم ، امانت ہے
دولت مند کے پاس دولت، امانت ہے
والدین کے پاس اولاد امانت ہے
حکمرانوں کےپاس اقتدار امانت ہے
یہ جوانی امانت ہے، یہ زندگی امانت ہے،
یہ آنکھیں،یہ زبان ، یہ ہاتھ، یہ پاوَں،یہ امانت ہے
یہ دماغی اور ذہنی صلاحیت، یہ امانت ہے
اور اللہ کہتا ہے:
"مَیں قیامت کےدِن پوچھونگا ،
مَیں نے کان دِیئے تھے، کہاں استعمال کِیئے؟
آنکھیں دی تھیں، کہاں استعمال کِیں؟
دِل دماغ دِیا تھا، کہاں استعمال کِیا؟"
---
اور سب سے بڑی امانت دِین کی امانت ہے
اللہ پاک نے ہمکو دِین کی امانت دی ہے، قرآن کی امانت دی ہے، شریعت کی امانت دی ہے،
ہم پر لازم ہے، اس امانت کا حق ادا کریں، خود بھی عمل کریں اور دوسروں کو بھی عمل کی دعوت دیں،
اور ہمارے آقا حضرت محمد صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا:
"جسکےاندر امانت کی صِفت نہیں، اُسکے ایمان کا اعتبار نہیں اور
جِسکےاندر ایفائے عہد کی صفت نہیں،اُسکے دِین کا اعتبار نہیں"
.
آج اس معاشرے میں، سَو میں سے کوئی ایک مِل جائے تو بڑی بات ہے جو امانتدار ہو۔۔ باقی خیانت ہی خیانت--
مال ہمارا خُدا بن گیا
مال کی خاطر خیانت۔۔ دو پیسےکےلیئےایمان بیچ دیتے ہیں۔
.
آئیے عہد کرتے ہیں کہ منافقوں والی جو چار بڑی علامتیں ہیں، آج ہم اُن سے توبہ کر ہی لیں۔۔۔
اللہ پاک ہمارے دل میں یہ خیال ڈالدے آمین۔
عملی منافق کی چار بڑی علامتیں:
اللہ کے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا
منافق جب بات کرتا ہے جھوٹ بولتا ہے
جب وعدہ کرتا ہے وعدہ خلافی کرتا ہے
اور امانت رکھی جائے تو امانت میں خیانت کرتا ہے
اور ذرا سا جھگڑا ہوجائے تو گالی گلوچ پر اُتر آتا ہے
۔۔
آئیں آج بیٹھے بیٹھے اپنے اپنے دِل میں عزم کرلیں، اپنے اللہ سے وعدہ کرلیں کہ
اے اللہ مَیں اپنی باقی زندگی میں چاروں علامتوں سے بچُونگا
جھوٹ نہیں بولونگا -- انشاءاللہ
امانت میں خیانت نہیں کرونگا -- انشاءاللہ
وعدہ خلافی نہیں کرونگا -- انشاءاللہ
اور گالی گلوچ سےزبان کو گندا نہیں کرونگا

تو اِس آیت نمبر اٹھاون میں فرمایا:
ترجمہ:
"بےشک اللہ تمہیں حُکم دیتا ہے کہ امانتیں، امانت والوں کےحوالےکردو۔۔۔اور جب تُم، لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کےساتھ فیصلہ کرو۔۔"
.
مَیں کِیا بتاوَں آپکو کہ اللہ نے اور اللہ کے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نے عدل کی کتنی اہمیت بیان کی ہے
اللہ حُکم دیتا ہے:
"جب بات کرو تو عدل کی بات کرو"
اور اللہ کہتا ہے:
"عدل کرو، عدل کرنےوالے اللہ کے محبوب ہوتے ہیں"
اور اللہ کے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
قیامت کے دِن انسانوں میں سے
سب سے زیادہ اللہ کا محبوب اور اللہ کے قریب "اِمامِ عادل" ہوگا۔۔ عدل کرنے والا اِمام۔۔
اور سب سے زیادہ اللہ سے دُور اور اللہ کی نظر میں قابلِ نفرت "ظالم بادشاہ" ہوگا-
--
ایک طرف میرے رب کی یہ آیات اور پیارے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کی یہ احادیث۔۔
اور دوسری طرف پُورا عالَمِ اسلام۔۔۔ کم و بیش چھپّن اسلامی ممالک۔۔
ایسا لگتا ہے پُورے عالمِ اسلام پر ظالموں کی حکمرانی ہے۔

ایسے ظالِم کہ امریکیوں کے سامنے تو بھیڑ بنتے ہیں اور اپنے مسلمان شہریوں کے لیئے بھیڑیئے۔
خوفناک قِسم کے بھیڑیئے۔۔ ظالم حکمران مُسلّط ہیں۔
لیکن ساتھ یہ بھی کہہ دوں کہ یہ نتیجہ ہےہمارےاعمال کا
ہم بھی تو ظالم ہیں،ہم میں سے کوئی بھی ظلم سے چُوکتا نہیں ہے،
جہاں اُسکا داوَ چلتا ہے، ظلم سے باز نہیں آتا،
ہم میں سے بھی تو ہر ایک ظالم بنا ہوا ہے،
کوئی اپنے دفتر میں ، کوئی اپنی فیکٹری میں،
کوئی اپنی دکان میں، کوئی اپنے گھر میں، ۔۔۔
اگر ہم عدل کرنے والے بن جائیں تو اللہ پاک ہمیں عادل حکمران عطا فرمادیں،
تو فرمایا کہ:
ترجمہ:
"بےشک اللہ تمہیں حُکم دیتا ہے کہ امانتیں، امانت والوں کےحوالےکردو۔۔۔اور جب تُم، لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کےساتھ فیصلہ کرو۔۔ بےشک بہت ہی اچھی بات ہے جسکی نصیحت تمہیں اللہ کرتا ہے، بےشک اللہ پاک سُننے والا ہے، دیکھنے والا ہے"
---
وَاٰخِرُ دعوانا عَنِ الحمدللہِ ربّ العٰلمین



Jia Offline
#6 Posted : Sunday, December 04, 2011 8:19:11 PM(UTC)

Rank: The KP Queen

Groups: Member, Moderators
Joined: 11/30/2008(UTC)
Posts: 5,993
Points: 4,062
Woman
Location: karachi

Thanks: 16 times
Was thanked: 18 time(s) in 17 post(s)
ألا بذکر الله تطمئن القلوب"
ترجمہ: آگاہ ہوجاؤ کہ دلوں کا اطمینان اللہ کے ذکر سے ہے۔

وَقُل رَّبِّ ٱرۡحَمۡهُمَا كَمَا رَبَّيَانِى صَغِيرً۬ا
اے میرے رب جس طرح انہوں(والدین) نے مجھے بچپن سےپالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما
( سورة بنیٓ اسرآئیل / الإسرَاء آیت 24
Submit Your Recipe | Dinnerware Showcase

Hina_Khan Offline
#7 Posted : Monday, December 12, 2011 2:05:57 AM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 3/21/2010(UTC)
Posts: 1,103
Points: 2,348
Location: newyork

Thanks: 8 times
Was thanked: 1 time(s) in 1 post(s)

Beyshak Jia

imbajjo Offline
#8 Posted : Monday, December 12, 2011 4:56:28 PM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 10/13/2010(UTC)
Posts: 1,710
Points: 5,160
Woman
Location: kuwait

Thanks: 33 times
Was thanked: 35 time(s) in 28 post(s)
cassette no: 211

---
سورۃ النساء
آیت نمبر 59-63
---
درس کا عنوان: طاغوتی نظام
---

آج کے درس کا آغاز سورۃ النساء کی آیت نمبر اُنسٹھ سے کِیا جارہاہے،اللہ نے اس آیت میں اِن تین کی اطاعت کرنے کو کہا ہے۔۔
اللہ کی اطاعت،
رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کی اطاعت اور
امر والوں کی، حُکم والوں کی ، اختیار والوں کی اطاعت۔
امر والے کون ہیں؟
بعض حضرات نے کہا کہ اس سے مُراد نیک اور شریعت پر عمل کرنے والے حُکمران ہیں۔
اور بعض حضرات نے کہا کہ اس سے مراد علماء ہیں،
امر والے، عِلم والے،جنکا حُکم چلتا ہے،جنکا فتویٰ چلتا ہے، جنکا مسئلہ چلتا ہے اُنکی اطاعت کرو،
حکمرانوں کی اطاعت کا بھی اور امیر کی اطاعت کا بھی رسولِ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم نے حکم دیا ہے
اور اسکی بڑی تاکید فرمائی ہے کہ:
"جس شخص کو تمہارا امیر مقرر کردیا جائے اُسکی اطاعت کرو اگرچہ وہ حبشی غُلام ہی کیوں نہ ہو"
--
لیکن امیر کی جو اطاعت ہے۔۔ حکمران کی اطاعت، یہ اُسوقت ہے
جبکہ وہ شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے ہمیں کسی بات کا حُکم دے
اگر وہ شریعت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کسی بات کا حُکم دیتا ہے،تو اسکی اطاعت کرنا جائز نہیں ہے،
اور یہ معاملہ صرف امیر تک محدود نہیں، حکمران تک محدود نہیں،
بلکہ والدین کےبارےمیں بھی یہی حکم ہے اگر وہ شریعت کےدائرےمیں رہتےہوئےکسی بات کا حکم دیں، تو انکی اطاعت کرنا واجب ہے،
لیکن اگر شریعت کے دائرےسےباہرکوئی ایساحُکم دیں،کہ اُنکا حکم ماننے سے اللہ اور اسکےرسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کی نافرمانی ہوتی ہو،تو وہاں والدین کی بات ماننا بھی جائز نہیں ہے،
بلکہ شیخ، اور مربّی ، مرشد اور پیر کی اطاعت بھی اسوقت تک ہی جائز ہے جب تک وہ ہمیں اللہ اور اسکے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کی نافرمانی کا حکم نہ دے۔

لیکن خدا نخواستہ کوئی ایسا شیخ یا پیر ہو جو ہمیں حکم دیتا ہے کسی گناہ کا، بدعت کا، معصیت کے کام کا، تو ایسی صورت میں اس شیخ کی بات ماننا بھی جائز نہیں ہے
اسلیئے کہ اللہ کے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمادیا کہ :
"جہاں مخلوق کی بات ماننے سے خالق کی نافرمانی ہوتی ہو،وہاں مخلوق کی بات ماننا جائز نہیں ہے"
--
اگر تمہارے اور امیر کے درمیان آپس میں تنازعہ ہوجائے
امیر کہتا ہے کہ میری بات مانو اور تم اس سے اختلاف کرتے ہو،
امیر کہتا ہے کہ جو مَیں کہہ رہا ہوں یہی اللہ اور اسکے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کا حکم ہے اور تم اس سے اختلاف کرتے ہو۔
تو ایسی صورت میں اس اختلاف کا حل کرنےکا طریقہ یہ ہے،کہ اسے اللہ اور اسکے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کے سامنے پیش کردو۔۔۔ اب اللہ اور اسکے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کےسامنےکیسےپیش کرینگے؟
نہ ہمارے سامنے اللہ مُشخّص طور پر [آنکھوں سےجسےہم دیکھ سکیں] موجود۔
نہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم اس طریقے سے موجود۔ توکیسےپیش کرینگے اختلاف اور تنازعہ کو؟
تو کتاب اللہ کے سامنے پیش کرنا۔۔۔ یہ گویا کہ اللہ کے سامنے پیش کرنا ہے
اور سنّتِ رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کے سامنے پیش کرنا، گویا کہ خود رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کےسامنے پیش کرنا ہے۔

---
بعض کتابوں میں یہ واقعہ لکھا ہے کہ ایک سفر میں صحابۃ اکرام رضی اللہ عنہم اجمعین ،اپنےامیرکی قیادت میں جارہے تھے۔ کسی معاملے میں امیر ان سے ناراض ہوگیا۔
[جسے امیر مقرّر کیا گیا تھا ، وہ اُن سے ناراض ہوگیا۔۔ جب ہم اسلامی اصطلاح کےطورپر امیر کا لفظ بولتےہیں،تو اس سے مُراد مالدار نہیں ہوتا۔بلکہ اس سے مراد وہ ہوتاہے، جسےامام،پیشوا،رہبر، مقرر کیا جائے، کہ اسکے تحت جماعت چلےگی اور اسکے تحت لشکر چلےگا۔اور اسکی بات مان کر چلا جائیگا،یہ مراد ہوتا ہے امیر سے]
تو امیر کسی بات پر ناراض ہوگیا اپنی جماعت کے ساتھیوں سے۔ اتنا ناراض ہوا کہ امیر نے ایک آگ جلائی ایک گڑھے کےاندر،اور اُن سے کہا کہ سب چھلانگیں لگادو اسمیں،
اُنہوں نے کہا کہ ہم تو چھلانگ نہیں لگاتے۔۔
اور عجیب بات کہی کہ:
"ہم نے تو آگ سے بچنےکےلیئےایمان قبول کِیا ہے،اور آپ ہمیں کہتےہیں کہ آگ میں چھلانگ لگادو۔"
امیر کی بات نہیں مانی، واپس آئے،
نبئ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم کی خدمت میں یہ واقعہ پیش کِیا گیا۔ سارا معاملہ سنایا گیا، اللہ کے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نے اُنکی تعریف فرمائی۔۔اور تعریف بھی اس انداز میں کہ، فرمایا:
"اگر تم امیر کی بات مان کر اُس آگ میں چھلانگ لگادیتے تو پھر ہمیشہ اُسی آگ میں جلتے رہتے
[تم نے اچھا کِیا جو اُسکی بات کو نہیں مانا]"
تو فرمایا کہ کوئی ایسا مسئلہ پیش آجائے کہ صراحتاً اسکا حُکم کتاب اللہ میں بھی نہیں ملتا،
اور صراحتاً اسکا حُکم حدیثِ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم میں بھی نہیں ملتا،
تو ایسا کرو کہ قرآن اور حدیث سے جو اُصول ثابت ہیں ،اُنکی کسوٹی پر اس مسئلےکو پرکھو،
اگر یہ مسئلہ اُن اُصولوں پر پورا اُترتا ہے، اگر جواز کا حکم ثابت ہوتا ہے تو اسے بھی مان لو۔
اور اگر عدمِ جواز کا حکم ثابت ہوتا ہے تو تم اسکوبھی تسلیم کرلو، اسلیئے کہ سارے مسائل۔۔
زندگی کےسارےمسائل، وضوکےسارےمسائل،نماز کےسارےمسائل، استنجا اور غسل کےسارےمسائل،
یہ آپکو صراحتاً نہ قرآن میں ملینگے نہ حدیث میں ملینگے۔کوئی شخص بھی ایسا نہیں ہے، خواہ وہ کتنا ہی ذہین کیوں نہ ہو،کہ وہ سارےکےسارےمسائل قرآن سےصراحتاً ثابت کردے ۔۔ "صراحتاً"

قرآن اور حدیث میں ہمکو ساری جزئیات نہیں ملینگی، ہاں اُصول مل جائینگے۔کچھ اُصول قرآن سے مل جائینگے ، کچھ اُصول حدیث سے مل جائینگے۔ تو فرمایا کہ ان اصولوں پر پیش کرو اس اختلافی مسئلے کو۔۔اور اسکا حل نکالو
--
ایک چھوٹی سی مثال ہے:
ہمارے آقا صلّی اللہ علیہ وسلّم نے سُود کی حُرمت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ:
"چھ چیزیں ایسی ہیں، کہ اِنکو برابر سرابر بیچا جائے اور نقد بیچا جائے،تو بیچنا جائز ہے
اور اگر کمی بیشی کےساتھ بیچا جائے تو پھر بیچنا جائز نہیں ہے،
اُدھار بیچا جائے تو بھی جائز نہیں، گندم اور کھجور، نمک اور جَو، سونا اور چاندی۔"
--
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ حُکم صرف گندم کے لیئے ہے،اور کھجور کے لیئے ہے؟ چنے کے لیئے نہیں ہے؟
باجرےکےلیئےنہیں ہے؟ مکئی کےلیئے نہیں ہے؟ [بہت ساری چیزیں جو کھانے پینے میں آتی ہیں،اور جنکی خریدوفروخت ہوتی ہے۔۔۔]
اور اگر نہیں ہے، تو پھر صرف گندم میں کیا بات ہے؟

کہ اُسمیں تو کمی بیشی کےساتھ بیچنا جائز نہیں،مگر چنا ، باجرہ، مکئی، چاول اور دوسری چیزیں ۔۔ اُنکو کمی بیشی کےساتھ بیچنا جائز ہے۔۔
تو اب عُلماء نے کہا کہ جیسے ان چھ چیزوں میں کمی بیشی حرام ہے، اسی طریقے سے انکے علاوہ دوسری بھی بےشمار چیزیں ہیں،جنکے اندر کمی بیشی حرام ہے، ایسا نہیں کوئی کرسکتا کہ ایک من باجرہ دِیا اور اُسکے بدلے میں ڈیڑھ من لے لِیا۔ یا دس کِلو مکئی دی اور اُسکےبدلےمیں پندرہ کِلو لےلی،یہ جائز نہیں ہے،

تو ہم نے مکئی کا حُکم، باجرے کا حکم اور دوسری بہت ساری چیزوں کا حکم ثابت کِیا اسی حدیث سے لیکن قیاس کرتے ہوئے۔۔ اسکو کہتے ہیں "قیاس کرنا" ہم نے اس حدیث سے اُصول اخذ کِیا۔ امام ابو حنیفہ رحمت اللہ علیہ نے ایک اصول اخذ کِیا۔ امام مالک رحمت اللہ علیہ نے، امام شافعی رحمت اللہ علیہ نے، امام احمد بن حنبل رحمت اللہ علیہ نے ، ایک اصول اخذ کِیا، ایک علّت بیان کی کہ یہ علّت ہےجسکی بِنا پر اِن چھ چیزوں کے اندر اللہ کے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نے کمی بیشی کو حرام قرار دِیا ہے۔ یہ علّت جس چیز میں بھی پائی جائیگی،اُس چیز کے اندر کمی بیشی حرام ہوجائیگی۔۔۔
اب یہ ہے "اُصول سے ایک مسئلہ کو ثابت کرنا"
یعنی جو اصول اخذ ہوتا ہے اور جو قوائد اخذ ہوتے ہیں،اُنکی روشنی میں اِس اختلافی مسئلہ کا حل تلاش کرو۔

اِسکو کہتے ہیں۔۔ "قیاس" اور قیاس بھی ایک شرعی حُجّت اور دلیل ہے۔ کوئی امام بھی، اور کوئی سمجھدار عالِم، دنیا کا کوئی سمجھدار عالِم قیاس کی حُجّیت کا انکار نہیں کرسکتا۔ یعنی قیاس بھی ایک حُجّت ہے، ایک دلیل ہے جسکے ذریعےسےبہت سےمسائل حل کیئے جاتے ہیں،اخذ کیئے جاتے ہیں، ثابت کیئے جاتے ہیں اور حدیث سے بھی، قیاس کا حُجّت اور دلیل ہونا ثابت ہے۔
ہمارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے اپنے محبوب صحابی حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا، عامل اور گورنر اور اپنا نمائندہ بنا کر، اب ایک اجنبی سرزمین میں جارہےہیں، یہاں مدینہ میں تو نبئ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم کی ذاتِ مُطَھَّر موجود تھی،

۔۔ جس مسئلہ میں اِشکال ہوتا صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم اجمعین آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم سے پوچھ لیتے۔ لیکن وہاں اجنبی سرزمین میں کس سے پوچھینگے؟ [نہ ٹیلی فون تھا، نہ خط و کتابت کے یہ تیز ترین ذرائع، نہ فیکس۔ آج تو اللہ پاک نے ہمیں بڑی سہولتیں عطا فرمادیں، امریکہ کے کسی کونے میں بیٹھا ہوا، افریقہ کے آخری کونے میں بیٹھا ہوا مسلمان اگر چاہے تو پاکستان میں موجود کسی عالِم سے، مفتی سے ,مُحدّث سے، اپنے مسئلے کا حل ایک منٹ کے اندر معلوم کرسکتا ہے،لیکن اسوقت تو یہ سہولتیں نہیں تھیں تو ] حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سےپوچھا ، اے معاذ اگر تمہارےسامنےکوئی مسئلہ پیش ہُوا،تو اسکا حل کیسے نکالوگے؟کیسےفیصلہ کروگے؟
تو انہوں نے فرمایا کہ مَیں اللہ کی کتاب سے اسکا فیصلہ کرونگا،
اللہ کے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نے دریافت فرمایا، کہ اگر اللہ کی کتاب میں اُسکا جواب نہ ہُوا تو پھر کیا کروگے؟
عرض کیا،کہ مَیں اللہ کے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کی سُنّت سے فیصلہ کرونگا۔
اللہ کے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نے دریافت فرمایا، اگر تمہیں اُس مسئلے کا جواب میری سنّت میں بھی نہ مِلا تو پھر کیا کروگے؟ تو حضرت معاذرضی اللہ عنہ نے فوراً کہا: مَیں اپنی رائےسےاجتہاد کرونگا،قیاس کرونگا۔۔ اور قیاس کرنےمیں کوئی کوتاہی نہیں کرونگا ، پوری ذہنی صلاحیت لڑادونگا، اللہ کی کتاب کوسامنےرکھونگا، آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی سنّت کوسامنےرکھونگا، اور پھر اپنی عقل کو لڑاوَنگا، قیاس کرونگا، قرآن و حدیث سے جو اُصول ثابت ہوتے ہیں اُنکی روشنی میں، اُس مسئلےکا حل نکالونگا۔۔ تو حدیث میں آتا ہے، نبئ کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم نے خوشی سے [اور مَیں تو یہ بھی سمجھتا ہوں کہ برکت کے لیئے] اپنا مبارک ہاتھ، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کےسینےپر مارا۔
بڑا پیار تھا، حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے،



[ایمان تازہ کرنے کے لیئے سنا رہا ہوں]
صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے واقعات کبھی کبھی پڑھا کریں ۔۔ ایمان تازہ ہوتا ہے۔۔

حدیث میں آتا ہے کہ حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف روانہ کررہےتھے، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے کہا تم سوار ہوجاوَ میں پیدل چلونگا۔۔ اب حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ جیسا با ادب اور محبت کرنے والا صحابی، یہ کیسے گوارہ کرلے۔۔
کہا۔۔ یا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم یہ تو نہیں ہوسکتا۔۔
فرمایا کہ یہ میرا حُکم ہے، تم سوار ہوجاوَ۔۔ اب حکم کوتوماننا ضروری۔۔ سوار ہوگئے۔۔ اور اللہ کے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم ، اُنہیں روانہ کرنےکےلیئے ساتھ پیدل جارہےہیں۔

اور اِس موقع پر حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم نے ایک بات یہ بھی کہہ دی، [جس نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے جذبات میں تو طلاطم مچایا ہی، خود حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم بھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے] حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے تھوڑا سا اپنے چہرۃ مبارک کا رُخ اِدھر کرتے ہوئے فرمایا:
"اے معاذ رضی اللہ عنہ ہوسکتا ہے ، تم واپس آوَ تو تمہارا گُزر میری قبر پر ہو۔ اور میری زیارت نہ کرسکو۔"
اور یہ کہتےہوئے حضورِ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم کی مبارک آنکھیں آنسووَں سے چھلک پڑیں۔۔



تو بہر حال عرض یہ کررہا تھا، حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے سینے پر ہاتھ مارا ، محبت سے، پیار سے، اور برکت کے لیئے، اور فرمایا۔۔
"ساری تعریفیں اُس اللہ کےلیئےہیں ، جس نے رسول اللہ [صلّی اللہ علیہ وسلّم ] کے رسول کو ، اُس چیز کی توفیق اور سمجھ عطا کی ، جس پر رسول اللہ [صلّی اللہ علیہ وسلّم] راضی ہے۔"
{رسول ، قاصد کو بھی کہتےہیں، نمائندے کوبھی کہتےہیں}
--
تو قیاس کا، حُجّت ہونا۔۔۔
اجتہاد کا ، ایک شرعی دلیل ہونا۔۔۔
یہ حدیث سےثابت ہے۔ اور اُمّت میں سے کوئی بھی سمجھدار عالِم ، قیاس کی حُجّیت سے انکار نہیں کرسکتا۔
---
بعض بد نصیب ہیں، بے ادب۔۔ منہ پھٹ لوگ، وہ کہہ دیتےہیں، معاذ اللہ۔۔ قیاس کرنا تو شیطان کا کام ہے، جو ائمّہ کی تقلید سے نفرت کرتے ہیں۔ لیکن اختلاف کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ آپ اختلاف کرتے ہیں، آپ تقلید نہیں کرتے، لیکن اختلاف کی ایک حد ہے۔ اختلاف میں گالی گلوچ کرنا، یہ جائز نہیں ہے، دلیل کی بنیاد پر کسی سے اختلاف کِیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔۔۔ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین میں بھی اختلاف ہُوا۔ بعض اوقات کسی مسئلے میں صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم سے بھی اختلاف کِیا۔
حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کی رائے اور،
صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی رائے اور۔
حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم نے اختلاف کرنے کی تربیت دی۔ کہ کیسےاختلاف کِیا جاتا ہے۔۔۔ تو اختلاف کرنےکا بھی ایک سلیقہ ہوناچاہیئے،توبعض ایسے حضرات جو تقلید سے نفرت کرتے ہیں، اُنمیں سے بعض[سارے نہیں۔۔ سبکی بات نہیں کی جارہی] بعض انمیں سے ایسے ہیں جو ، معاذ اللہ، کہتے ہیں کہ " قیاس کرنا شیطان کا کام ہے۔

شیطان نے کِیا تھا سب سے پہلا قیاس۔۔"

۔...
شیطان نے قیاس کِیا تھا: اسلیئے کہ اُس نے کہا کہ مَیں آگ سے پیدا کِیا گیا۔۔
آدم مٹی سے پیدا کِیا گیا۔۔ آگ مٹی سے بہتر، لہٰذہ مَیں آدم سے بہتر۔
.......

تو اس واقعے کو سامنے رکھ کر ایسا کہتے ہیں۔
ایسا کہنے والے یہ نہیں سوچتے؟ کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ پر بھی یہ فتویٰ لگ رہا ہے، صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین پر بھی یہ فتویٰ لگ رہا ہے۔ اور اُمّت کے بڑے بڑے ائمّہ پر بھی یہ فتویٰ لگ رہا ہے۔
۔۔۔
تو اِس ایتِ کریمہ سے قیاس کی حُجّیت کو ثابت کِیا گیا، بلکہ بعض حضرات نے اس آیتِ کریمہ سے شریعت کے جو چار مصادر ہیں۔۔، شریعت کے چار مراجع، چار منابع، چار سرچشمے، ۔۔ اُن چاروں سرچشموں کو اِس آیتِ کریمہ سے ثابت کِیا ہے۔
چار سرچشمے کون سے ہیں؟ جن سے پوری شریعت اخذ ہوتی ہے۔ شریعت کے سارے مسائل اخذ ہوتے ہیں:
سب سے پہلے۔۔ اللہ کی کتاب،
اُسکے بعد رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی سُنّت اور حدیث،
اُسکے بعد ۔۔ اُمّت کا اِجماع {اُمّت کسی مسئلہ پر متّفق ہوجائے}،
اور اُسکے بعد قیاس۔۔ اجتہاد-
یہ چار مصادر ہیں شریعت کے۔ چار سرچشمےہیں، ان سے مسائل اخذ ہوتے ہیں شریعت کے۔
---
اَطِیعُوا اللہ ۔۔ اس سے کتاب اللہ کا حُجّت ہونا ثابت ہُوا
وَ اَطِیعوا الرّسُول ۔۔ اس سے حدیث کا حُجّت ہونا ثابت ہُوا
وَ اُولِی الاَمرِ مِنکُم ۔۔۔ اس سے اِجماع کا حُجّت ہونا ثابت ہُوا
فَاِن تَنازَعتُم فِی شَی ء فَرُدُّوہ اِلی اللہ والرّسول ۔۔ اس سے، فِقہ، اجتہاد اور قیاس کا حُجّت ہونا ثابت ہوگیا۔
---
اللہ کی اطاعت ، اللہ کے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کی اطاعت، اجماعِ اُمّت کی اطاعت اور قیاس کی اطاعت، اِنکی روشنی میں زندگی بَسَر کرنا ، یہ بہتر ہے اور انجام کے اعتبار سے سب سے اچھا-
۔۔۔
سب سے بہترین زندگی وہ زندگی ہے جو کتاب اللہ کی روشنی میں بسر ہو اور جو سُنّت رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی روشنی میں بسر ہو-
اللہ کی قَسَم ، ایسی زندگی میں دنیا میں بھی سُکون ہے اور آخرت میں بھی سکون ہے۔ کامیابی ہی کامیابی ہے،
اور جب زندگی گزاری جائیگی کتاب اللہ کو چھوڑ کر ، سُنّتِ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کو چھوڑ کر، تو دنیا میں بھی انتشار، اضطراب، بےقراری، اختلاف، لڑائیاں ، جھگڑے، فتنہ ، فساد، قتل و غارت گَری، یہ ہوگا اور آخرت میں بھی یہی کُچھ ہوگا۔ یہی پریشانی، وہاں پر بھی سکون نہیں ملےگا ۔۔۔ اُس فرد کو بھی اور اُس جماعت کو بھی، جو کتاب اللہ کو چھوڑ کر اور سُنّت رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کو چھوڑ کر زندگی بسر کریگا - جیسے آج ہم دیکھ رہےہیں اپنی آنکھوں سے ... پورا معاشرہ، پوری سوسائٹی، پورا مُلک ، پوری قوم ، بلکہ پورا عالَمِ اسلام ، اختلافات، اضطرابات، پریشانیوں، لڑائیوں جھگڑوں، فتنہ و فساد کا شِکار ہے ۔۔ اللہ اور اسکے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم سے بغاوت اختیار کرنےکی وجہ سے۔
---
آیت نمبر ساٹھ میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو دعوے تو کریں ایمان کے، "ہم مومن ہیں" ، " ہم مسلم ہیں " "ہم قرآن کو بھی مانتے ہیں، تورات ، زبور، انجیل کو بھی مانتے ہیں" -- لیکن اپنی زندگی کے معاملات اور باہمی تنازعات کا فیصلہ کروانا چاہتے ہیں، طاغوت سے۔
آیت نمبر ساٹھ کا شانِ نزول:
حدیث میں آتا ہے۔۔ کہ ایک شخص جو بظاہر مسلمان تھا ، لیکن حقیقت میں منافق، اُسکا جھگڑا ہوگیا ایک یہودی کےساتھ ۔۔ اور عجیب بات یہ ہوئی کہ یہودی نے کہا کہ "چلو اِس جھگڑے کا فیصلہ کرواتے ہیں محمد الرّسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی عدالت سے" {یہودی بھی جانتے تھے کہ حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم عدل کی بات کرتے ہیں، انصاف کی بات کرتے ہیں، ظلم اور زیادتی کی بات نہیں کرتے ، چاہےمعاملہ اپنےدشمن ہی کا کیوں نہ ہو۔ چاہے مقدّمہ یہودی ہی کے خلاف کیوں نہ ہو، عیسائی ہی کے خلاف کیوں نہ ہو، حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کے ذاتی دشمن ہی کے خلاف کیوں نہ ہو}
[اور آج ۔۔۔ مسلمان بھی جانتے ہیں کہ مسلمان حکمران عدل کی بات نہیں کرتے
اُسوقت ۔۔۔ یہودی بھی جانتے تھے اور یہ صرف حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کی بات نہیں ۔۔ عرصۃ دراز تک ، غیر مسلم یہ جانتے تھے کہ مسلمان عدل کی بات کرتے ہیں، سچائی کی بات کرتے ہیں، انصاف کی بات کرتےہیں، انسانیت کی ہمدردی کی بات کرتےہیں -- ظلم کی بات نہیں کرتے
اور آج کافر تو جانتے ہی ہیں ۔۔۔ خود مسلمان بھی جانتے ہیں کہ ہمارے حکمران، ہماری عدالتیں ، ہمارے جج ، وہ انصاف کی بات نہیں کرتے
معاذ اللہ ظلم کی بات کرتے ہیں، ظالم کی حمایت کرتے ہیں، اپنے شہریوں پر ظلم و ستم ڈھاتے ہیں، سنگ دل ہیں اپنےشہریوں کےلیئے، اور نرم دل ہیں کافروں کےلیئے ، یہود و نصاریٰ کےلیئے ]
.....
تو یہودی نے کہا چلو تمہارے نبی{صلّی اللہ علیہ وسلّم} کےپاس چلتے ہیں، اور منافق نے کہا "نہیں، کعب بن اشرف کےپاس چلتےہیں" [وہ یہودیوں کا سربراہ تھا]
اُسکا خیال یہ تھا کہ اُسکو کُچھ دےدِلا کر، مُکمُکا کرکے، اپنے حق میں فیصلہ کروالونگا۔ لیکن جب یہودی نےبہت ہی اسرار کِیا، "ارے۔۔ کیسے مسلمان ہو تم؟ اپنے نبی {صلّی اللہ علیہ وسلّم} سے فیصلہ ہی نہیں کروانا چاہتے۔۔ اور کعب بن اشرف سے فیصلہ کروانا چاہتے ہو"
تو با دلِ ناخواستہ، یہ منافق چل پڑا۔۔۔ حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کی عدالت میں پہنچے، حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم نے دونوں کی بات سُنی، اور فیصلہ کردیا یہودی کے حق میں، اور اُس منافق نے اپنے خلاف اس فیصلےکو پسند نہیں کیا، اور بعض روایات میں آتا ہےکہ ، کہنےلگا، "چلو ایک دفعہ عُمر بن خطّاب رضی اللہ عنہ سے بھی اس مسئلے کا جواب پوچھ لیں{چلو ان سے بھی پوچھ لیتے ہیں}"
اُسکا خیال یہ تھا کہ عُمر بن خطّاب رضی اللہ عنہ ، کافروں کے حق میں بڑے سخت ہیں ،شاید وہ ، اس یہودی کے خلاف اور میرے حق میں فیصلہ کردیں،
حضرت عُمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جب دونوں کی گفتگو سُنی اور
اُس گفتگو کے دوران اُنکو پتہ چلا کہ "حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم فیصلہ فرما چُکے، یہ دوبارہ میرے پاس آئے ہیں"
تو حضرت عُمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ،
"ٹھہرو ۔۔ ابھی آتا ہوں"
۔۔ گئے گھر میں اور تلوار لےکر آئے اور منافق کی گردن کو اُڑادِیا۔
اور فرمایا کہ "جِسے حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کا فیصلہ تسلیم نہیں ، اُسکا فیصلہ عُمر کی زبان نہیں ، عُمر کی تلوار کریگی" {مَیں اِسی طریقے سے فیصلہ کرتا ہوں۔۔} بڑا شور مچا۔۔ "عُمر رضی اللہ عنہ نے ایک مسلمان کو قتل کردیا"
۔۔ دوسری جگہ آتا ہے۔۔ اللہ نے فرمایا کہ "یہ مسلمان ہےہی نہیں،جو نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم کے فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتا" اور آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے فیصلے کو چھوڑ کر کسی اور سے فیصلہ کروانا چاہتا ہے وہ مسلمان نہیں ہے۔ اور بعض روایات میں آتا ہے کہ اِسی موقع پر جبرئیلِ امین علیہ السّلام آئے اور اُنہوں نے کہا:
" عُمر رضی اللہ عنہ نے فرق کردیا ہے حق اور باطل کے درمیان"
اور اِسی دن سے حضرت عُمر فاروق رضی اللہ عنہ کو لقب مِلا، "فاروق" کا۔
فاروق ۔۔ "حق اور باطل میں فرق کرنے والا انسان"
---
اس آیت میں طاغوت کا لفظ استعمال ہوا ہے۔۔
طاغوت کیا ہے؟
"المفردات فی غرائب القرآن" مشہور کتاب ہے "امام راغب اسفھانی رحمت اللہ علیہ" کی۔۔ عربی میں کتاب ہے، اردو میں بھی ترجمہ ہوچکا۔ جو حضرات قرآن کو بہت باریکی سے اور قریب ہوکر سمجھنا چاہیں، اُنکے لیئے یہ کتاب بہت بڑی نعمت ہے۔۔ تو المفردات میں امام راغب رحمت اللہ علیہ نے طاغوت کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:
"کُلُّ مَعبد و مَعبُود مِن دُونِ اللہ"
"اللہ کے سِوا،[ اللہ کو چھوڑ کر ] جسکی عبادت کی جائے، جہاں عبادت کی جائے ، وہ طاغوت ہے"
جو اللہ کے حُکم سے ٹکراتا ہے، اور اللہ کو چھوڑ کر اپنی عبادت اور اطاعت کا حُکم دیتا ہے۔۔ "اللہ کی نہ مانو، میری مانو۔۔ " چاہے وہ کوئی حکومت ہو، چاہے وہ کوئی بُت ہو، چاہے وہ کوئی شخصیّت ہو ، لیڈر ہو۔ وہ طاغوت ہے۔
جو اللہ اور اسکے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کو چھوڑ کر اپنی عبادت، اپنی اطاعت اور اپنی بات ماننے پر اسرار کرتا ہے وہ طاغوت ہے۔
...
سورۃ نحل میں بھی اللہ نے طاغوت کا ذکر کیا۔۔ فرمایا:
ترجمہ:
"ہم نے ہر اُمّت میں رسول بھیجا، یہ پیغام دے کر کہ ایک اللہ کی عبادت کرو، اور طاغوت سے بچ کر رہو"
...
اور سورۃ البقرہ میں بھی:
ترجمہ:
"جس نے ہر طاغوت کے ساتھ کُفر کِیا،
اور اللہ پر ایمان لے آیا ، اُس نے ایک مضبوط حلقےکوتھام لِیا "
..
وہ ہے پکّا مومن۔۔ تو طاغوت کےساتھ کُفر کرنا واجب ہے
مسلمان کو حُکم دیا گیا کہ اپنے فیصلے کرواوَ اللہ اور اسکے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کی عدالت سے کتاب اللہ سے، سنّتِ رسول اللہ سے۔

ایسا نہیں ہے کہ نماز تو پڑھنی ہے ،روزے رکھنے ہیں،اللہ کے حُکم کے مطابق، رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے طریقےکےمطابق ،مگر تجارت،معاشرت،معیشت، شادی بیاہ۔۔ یہ سب کچھ کرنا ہے ہندووَں کے طریقےکےمطابق، ۔۔۔ ایسا نہیں ہے۔
مسلمانوں کو حکم دِیا گیا کہ سب کچھ کرو اللہ اور اسکے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کی تعلیمات اور ہدایات کی روشنی میں،
تجارت بھی انہی کی روشنی میں،
سیاست بھی انہی کی روشنی میں،
معاشرت،معیشت،شادی بیاہ،غمی،خوشی،سب کچھ انہی کی روشنی میں--
تو فرمایا کہ یہ دعوےتوکرتےہیں ایمان کے، اور اپنے معاملات کا فیصلہ کرواتے ہیں طاغوت سے،
اور طاغوت ہر وہ طاقت ہے،ہر وہ جماعت ہے،ہر وہ فرد ہے جو ہمیں اللہ کی اطاعت سے روکے،
اللہ کے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کی اطاعت سے روکے۔
---
آیت نمبر اِکسٹھ:
ایمان کا تقاضہ یہ ہےکہ ہم سارےفیصلے اللہ کی کتاب کی روشنی میں کریں، حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کی سنّت کی روشنی میں کریں۔ لیکن ہم، بھاگتے ہیں۔۔۔ اللہ کی کتاب سے اور سنتِ رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم سے۔۔ اور اللہ کہتا ہے کہ یہ کتاب و سنّت سے اعراض کرنے والے، منہ موڑنے والے، منافق ہیں۔۔ مومن ایسا نہیں ہوسکتا۔ کہ اُسکو کتاب اللہ اور سنّتِ رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کی طرف بلایاجائے تو اُسکے چہرے پر بل پڑ جائے۔۔۔
وہ تو کہےگا:
اٰمَنّا وَصَدَّقنا ۔۔۔ ہم ایمان لاتے ہیں ، ہم تصدیق کرتے ہیں
"میرے اللہ کی کتاب کیا کہتی ہے؟ میرے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کی حدیث کیا کہتی ہے؟ مجھے وہ فیصلہ سناوَ،میں وہ تسلیم کرونگا۔
مَیں نہیں مانتا انگریز کے قانون کو، مَیں نہیں مانتا یہودیت اور عیسائیت کے آئین کو۔۔ مَیں تو اللہ اور اسکے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کے قانون کو مانتا ہوں"
---
آیت نمبر باسٹھ:
میرا اللہ، ہماری ایک ایک بیماری کو جانتا ہے، ہمیں بنایا ہے اللہ نے۔۔ پُورا جسم اللہ نے بنایا،
ڈھانچہ اللہ نے کھڑا کِیا،
اسمیں رُوح -- اللہ نے پُھونکی،
دِل -- اللہ نے بنایا، دماغ -- اللہ نے بنایا،
آنکھیں ، کان -- سب کچھ اللہ نے بنایا، خُون کی گردش -- اللہ نے جاری فرمائی،
دل میں جو خیالات، جذبات پنپتے ہیں، اور پرورش پاتے ہیں -- اُنکو بھی اللہ جانتا ہے،
اسلیئے اللہ ایک ایک بیماری کا علاج کرتا ہے، یہ الگ بات ہے کہ ہم شِفا چاہتے ہی نہیں، ہم تو بیمار ہی رہنا چاہتے ہیں، علاج بھی موجود۔۔ اور معالج دعوت دےرہا ہے۔۔ آوَ ۔۔
اور معالج بھی ایسا کہ جس سے علاج کروانے میں شِفا کا ہونا سَو فیصد یقینی۔۔
..
اس آیتِ کریمہ میں ارشاد ہے کہ
"[اُن کے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے] اُن پر کوئی مصیبت آجاتی۔۔۔۔"
اصل میں یہ مُصیبت اُن پر آجاتی کہ وہ جاتے طاغوتی عدالت میں ،طاغوتی فیصلہ کروانےکےلیئے،خیال یہ ہوتا تھا کہ یہ طاغوتی عدالت ہمارے حق میں فیصلہ کریگی، لیکن وہ طاغوتی عدالت اُنکے حق میں فیصلہ نہ کرتی، اب شرمندہ ہوتے:
۔۔ "بڑی مصیبت آگئی" ۔۔ ایمان کو بھی چھوڑا، اللہ اور اسکے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کی عدالت کو بھی چھوڑا۔ طاغوتی عدالت میں بھی آئے اور پھر بھی فیصلہ ہمارے حق میں نہیں ہوا،
ہمارے خلاف ہوگیا۔۔ بڑی مصیبت آگئی،
۔۔ اصل بات تو یہ ہے کہ وہ انصاف چاہتے ہی نہیں، بلکہ وہ تو اپنی مرضی کا فیصلہ چاہتے ہیں، "اپنی مرضی کا فیصلہ" وہ کہیں سے بھی مِل جائے،
"اپنی مرضی کا فیصلہ" اگر اللہ اور اسکے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کی عدالت سے مِل جائے ،۔۔ اپنے حق میں فیصلہ مِل جائے تو کہیں گے۔۔
"اللہ اور اسکے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کا قانون بڑا سچّا ہے، بڑا عدل والا ہے"
اور اگر یہاں سے اپنے خلاف فیصلہ مِلے۔۔ تو طاغوتی عدالت میں جاتے ہیں،وہاں سے بھی چاہتےہیں کہ ہمارے حق میں فیصلہ ہوجائے---
---
{بِلا تشبیہہ کہہ رہا ہوں،بات کو سمجھانے کے لیئے،اسلیئے کہ جو سامنے حالات ہیں اُن سے بات اچھی طرح سمجھ میں آتی ہے۔۔ آپ دیکھ رہے ہیں عدالتوں میں آجکل کیا ہورہا ہے؟ ایک پارٹی کے حق میں فیصلہ ہوجاتا ہے، کہتی ہے "عدالت زندہ آباد" ۔۔ دوسرے دن اُسی کے خلاف فیصلہ ہوتا ہے، کہتی ہے "عدالت مُردہ آباد" ۔۔ ایک دن حق میں فیصلہ ہوجائے، پھولوں کی پتّیاں برساتے ہیں، ۔۔"عدلیہ زندہ ہوگئی" دوسرے دن خلاف فیصلہ ہوجاتا ہے۔۔ ٹماٹر اور انڈے برساتے ہیں۔۔اور کہتے ہیں کہ "یہ بِکے ہوئے لوگ ہیں"}
---
(ye bayaan 21st october 2007 ka hy)
---
فرمایا کہ ان پر بڑی مصیبت آتی ہے جب یہ جاتے ہیں طاغوتی عدالت میں، خیال یہ ہوتا ہے کہ ہمارے حق میں فیصلہ ہوگا۔۔ ہوتا نہیں ہے، وہاں سے ناکام ہوکر ، اب شرمندہ ہو کر حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کی خدمت میں آتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ "اللہ جانتا ہے کہ ہم اللہ کے قانون کو مانتے ہیں، طاغوت کے قانون کو ہم نہیں مانتے۔۔ لیکن صرف بھلائی مقصد تھی،
ہمارا خیال یہ تھا کہ شاید وہاں سے کوئی ایسا فیصلہ آجائے ،جسکی وجہ سے حالات ٹھیک ہوجائیں، صُلہ صفائی کا ماحول برقرار رہے، ہم تو امن پسند لوگ ہیں، وہاں تو امن کی تلاش میں گئے تھے،ورنہ ہم تو پکّے مسلم ہیں،آپ فیصلہ فرمائیں"
---
آیت نمبر تریسٹھ:
اللہ ان لوگوں کےبارے میں فرماتا ہے:

یہی وہ لوگ ہیں، اللہ جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے۔۔ اللہ کہتا ہے
انکی قَسموں پر نہ جائیں، اللہ جانتا ہے۔۔ جو کچھ ان کے دِلوں میں ہے۔۔ اللہ جانتا ہے کہ یہ کیسے مسلم ہیں۔۔
آپ اِن سے اعراض کریں۔۔ چھوڑیں اِنکو، اِنکی غلطیوں کے باوجود۔۔ [اسوقت پالیسی یہ ہے کہ منافقوں سے چشم پوشی کی جائے،وعظ و نصیحت کی جائے اور اِنکو قتل نہ کِیا جائے] آپ اِن سے اعراض کریں، اور اِنہیں سمجھائیں،اور اِنکو ایسی نصیحت کریں،جو اِنکے دِل میں اُتر جائے[ایسی بات کہیں اِس انداز سے کہیں کہ اِنکے دل میں اتر جائے اور یہ طاغوت کو چھوڑکر اللہ اور اسکے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کے فیصلوں کو ماننے والے بن جائیں ]
---
اللہ پاک مجھے اور آپ سبکو ایسا ہی بنادے۔آمین
و اٰخر دعوانا عن الحمدللہ رب العلمین


Jia Offline
#9 Posted : Tuesday, December 13, 2011 7:37:24 AM(UTC)

Rank: The KP Queen

Groups: Member, Moderators
Joined: 11/30/2008(UTC)
Posts: 5,993
Points: 4,062
Woman
Location: karachi

Thanks: 16 times
Was thanked: 18 time(s) in 17 post(s)
آمین

جزاک اللہ خیر بجّو



وَقُل رَّبِّ ٱرۡحَمۡهُمَا كَمَا رَبَّيَانِى صَغِيرً۬ا
اے میرے رب جس طرح انہوں(والدین) نے مجھے بچپن سےپالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما
( سورة بنیٓ اسرآئیل / الإسرَاء آیت 24
Submit Your Recipe | Dinnerware Showcase

imbajjo Offline
#10 Posted : Thursday, December 15, 2011 4:59:46 PM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 10/13/2010(UTC)
Posts: 1,710
Points: 5,160
Woman
Location: kuwait

Thanks: 33 times
Was thanked: 35 time(s) in 28 post(s)
بسم اللہ الرحمن الرحیم

سورہ النساء آیت نمبر 64

---
اللہ فرماتے ہیں کہ دنیا میں ہم نے جو بھی رسول بھیجا ، اُن رسولوں کے بھیجنے کا مقصد یہ تھا کہ،
انسان اُن رسولوں کی اتباع کرے...اللہ کے حُکم سے،
" بِاِذنِ اللہ "
.
اسکےدو معنی علماء نے لکھے ہیں:
ایک معنیٰ تو یہی کہ اللہ کے حکم سے اطاعت کی جائے
اصل اطاعت تو اللہ کی ہے۔۔ اور اللہ کے حُکم سے پھر اطاعت کی جاتی ہے رسول اللہ کی-
اسی لیئے اللہ فرماتے ہیں:
ترجمہ:
"جس نے رسول کی اطاعت کی اُس نے حقیقت میں اللہ کی اطاعت کی..
اسلیئے کہ رسول کی اطاعت کا حُکم اللہ نے دِیا ہے،قرآنِ کریم میں یہ مضمون بار بار بیان ہُوا ، یعنی رسول کی اطاعت کا۔۔
" اطیعو اللہ و اطیعو الرّسول "
متعدّد مقامات پر یہ حکم دیا گیا
کہ اللہ کی اطاعت کرو اور اللہ کے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کی اطاعت کرو
تو پہلا معنیٰ تو یہ ہے کہ رسول کی اطاعت کی جائے،اللہ کے حکم سے۔
اور دوسرا معنیٰ بعض اہلِ عِلم نے یہ بیان کِیا کہ
ہم نے جو بھی رسول بھیجا ،وہ اسی لیئے بھیجا کہ اُسکی اطاعت کی جائے،اللہ کی توفیق سے،
توفیق دینےوالا، اللہ ہے۔
اللہ توفیق دینگے بندے کو تو بندہ اللہ کے رسول کی اطاعت کریگا۔

یہ دو معنیٰ کیئے گئے۔
---
اس آیت میں "اپنے اوپر ظُلم " کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔۔
قرآن ۔۔، "اپنے اوپر ظُلم " کے الفاظ کن معنی کےلیئے استعمال کرتا ہے؟
آپ جانتے ہیں کہ یہ الفاظ استعمال ہوتے ہیں گناہوں کےلیئے،
اسلیئے کہ اللہ فرماتے ہیں کہ بندے کا گناہ کرنا۔۔۔ یہ حقیقت میں اپنے اوپر ظلم کرنا ہے،
جو بھی گناہ کرتا ہے،وہ حقیقت مِں اپنے اوپر ظلم کرتا ہے،
جھوٹ بولنےوالا۔۔اپنے اوپر ظلم،
خیانت کرنےوالا۔۔۔اپنے اوپر ظلم،
چوری کرنےوالا۔۔اپنے اوپر ظلم،
نماز کا چھوڑنےوالا ۔۔ اپنے اوپر ظلم کرتا ہے،
اللہ اور اسکے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کے احکام کو توڑنےوالا۔۔ یہ حقیقت میں اپنے اوپر ظلم کرتا ہے
-- اسلیئے کہ گناہ کا انجام کبھی بھی اچھا نہیں ہوتا، دنیا میں بھی اُسکے بُرے نتائج سامنے آجاتےہیں

خود اسکے اپنے اعمال اسکی سزا بن کے سامنے آجاتے ہیں،
بعض اوقات اُن اعمال کے اثرات اولاد میں دِکھائی دیتے ہیں،
بعض اوقات کاروبار میں، بعض اوقات پُورےمعاشرے میں،
اور آخرت میں تو بہرحال اُن گناہوں کی سزا اُسے مِل کر رہےگی۔۔۔،
اسلیئے قرآن جہاں بھی کہتا ہے کہ اپنے اوپر ظلم نہ کرو۔۔
تو اُسکا معنیٰ یہی ہوتا ہے کہ اللہ اور اسکے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کی نافرمانی نہ کرو،
اللہ اور اسکے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کی نافرمانی، یہ حقیقت میں اپنے اوپر ظلم ہے-

اللہ یہ بھی کہتے ہیں:
"یہ جو گناہ کرتےہیں،ہمارےحکموں کوتوڑتےہیں،ہم پر ظلم نہیں کرتے[ہمارا کچھ نہیں بگڑتا] یہ اپنے اوپر ہی ظلم کرتےہیں"
اگر آپ اسی میں غور فرمائینگے،تودیکھینگےکہ انفرادی زندگی میں،اجتماعی زندگی میں،گناہوں کے اثرات اپنا رنگ دکھاکر رہتے ہیں،کسی نہ کسی انداز میں سامنے آجاتے ہیں، ۔۔
اب سوچیں کہ اگر سارے کےسارے، جھوٹ بولنےوالےبن جائیں،
سارے کے سارے خیانت کرنےوالے بن جائیں،
سارے کےسارے چور بن جائیں،راشی بن جائیں، بدکار بن جائیں،
سبھی ایسے بن جائیں تو معاشرہ کیسا بنےگا؟
ہم دیکھ رہے ہیں، کہ یہ گناہ عام ہوتے جارہے ہیں تو آج زندگی کتنی تلخ ہوتی جارہی ہے۔
انفرادی زندگی بھی تلخ اور اجتماعی زندگی بھی تلخیوں سے دوچارہے۔
--
آیت کے اگلے حصّے میں، اصل میں ترغیب دی جارہی ہے کہ اگر گناہ ہوجائے تو توبہ کرنے میں دیر نہ کی جائے

جوشخص جتنی جلدی کرتا ہے توبہ کرنے میں---اُتنی جلدی اُسکی توبہ قبول ہوتی ہے۔
[جبکہ وہ توبہ کرے، توبہ کی شرائط کو ملحوظ رکھتےہوئے]
بار بار یہ مضمون آپکے سامنے بیان کِیاجاچکاکہ توبہ کی قبولیت کی چند شرائط ہیں،
جنمیں سے سب سے پہلی شرط تو ندامت ہے--
اور دوسری شرط ترکِ گناہ ہے[ایسا نہیں کہ سَو سَو بار،ہزار ہزار بار استغفار بھی کرے اور گناہوں سے باز بھی نہ آئے]-- اور تیسری شرط،آئندہ نہ کرنے کا عزم --
اور جہاں تک اُسکی تلافی ہوسکتی ہے تو تلافی کرنے کی کوشش کرے۔
یہ چار شرائط آپ سبکے سامنے بارہا بیان کی جا چکی ہیں،
اِنکو پلّے باندھ لیجیئے کہ قبولیتِ توبہ کے لیئے یہ چار بڑی شرطیں ہیں۔

---
imbajjo Offline
#11 Posted : Thursday, December 15, 2011 6:28:53 PM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 10/13/2010(UTC)
Posts: 1,710
Points: 5,160
Woman
Location: kuwait

Thanks: 33 times
Was thanked: 35 time(s) in 28 post(s)
آیت نمبر 65

"فَلَا " : ["پس نہیں"]

یہ قرآن کا ایک انداز ہے۔۔ بعض اوقات آپ دیکھینگے, قرآن کہےگا:
"لا" : ["نہیں"]
اور اِس "نہیں" کا اگلے مضمون سے تعلّق نہیں ہوتا"
جیسے۔۔
لَا اُقسِم بِیَومِ القِیَامَہ
وَلَا اُقسِمُ بِالنَّفسِ اللَّوَّامَہ
"لا" کا تعلّق ایسے مضمون کے ساتھ ہے جسکو اللہ نے قرآن میں ذکر نہیں کِیا، ۔۔
.
تو "فلا" کا تعلّق اگلے مضمون کےساتھ نہیں ہے،بلکہ کسی ایسی بات کی تردید ہےجس کا پہلے ذکر ہوچکا۔۔۔۔
اور پہلے جو ذکر ہوا ،آپ پچھلےدرس میں سُن چُکے۔۔ اللہ نےفرمایا:


"کیا آپ نے دیکھا اُن لوگوں کو،جنکا دعویٰ یہ ہے کہ ہم مومن ہیں لیکن فیصلےکرواناچاہتےہیں طاغوت سے۔۔"

[آیت ساٹھ]

---

تویہاں اُس بات کی تردید ہے،
"فلا" : [نہیں۔۔ اِنکے دعوے کا اعتبار نہیں]
"وَرَبّکَ " : [اور تیرے رب کی قَسَم ]
۔۔ کیا انداز ہے۔۔
اسمیں نبئ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم کی عظمت بھی ظاہر ہورہی ہے۔۔
اللہ کہہ رہا ہے "تیرےرب کی قسم"۔۔ ربّ تو سارے عالمین کا ہے۔۔
الحمدللہ رب العٰلمین
سارے عالمین کا رب ہے، سارے جہانوں کا رب۔۔
لیکن اللہ نے ،عالمین میں سے خاص طور پر ہمارے آقا صلّی اللہ علیہ وسلّم کو منتخب کرکےفرمایا۔۔
کہیں فرمایا: تیری زندگی کی قسم۔
اور کہیں فرمایا، جس شہر میں آپ رہتے ہیں اس شہر کی قسم،
تو یہ حضورصلّی اللہ علیہ وسلّم کے مقام اور رُتبے کو ظاہر کرنے کے لیئے ہے۔
.
تو اللہ فرماتے ہیں
یہ مومن نہیں ہوسکتے، جب تک کہ اپنےتنازعات میں، اپنے اختلافات میں ، اپنے مقدّمات میں، اپنے جھگڑوں میں، آپکےفیصلےکوتسلیم نہ کریں ۔۔
.
اللہ کہتا ہے میرے محبوب، تیرے رب کی قَسَم، اُسوقت تک مَیں اِنکے ایمان کا اعتبار نہیں کرونگا....
.
تین شرطیں لگائیں اللہ نے۔۔مومن ہونےکےلیئے۔۔
ہم میں سے ہر ایک مومن ہونا چاہتا ہے تو وہ ابھی سے ارادہ کرلے کہ مَیں تینوں شرطوں کو پورا کرونگا انشاء اللہ۔
الحمدللہ ہم میں سےہرایک چاہتا ہے کہ مَیں اللہ کے نزدیک مومن بن جاوَں-
یاد رکھیئے۔۔مولوی صاحب کےنزدیک مومن بننے کا اعتبار نہیں ہے،
انسانوں کی نظر میں ہمارے مومن ہونےکا اعتبار نہیں ہے،
اصل تو مومن ہونے کا اعتبار ہے اللہ کی نظر میں،
دنیا والے ہمیں مومن نہ بھی سمجھیں اور اللہ مومن سمجھتا ہے ہمکو ،
تو ہمیں دنیا والوں کے نہ سمجھنےسےکوئی نقصان نہیں ہوگا۔
اور دنیا والے ہمیں بہت بڑا مومن سمجھتے ہیں۔۔اور بڑا متّقی پرہیزگار،
لیکن اللہ کے نزدیک نہ ہم مومن ہیں نہ متّقی، نہ پرہیزگار،
تو دنیا والوں کی تعریفوں سے کچھ نہیں ہوگا،
دنیا والے تو ایسے ہی ہیں ، دھوکہ کھا جاتے ہیں، بےوقوف ہیں،
وہ ہماری ظاہری باتوں سے ایسا سمجھ رہے ہوں کہ یہ بڑا بزرگ ہے۔
لیکن اللہ جانتا ہے۔۔
بزرگ ہے؟
یا کہ نہیں ہے؟
تویادرکھیں یہ تین شرطیں ہیں اللہ کے نزدیک مومن ہونےکےلیئے:ان تینوں شرطوں پر عمل کرنے کی اللہ ہمیں توفیق دے آمین۔
ہے بڑا مشکل کام لیکن اللہ نے کہہ دیا، قسم کھا کر کہہ دیا
تیرے رب کی قسم یہ مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ انکے اندر تین شرطیں نہ پائی جائیں،
پہلی شرط تو یہ ہے کہ زندگی کے سارے معاملات میں آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے فیصلے کو تسلیم کریں۔۔۔
"زندگی کے سارے معاملات میں" --
ایسا نہیں کہ وضو ٹوٹنے ، نہ ٹوٹنے کے بارے میں تو پوچھتا ہے،
"حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کا کیا حکم ہے؟"
نماز کےبارےمیں تو پوچھتا ہے
پانی کے پاک، ناپاک ہونےکےبارےمیں تو پوچھتا ہے
"حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کا کیا حکم ہے؟"
اور لاکھوں روپے کی کمائی حرام کی کھا رہا ہے اسمیں پوچھتا ہی نہیں
"حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کا کیا حکم ہے؟"
سوچتا ہی نہیں، پوچھتا ہی نہیں، معلوم ہی نہیں کرتا،
معلوم کرنا چاہتا ہی نہیں ہے۔۔
کہتا ہے کہ زیادہ مسئلے معلوم کرتے رہے تو پھر کاروبار کیسے کرینگے؟
لہٰذہ ہم معلوم ہی نہیں کرتے۔۔
.
بہت سارے گناہ ہوگئے تو ایک حج کرکے آجائینگے، عمرہ کرکے آجائینگے اور تحفے تحائف بھی خرید کر لائینگے اور گناہ بھی سارے معاف کرواکے آئینگے۔ یہ لوگ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اللہ صرف سرمایہ داروں کا اللہ ہے، غریبوں کا تو اللہ ہے ہی نہیں۔ وہ تو بےچارے چھوٹے چھوٹے گناہوں پربھی پکڑےجائیں،اور بڑے بڑے مجرم اس طریقےسےاپنےآپکوپاک صاف کرواکے آجائیں
..
۔۔ دوسری شرط: آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم جو بھی فیصلہ فرمائیں اس پر اپنے دل میں یہ تنگی محسوس نہ کریں، چاہے وہ فیصلہ اپنی مرضی کے موافق ہو یا اپنی مرضی کے مخالف۔ ۔۔
بظاہر تو فیصلہ مان لے، کہ لوگ کیا کہینگے کہ کیسا مومن ہے۔۔ نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کے فیصلے کو نہیں مانتا۔۔
لیکن دل کُڑھ رہا ہے۔۔ غیظ و غضب ہے دل کے اندر کہ کیسا فیصلہ ہے۔ میرا ستیاناس کردیا۔۔
اور میرے منصوبےکوتباہ کردیا اور میری مرضی کے خلاف ہے۔

فرمایا: اگر دل میں کُڑھن ہے پھر بھی یہ مومن نہیں ہے
مومن کے دل میں اللہ اور اسکے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کا فیصلہ سننے کے بعد کُڑھن نہیں ہونی چاہیئے،
تنگی نہیں ہونی چاہیئے،گُھٹن نہیں ہونی چاہیئے۔
..
--اور تیسری شرط: اور اُسے پوری طرح تسلیم کرلیں۔۔۔ جیسے تسلیم کرنے کا حق ہے۔
ظاہری اعتبار سے بھی تسلیم کرلیں اور باطنی اعتبار سے بھی تسلیم کرلیں۔
--
اگر ان تین شرطوں کو مان لیا جائے اور اسکے مطابق ہم اپنے گھر کی زندگی بنالیں،
تجارت کی زندگی بنالیں،
عدالت کی زندگی بنالیں،
تو زندگی میں کتنی سہولتیں پیداہونگی--
میاں بیوی میں اختلاف ہو جائے۔۔ وہ کہہ دیں "ہم اللہ اور اسکے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کے فیصلے کو تسلیم کرلینگے،خواہ وہ کیسا بھی فیصلہ کیوں نہ ہو۔۔ ہماری مرضی کے خلاف ہو یا مرضی کے موافق۔۔ ہم تسلیم کرلینگے "
۔۔ تو جھگڑا ہی نہیں ہے
۔۔
دو تاجروں میں جھگڑا ہوجائے، یا عام افراد میں جھگڑا ہوجائے تو کہہ دیں
کہ ہم اللہ اور اسکے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کے فیصلے کو تسلیم کرلینگے۔۔ جو بھی ہو۔۔
--
یہ تو اللہ نے قسم کھا کر کہا، اور اُدھر حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم نے بھی قسم کھا کر کہا۔۔
" اُس ذات کی قسم جسکے قبضے میں میری جان ہے۔۔ تم میں سے کوئی اُسوقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنی خواہشات کو وحی کے، اور قرآن کے اور میری شریعت کے تابع نہ کرلے"
---
آپ بتائیے عالَمِ اسلام میں کیا ہورہا ہے؟
کون ہے وحی کےفیصلوں کو ماننے والا؟
قرآن کےفیصلوں کو ماننے والا؟
شریعت کےفیصلوں کو ماننے والا؟
پورے عالَمِ اسلام میں بےدردی سے احکام توڑےجارہےہیں۔۔ اجتماعی زندگی میں خاص طور پر اور انفرادی زندگی میں عام طور پر اللہ اور اسکے صلّی اللہ علیہ وسلّم کے حکموں کو توڑا جارہا ہے-

.....

یہاں ایک وضاحت تو یہ کردوں، کہ یہ جو فرمایا گیا کہ
"میری اتباع کروگے تب نجات ملےگی، اپنی خواہشات کو میرے تابع کرو"
۔۔
تو اِس اِتباع کا تعلّق دینی معاملات کےساتھ ہے،دنیاوی معاملات کےساتھ نہیں ہے،
بعض چیزیں ایسی ہیں ،دنیاوی معاملات سے تعلق رکھتی ہیں،
اُسمیں حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کی اِتباع کرنا ضروری نہیں ہے ۔۔۔
"دنیاوی معاملات" ۔۔ حضورِ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم کو خاص قِسم کی غذا پسند تھی، اگر بِالفرض کسی کو پسند نہیں ہے یا اُسکے مِزاج کے موافق نہیں ہے، تو ایسا نہیں کہ ہم کہہ دیں کہ تُو تو مومن ہی نہیں ہے۔۔ اسلیئے کہ تجھے وہ چیز پسند نہیں ہے جو حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کو پسند تھی،
ہم اُسکو تسلیم کریں کہ واقعی بہت اچھی چیز ہے، لیکن کیا کروں میری طبیعت ایسی ہے، مزاج ایسا ہے
۔۔۔
اللہ پاک نے مختلف مزاج بنائے ہیں۔
.
"دنیاوی معاملات" ۔۔ یا حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم نے چار ، اور چار سے زیادہ شادیاں کیں تو کوئی ہمیں کہے کہ تم بھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ ایک سے زیادہ شادیاں نہ کرو
۔۔
تو دنیاوی معاملات میں یہ ضروری نہیں ہے کہ حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کی اتباع کی جائے
اور اسمیں حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم نے بھی ہمارے جذبات کا لحاظ کِیا، قُربان جائیے۔۔
حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا۔۔ :
"مَیں انسان ہوں، اگر مَیں دِین میں سے کسی بات کا حُکم دوں تو اُس پر عمل کرو۔۔ لیکن اگر مَیں اپنی رائے سے دنیا کے بارے میں کوئی مشورہ تم کو دوں ،تو یاد رکھو مَیں بھی انسان ہوں۔"
..
تو اصل ہے حضورِ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم کی اتباع ، اطاعت، آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی فرمانبرداری،
صحابۃ اکرام رضی اللہ عنہم اجمعین پوری طرح نبئ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم کے فیصلوں کو تسلیم کرنے والے تھے۔
اُنکےسامنےگردن جھکانے والے--
بےشمار واقعات ہیں، کتابیں بھری پڑی ہیں ان واقعات سے، ایک دو واقعات عرض کردیئے جائیں۔۔
آپ جانتےہیں کہ نبئ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم نے حُکم دِیا ۔۔ کہ مرنےوالوں کا تین دن سےزیادہ سوگ نہ منایا جائے۔ سوائے شوہر کے-- کہ بیوی اُسکا سوگ تو منائےگی، شوہر کے علاوہ کسی مرنےوالےکا سوگ تین دن سے زیادہ نہ منایا جائے۔ جسکا شوہر فَوت ہوجائے وہ چار مہینے دس دن سوگ منائےگی۔
تو حضرت زینب بنتِ جحش رضی اللہ عنہا کے بھائی کا انتقال ہوگیا، اُس موقع پر تین دن تک تو اُنہوں نے اِظہارِ غم کِیا، لیکن چوتھےدن خوشبو منگواکر اپنے چہرے پر مَل لی،
..
حدیث میں الفاظ خوشبوکےآتےہیں، لیکن مَیں یہ سمجھتا ہوں کہ ہم یُوں کہہ سکتے ہیں کہ
چوتھے دن انہوں نے "کِریم اور پاوَڈر" مَل لِیا اپنے چہرےپر۔
۔ "میک اَپ" کرلیا۔۔
[حدودِ شریعت میں رہتے ہوئے "میک اَپ" کرنا عورت کےلیئے جائز ہے]
اور مَیں "کِریم اور پاوَڈر" کے الفاظ اسلیئے استعمال کررہاہوں کہ
اسلیئے کہ نبئ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم نےفرمایاکہ،
.
مرد [کے استعمال ] کے لیئے بہترین خوشبو وہ ہے ، جو مہکے تو سہی لیکن اُسکا رنگ نہ ہو [رنگ نہ نظر آئے]
اور عورت [کے استعمال ] کے لیئے بہترین خوشبو وہ ہے ، جسکا رنگ نظر آئے لیکن اسکی خوشبو تیز نہ ہو۔۔ [کہ دُور دُور تک پتہ چل جائے کہ فلاں گُزر رہی ہیں-- ایسا نہ ہو]
---
توبہرحال انہوں نے چوتھے دن خوشبو مَل لی چہرے پہ۔۔ اور فرمایا کہ مجھے اِس خوشبو کی [کِریم اور پاوَڈر کی] قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے، نہ تمنّا،نہ طلب ، کوئی حاجت نہیں، لیکن چونکہ حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا کہ "شوہرکےعلاوہ کسی مرنےوالےکا سوگ تین دن سے زیادہ منانا جائز نہیں" ۔۔ مَیں نے اسلیئے خوشبو کا استعمال کِیا ہے-


اسی طریقے سے حضرت اُمّ حبیبہ رضی اللہ عنہا کےوالد کا انتقال ہوگیا چوتھے دن انہوں نے بھی اپنے چہرے پر خوشبو مَل لی اور یہی الفاظ ارشاد فرمائے کہ چونکہ اللہ کے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نے تین دن سے زیادہ سوگ منانے کی اجازت نہیں دی اسلیئے مَیں نے ایسا کِیا ہے۔
تو حضورِ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم کی تعلیمات اور احکام کی پُوری طرح
اتباع کرنےوالے تھے تمام صحابۃ اکرام رضی اللہ عنہم اجمعین
--
حضرت خُرَیم اسعدی رضی اللہ عنہ کے بال تھے لمبے لمبے،
اور چادر اور تہہ بند جو باندھتے تھے وہ ٹخنوں سے نیچے لٹکتا ہُوا۔۔
ویسے بڑے اچھے انسان تھے،
تو حضورِ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا کہ
خرَیم اسعدی بہت اچھا انسان ہے،کاش یہ بال اتنے لمبے نہ رکھتا،اور تہہ بند ٹخنوں سےنیچےنہ لٹکاتا۔۔
[حضورِاکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم کےسمجھانے کا طریقہ بھی بڑا پیارا۔۔ کہ بہت اچھا آدمی ہے۔۔کاش یہ دو باتیں اسکےاندر نہ ہوتیں]
اُنکو اِطلاع مِلی۔۔ تو اُنہوں نے قینچی لی، بال کاٹ دِیئے اور چادر ٹخنوں سے اوپر باندھ لی۔
۔۔۔ کہ حضورِاکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم نےفرمایاہے


تو اسطریقے سے حضورِ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم کی تعلیمات اور احکام کی پُوری طرح
اتباع کرنےوالے تھے تمام صحابۃ اکرام رضی اللہ عنہم اجمعین
--

اصل بات یہ کہ اُنکے دل میں حضورِ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم کی محبت بھی تھی
اور حضورِ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم کی عظمت بھی تھی۔
۔ اور یہ دونوں چیزیں ہوں تو اتباع خود بخود ہو جاتی ہے۔
۔ اتباع کے لیئے پھر تکلّف بھی نہیں کرنا پڑت۔
ایک تو دل کے اندر اللہ کے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کی عظمت ہو۔
۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم کا مقام اور مرتبہ۔
۔ کہ کتنی بڑی ہستی ہیں آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم ۔
اور کتنی بڑی ہستی کی طرف نسبت ہے میری۔
۔ تعلّق ہےمیرا۔
۔ اُمّتی ہوں مَیں اُنکا۔
۔ اور پھر آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم سے محبت بھی ہو--
یہ دونوں چیزیں ہونگی تو۔
۔ [یہ دونوں چیزیں] اتباع پر مجبور کردینگی۔


imbajjo Offline
#12 Posted : Friday, December 16, 2011 4:42:08 PM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 10/13/2010(UTC)
Posts: 1,710
Points: 5,160
Woman
Location: kuwait

Thanks: 33 times
Was thanked: 35 time(s) in 28 post(s)



آیت 66
--
اللہ کہتے ہیں، مَیں بہت مشکل حُکم بھی تودےسکتاتھا
اللہ یہ حُکم دےدیتے،کہ تم اپنے آپکو مار ڈالو
جیسے بنی اسرائیل سے گناہ ہوگیا تو انکو حکم دیا گیا کہ اپنے آپکو قتل کرو۔ تب تمہاری توبہ قبول ہوگی، شِرک کِیا ہے تم نے، بغیر قتل کیئے تمہاری توبہ قبول نہیں ہوگی۔
اللہ ہمیں بھی تو یہ حکم دےسکتےتھے، تم سے حرام کاری ہوئی ہے، تم نے شراب نوشی کی ہے، تم نے نماز چھوڑی ہے، تم اپنے آپکو مار ڈالو، اللہ یہ حکم دےسکتےتھے،
تم اس گناہ کے بدلے میں اتنا مال فِدیہ کے طور پر دو، اللہ یہ حکم دےسکتےتھے،
تم اپنے گھر سے نکل جاوَ، اللہ یہ حکم دےسکتےتھے،
اللہ یہ بھی حکم دےسکتےتھے،کہ جتنا کماوَ اس مین سے صرف صبح اور شام کی ضرورت کے مطابق رکھ لو اور سارا میری راہ میں خرچ کردو۔
تو ایک مومن ہونے کی حیثیت سے اللہ کے ان احکامات پر عمل کرنا ہم پر لازم ہوتا۔۔
جب ہم بندے ہیں ، غلام ہیں، تو اللہ کے اس حکم پر عمل کرنا لازم ہوتا
حضرت شیخ الہند، مولانا محمود حسن [اللہ اُنکی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے] سچّے عاشقِ خدا،
سچّے عاشقِ رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم اور سچّے مجاہد تھے۔ انہوں نے ایک موقع پر عجیب بات فرمائی

کہ، اگر اللہ یہ حکم دیتا مجھے،کہ " اے محمود تم اُڑو"۔
اب مَیں اُڑ تو سکتا نہیں۔۔ لیکن مَیں کسی بلند چوٹی پر یا بلند چھت پر چڑھ جاتا۔۔اور اللہ کے حکم کی تعمیل میں، اُڑنے کی کوشش کرتا۔۔ چاہے میرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے ہی کیوں نہ ہوجاتے۔ لیکن اُڑنے کی کوشش ضرور کرتا۔ اسلیئے کہ میرے اللہ کا حکم ہے-
---
اللہ نے اپنے خلیل [علیہ السّلام] کو حُکم دِیا: "بیٹے کو ذبح کرو"
کردِیا۔۔ تیّار ہوگئے، لِٹادِیا، چُھری چلادی، یہ تو الگ بات ہے کہ اللہ پاک نے بچالِیا،
لیکن اُنہوں نے کوئی حِیل و حُجّت تو نہیں کی۔۔
بیٹے کو۔۔ ؟ اور بیٹا بھی وہ جو بُڑھاپے میں عطا ہُوا۔ بڑی آرزووَں کے بعد، دعاوَں کے بعد، ۔۔۔ اور بیٹے کو ذبح کرنا حلال کیسے؟ جائز کیسے؟ ۔۔۔ کوئی تاویل نہیں ۔۔ کوئی سوال نہیں، بس لے چلے۔۔
بیٹا بھی ایسا۔۔ وہ بھی چل پڑا۔۔
"اللہ کا حکم ہے تو۔۔ ابّا دیر نہیں کرنا۔۔ اگر آپ صبر کرنے والے ہیں تو انشاءاللہ مجھے بھی صبر کرنےوالوں میں سے پائیںگے۔۔ مَیں چُوں چراں نہیں کرونگا"
..
تو اللہ کہہ رہے ہیں کہ اگر مَیں یہ حکم دےدیتا کہ اپنے آپکو مار ڈاالو یا اپنے گھروں سے نکل جاوَ۔۔ تو یہ حکم بہت مشکل ہوتا اور تم میں سے بہت تھوڑے اس حکم پر عمل کرتے۔۔۔، باقی اتباع نہ کرتے۔ اس حکم کی تعمیل نہ کرتے
---
اللہ نے یہ حکم دِیا نہیں ہے۔۔ اصل تو یہاں اُن لوگوں کو تنبیہہ ہے جنکو فرائض اور واجبات میں اور دوسرے اعمال میں
نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کی اتباع کا حکم دِیا گیا، اصل تو ان لوگوں کو سمجھایا جارہاہے،کہ تمہیں تو فرائض اور واجبات اور دوسرے احکام اور اعمال میں اتباع کا حکم دِیا جارہاہے،حالانکہ انکی اتباع کرنا تو کوئی مشکل نہیں ہے۔۔ لیکن تم اُن میں بھی ہچکچاتےہو-

اور اگر کہا جاتا کہ اپنے آپکو مار ڈالو یا گھروں سے نکل جاوَ تو پھر تو تم کبھی بھی عمل کےلیئےتیّار نہ ہوتے۔حالانکہ اصل یہ ہے مومن کےلیئےکہ اللہ جو حکم دے ،اسکو پورا کر ڈالے۔ اسکو پورا کرنے کی کوشش تو ضرور کرے۔ جیسا کہ حضرت محمود حسن نے فرمایا کہ " مَیں اُڑنے کی کوشش ضرور کرتا"
۔۔
حدیث میں آتا ہے کہ جب یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی،تو بعض صحابۃ اکرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے کہا
"اگر اللہ ہمیں حکم دیتا ، تو ہم اس حکم پر عمل کر گزرتے ۔۔ لیکن ساری تعریفیں اللہ کےلیئےہیں، جس نے ہم پر رحم کِیا اور ہمیں ایسے مشکل احکام نہیں دیئے"
[لیکن اگر دےدیتاتوہم عمل کرتے]
نبئ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم کے کانوں تک، صحابۃ اکرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا یہ جذبہ پہنچا
تو حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا
"میری اُمّت میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جنکےدل میں ایمان ، بڑے بڑے پہاڑوں سے بھی زیادہ مضبوط ہے۔" [پہاڑ ہِل جائیں ،لیکن اِنکا ایمان نہیں ہِلےگا اپنی جگہ سے۔]
اور واقعی تھے ۔۔
آپ دیکھیں۔۔
ظلم وستم کا کونسا حربہ ہے جو بعض صحابۃ اکرام رضی اللہ عنہم اجمعین پر نہیں آزمایا گیا۔ لیکن ترکِ ایمان اور ترکِ دامنِ مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلّم پر وہ کسی صورت بھی تیار نہیں ہوئے ہیں۔

--
یہ بات توجہ سے سن لیجیئے ہم سب ہی کے ایمان میں اضافہ کرنے والی ہے اور ہمارے اندر اتباع کا جذبہ پیدا کرنے والی بات۔۔
یاد رکھیں اللہ اور اسکے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کی اتباع سے اور نیک عمل سے، قوّتِ ایمانی میں اضافہ ہوتا ہے۔
ایمان ، جو ضعیف ہو تو قوی ہوجاتاہے اور قوی ہو تو قوی سے قوی تر ہوجاتاہے،
جب ہر موقع پر یہ طے کرلیا : "مجھے تو اللہ اور اسکے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کی بات مان کر چلنا ہے، " تو قوّتِ ایمانی میں اضافہ ہوگا،
اور حکیم الاُمّت حضرت تھانوی رحمت اللہ علیہ نے بڑی پیاری بات فرمائی،
فرمایا کہ:
"تجربہ سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ دِین کا کام کرتے رہنےسے، اعتقاد اور یقین کی باطنی کیفیت میں بھی ترقی ہوتی ہے"
۔
دِین کا کام کرتا رہے، کرتا رہے،
کرنا آتا نہیں تھا، کررہا ہے۔۔ دل بھی اتنا نہیں لگتا اور سمجھتا ہے "میرے اندر اتنا اخلاص بھی نہیں ہے" ۔۔ لیکن لگا رہے، لگا رہے، تو اعتقاد اور یقین کی باطنی کیفیت میں ترقی ہوکر رہتی ہے،

مستقل مزاجی سے لگا رہے تو اللہ پاک اسکے یقین میں اضافہ کرینگے اور انشاء اللہ قبول تو ہوگا۔
کوئی سُنے، نہ سُنے۔۔ تھوڑے آئیں، زیادہ آئیں ۔۔ لگے رہیں۔۔ تو انشاء اللہ اسمیں قبولیت ہے اللہ کے ہاں--
تو اگر شریعت کے کسی عمل کو کرنے کو دل نہ بھی چاہتا ہو ، تو ابتداءً تکلّفاً کرلے
نماز پڑھنے کو نہیں دل چاہ رہا۔۔ لیکن تکلّفاً کرلے "چلو۔۔ پڑھ لیتا ہوں"
جب دنیا کو خوش کرنےکےلیئے اُلٹی سیدھی اتنی حرکتیں کرتا ہوں ۔۔۔ تو اللہ کو خوش کرنےکےلیئے پانچ دس منٹ نکال لیں تو کِیا ہرج ہوجائیگا؟
تو تکلّفاً نماز پڑھنا شروع کردے، چاہے دل نہ بھی لگے۔۔
تو تکلّفاً ، جب کریگا تو انشاءاللہ العزیز اہستہ آہستہ اسکےاندر نماز والی روح بھی پیدا ہوجائیگی
...
اسی طریقے سے بعض لوگ ہوتے ہیں، بُخل کی بیماری میں مبتلا۔۔
ہم سبکے اندر حُبّ مال کی بیماری تو ہے۔۔ مال کی محبت۔۔ مال نکالنے کو دل نہیں چاہتا۔۔ جیب سے نکالنے کو دل نہیں چاہتا۔۔ مَیں تو مذاقاً کہتا ہوں۔۔ جیب بنائی دل کے اوپر اسلیئے ہے کہ اسمیں کچھ ہو تو دل بھی مضبوط رہتا ہے اور جیب خالی ہو تو دل بھی ڈانوا ڈول رہتا ہے--
اب بُخل کی بیماری بھی ہے، حُبّ مال کی بیماری بھی ہے۔۔ لیکن علاج تو کرنا ہے۔۔ اسلیئے کہ بُخل تو ایسی بیماری ہے کہ اللہ کے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتےہیں کہ "مومن، بخیل ہو ہی نہیں سکتا"
اب اس بیماری کا علاج تو کرنا ہے-- تو کیسے کریں؟
تکلّفاً۔۔ چاہے دل پر کتنا ہی بوجھ کیوں نہ ہو، دل پر آرا چلے
سَو روپیہ خرچ کر رہا ہے اور دل ٹکڑے ٹکڑے ہو رہا ہے۔۔
کہنا ہے: "ہوجا ٹکڑے ٹکڑے۔۔ آج تو اللہ کی راہ میں خرچ کرکے چھوڑونگا "
ایک دفعہ خرچ کِیا ۔۔ انشاءاللہ ، اللہ دوسری دفعہ بھی خرچ کرنے کی توفیق دےگا۔۔ آہستہ آہستہ خرچ کرنے کی عادت پڑجائیگی۔۔
وہ جو حضرت ڈاکٹر عبد الحَیّ عارفی نَوَّرَ اللہُ مَرقَدَہُ کا بڑا پیارا شعر ہے:
.
آرزوئیں خون ہوں۔۔ حسرتیں پامال ہوں
اب تو اس دل کو بنانا ہے تیرے قابل مجھے
.
کچھ بھی ہوجائے میری آرزووَں کا خون ہوجائے،اور دل کو کُچلنا پڑے اور جذبات کا گلا گھونٹنا پڑے لیکن اب تو مَیں نے اپنے اس دل کو تیرے قابل بنا کر چھوڑنا ہے کچھ نہ کچھ تو کرکے رہنا ہے۔
تو یہ ہے بُخل کا علاج۔
بُخل کا علاج، بُخل نہیں ہے
بُخل کا علاج۔۔ "خرچ کرنا" ہے، "سخاوت" ہے
لوگ سمجھتے ہیں بُخل کی بیماری ہے، کیا کریں؟
اُنکا خیال ہے کہ مولوی صاحب دَم کردینگے تو بُخل کی بیماری ختم ہوجائیگی۔۔ خرچ کچھ نہیں کرنا پڑیگا ۔۔
بُخل کا علاج تو "خرچ کرنے" میں ہے، "انفاق" میں ہے
جب ایسا کریگا تو اللہ پاک آہستہ آہستہ اِسکو ثابت قدمی عطا فرمادےگا۔
اسکو یقین آجائیگا کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنےسےکوئی غریب اور کنگلا نہیں ہوتا۔ بھوکا نہیں مرتا۔۔
.
شیطان کی راہ میں خرچ کرنےوالوں کو ہم نے فقیر بنتے دیکھا ہے،بھوکا مرتےدیکھا ہے،لیکن اللہ کی راہ میں خرچ کرنےوالےکومَیں نے، نہ آج تک سُنا نہ دیکھا کہ وہ بھوکا ننگا مرا ہو۔
.
شیطانی کاموں میں خرچ کرنےوالےبےشمار ہیں جو، اَمارت کے آسمان سے غربت کی زمین پر آ گِرے۔۔
لیکن اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کو ہم نے غریب ہوتے نہیں دیکھا۔
.
بعض ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں، یقین کریں، کہ میرا اُنکےبارےمیں خیال ہے کی وہ کماتے ہی اسلیئے ہیں کہ اللہ کی راہ میں خرچ کریں، اُن کا کوئی اور مقصد ہی نہیں ہے۔۔ لیکن مَیں نے انکو بھی غریب ہوتےنہیں دیکھا

--------------------------------------------------------------------------------------------------
imbajjo Offline
#13 Posted : Monday, December 19, 2011 3:19:31 PM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 10/13/2010(UTC)
Posts: 1,710
Points: 5,160
Woman
Location: kuwait

Thanks: 33 times
Was thanked: 35 time(s) in 28 post(s)


آیت نمبر..  67, 68
ترجمہ:
"اور پھر اِنکو ہم اپنے پاس سے بہت بڑا اجر دیتے،اور ہم انہیں سیدھی شاہراہ دکھادیتے"
..
اللہ کہتے ہیں ..اگر یہ اتباع کرتے،، اطاعت کرتے،،
ہمارے حکموں پر،، نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم  کی سنّتوں پر،، نبی  صلّی اللہ علیہ وسلّم کے طریقوں پر،،
عمل کرتے تو ، بتایا گیا کہ اِنکو چار جزائیں مِلتیں، چار فائدے اِنکو حاصل ہوتے،
۱- [فرمایا کہ،]دِین اور دنیا کے اعتبار سے انکے لیئے بہتر ہوتا
۲- اِنہیں ثابت قدم رکھنے والا ہوتا [یہ اتباع کرنا ]
۳- [اللہ کہتا ہے کہ ] ہم انکو اجرِ عظیم دیتے۔۔
{اللہ کا تو اجرِ قلیل بھی ایسا ہے کہ ساری دنیا اُسکا مقابلہ نہیں کرسکتی، اور جِسے اللہ کہہ دے "اجرِ عظیم" ۔۔ وہ اجرِ عظیم تو ایسا ہوگا کہ ہمارا یہ چھوٹا سا جو دماغ ہے چیونٹی جیسا ، بلکہ چیونٹی کے ہزارویں حصّے جیسا، یہ دماغ، اللہ کے اجرِ عظیم کا تصوّر بھی نہیں کرسکتا}
۴- [اور اللہ کہتے ہیں کہ ] ہم اُنکو سیدھی راہ دکھادیتے
{سیدھی راہ کونسی ہے؟ -
- اللہ کی رضا کی راہ }۔
 ایک ہی راہ ہے "سیدھی راہ"...
صراطِ مستقیم کونسی ہے؟
 جس راستے پر چلنے سے اللہ راضی ہوتا ہے،
اور بعض حضرات نے یہ معنیٰ بھی کِیا ہے۔۔
"ہم اُنکو سیدھی شاہراہ دِکھادیتے"
مقصد یہ کہ
 دنیا میں کیسی زندگی گزارنی ہے؟
نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم  کی اتباع کی برکت سے یہ بھی انکو سمجھ میں آجاتا۔
۔۔
بہت سے بےوقوفوں کو یہ بھی پتہ نہیں کہ دنیاوی معاملات کیسے کرنے ہیں؟
 دنیا میں زندگی کیسے گزارنی ہے؟
....................

imbajjo Offline
#14 Posted : Tuesday, December 20, 2011 1:51:46 AM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 10/13/2010(UTC)
Posts: 1,710
Points: 5,160
Woman
Location: kuwait

Thanks: 33 times
Was thanked: 35 time(s) in 28 post(s)

آیت نمبر69 

دوبارہ مضمون آگیا اطاعت کا
بڑا ایمان افروز مضمون ہے، عمل کی نیّت سے سُنیں۔۔ میرے بھائیو! اور میری بہنو !
 ترجمہ
" جو لوگ اطاعت کرتے ہیں اللہ اور اُسکے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کی، تو ایسے لوگ اُن کے ساتھ ہونگے جن پر اللہ نے انعام کِیا، یعنی انبیاء علیہ السّلام، اور صدّیقین اور شہداء اور صُلحاء  ۔۔۔اور یہ حضرات بہت اچھے رفیق ہیں"
۔۔
اے اللہ ۔۔ وہ کون لوگ ہیں جن پر تُو نے انعام کِیا؟
اللہ فرماتے ہیں۔۔
" نبی، صدّیق، شہید اور نیک لوگ ، فرمایا انکے ساتھ ہونگے"
۔۔
آپ جانتے ہیں، مفسّرین نے قرآن کی تفسیر کا اُصول بیان کِیا:
"قرآن کی سب سے مستند تفسیر، خود قرآن ہے"
اگر قرآن کی تفسیر ہم دیکھنا چاہیں تو سب سے پہلے خود قرآن کودیکھیں۔
اب آپ یہاں دیکھیں کہ، سورۃ فاتحہ کی ایک آیت کی تفسیر ہورہی ہے۔
سورۃ فاتحہ میں اللہ نے کہا، مجھ سے دعا مانگو۔
ترجمہ:
"ہمکو ہدایت دے سیدھےراستےکی۔۔ اُن لوگوں کا راستہ جِن پر تُو نے انعام کِیا"
۔۔
وہاں یہ فرمایا
"اُن لوگوں کا راستہ دِکھا جن پر تُو نے انعام کِیا"
لیکن وہاں یہ نہیں بتایا کہ وہ کون لوگ ہیں جن پر اللہ نے انعام کِیا،
یہاں سورۃ النساء میں بتایا کہ جن پر مَیں نے انعام کِیا، وہ کون لوگ ہیں۔۔
تو یہ آیتِ کریمہ، اُس آیتِ کریمہ کی تفسیر کر رہی ہے، تو فرمایا کہ
"جو لوگ اللہ اور اسکے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم
 کی اطاعت کرینگے،  ایسے لوگوں کے ساتھ ہونگے جن پر اللہ نے انعام کِیا"
اور دیکھیئے، جن پر اللہ نے انعام کِیا اُنمیں سرمایہ داروں کا ذِکر نہیں ہے،
 بادشاہوں کا ذِکر نہیں ہے،
وڈیروں کا ذِکر نہیں ہے،
چودھریوں کا ذِکر نہیں ہے،
اسلیئے کہ اگرچہ دولت بھی اللہ کا انعام ہے، اقتدار بھی اللہ کا انعام ہے،
لیکن اللہ کا سب سے بڑا انعام ، ۔۔  ایمان ہے
اور ایمان اِن لوگوں کے پاس ہے۔
 جو اطاعت کرینگے وہ انکے ساتھ ہونگے، یہاں ایک وضاحت کردوں، وہ یہ کہ جس اطاعت کا یہاں پر ذِکر ہے، بعض تفسیروں میں لِکھا ہے، اِس اِطاعت کا تعلّق فرائض اور واجِبات کےساتھ ہے
فرائض اور واجِبات میں اِطاعت کرینگے اللہ کے حُکموں کی
اور اللہ کے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کے حُکموں اور طریقوں کی اتباع کرینگے
تو یہ اِنکے ساتھ ہونگے۔
اسلیئے کہ جو مُستحبّات میں اور نوافل میں بھی اطاعت کرتا ہے اللہ کے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کی، وہ تو خود 'ولی' بن گیا ، وہ تو خود 'صالح' بن گیا ۔۔
 اُسکےلیئےیہ کہنےکی ضرورت نہیں ہے کہ وہ صالحین کےساتھ ہوگا، ولیّوں کےساتھ ہوگا۔۔ وہ تو خود ولی ہے۔
---
اور یہاں یہ بات غور سے سُن لیجیئے ، بعض لوگ ایسےہوتےہیں مستحبّات و نوافل میں تو اتباع پر بڑا زور دیتے ہیں، لیکن حرام کو چھوڑنے میں اور فرائض اور واجِبات کو ادا کرنے میں بڑے سُست ہوتےہیں ،
بڑا زور دیتے ہیں ۔۔ 'ارے کھانے سے پہلے ہاتھ دھولو'
'ارے یہ کیا کِیا تم نے؟ کھانے سے پہلے ہاتھ ہی نہیں دھوئے؟'
'کتنے غضب کی بات ہے۔۔ '
'حضور   صلّی اللہ علیہ وسلّم  کی سُنّت ہے'
۔۔
اِسمیں کوئی شک نہیں، حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم  کی سُنت ہے۔۔
کھانےسےپہلےہاتھ دھولیں بھائی۔۔ یہ سُنّت ہے
اور اُنگلی سے چاٹ لیں برتن کو، یہ سُنّت ہے
حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کی سُنّت ہے
لیکن کوئی شخص ان جیسی سُنّتوں پر تو بڑا زور دیتا ہے لیکن دوسری طرف حرام کما رہا ہے ، حرام کھارہا ہے، اُسکی کوئی فکر نہیں۔۔ گھر میں بےپردگی ہے،فحاشی ہے، عُریانیت ہے، گانابجاناہے، اُسکی کوئی فکرہی نہیں۔۔ اور بڑا زور دے رہا ہے۔۔ 'ارے یہ کیا کِیا تم نے؟ کیسے آدمی ہو؟ کھانےسےپہلےہاتھ بھی نہیں دھوتے ہو؟ حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم  کی سُنّتوں کو چھوڑ رہےہو؟'
۔۔۔
ہم چاہتے ہیں کہ حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم  کی میٹھی میٹھی سُنّتوں پر عمل کرلیں۔۔
اسی لیئے بعض لوگ کہتے ہیں۔۔ 'میرے میٹھے میٹھے بھائیو۔۔ ! '
۔۔۔
میٹھی میٹھی باتیں سُنو، میٹھی میٹھی باتوں پر عمل کرو۔۔
تو ایک صاحب نے کتاب لکھی اسمیں بڑے فضائل لکھے، دودھ پینے میں یہ فضیلت ہے، حلوہ کھانے میں یہ فضیلت ہے ، ساری ایسی چیزیں۔۔ کہیں یہ نہیں لکھا کہ اللہ کی راہ میں گردن کٹوانے میں یہ فضیلت ہے۔
تو بعض چھوٹی چھوٹی باتوں میں تو بڑا زور دیتے ہیں ، لڑتے جھگڑتے ہیں، اور دوسرےپر کُفر کا فتویٰ لگادیتے ہیں، گستاخ کا فتویٰ لگادیتےہیں، لیکن فرائض اور واجِبات پر عمل کرنےمیں اور "مُحَرَّمات" سےبچنےمیں انتہائی غفلت کرتےہیں-
اسکی طرف خصوصی توجّہ کی ضرورت ہے-
یہ ایسے ہی ہے کہ
 'چھوٹی چیزوں کو بہت بڑا بنا لِیا جائے اور بڑی چیزوں کو بالکل چھوٹا بنا لِیا جائے'
--
تو فرمایا کے جو اللہ اور اسکے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کی اطاعت کریگا
وہ قیامت کے دن ، اللہ کے اِن چار مقرّب  قِسم کے لوگوں کے ساتھ ہوگا۔
اب حدیث بھی سُن لیں
طَبرانی کی روایت ہے، ایک آدمی آیا ، نبئ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم کی خدمت میں اور عرض کِیا۔۔
"یا رسول اللہ [صلّی اللہ علیہ وسلّم] ۔۔ ! اللہ جانتا ہے، مجھے آپ سے۔۔
 اپنی جان سے بھی زیادہ محبت ہے، اور اپنی اولاد سے بھی زیادہ محبت ہے،
مَیں گھر میں ہوتا ہوں ، آپ [صلّی اللہ علیہ وسلّم] نظر نہیں آتے تو پریشان ہوجاتا ہوں،
قرار نہیں آتا ، چَین نہیں آتا، سُکون نہیں آتا، صبر نہیں کرسکتا۔۔ تو مَیں بےتاب ہوکر اُٹھتا ہوں ، آ کر آپ [صلّی اللہ علیہ وسلّم] کے چہرۃ انور کو دیکھتا ہوں، دِل کو سکون مِلتا ہے، پھر چلاجاتاہوں گھر میں--
 تو مَیں سوچتا ہوں کہ زندگی میں تو آپ [صلّی اللہ علیہ وسلّم] کے
چہرے کی زیارت کرلیتا ہوں مگر  مرنےکےبعد کیا بنےگا؟
جب آپ [صلّی اللہ علیہ وسلّم]  جنت میں داخل ہوجائینگے، اور آپ [صلّی اللہ علیہ وسلّم]  بہت اونچےدرجےپرہونگے۔۔
مجھے پتہ نہیں کونسا درجہ ملےگا۔۔ تو مجھے ڈر ہے کی کہیں مَیں جنت میں آپ [صلّی اللہ علیہ وسلّم]  کی زیارت سے   محروم نہ ہوجاوَں۔۔ "
اللہ اکبر۔۔
{مَیں صحابی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جذبات کی ترجمانی کِیا کرتا ہوں، ترجمہ نہیں ۔۔ ترجمانی،
کہ صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کہہ رہے ہیں کہ یا رسول اللہ [صلّی اللہ علیہ وسلّم]
 مَیں اُس جنت کو کیا کرونگا جس جنت میں
 آپ[صلّی اللہ علیہ وسلّم] کے چہرۃ مبارک کی زیارت نہ ہو۔۔ حُوریں بھی ہونگی، اور غِلمان بھی ہونگے، اور دودھ اور شہد کی نہریں بھی ہونگی، اور پھل اور پھول بھی ہونگے، اور بِچھےہوئےتخت بھی ہونگے،لگےہوئے تکئیے بھی ہونگے،قالین بھی ہونگے۔۔
 یا رسول اللہ [صلّی اللہ علیہ وسلّم] مگر آپ [صلّی اللہ علیہ وسلّم] کو
 نہیں دیکھ سکونگا، تو پھر کیا کرونگا۔۔ کیا بنےگا میرا؟}
۔۔
حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم خاموش رہے۔۔ اللہ پاک نے یہ آیتِ کریمہ اُتاردی،
{اے میرے نبی [صلّی اللہ علیہ وسلّم] کے سچے عاشقو !
پریشان نہ ہوجاوَ، اگر تم اطاعت کروگے تو مَیں جنت میں تمہیں
 اپنے نبی [صلّی اللہ علیہ وسلّم] کی زیارت سے محروم نہیں کرونگا}
اور ابنِ ابی حاتم نے تو کئی صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین
 کے بارے میں یہ روایت نقل کی۔۔ کہ
"یا رسول اللہ [صلّی اللہ علیہ وسلّم] ! کیا بنےگا جنت میں؟
آپ اونچے درجے پر۔۔ ہم نچلے درجے میں ۔۔
آپ [صلّی اللہ علیہ وسلّم] کی زیارت سے محروم رہینگے،توکیسےگُزاراہوگا؟"
صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین
 کے عشق و محبت کو سمجھنا ہو تو آپ اُس دن کو یاد کریں جب
حضورِ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم کا انتقال ہوا تھا
کیا کیفیت تھی ۔۔ ہوش و حواس کھو بیٹھے،
۔۔ یہ سوچ کر کہ کیا واقعی حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم
 کی زیارت سے ہم محروم ہوجائینگے؟
 اللہ اکبر۔۔
[لمبا موضوع ہے تفصیل میں نہیں جاتا ، بتا یہ رہا ہوں کہ اللہ نے فرمایا کہ اطاعت کروگےتوتمہیں زیارت سے محروم نہیں رکھاجائیگا، قیامت کے دن/ جنت میں]
حضرت مفتی شفیع صاحب رحمت اللہ علیہ کا مشہور قَول ہے۔۔
 وہ فرماتے ہیں کہ۔۔
"مَیں روضۃ اقدس سے کچھ دُور بیٹھا ہُوا تھا ۔۔ مجھے ایسا لگا کہ جیسے آواز آتی ہے کہ، حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم فرمارہےہیں
کہ جاوَ لوگوں کو بتادو، جو میری اطاعت کریگا اور میری سُنّتوں پر عمل کریگا ،وہ میرے قریب ہے، خواہ وہ مدینےسےہزاروں مِیل دُور ہی کیوں نہ ہو- اور جو میری سُنّتوں سے اعراض کرتا ہے اور میری نافرمانی کرتا ہے، وہ مجھ سے دُور ہے، اگرچہ میرے روضے کی جالِیوں سے چِمٹا ہی کیوں نہ ہو"
---
حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم  کےروضےکی جالیوں سے چمٹ جانے سے ، حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کا قُرب حاصل نہیں ہوگا
جب تک کہ حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کی اطاعت نہ کرے،
حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم  کی اتباع نہ کرے،
یہی مضمون ہے جو مَیں اکثر بیان کرتا رہتا ہوں، دھوکے سے نکالنے کے لیئے اپنے آپکو اپنے سامعین کو، دھوکے سے نکالنے کے لیئے
یاد رکھیں 'غِلافِ کعبہ' کو ہاتھ لگانےسے اللہ کا قُرب حاصل نہیں ہوگا،
اور کعبےکےاندرداخل ہونےسے اللہ کا قُرب حاصل نہیں ہوگا،
 اللہ کا قُرب حاصل ہوگا، اللہ کی بات مان کر چلنے سے۔۔
۔۔
کیا جس نے 'غِلافِ کعبہ'  کو ہاتھ نہیں لگایا، یا کعبہ میں داخل نہیں ہُوا۔۔ وہ محروم ہے کیا؟
نہیں۔۔
اگر وہ اطاعت کرتا ہے تو اللہ کی قَسم، محروم نہیں ہے
 اور میرے بھائیو، میری بہنو۔۔ یہ بھی سُن لیں۔۔
ہم عشق و محبت کےدعوےتوبہت کرتےہیں لیکن سچّی محبت وہ ہے ،
جو نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کی اطاعت پر مجبور کردے۔
محبت ہوگی تو اطاعت بھی ہوگی--
اور جو اطاعت کرینگے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کی،
  اُنکو مادّی اور روحانی نعمتیں تو حاصل ہونگی ہی،
ایک بہت بڑی نعمت یہ حاصل ہوگی ، جو دنیا میں ہمیں حاصل ہو ہی نہیں سکتی۔۔
ہم کوشش بھی کرلیں ۔۔ صحابی نہیں بن سکتے۔
اور صُحبت کا شَرف حاصل نہیں ہوسکتا۔
لیکن اگر ہم اطاعت کرینگے تو ہمیں جنت میں نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم
کی صُحبت بھی حاصل ہوگی، زیارت بھی حاصل ہوگی، جو بہت بڑی نعمت ہے۔۔
------
اِس آیت میں اِن چار  مُقرّب حضرات کا ذِکر ہے:
۱- نبی ۔۔۔
نبی کس کو کہتے ہیں؟ -- جس پر وحی نازل ہوجائے۔ اُسکو نبی کہتےہیں
--
۲- صِدّیق ۔۔۔
صدیق کون ہوتا ہے؟ -- جو اپنے قَول میں بھی سچّا اور اپنے اعتقاد میں بھی سچّا
 {یہاں سے مُراد صرف حضرت ابو بکر صِدّیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نہیں ہیں، بلکہ نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کے سارے صحابہ مُراد ہیں } اسلیئےکہ وہ صِدق اور تصدیق میں بہت آگے بڑھے ہوئے تھے۔۔ زندگی میں سچ بولتےتھے اور اللہ اور اللہ کے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کی ایک ایک بات کی تصدیق کرتےتھے:
{   "اللہ نے سچ فرمایا"
"اللہ کے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نے سچ فرمایا"  }
۔
بس یہ کہتے رہتے تھے
۔
یہ ہے تصدیق
ایک ہے 'صِدق'
اور ایک ہے 'تصدیق'
دونوں چیزیں تھیں اُنکےاندر
 صدق بھی تھا اور تصدیق بھی۔۔
اور اللہ معاف فرمائے ہمیں -- ہماری زندگی سےدونوں چیزیں نکل گئیں۔۔ سچّائی بھی نکل گئی، تصدیق بھی نکل گئی۔۔ کہ ایک ایک حکم کا یقین ہو، ایک ایک بات کی تصدیق ہو۔۔ وہ بات نکل گئی۔۔اکثر کی زندگی سے [سبکی بات نہیں کررہا]
 --
۳- وَالشُھَداء۔۔۔
شُھَداء ۔۔ شھید کی جمع ہے
شھید [ویسے اسلامی اصطلاح ہے ] اُسکو کہتے ہیں جو اللہ کی رضا کے لیئے مارا جائے۔۔ ویسے شھید کا معنیٰ ہوتا ہے گواہی دینے والا۔۔۔۔ اُسکو بھی کہتے ہیں جو گواہی دے اور اسکو بھی کہتے ہیں جس کےلیئے گواہی دی جائے۔
 شھید اللہ کی راہ میں ،  اپنا خون بہا کر گواہی دیتا ہے
"انسانو ۔۔ میرے اللہ کا دِین سچا ہے اسی لیئے تو مَیں نے اللہ کے دِین پر جان  قُربان کردی ہے"
اور شھید اُسکو بھی کہتے ہیں جسکے لیئے گواہی دی جائے۔۔۔ اُسکےلیئےفرشتےگواہی سیتےہیں کہ "یہ جنّتی ہے"
اور ویسے یہ بھی یاد رکھیں کہ قرآنی محاورے میں ہر وہ شخص شھید ہے جو اپنے قَول و عمل سے، دِین کے ساتھ شدید محبت کا ثبوت دیتا ہے ، گواہی دیتا ہے۔ اُسکا قَول، اُسکا عمل، اُسکی زندگی، یہ بتاتی ہے کہ اِسے دِین کے ساتھ اَن مِٹ تعلّق ہے۔۔ ایسا تعلّق ہے جو کبھی ٹوٹ نہیں سکتا۔۔ جسکا قَول و عمل یہ گواہی دے کہ یہ دِین کا شیدائی ہے، دِین کا ماننے والا ہے، قرآن کی اصطلاح میں وہ بھی شھید ہے۔ یہ جان لیجیئے۔
 ---
۴- وَالصّٰلِحِین ۔۔۔
اور نیک لوگ۔۔
نیک لوگ کون ہیں؟
بعض نے کہا
" نیک لوگ وہ ہیں، جسکا نفس نیک ہو، اور
 جسکی نیکیاں اُسکی برائیوں پر غالب ہوں"
۔۔
یہ نہیں کہا کہ نیک وہ ہے جس سے کوئی گناہ ہو ہی نہیں
 نہیں بلکہ نیک وہ ہے
"جسکی حَسَنات، سَیّئات پر غالب ہوں"
اللہ ہمیں صِدّقین ، شُھَداء اور صالحین کی صف مین شامل فرمائے
آمین۔
--
اور فرمایا کہ "یہ کیسے اچھے رفیق ہیں"
یہ تعجّب کے الفاظ ہیں
 اللہ کہتے ہیں ، جنکو ایسے دوست مل گئے،اُسے تو اِس دوستی پر فخر ہونا چاہیئے۔ یہ کیسے اچھے رفیق ہیں۔۔ جسے صحبت مِل گئی نبی کی، صدیق کی، شھداء کی اور صالحین کی ، تو فرمایا کہ اُسکو تو بہت اچھے رفیق مِل گئے۔
اور اچھے رفیق کا مِل جانا ، اللہ پاک کی بہت بڑی نعمت ہے۔
 ------------------

آیت نمبر- 70
ترجمہ:
"یہ اللہ کا فضل ہے، اور اللہ ہی کا عِلم کافی ہے"
۔۔
{اللہ جانتا ہے، کس کے اندر یہ صفات ہیں
اور کس کے اندر یہ جذبات اور صفات نہیں ہیں۔}
--
وَاٰخِرُ دَعوانا عَنِ الحمدللہ ربّ العٰلمین
 
---

imbajjo Offline
#15 Posted : Thursday, December 29, 2011 5:15:45 AM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 10/13/2010(UTC)
Posts: 1,710
Points: 5,160
Woman
Location: kuwait

Thanks: 33 times
Was thanked: 35 time(s) in 28 post(s)

 

آیت 71
اس سے پہلے جو آیات گزریں، اُنمیں مسلمانوں کو حکم تھا کہ منافقین سے بچ کر رہیں، اور اللہ کے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کی اطاعت کریں۔۔ یہاں سے جو آیات شروع ہورہی ہیں اِنمیں کُفّار سے جہاد اور اُن سے بچاوَ کی تدابیر اختیار کرنے کا حُکم ہے۔ اور اُسکے بعد منافقین کا تذکرہ ہے-
اللہ فرماتے ہیں:
ترجمہ:
"اے ایمان والو اپنی احتیاط کرلو، اپنے بچاوَ کا سامان کرلو۔ پھر گروہ گروہ کُوچ کرو یا اکٹھے کُوچ کرو"
لفظ استعمال کِیا گیا "حِذر" کا اور لُغت میں حِذر کا معنیٰ ہے۔۔ بیدار ہوکر رہنا ، ہوشیار رہنا، اور اسی طریقے سے لُغت میں حِذر کا معنیٰ ہے مستعد رہنا ، تیار رہنا۔ یہ تو لُغوی معنی ہیں۔۔ ویسے اِسکا مفہوم وسیع ہے۔
۔۔
ہر وہ چیز جو دشمن سے بچاوَ کےکام آئے اُس پر حِذر کا اِطلاق ہوتا ہے۔ اسمیں ہتھیار بھی آجاتے ہی اور اسمیں تدبیریں بھی آجاتی ہیں۔
یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ
تم دشمن کے مقابلے میں اسلحے کے میدان میں تیار رہو،
طاقت کےمیدان میں ، قوّت کےمیدان میں تیار رہو۔
دشمن کے پاس گھوڑے ہیں تو تم گھوڑے تیار رکھو۔
دشمن کے پاس اونٹ ہیں تو تم اونٹ تیار رکھو۔
اور آجکے زمانے کے اعتبار سے
دشمن کے پاس ٹینک اور توپیں ہیں تو تم بھی انکی تیاری رکھو۔
دشمن کےپاس ہوائی جہاز ہیں،
جنگی جہاز ہیں تو تم بھی تیاری کرکے رکھو۔
یہ معنیٰ بھی بنتا ہے۔ اور یہ معنیٰ بھی بنتا ہے کہ
تم دشمن کے مقابلے میں تدبیر کرتے رہو۔
اسکے لیئے یہ ضروری ہے کہ
مسلمانوں کو اپنے دشمنوں کے شہروں کا عِلم ہو،
اُنکےساحلوں کا عِلم ہو۔ اُنکے دریاوَں کا عِلم ہو۔
اُنکے راستوں کا عِلم ہو۔ اُنکی فوجوں کی تعداد کا عِلم ہو۔
اُنکی جنگی تیاریوں کا عِلم ہو۔ اُنکےفوجیوں کی نفسیات کا عِلم ہو۔
اِن سب چیزوں کا عِلم ہونا ضروری ہے۔
اپنے بچاوَ کے لیئے ، اپنی حفاظت کے لیئے ،
اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنےکےلیئے۔
اور دشمن کا مقابلہ کرنےکےلیئے
۔۔
نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم اور صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم اجمعین ،
دشمن کےبارےمیں مکمل باخبر رہتےتھے-
اُنکی عبادت، اُنکی تلاوت، اُنکی تہجّد ، اُنکے روزے، اُنکا تصوّف ،
اُنکی خانقاہ ، اُنکی تبلیغ و دعوت ، اُنہیں اِس کام سے روکتی نہیں تھی،
اور ایسے بھولے بھالے اور سیدھے سادے نہیں تھے ،
کہ اُنہیں دشمن کی کسی سازش کا پتہ ہی نہ ہو۔
اور دشمن کی تیاریوں کا عِلم نہ ہو۔
۔۔
ایسا تو ہُوا کہ دشمن کو پتہ ہی نہ چلا مسلمانوں کی تیاری کا۔۔ لیکن
ایسا نہیں ہُوا کہ مسلمانوں کو پتہ نہ چلا دشمن کی تیاری کا۔
مکہ میں مسلمانوں کے جاسوس تھے جو ہر اہم واقعے کی،
نبی اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم کو خبر دیتے رہتے تھے،
چنانچہ آپ دیکھیں، حُدیبیہ کا مُعاہدہ ۔۔
یہ مُشرکین نے توڑا ، مکہ کےاندر
اور مسلمانوں کو اُنکی عہد شکنی کا پورا پورا عِلم تھا۔
چنانچہ ابو سُفیان کو جب غلطی کا احساس ہُوا ، کہ ہم نےمعاہدہ توڑکرخوداپنےساتھ زیادتی کی ہے،تو وہ تجدیدِ عہدکےلیئےمدینہ آئے، حضورِ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم سے مِلے، صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے مِلے لیکن سبکا جواب ایک جیسا تھا، ایسا نہیں کہ کسی کا جواب کچھ ہوتا اور کسی کا جواب کچھ ہوتا سبکو پہلےسےپتہ تھا کہ مشرکین نے کیسے معاہدہ توڑا ہے اور ابوسُفیان رضی اللہ عنہ یا یا کوئی دوسرا اگر آئے تجدیدِ معاہدہ کے لیئے تو پھرکیا جواب دینا ہے؟ یہ اُنہیں پتہ تھا،
نبئ کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم جنگ کےمیدان میں کسطرح اپنی ذہانت کا استعمال کرتے تھےاسکی مثالیں توبہت ساری ہیں
ایک چھوٹی سی مثال عرض کررہا ہوں:
"جنگِ بدر سےپہلےمسلمان سپاہی , کُفّارکےدوغلاموں کو گرفتار کرکے لے آئے، وہ بالکل سیدھے سادے سے غلام تھے جنہیں کچھ زیادہ معلومات نہیں تھیں،مسلمان اُن سے مشرکین کے لشکرکی تعداد معلوم کرنا چاہتے تھے۔۔ وہ کہتے، "ہمیں عِلم نہیں"
اُن پر سختی کرتے ۔۔ وہ کہتے، "ہمیں عِلم نہیں"
نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم نماز پڑھ رہے تھے
آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم نماز سے فارغ ہوئے
آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے اُن غلاموں سے چند سوالات کیئے
اُنمیں سےایک سوال یہ تھا کہ:
"روزانہ تمہارے لشکرمیں کتنےاُونٹ ذبح کیئے جاتے ہیں؟"
تو اُنہوں نے بتایا کہ نَو یا دس اُونٹ ذبح کیئے جاتے ہیں
تو نبئ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا کہ مشرکین کے لشکرکی تعداد
نَو سَو سے ایک ہزار کے درمیان ہے
اسلیئے کہ ایک اُونٹ .. سَو آدمیوں کےلیئےکافی ہوجاتاہے۔
اور واقعی تعداد اتنی ہی تھی، حضورِ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم نےجوجنگی تدابیر اختیار کیں
اور جس طریقے سے اپنے لیئے محلِ وقوع،اپنے لیئے ٹھکانہ منتخب کِیا
اور جِس طریقے سے مسلمان سپاہیوں کو دشمنوں کے مقابلے میں مُنظّم کِیا ۔۔ اگر اِسکا حال معلوم کرنا ہو تو آپ
میجرمحمد اکبرخاں ۔۔ اُنکی کتاب ہے: "حدیثِ دِفاع"
بریگیڈیئر گُلزار احمد کی کتاب ہے "غزواتِ رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم "
اور محمود خطاب شِیز کی کتاب ہے: "آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلّم بحیثیتِ سپاہ سالار"
اور ڈاکٹر محمد حمیداللہ صاحب کی کتاب ہے: "عِہدِ نبوی کے میدانِ جنگ"
اِن کتابوں کا مطالعہ کیجیئے۔۔ آپ یہ تسلیم کرنے پرمجبورہوجائینگے کہ نبئ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم ، جنگ میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور تدابیر اختیارکرنےمیں کسی بڑے سے بڑے ماہرسپاہ سالار سے پیچھے نہیں رہےاور آج کے ماہرینِ جنگ ،
حضورِ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم کے غَزوات ،
آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم کےمیدانِ جنگ ،
آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم کےطریقہء جنگ،
آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی صف بندی، وغیرہ کا جب حال دیکھتےہیں اور باریک بینی سے اُسکا مطالعہ کرتے ہیں، تویہ تسلیم کرتےہیں کہ حضورصلّی اللہ علیہ وسلّم سے بہتر
جنگی تدبیر اختیار نہیں کی جاسکتی تھی۔
آج ہم بڑےہوشیاربنتےہیں، ہمارےلیڈر آکسفورڈ اور کیمبرج اور نہ معلوم کِن کِن یونیورسٹیوں کے پڑھے ہوئے
۔۔لیکن۔۔
اوّل تو یہ کہ ہمیں اپنے دشمن کا ہی عِلم نہیں ہے
کہ ہمارا دشمن کون ہے؟
افغانیوں کو یہ بتادِیا گیا کہ "تمہارا دشمن پاکستان ہے"
پاکستانیوں کے ذہن میں بٹھادِیا گیا کہ "تمہارے دشمن قبائلی ہیں، چیچن ہیں، اُزبک ہیں"
عربوں کو بتادِیا گیا کہ "تمہارا دشمن ایران ہے"
ایرانیوں کے ذہن میں بٹھادیا گیا کہ "تمہارا دشمن سعودی عرب ہے"
الفتح کے ذہن میں بٹھادیا گیا کہ "تمہارا دشمن حمّاس ہے"
حمّاس کے ذہن میں بٹھادیا گیا کہ "تمہارا دشمن الفتح ہے"
دیوبندیوں کے ذہن میں بٹھادیا گیا کہ "تمہارے دشمن بریلوی ہیں"
بریلویوں کو بتادیا گیا کہ "تمہارے دشمن دیوبندی ہیں"
مُقلّدین کے ذہن میں بٹھادیا گیا کہ "تمہارے دشمن غیر مُقلّد ہیں"
اور غیر مُقلّدوں کہ یہ بتادیا گیا کہ "تمہارے دشمن یہ سارے کے سارے مقلّد ہیں"
چنانچہ دنیا بھرکے مسلمان بڑے خلوص کےساتھ ، بڑی توجّہ کےساتھ ، بڑے انہماک کےساتھ ، اپنی ساری صلاحیتیں خرچ کرتے ہوئے اپنے اپنے دشمن کےخلاف مصروفِ عمل ہیں- کسی کو پتہ ہی نہیں کہ ہمارا اصل دشمن کون ہے؟
اِن حالات کودیکھتےہوئے ۔۔ اللہ مجھے معاف فرمائے۔۔
مَیں تو یُوں کہتا ہوں کہ
"دیکھاجائےتو مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن خود مسلمان ہے اسوقت"
اللہ معاف فرمائے
یا تو اپنوں کے اوپر کلہاڑا چلاتے ہیں یا خود اپنے اوپر کلہاڑا چلاتے ہیں
بس یہ دو کام ہیں آج کے مسلمانوں کے
دشمن محفوظ ہے۔۔ وہ خوش ہورہا ہے
"میری جنگ یہ لڑ رہے ہیں،
جوکام مجھے کرنا چاہیئے تھا وہ یہ کررہے ہیں"
تو
اوّل تو دشمن کی ہی پہچان نہیں۔ اور جو دشمن کےبارے میں جانتے ہیں، وہ اُسکی سازشوں سے بے خبر۔ اُسکے طریقہء جنگ سےبےخبر۔۔
جبکہ دشمن کا یہ حال ہے کہ ہمارے ہر مُلک میں ۔۔
اور مُلک کے ہر محکمے میں اُنکے جاسوس-
ہماری ہر جماعت کا، ہر لیڈر کا، اُنہیں عِلم
اور ہمارے پاس سوائے جذباتی نعروں کے اور کچھ بھی نہیں۔
تو اللہ فرماتےہیں:
ترجمہ:
"اے ایمان والو اپنی احتیاط کرلو، اپنے بچاوَ کا سامان کرلو۔ ۔۔"
سوچو تمہارا دشمن کون ہے؟ دشمن کا طریقہءجنگ کیا ہے؟
وہ میڈیا کے طریقے سے کیسے تم پر حملہ آور ہورہا ہے۔۔
معیشت کے ذریعے سے کیسے تم پرحملے کررہا ہے۔۔
سیاست کے ذریعے سے کیسے تم پرحملے کررہا ہے۔۔
تم سوچو۔۔ اُسکی تدبیریں دیکھو اور اُنکا توڑ تلاش کرو۔
--
پُورے عالَمِ اسلام میں شاید ہی کوئی ایسی جماعت ہوجو پُوری طرح دشمن کے عزائم سے واقف ہو اور پھر اُمّت کے سامنے اُن عزائم کا توڑ بھی پیش کرنےکی کوشش کرتی ہو۔ یہاں ایک اہم سوال ہوتا ہے۔۔
وہ سوال یہ ہے کہ
اللہ فرمارہے ہیں کہ " اپنے بچاوَ کا سامان لےلو۔ بچاوَ کی تدبیر کرلو"
مَیں نے عرض کیا کہ اسکا مطلب یہ بھی ہے کہ تم ہتھیار اپنے پاس رکھو، بےخبر نہ رہو۔۔ چوکنّے رہو۔۔ مُسلّح رہو۔۔ تو سوال یہ ہے کہ،
"کیا اسلحہ کا رکھنا اور بچاوَ کا سامان کرنا ۔۔ یہ توکّل کے منافی نہیں ہے؟"
مسلمان تو متوکّل ہوتا ہے اور
اللہ نے مسلمان کو توکّل کرنے کا حُکم دیا ہے
"اللہ پر توکّل کرو"
تو اللہ پر توکّل اگر کرتے ہیں تو پھر ہتھیار کی کیا ضرورت ہے؟
ویسے بھی سیّدہ عائشہ صِدّیقہ رضی اللہ عنہا کی ایک روایت ہے:
"یہ بچاوَ کا سامان، یہ اسلحہ اور یہ تدبیریں ، یہ تقدیر سے نہیں بچاسکتے"
اور اللہ فرما رہے ہیں کہ تم اسلحہ رکھو اپنے پاس، تیاری رکھو دشمن کے مقابلےمیں، کِیل کانٹے سے لیس رہو، بے خبرنہ ہوجاوَ،
جہاں تک سیّدہ عائشہ صِدّیقہ رضی اللہ عنہا کی روایت کا تعلق ہے
اوّل تو یہ روایت ضعیف ہے،اگر اِسکو صحیح بھی تسلیم کرلیا جائےتو یاد رکھیئےکہ بچاوَ کاسامان کرنا ،یہ تقدیرکے منافی نہیں ہے، بلکہ "حِذر" [بچاوَ کا سامان] یہ بھی تقدیر میں شامل ہے۔
یہ توکّل کےمنافی نہیں ہے۔
اگر بیماری تقدیر میں ہے ، تو بیماری کا علاج بھی تقدیر میں ہے۔۔
حادثہ تقدیر میں ہے تو حادثے سے بچنے کی تدبیرکرنا یہ بھی تقدیرمیں ہے۔۔ اگر ہم کسی بچاوَ کا سامان کرنےوالےپراعتراض کرتے ہیں کہ
" تم احتیاط کیوں کرتےہو؟ یہ تو توکّل کےمنافی ہے"
تو یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے اگر آپ پر کوئی دشمن حملہ کرے اور آپ دشمن کے حملے سے بچنے کے لیئے دیوارکی اوٹ میں چلے جائیں ،یا کسی پناہ گاہ میں چلے جائیں، تو کوئی بے وقوف کہے:
"ارے کیا تم اللہ پر ایمان نہیں رکھتےہو؟ کیاتم توکّل والے نہیں ہو؟ کیا تقدیرپرتمہارا یقین نہیں ہے؟ اگرگولی لگنی ہے تو وہ دیوارکے پیچھے بھی لگ جائیگی۔۔اور نہیں لگنی توسامنے بھی نہیں لگے گی۔۔ لہٰذہ تمہیں چاہیئے کہ سینہ تان کر گولی کے سامنے رہو"
توبھئی توکّل کا یہ مفہوم تو کوئی بےوقوف ہی بیان کرسکتا ہے
قرآن اور حدیث سے توکّل کا یہ مفہوم ثابت نہیں ہے، بلکہ قرآن و حدیث سے جو توکّل کا مفہوم ثابت ہوتا ہے وہ یہ کہ جائز تدبیریں ساری اختیار کی جائیں اور تدبیریں کرنے کے بعد نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیاجائے۔
مشہور واقعہ ہے۔۔
حضورِ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم کے پاس ایک صاحب تشریف لائے، حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم نے اُن سے پوچھا، جس اُونٹ پر سوار ہو کر آئےہو اُسے کہاں چھوڑا؟ تو اُنہوں نے کہا کہ اللہ کےتوکّل پر چھوڑا۔۔ تو حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم نےفرمایا کہ پہلے باندھو پھر اللہ پرتوکّل کرو۔
[گھر میں پہلے تالہ لگاوَ پھر اسکے بعد توکّل کرو۔۔۔ توکّل کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ گھر کے دروازے کُھلے چھوڑدو کہ میں اللہ پرتوکّل کرنے والا ہوں، ورنہ اگر آپ اللہ پر توکّل کرکے گھر کا دروازہ کُھلا چھوڑدیتے ہیں تو چور ڈاکو بھی اللہ کے توکّل پر ہی راتوں کو پِھرتے ہیں، "دیکھیں کوئی بےوقوف دروازہ کُھلا چھوڑدے، بند کرنا بھول جائے، توہماری روزی کا بھی کچھ بندوبست ہوجائے"]
اللہ نے سبب اختیار کرنےکا حکم دِیا اور
اللہ کے رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم نے اسباب اختیار فرمائے۔
رزقِ حلال کے لیئے حضورِ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم نے صحابۃ اکرام کو "کام" کرنے کاحکم دیا اور حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا: " اللہ پاک ایسے مومن بندےسےمحبت کرتے ہیں ، جو کام کرنے والا ہے۔"
جوصنعت و حِرفت والا ہے۔ جو ہُنر والا ہے اور اُس ہُنر سے کام کرتا ہے،تو اللہ کے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا کہ اللہ اُس شخص سے محبت کرتے ہیں۔
توکّل کا مطلب ترکِ سبب نہیں ہے،
بلکہ یہ ہے کہ "سبب" کو سب کچھ نہ سمجھا جائے
آگے ارشاد ہے،
ترجمہ:
"۔۔۔پھر گروہ در گروہ اللہ کی راہ میں نکلو یا اکٹھے نکلو۔۔۔"
یہ قرآن ہے قرآن
ہم تو قرآن سناتےہیں بھئی
قرآن جہاد کی بات کریگا ، ہم جہاد کی بات کرینگے
قرآن تبلیغ کی بات کریگا ، ہم تبلیغ کی بات کرینگے
قرآن تصوّف کی بات کریگا ، ہم تصوّف کی بات کرینگے
قرآن تجارت کی بات کریگا ، ہم تجارت کی بات کرینگے
ہم قرآن کو بدل نہیں سکتے۔۔ جو قرآن کہتا ہے وہ تو بیان کرنا ہوگا۔
اگر ہم ایسا نہیں کرتے تو ہم مسلمان نہیں ہیں، قرآن کو بدل نہیں سکتے۔۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ جہاد کی آیات میں تاویل کر کے، ادل بدل کرکےکہہ دیں کہ "یہ حُکم کبھی تھا۔۔ آج نہیں ہے" یا " اِسکا مفہوم کچھ اور ہے"
ایسا نہیں کرسکتے ، ہمیں خود بدلنا ہوگا ، ہم قرآن کو نہیں بدل سکتے
جان لیجیئے قرآن کو تبلیغی نہ بنائیں،
اور قرآن کو جِہادی نہ بنائیں، اور قرآن کو صُوفی نہ بنائیں،
اور قرآن کو مُدرّس نہ بنائیں، قرآن کو خانقاہی نہ بنائیں،
قرآن کو قرآن ہی رہنےدیں۔
ہاں خود اپنے آپکو قرآن کے مطابق بدل لیں،
جوقرآن کہتا ہے ویسے بن جائیں،
.
خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق
.
تو ہمیں قرآن کو نہیں بدلنا اپنے آپکو بدلنا ہے-
قرآن کے اِس حُکم پر عمل کرنے کے لیئے ضروری ہے کہ
ہر مسلمان جہادی ٹریننگ حاصل کرے۔ اور ہر وقت مُستعد رہے- لیکن اسکا یہ مطلب نہیں ہے کہ ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد آپس ہی میں ایک دوسرے پرگولیاں چلانا شروع کردیں اور کہہ دیں کہ میں جہاد کررہا ہوں۔ بعض لوگوں نے جہاد کا مطلب یہ سمجھ رکھا ہے کہ بس مارو۔۔ اپنوں کومارو، غیر کو مارو، جسکو بھی مارو بس مارو۔
--
جِہاد انفرادی عمل نہیں ہے،اجتماعی عمل ہے،
جیسے اگر کوئی چوری کرے، ڈاکا ڈالے۔ زنا کرے، شراب پیئے،
تو ہم میں سے کسی کو انفرادی طور پر ،
اُس پر اسلامی ، قرآنی حد جاری کرنے کا اختیار نہیں ہے،
چور کا ہاتھ کاٹنے کا ہمیں اختیار نہیں،
ڈاکو کو سُولی دینے کا ہمیں اختیار نہیں،
اور زانی کو سنگسار کرنے کا اختیار ہم کو نہیں،
اور شرابی کو کوڑے لگانے کا اختیار ہم کونہیں ہے،
اسی طریقے سے جِہاد انفرادی عمل نہیں ہے،یہ اُمّت کا اجتماعی عمل ہے- انفرادی طور پر ایک دوسرے کے سینوں پر گولیاں نہیں چلانی ورنہ فساد پیداہوگا۔اور انتشار پیداہوگا،اللہ ہماری حفاظت فرمائے آمین-
--
ترجمہ:
"اےایمان والو ! اپنے بچاوَ کا سامان لے لو۔۔"
{سامان اختیار کرو۔۔ اے سارے ایمان والو۔۔ !
اے پاکستان والو !
اے سعودیہ والو !
اے قطر والو !
اے بحرین والو !
اے مصر والو !
اے شام والو !
قرآن تو سارے عالَمِ اسلام کو خطاب کرکے کہہ رہا ہے،
اےسارے عالَمِ اسلام کے مسلمانو! اپنے بچاوَ کا سامان تیار رکھو،
غفلت اختیار نہ کرو، مستعد رہو، تیار رہو دشمن کے مقابلے میں}
"پھر گروہ در گروہ نکلو یا اکٹھے نکلو"
{بعض اوقات حالات کا تقاضہ گروہ در گروہ نکلنے کا ہوتا ہے،
بعض اوقات حالات کا تقاضہ اِکّا دُکّا کرکے نکلنا ہوتا ہے}
-x-
رضی اللہ عنہ یا کوئی دوسرا اگر آئے
imbajjo Offline
#16 Posted : Friday, December 30, 2011 8:44:09 AM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 10/13/2010(UTC)
Posts: 1,710
Points: 5,160
Woman
Location: kuwait

Thanks: 33 times
Was thanked: 35 time(s) in 28 post(s)

 

آیت نمبر 72 ترجمہ:
"اور تم میں سے بعض وہ ہیں جو دیر لگادیتےہیں، اگر تم پر مصیبت آ پڑتی ہے تو وہ کہتے ہیں ، اللہ نے بڑا فضل کیا میرے اوپر کہ مَیں وہاں شریک نہ ہُوا "
[یہ شخص کہتا ہے جو پیچھے رہ گیا۔۔ یہ منافقوں کا ذکر ہورہا ہے۔۔ منافق باوجود ضرورت کے، اور حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کی ترغیب کے، جنگ میں نہیں نکلتےتھے، بہانے کرکے پیچھے رہتے،
اِکّا دُکّا کوئی پھنس جاتا ورنہ کوشش کرتے کہ بہانہ بناکر پیچھے رہ جائیں، پھر اگر مسلمانوں پر کوئی مصیبت آجاتی، مسلمانوں کو شکست ہوجاتی، کچھ مسلمان شہید ہوجاتے، تویہ منافق کہتا: "اللہ نے بڑا فضل کیا میرے اوپر، کہ مَیں وہاں شریک نہ ہُوا- اگر مَیں بھی شریک ہوتا تو ہوسکتا ہے مجھے بھی زخم لگ جاتا" ۔۔ تو فخر کےساتھ کہتاہے، خوشی کےساتھ کہتا ہے۔۔ کہ مَیں نہیں گیا،اللہ نے بڑا کرم کِیا ، مَیں نے تو جھوٹ بول کر خود کو بچا لِیا]
اور اللہ اُس منافق کی بیماری کو کھول رہے ہیں:
آیت نمبر 73 ترجمہ:
"اوراگراے مسلمانو ! تمہیں اللہ کا فضل پیش آتا ہے [فتح حاصل ہوجاتی ہے، مالِ غنیمت ہاتھ آتا ہے،جو مجاہدین میں تقسیم ہوتا ہے]، تو یہ منافق کہتا ہے اور ایسے کہتا ہے گویا کہ تمہارےدرمیان اور اِسکےدرمیان کبھی محبت کا رشتہ تھا ہی نہیں
اے کاش مَیں بھی وہاں ہوتا، تو مَیں بھی بڑی کامیابی حاصل کرتا۔
. [یہ بڑی کامیابی کس کو سمجھ رہا ہے؟ مالِ غنیمت کو۔۔
کہتا ہے کہ مَیں بھی ہوتا تو مجھے بھی مالِ غنیمت کےحصّےمیں سے کچھ نہ کچھ مِل جاتا۔۔
افسوس مَیں ایک بڑی کامیابی سےمحروم رہا]
اس آیتِ کریمہ سےثابت ہورہا ہے کہ
اُمّتِ اسلامیہ کی خوشی سے خوش ہونا۔۔
اور اُمّتِ اسلامیہ کی مصیبت سے پریشان ہونا
یہ ایمان کی علامت ہے
اور اِسکے بِالمقابل
اُمّتِ اسلامیہ کی مصیبت سے خوش ہونا۔۔
اور اُمّتِ اسلامیہ کی خوشی سے پریشان ہونا
یہ منافقت کی علامت ہے۔
اللہ پاک ہمیں اُمّت کےساتھ محبت عطا فرمائے۔۔
پیارے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کا فرمان ہے:
"جسے میری اُمّت کی فِکر نہیں ہے، اُسکا میرے ساتھ کوئی تعلّق نہیں ہے"
[میری اُمّت کے دُکھ سے وہ دُکھی نہیں ہوتا۔۔
میری اُمّت کی مغلوبیت سے اُسے تکلیف نہیں ہوتی۔۔۔
مسلمان پِٹتے ہیں لیکن اُسے غم نہیں ہوتا،
تو اللہ کے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں کہ "اسکا میرے ساتھ کوئی تعلّق نہیں ہے"]
اجتماعیت کا تقاضہ ہے کہ اُمّت کو کامیابی مِلے تو ہمیں خوشی ہو
اور اِسکے ساتھ ساتھ یہ بھی ہے کہ
کافروں کو ذِلّت ہو ، ۔۔ کافروں کو شکست ہو، اور کافروں کو نقصان پہنچے، تو اُس سے ہمیں خوشی ہو۔۔
یہ بھی ایمان کی علامت ہے۔ یہ بھی قرآن سے ثابت ہے۔
-x-

 

imbajjo Offline
#17 Posted : Friday, December 30, 2011 9:11:57 AM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 10/13/2010(UTC)
Posts: 1,710
Points: 5,160
Woman
Location: kuwait

Thanks: 33 times
Was thanked: 35 time(s) in 28 post(s)

آیت نمبر 74
اللہ فرماتے ہیں کہ:
" [اگر اِسکی یہی تمنّا ہے کہ اِسے بڑی کامیابی مِلے تو ]  اِسکو چاہیئے کہ اللہ کی راہ میں
اُن لوگوں کےساتھ قِتال کرے جو دُنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلے میں خریدنے والے ہیں "
--
کون ہیں دنیا کی زندگی کو آخرت کے بدلے میں خریدنے والے؟ ۔۔ کُفّار اور مُشرکین
[ اور بعض نے معنیٰ کِیا کہ ]
پھر اللہ کی راہ میں لڑیں، وہ لوگ جو دنیا کی زندگی کو بیچنے والے ہیں آخرت کے بدلے میں "
یہ کون ہیں؟ ۔۔ ایمان والے۔۔ جو دنیا کی زندگی کو بیچ دیتے ہیں آخرت کے بدلے میں
یہ جو لفظ ہے : " شِراء "  کا ،  یہ دونوں معنیٰ میں آتا ہے
بیچنے کے معنیٰ میں بھی  آتا ہے اور خریدنے کے معنیٰ میں بھی آتا ہے
تویہ معنیٰ بھی بن سکتا ہے:
" اُن لوگوں کے ساتھ قِتال کرو، جو دنیا کی زندگی کو خریدنے والے ہیں آخرت کے بدلے میں"
۔۔ اور یہ ہیں کُفّار
اور یہ معنیٰ بھی بنتا ہے:
" اُن لوگوں سے قِتال کرو، جو دنیا کی زندگی کو بیچنے والے ہیں آخرت کے عِوض"
اور یہ ہیں ایمان والے۔
--
آیت کا اگلا حصّہ ہے:
ترجمہ:
"اور جو اللہ کی راہ میں قِتال کرتا ہے ، پھر وہ مارا جاتا ہے ، یا غالِب آجاتا ہے ، تو ہم اُسکو بہت بڑا اجر دینگے"
دونوں حالت میں مسلمان کو اجر مِلتا ہے
وہ شہید ہوجائے تو بھی اجر کا مُستحق
اور اگر غازی بن جائے تو بھی اجر کا مُستحق

-x-

imbajjo Offline
#18 Posted : Friday, December 30, 2011 12:09:36 PM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 10/13/2010(UTC)
Posts: 1,710
Points: 5,160
Woman
Location: kuwait

Thanks: 33 times
Was thanked: 35 time(s) in 28 post(s)

.

آیت نمبر 75
ترجمہ :
" اور تمہیں کیا ہوگیا ، کہ تم اللہ کی راہ میں قِتال نہیں کرتے "
[ یہ خطاب ہے مخلص اہلِ ایمان سے، اور اِس خطاب کا مقصد ایمان والوں کو قِتال پر، جہاد پر، آمادہ کرنا ہے ]
" اور تمہیں کیا ہوگیا ، کہ تم اللہ کی راہ میں قِتال نہیں کرتے - اور اُن لوگوں کے لیئے جو کمزور ہیں ، مَردوں میں سے، عورتوں میں سے اور بچوں میں سے "
[ اُنکے لیئے تم کیوں نہیں قِتال کرتے؟ ]
" جو دعائیں کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہمیں اِس بستی سے، [ اِس شہر سے ] نکال دے ، جس بستی کے باشندے ظالم ہیں-"
[ وہ مسلمان جو وہاں مظلوم ہیں ، سِتم زدہ ہیں ، اور وہ دعائیں کرتے ہیں کہ اے اللہ ! ہمیں اس بستی سے نکال دے، جس بستی والے ظالم ہیں۔۔ تم اُنکے لیئے جہاد کیوں نہیں کرتے؟]
آپ جانتے ہیں کہ جس وقت یہ آیات نازل ہوئیں ، اُسوقت بہت سارے مسلمان ایسے تھے جو مکّہ میں مُشرکین کے ہاتھوں ظلم و ستم کا شکار تھے
اور نبئ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم اُن میں سے بعض کے نام لے لے کر دعائیں کیا کرتے تھے، حدیث میں یہ دعا آتی ہے آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم دعا فرماتے تھے:
" اے اللہ ! ولید ابنِ ولید کو ظالموں کے پنجے سے چُھڑادے ،
اے اللہ ! سلمہ بن ہشّام کو ، عیّاش بِن ابی ربیعہ کو اور کمزور مسلمانوں کو ..
اے اللہ ! ظالموں کے پنجے سے نجات دے دے ۔۔"
نام لے لے کر دعائیں کیا کرتے تھے
اور حضرت ابنِ عبّاس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، وہ فرماتے ہیں:
" مَیں اور میری والدہ بھی مستضعفین میں سے تھے،
[ یعنی ان لوگوں میں سے تھے جو ظلم و ستم کا شکار تھے اور کمزور تھے ، مغلوب تھے مکہ میں ]
اور وہاں سے نکلنے کی کوئی صورت ہمارے لیئے نہیں تھی "
..
تو اللہ نے مسلمانوں کو اُبھارا۔۔
"تمہیں کیا ہوگیا؟ ، [ تمہارے پاس کیا عُذر ہے؟ ] کہ تم قِتال نہیں کرتے اللہ کی راہ میں،
اور اُن لوگوں کے لیئے جو کمزور ہیں [ پِسے ہوئے ہیں، دبے ہوئے ہیں ] مرد ہیں، عورتیں ہیں ، بچے ہیں
اور وہ دعائیں کرتے ہیں کہ اے اللہ ! ہمیں اِس مُلک سے نکال دے ،
جس مُلک کے باشندے [ جس مُلک کے حُکمران، جس مُلک کے وڈیرے ] ظالم ہیں-"
یہاں مَیں ایک نُکتے کی طرف آپکو متوجہ کرنا چاہونگا
قرآنِ کریم میں یہ دعا تو آتی ہے، کہ
بعض، مستضعفین، کمزور، مغلوب اور پِسے ہوئے مسلمان
یہ دعا کرتے ہیں کہ
" اے اللہ ہمیں اِس مُلک سے نکال دے ، اِس شہر سے نکال دے
جس شہر والے ظالم ہیں"
لیکن قرآن میں کہیں پر یہ دعا نہیں ہے کہ:
" اے اللہ ہمیں اِس مُلک سے نکال دے ،
جس مُلک والے کافِر ہیں "
--
ظالموں کے لیئے خاص طور پر یہ آیا ہے
یہاں مَیں اصل میں اسطرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں
کہ حضرت علی کرم اللہ وجہ کا ایک قول ہے جسمیں انہوں نے فرمایا کہ:
" کوئی مملکت ، کُفر کے ساتھ تو قائم رہ سکتی ہے ، لیکن ظلم کے ساتھ قائم نہیں رہ سکتی ہے "
---
مَیں کیسے عرض کروں۔۔ میرے پاس الفاظ بھی نہیں ہیں
کہیں مفہوم اُلجھ نہ جائے ، کہیں اِسکا غلط مطلب نہ لے لیا جائے
آج عالَمِ اسلام میں ظُلم و سِتم کی حد ہوگئی
پُورے عالَمِ اسلام میں ، مخلص مسلمانوں پر،
بنیاد پرست مسلمانوں پر ظُلم و ستم کی حد ہوگئی ہے
اُنکا جینا محال کردیا گیا۔۔ خود عالَمِ اسلام کے اندر۔۔
عدل اور انصاف عُنقہ ہے
---
تو اللہ فرماتے ہیں
" اور وہ دعائیں کرتے ہیں کہ اے اللہ ! ہمیں اِس مُلک سے نکال دے جس کے باشندے ظالم ہیں۔ اور ہمارے لیئے اپنی قدرت سے کوئی دوست پیدا کردے ، اور ہمارے لیئے اپنی قدرت سے کوئی مددگار پیدا کردے "
[ اے اللہ ہمارا کوئی دوست نہیں ہے ، ہمارا کوئی مدد گار نہیں ہے تو اپنی قدرت سے ہمارے لیئے کوئی دوست اور مدد گار پیدا کردے ]
دنیا بھر کی جیلوں میں نہ معلوم کتنے ہی مظلوم اور ستم زدہ مسلمان ہیں جو یہی دعائیں کر رہے ہیں
لیکن عالَمِ اسلام پر تو بے حِسی طاری ہے ۔ کوئی نہیں جو اُن مظلوم مسلمانوں کے لیئے سوچ سکے جو غیروں کی جیلوں میں جبر و تشدد کا شکار ہیں۔ حیوانوں پر وہ ظلم نہیں ڈھائے جاتے جو اُن مسلمانوں پر ڈھائے جارہے ہیں اور یاد رکھیئے کہ امام مالک رحمة اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ:
" اگر کُچھ مسلمان قیدی ہوں کُفّار کی جیلوں میں تو سارے مسلمانوں پر لازم ہے کہ اپنے سارے اموال بھی خرچ کرنے پڑیں تو اُن قیدیوں کو چُھڑائیں"
مَیں تو کبھی کبھی ایسے ہی جلے دِل کے ساتھ کہتا ہوں:
آج ہمیں عُمر بن خطّاب رضی اللہ عنہ جیسا حکمران تو کیا ملےگا؟
ہمیں تو حجّاج بن یوسف جیسا بھی حکمران میسّر نہیں ہے
حجّاج بن یوسف نے ایک بہن کی آواز اور پُکار کو سُنا تھا کہ:
"کوئی نہیں جو مجھے کافروں کے پنجے سے چُھڑائے؟"
حجّاج بےتاب ہو کر کھڑا ہوگیا تھا
"کیوں نہیں؟ ہم ہیں۔۔۔ ہم زندہ ہیں، کفّار کے ظلم و ستم سے تجھے چُھڑانے والے"
اور اس نے اپنے نوجوان بھتیجے محمد بن قاسم کو بھیجا تھا سندھ میں
اس مظلوم مسلمان عورت پر ہونے والے ظلم کا بدلہ لینے کے لیئے
اور یُوں یہاں پر اسلام کی روشنی پھیلی
--
تو بہت سارے مظلوم قیدی ہیں جو جیلوں میں پڑے یہ دعا کر رہے ہیں :
"اور ہمارے لیئے اپنی قدرت سے کوئی دوست پیدا کردے ،
اور ہمارے لیئے اپنی قدرت سے کوئی مددگار پیدا کردے "
-----------------------------------x-----------------------------------

imbajjo Offline
#19 Posted : Saturday, December 31, 2011 7:36:53 AM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 10/13/2010(UTC)
Posts: 1,710
Points: 5,160
Woman
Location: kuwait

Thanks: 33 times
Was thanked: 35 time(s) in 28 post(s)

.

آیت نمبر 76
یہاں سے اللہ تعالیٰ ، اسلامی جِہاد اور دوسری جنگوں میں فرق بتا رہے ہیں۔ فرمایا کہ:
ترجمہ:
"وہ لوگ جو ایمان لائے وہ قِتال کرتے ہیں اللہ کی راہ میں ۔ اور وہ لوگ جو کافر ہیں وہ قِتال کرتے ہیں طاغوت کے راستے میں[شیطان کے راستے میں]"
یاد رکھیئے کہ اسلامی جِہاد کا مقصد نہ تو مملکت کی حدود میں توسیع ہے
نہ قومی غلبہ
نہ تجارتی منڈیوں کو اپنے قبضے میں لینا
نہ جاہ پرستی
نہ پیٹرول کا حُصول
بلکہ اسلامی جِہاد کا مقصد کلمۃ توحید کی سربلندی ہے
اللہ کا کلمہ بلند ہوحائے ۔۔ اللہ کا قانون پُوری دنیا پر چھا جائے
اسلامی جِہاد کا مقصد یہ ہے
جبکہ آج جو جنگیں ہورہی ہیں
طاغوت کے لیئے جنگیں اور طاغوتی نظام کے لیئے جنگیں
یہ ملک کے لیئے ہیں
زمین کے لیئے ہیں
مال کے لیئے ہیں
پیٹرول کے لیئے ہیں
اپنے آپ کو غالب کرنے کے لیئے ہیں
اسی لیئے آپ دیکھیں تو غیر مسلم سپاہیوں کے لیئے سینکڑوں ٹَن شراب کا انتظام کِیا جاتا ہے، انکے لیئے طوائفوں کا انتظام کِیا جاتا ہے، پھر اُنمیں پھیلنے والی مختلف بیماریوں ، ایڈز وغیرہ کے لیئے ہسپتال بنائے جاتے ہیں ۔۔ اسلیئے کہ وہ لڑتے ہیں مال کے لیئے ، زمین کے لیئے ، پیٹرول کے لیئے ، جاہ پرستی کے لیئے ،
اُنکے اندر تقویٰ کا تصوّر بھی محال ہے۔ خُدا خوفی کا تصوّر بھی محال ہے۔
--
جبکہ جو مسلمان مجاہد ہے ، اُسکا حال وہ ہوتا ہے
جو دوست نے نہیں۔۔۔ بلکہ ایک دشمن نے بیان کِیا تھا
بعض روایات میں آتا ہے کہ مسلمانوں کی فوجوں نے پڑاوَ ڈالا ہُوا تھا مِصر میں
مقوقس نے اپنے دو ایلچی بھیجے
جنہوں نے آ کر مسلمان سپاہیوں کو اور اُنکے امیرِ لشکر کو بڑا ڈرایا
کہ تم بہت دُور آگئے ہو اپنے مُلک سے، اگر تم ہم سے مقابلہ کرتے ہو
تو ہماری فوجیں تمہیں پِیس کر رکھدینگی
بھاگنا چاہتے ہو تو پیچھے دریا ہے ۔۔ بھاگ بھی نہیں سکتے
آگے بڑھتے ہو تو بھی مَوت اور پیچھے جاتے ہو تو بھی مَوت
مسلمانوں کے امیرِ لشکر نے زبانی جواب دینے کے بجائے
اُن ایلچیوں کو دو دن کے لیئے اپنا مہمان بنا لِیا
"دو دن ٹھہرو"
دو دن وہ ، مسلمان مُجاہدین کے درمیان رہے
دو دن بعد اُنکو چھوڑ دِیا
واپس جا کر اُنہوں نے جو رِپورٹ دی مسلمان مجاہدین کے بارے میں
یہ اُسکے الفاظ ہیں۔۔
اُنہوں نے کہا:
" ہم ایسے لوگوں کو دیکھ کر آئے ہیں
جو زندگی سے زیادہ ، مَوت سے پیار کرتے ہیں،
جو تکبّر سے زیادہ ، عاجزی کو پسند کرتے ہیں،
وہ دنیا کے لالچی نہیں ہیں [دنیا کی حِرص اور دنیا کی طمع اُنکے اندر نہیں] ،
اُنکی حالت یہ ہے کہ، مٹّی پر بیٹھ جاتے ہیں ،
[اپنے لیئے کسی اُونچی نشست گاہ کی تلاش میں نہیں رہتے] ،
[میز کرسی کو تلاش نہیں کرتے بلکہ] اپنے گُھٹنوں پہ ہی کھانا رکھ کر کھالیتے ہیں ،
اُنکا امیر [ پہچانا ہی نہیں جاتا کہ کَون ہے؟ ] اُن ہی کا ایک فرد معلوم ہوتا ہے ،
پتہ ہی نہیں چلتا کہ، اُنمیں سے بڑا کون ہے اور چھوٹا کون ہے؟
[ سب ایک جیسے، کھانا کھاتے ہیں تو سب اِکٹھے، امیر کے لیئے کوئی اُونچی کرسی نہیں ،
اُسکا کوئی امتیازی لباس نہیں ، "ہٹو ، بچو" کی آوازیں اُنکے لیئے نہیں ، ]
یہ
بھی نہیں پتہ چلتا کہ غلام کون ہے اور آقا کون ہے؟
جب نماز کا وقت آتا ہے تو اُنمیں سے ایک بھی نماز سے پیچھے نہیں رہتا
جب نماز کا وقت آتا ہے تو اپنے اعضاء کو پانی سے دھوتے ہیں
اور اُنکی نمازوں میں خُشوع پایا جاتا ہے
[ نمازوں میں روتے ہیں ] "
یہ مسلمان مجاہدین کی علامات بیان کیں ، دشمن نے
--
جو دنیا کے لیئے لڑتے ہیں ،
وہ جہاں سے گزرتے ہیں وہاں کی بہنوں اور بیٹیوں کی عزت و ناموس محفوظ نہیں رہتی-
--
اور جو اللہ کے لیئے لڑتے ہیں وہ لُٹی ہوئی عزتوں کو بھی بحال کرتے ہیں
وہ کسی کی بہن اور بیٹی کی طرف غلط نگاہ سے نہیں دیکھتے ہیں-
کسی کا مال بغیر اجازت کے نہیں چھیڑتے ہیں-
--
تو اللہ بیان فرما رہے ہیں فرق ، اسلامی جِہاد کے درمیان اور عام جنگوں کے درمیان
ترجمہ:
"وہ لوگ جو ایمان لائے وہ قِتال کرتے ہیں اللہ کی رضا کے لیئے ۔۔ "
یاد رکھیئے کہ قرآنِ کریم میں جو
"فی سبیل اللہ " کے الفاظ آتے ہیں ،
تو اِنکا معنیٰ ہوتا ہے
" اللہ کی رضا کے لیئے "
"اللہ کو راضی کرنے کے لیئے "
--
عرصہ ہوگیا ہمیں اسلامی جہاد کی بہاریں دیکھے ہوئے،
کوئی تو مسلمان حکمران اُٹھے
اللہ کرے کہ ہمیں کوئی ایسی قیادت نصیب ہوجائے جو
اسلامی طریقے سے، اسلامی شرائط کے مطابق جِہاد کرے
--
ترجمہ:
"وہ لوگ جو ایمان لائے وہ قِتال کرتے ہیں اللہ کی رضا کے لیئے ۔۔ اور وہ ، جو کُفر کرتے ہیں ۔۔ وہ قِتال کرتے ہیں طاغوت کے لیئے [طاغوت کو خوش کرنے کے لیئے ]"
مَیں پہلے بتا چکا ہوں اس بارے میں تفصیلاً کہ
" طاغوت " کی مختلف تفسیریں کی گئیں۔۔
بُت کو بھی طاغوت کہا گیا
شیطان کو بھی طاغوت کہا گیا
مال کو بھی طاغوت کہا گیا
نفس کو بھی طاغوت کہا گیا
بس سیدھی سی بات یہ ہے کہ
"اللہ کو چھوڑ کر ، اللہ کے مقابلے میں جسکی پرستش اور عبادت کی جائے ، وہ طاغوت ہے"
--
تو اللہ فرماتے ہیں کہ
ترجمہ:
"جنگ کرو شیطان کے دوستوں کے ساتھ ۔ بے شک شیطان کی تدبیریں بڑی کمزور ہیں"
{شیطان کی تدبیریں مضبوط نہیں ہیں -
آج جو شیطان کی تدبیریں مضبوط نظر آرہی ہیں ،
وہ اسلیئے کہ مسلمان، مسلمان نہیں رہا
اور خود مسلمان نے جہاد سے اور اللہ کے دِین سے مُنہ موڑ لِیا
اسلیئے ہمیں شیطان کی تدبیریں بڑی مضبوط نظر آرہی ہیں
امریکہ کی تدبیریں، برطانیہ کی تدبیریں بڑی مضبوط نظر آرہی ہیں }
پورا عالَمِ اسلام تو بکھرا ہُوا ہے، منتشر، متفرّق،
دِین سے دُور ، دِین کی رُوح نہیں ،
ایمان نہیں، ایمان کی حقیقت نہیں، ایمان کی عظمت نہیں
قرآن کے ساتھ تعلّق نہیں
نبئ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم کی اِطاعت نہیں
اجتماعیت نہیں، امانت نہیں ، خِلافت نہیں ، اتحاد نہیں
تو ہمیں نظر آتا ہے کہ شیطان کی تدبیریں بڑی مضبوط ہیں
--
اللہ  کہتے ہیں کہ شیطان کی تدبیریں تو بہت کمزور ہیں لیکن تم اُٹھو تو سہی،
ہمّت تو کرو اور مومن بن کر تو دکھاوَ
پھر دیکھو کہ تمہارے مقابلے میں شیطان اور شیطانی طاقتیں کیسی پِگھل جاتی ہیں
..
اللہ پاک مجھے اور آپ سبکو شیطان کی تدبیریں سمجھنے اور اُن سے بچنے
اور ایمان کے سارے تقاضوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے
..
و اٰخر دعوانا عن الحمدللہ رب العٰلمین
-x-

.

imbajjo Offline
#20 Posted : Monday, January 02, 2012 9:02:33 AM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 10/13/2010(UTC)
Posts: 1,710
Points: 5,160
Woman
Location: kuwait

Thanks: 33 times
Was thanked: 35 time(s) in 28 post(s)

-correction:

و اٰخِرُ دعوٰنا اَنِ الحمد للہ رب العٰلمین
ترجمہ:
"اور ہماری آخری پُکار یہ ہوگی کہ : "تمام تعریفیں اللہ کی ہیں جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے"
--
[دیکھیئے سورہ یونس کی آیت نمبر دس]


-

Quick Reply Show Quick Reply
Users browsing this topic
Guest (11)
9 Pages123>»
Forum Jump  
You cannot post new topics in this forum.
You cannot reply to topics in this forum.
You cannot delete your posts in this forum.
You cannot edit your posts in this forum.
You cannot create polls in this forum.
You cannot vote in polls in this forum.