http://darsequran.com/sp...peech_htmls/parah05.php
---
cassette no : 210
سورۃ النساء کی آیت نمبر 49 - 58 ..
---
بیان کا عنوان : امانت
---
آیت نمبر اُننچاس میں اللہ فرماتے ہیں:
ترجمہ:
"کیا آپ نے اُن لوگوں کو نہیں دیکھا،جو اپنے آپکو پاکیزہ ٹھہراتےہیں..."
{کیا آپ نے اُن لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنی تعریفیں کرتے ہیں۔ اپنے آپکو اللہ کا محبوب، اللہ کا پیارا، اور جنّتی کہتے ہیں۔۔ تفسیروں میں لِکھا ہےکہ یہود و نصاریٰ یہ دعوے کرتے تھے،کہ ہم اللہ کے محبوب اور اللہ کے پیارے ہیں،
یہودی کہتے تھے کہ جنّت میں صرف یہودی داخل ہوسکتے ہیں اور کوئی نہیں،
اور عیسائی کہتے تھے کہ جنّت میں صرف عیسائی داخل ہوسکتے ہیں اور کوئی نہیں۔
تو اُن لوگوں کی مذمّت بیان کی۔۔
کہ آپ نے دیکھا ان لوگوں کو جو گھمنڈ اور فخر میں مبتلا ہیں،
جیسےاللہ پاک نے یہود و نصاریٰ کی مذمّت کی ،اسی طریقےسےاُن سارے لوگوں کی مذمّت ہےجو محض نسل کی بِنا پر،
نسب کی بِنا پر،خاندان کی بِنا پر اور قومِیت کی بِنا پراپنے آپکودوسروں سےممتازسمجھتےہیں اورمقدّس سمجھتےہیں۔۔
ہمارےزمانےکےپِیرزادے، سیّدزادے،شاہزادے اور مُلّازادے،بعض اوقات عِلم و عمل کے بغیر محض اپنےآپکواِسلیئےبڑاسمجھتےہیں کہ ہم بڑوں کی اولاد ہیں،اور اُنہوں نے لوگوں کےذہن میں بھی یہ بات بِٹھا رکھی ہے،کہ چونکہ ہم بڑوں کی اولاد ہیں،اسلیئے ہمارے اعمال خواہ کیسےہی کیوں نہ ہوں،جنّت ہماری ہے،نہ صرف یہ کہ ہم جنّت میں جائینگےبلکہ اُنکی باتوں سےتو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ پاک نے اُنکو جنّت کا ٹھیکےدار بھی بنا رکھا ہے۔۔وہ جِسے چاہینگےجنّت میں لےجائینگے
جنّتی ہونے کے سرٹیفیکیٹ وہ تقسیم کرتےپھرتےہیں،نذرانوں کےبدلے،اور ہدیوں کےبدلےاور چندوں کےبدلے، -
-تویاد رکھیئےکہ ایمان اور عمل کےبغیرکُچھ نہیں ہے،
کسی سیّد کا بیٹا ہونا،اورکسی شاہ کا بیٹا ہونا،اور پِیر کا بیٹا ہونا،اور مولوی کا بیٹا ہونا تو کیا کام آئیگا۔۔
نبی کا بیٹا ہونا بھی ایمان اور عمل کےبغیر کام نہیں آسکتا۔۔ نوح علیہ السّلام کا بیٹا، اُنکی آنکھوں کےسامنےسیلاب میں غرق ہوگیا۔۔ اور وہ کہتے رہ گئے۔۔ "اے اللہ-- یہ میرا بیٹا ہے" ۔۔۔ اللہ نے فرمایا : "یہ تیرے اَہَل میں سے نہیں ہے،اسلیئے کہ اسکے اعمال اچھے نہیں ہیں" اور فرمایا: "اے نوح {علیہ السّلام}-- جس بات کا تجھے عِلم نہیں ہے اُسکے بارےمیں مجھ سےسوال نہیں کرو۔۔ میں تجھے نصیحت کرتا ہوں ، کہیں تم جاہلوں میں سے نہ ہوجانا"
حضرت نوح علیہ السّلام نے فوراً معافی مانگی :
"اللہ مجھے پتہ نہیں تھا"
اللہ اکبر۔۔۔
اللہ کا نبی کہتا ہے
فوراً اپنے عدمِ عِلم کا اعتراف کرلیا۔۔
" اللہ مجھے پتہ نہیں تھا، اللہ مجھے معاف فرمادے، مجھ پر رحم فرمادے،اگر تُو نے معاف نہ کِیا،اور رحم نہ کِیا تو میں تو تباہ ہوجاوَنگا۔۔"
--
تو بڑے کا بیٹا ہونا کسی کام نہیں آسکتا
میں قربان جاوَں پیارے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کے قدموں کی خاک پر،
جنہوں نے اپنی اولاد اور اپنے متعلّقین کے ذہنوں سے یہ بات نکال دی تھی کہ
" یہ مت سمجھنا کہ تم میری اولاد ہو لہٰذہ تمہیں عمل کرنےکی ضرورت نہیں ہے"
اپنی لختِ جِگر، خاتونِ جنّت، سیّدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سےفرمایا:
"اے فاطمہ{رضی اللہ تعالیٰ عنہا}-- آخرت کی تیّاری تمہیں خود کرنی ہوگی۔محمد {صلّی اللہ علیہ وسلّم} کی بیٹی ہونا تمہارے کسی کام نہیں آئیگا"
--
تو اللہ اِس بات کو پسند نہیں کرتےکہ کوئی اپنی تعریف کرے اور اپنے آپکو جنّتی کہے، اس بات کو پسند نہیں کِیا گیا۔۔
دیکھیئے میں اور آپ الحمدلِلہ اُمید تو رکھتےہیں،اللہ کےفضل سے،
اللہ کےکرم سےانشاءاللہ ہمیں جنّت کے کسی کونے کھدرے میں اور اللہ والوں کی جوتیوں میں جگہ مِلجائیگی،
لیکن یقین سے نہیں کہہ سکتے۔ کہ میں تو جنّتی ہوں،
حضرت عُمر بن خطّاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول آپ نے سُنا ہوگا
وہ فرماتے ہیں:
"مجھےاللہ کی رحمت کی امید اتنی ہےکہ اگر قیامت کے دن یہ اعلان سُنوں کہ آج سارے لوگ دوزخ میں جائینگے اور ایک جنّت میں جائیگا تو مَیں امید رکھونگا کہ شاید وہ ایک میں ہی ہوں
اور ڈر اتنا ہے کہ اگر قیامت کے دن اعلان ہوگیا کہ آج سارے جنّت میں جائینگے سوائے ایک کے
تو میں ڈرونگا کہ کہیں وہ ایک، مَیں نہ ہوں"
.
اسی کا نام ایمان ہے
ایمان کیا ہے؟ اُمید اور خوف کےدرمیان۔۔
الحمدللہ ہم امید رکھتے ہیں اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے،
نا امیدی تو ہمارے قریب ہی نہیں آتی۔۔
میرا اللہ کہتا ہے نا امید نہ ہوجاوَ۔۔اور اللہ کہتا ہے:
ترجمہ:
"اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہوجاوَ،اللہ کی رحمت سے صرف کافر نا امید ہوتا ہے مومن کبھی اللہ کی رحمت سے نا امید نہیں ہوتا"
.
تو نا امیدی کی بات ہم کیوں کریں؟ ہاں ڈر ہے۔۔
ڈر ہے۔۔۔ اسلیئے کہ گناہ بہت ہیں
جو ٹُوٹی پُھوٹی عبادت ہے وہ اس قابل نہیں کہ اللہ کےسامنےپیش کی جاسکے۔۔
بس اللہ اپنے فضل کا معاملہ فرمائے تو انشاءاللہ دوزخ سےنجات مل ہی جائیگی
--
تو منع کِیا گیا کہ اپنی تعریف مت کرو
تمہاری تعریف کا کوئی اعتبار نہیں
خود اپنی تعریف کرنےسے بھی منع کیا گیا اور
دوسرے کی تعریف میں مبالغہ کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے
ہمارا دَور لفّاظی کا دَور ہے
مبالغےکا دَور ہے،لوگ ایسے تعریف کرتے ہیں ۔۔ آسمان پر چڑھادیتےہیں،
جِسےچِیخ چِیخ کر بولنا آتا ہو،اُسے کہتے ہیں "علّامہ صاحب" چنانچہ اعلان کرتے ہیں کہ
"شیرِ پنجاب، اور فخرِ زمان، اور غزالئ دوران، علّامہ فلاں صاحب ،خطاب فرمائینگے"
اور وہ بےوقوف یہ سمجھتا ہے کہ واقعی مَیں "علّامہ صاحب" ہوں ۔۔ اسلیئے کہ: "لوگ کہتے ہیں" ۔۔
بلکہ بعض اپنا تعارُف کراتے ہیں،"مَیں تو کُچھ نہیں ہوں، لیکن لوگ کہتے ہیں،کہ علّامہ صاحب ہوں"
[اِسکا مطلب یہ کہ آپ بھی مجھے کہا کریں، علّامہ صاحب]
تو اس سے منع کِیا گیا کہ کسی کی تعریف میں مبالغہ نہ کریں
.
ایک اللہ والےنےفرمایا کہ:
"جب کوئی تمہاری تعریف کرےتوسمجھ لو کہ یہ تمہاری تعریف نہیں کررہا ۔۔ اللہ کی ستّاری کی تعریف کررہاہے،
جس نے تمہارے گناہوں پر اور عَیبوں پر پردہ ڈالا ہوا ہے،
اگر وہ پردہ اُٹھادیتا تو یہ تمہاری تعریف نہ کرتا، تمہارے مُنہ پر تُھوک دیتا"
.
اللہ کے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نے یہاں تک فرمادیا کہ:
"جو تمہاری تعریف کرتاہےاُسکے منہ پہ مٹّی ڈالو"
.
[اسلیئےکہ لوگ تعریف کرکےدماغ خراب کردیتےہیں،اتنی تعریف کرتے ہیں، اتنی تعریف کرتے ہیں، بانس پر چڑھادیتےہیں]
ایک حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم کی خدمت میں ایک صاحب نےکسی کی بڑی تعریف کی۔
نبئ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا:
"افسوس ہے تیرے اوپر، تُو نے تو اپنے بھائی کی گردن کو توڑدِیا"
اور فرمایا کہ اگر کسی کی تعریف کرنی ہی ہو تو یوں کہہ دو کہ میرا خیال یہ ہے کہ یہ ایسے ہیں۔۔
باقی یقینی طور پرکہہ دینا اور بہت زیادہ مبالغہ کرنا منع ہے،
اسلیئے کہ ہماری صحیح حقیقت تو اللہ جانتا ہے۔ یہ دنیا والےنہیں جانتے۔۔
ہاں یہ الگ بات ہے کہ ہمیں ہر مسلمان کےبارےمیں اچھا گُمان رکھنا چاہیئے
.
یہ بھی نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کی تعلیم ہے
ہر مسلمان کےبارےمیں اچھا گُمان رکھو،بدگُمانی نہ کرو
یہ سوچو کہ "مجھ سے اچھے ہیں"
.
توفرمایا:
ترجمہ:
""کیا آپ نے اُن لوگوں کو نہیں دیکھا،جو اپنے آپکو پاکیزہ ٹھہراتےہیں...بلکہ اللہ پاکیزہ ٹھہرائیگا،جِسےچاہےگا"
.
{اصل اعتبار تو اللہ کی تعریف کا ہے۔۔ اور اللہ جو تعریف کرتا ہے نا۔۔ بڑے بڑے لقب نہیں دیتا۔۔ بس اللہ تو یوں کہہ دےگا کہ "یہ میرا بندہ تھا" ۔۔ یہ اللہ کی سب سے بڑی تعریف ہے، اللہ کسی کےبارےمیں کہہ دےقیامت کےدِن کہ "اس نے میرا بندہ بن کر زندگی گزاری" ۔۔ ربّ کعبہ کی قَسم ، اس سے بڑی تعریف کوئی نہیں}
انسانوں میں سے تو سب سے زیادہ تعریف کےقابل تو، پیارےنبی صلّی اللہ علیہ وسلّم ہیں،
لیکن اللہ نے حُضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کی جوتعریف فرمائی۔۔ وہ کیا؟
کہ "میرے بندے ہیں"
اللہ نے کہا کہ نماز میں کہا کرو:
اَشھَدُ اَن لا اِلٰہَ اِلاَّ اللہ وَ اَشھَدُ اَنَّ مُحَمَّدً عَبدُہ وَرَسُولُہ
سب سے بڑی تعریف حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کی کیا ہے؟ کہ حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم اللہ کے بندےہیں
ویسےاللہ نے حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کو خاتمُ النَّبِیّین بھی کہا
رَحمَتُ لّلعٰلَمِین بھی کہا،
یٰس بھی کہا ،
طٰہٰ بھی کہا،
یاایُّھَاالنَّبِیُّ بھی کہا،
یاایُّھَاالرَّسُول بھی کہا،
لیکن عُلماء نے لکھا ہے، کہ حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کی سب سے بڑی تعریف یہ ہے کہ اللہ نے حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کو
عَبدُہ کہا
"میرا بندہ ہے"
.
اور بڑا پیارا شعر ہے اقبال کا،کہتے ہیں:
.
عبد دیگر، عبدہ چیزِ دیگر
ما سراپا انتظار ہوں منتظر
.
مطلب: بندہ ہونا اور چیز ہے، اور اُسکا بندہ ہونا اور چیز ہے
ہم سارےانتظارمیں رہتےہیں،اور جو "عَبدُہ" ہے، اللہ اُسکا انتظارکرتاہے
۔۔
سب سے بڑے "عَبدُہ" تو حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم ہیں
لیکن جس نے یہ زندگی اللہ کی مرضی کےمطابق گُزاری،وہ بھی قیامت کے دن "عَبدُہ" کہلائیگا
اللہ کہےگا۔۔یہ میرا بندہ ہے،اور اللہ انتظار کریگا اُسکا کہ اسکی زبان سے کیا نکلتاہے؟
.
خودی کو کر بُلند اِتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خُدا بندےسےخود پُوچھے، بتا ۔۔ تیری رضا کیا ہے
۔۔
جب "عَبدُہ" کےمقام پر فائز ہوجاتاہےتوپھر اللہ پوچھتے ہیں کہ
بتا ۔۔ تیری رضا کیا ہے
۔۔
تم دنیا میں یہ دیکھ کرچلتےتھےکہ میرا اللہ کیا چاہتاہے؟
قیامت کےدِن مَیں یہ دیکھونگاکہ میرا بندہ کیا چاہتا ہے؟
۔۔۔
ترجمہ:
"کیا آپ نے اُن لوگوں کو نہیں دیکھا،جو اپنے آپکو پاکیزہ ٹھہراتےہیں...بلکہ اللہ پاکیزہ ٹھہرائیگا،جِسےچاہےگا
اور ذرّہ بھی طُلم نہیں کِیا جائیگا"
{اللہ کہتا ہے،ظلم نہیں کِیاجائیگا،لیکن تمہاری اپنی تعریفیں کرنےسےمیرےہاں تم بڑےنہیں بن جاوَگے
ہاں جسکی مَیں تعریف کرونگا،وہی بڑا ہوگا
تم اپنی تعریف کرلو-- بڑے نہیں بنوگے
اور کسی اور کی تعریف کرلو-- وہ بڑا نہیں بنےگا
اصل بڑا وہ ہوگا جسکی مَیں تعریف کرونگا}
--
آیت نمبر پچّاس:
ترجمہ:
"دیکھیئے یہ کیسا جھوٹا طوفان باندھتے ہیں اللہ پر۔۔۔"
.
{کہتےہیں،چونکہ مَیں بنی اسرائیل کی نسل سے ہوں، لہٰذہ مَیں جنّتی، مَیں اللہ کا چہیتا،
چونکہ مَیں فلاں بڑےپِیر کا بیٹا ہوں،لہٰذہ مَیں جنّتی،
چونکہ مَیں فلاں بڑے خاندان سےمیرا تعلّق ہے،لہٰذہ مَیں جنّتی،
اللہ کہتا ہے،یہ جھوٹ بولتے ہیں،میرے ہاں نسب نہیں پُوچھاجاتا،
کِس کے بیٹےہو؟ کِس کے پوتے ہو؟ کِس کے نواسےہو؟
--- یہ پُوچھاجاتاہےکہ تم کیا ہو؟ تمہارےپاس کیا ہے؟
قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے:
ترجمہ:
"باپ دادا کے کام ،اُن کے اعمال آئینگے اور تمہارے کام، تمہارے اعمال آئینگے"
.
باپ دادا کے کام تمہیں فائدہ نہیں دینگے،یہ ذہن سےنکال دو
۔۔۔۔۔
دیکھیئے یہ کیسا جھوٹا طوفان باندھتے ہیں اللہ پر۔۔۔یہ کافی ہے صریح جُرم کے لیئے"
...
آیت نمبر اکیاون:
میں دو لفظ استعمال ہوئے ہیں ، "جِبت" اور "طاغوت"
جبت = بُت
طاغوت= شیطان
اللہ کےسِوا جسکی بھی عبادت کی جائے وہ جِبت ہے
اور ہر وہ چیز جو انسان کو سرکش بنادے وہ طاغوت ہے
دولت سرکش بنادے تو دولت طاغوت ہے
اور کُرسی سرکش بنادے تو کُرسی طاغوت ہے
یہودیوں کے علماء مکّے گئے، قریش والوں نے اُن سے سوال کِیا،
دیکھو.. ہم حاجیوں کی خدمت کرتے ہیں انکو پانی پلاتے ہیں اور کعبہ کی صفائی کرتے ہیں۔
کعبہ کی دربانی کرتے ہیں , تو کون بہتر ہیں ہم دونوں میں سے؟
ہم بہتر ہیں یا یہ مسلمان بہتر ہیں؟
تویہودی [باوجودیکہ،کتاب کا عِلم رکھتے تھے،انہوں] نے کہا، نہیں تم اُن سے بہتر ہو۔۔
--
آیت نمبر باون:
ترجمہ:
"یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی۔۔۔"
{کیوں لعنت کی اللہ نے؟ --
توحید اور نبوّت کو پہچاننےکےباوجود،وہ شِرک کی تعریف کرتے ہیں۔۔
اور مشرکین کی تعریف کرتےہیں۔۔ بُغض کی وجہ سے، حسد کی وجہ سے۔۔۔}
.
"یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی۔۔۔اور جس پر اللہ لعنت کردے، تم اُسکا کسی کو مددگار نہیں پاوَگے"
.
{جس پر اللہ کی لعنت ہوجائے کسی کی مدد اسکےکام نہیں آسکتی،کسی کی سفارش اسکو فائدہ نہیں دےسکتی،بہت سے اعمال ایسے ہیں جنکے بارے میں حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا کہ انکے کرنے والے پر اللہ لعنت کرتا ہے ۔۔ تو ہمیں اُن اعمال سے اپنے آپکو بچاکررکھناہے،اسلیئے کہ اللہ کہتا ہے کہ جس پر میں لعنت کردوں تو اسکا کوئی مددگار نہیں ہوسکتا}
---
آیت نمبر تریپن:
{اللہ کہتے ہیں ۔۔ یہ یہودی،اتنے تنگ دِل ہیں کہ دینی عظمت تو الگ رہی،اگر اللہ پاک اِنکو دنیا کی عزّت بھی عطا کرتے تو یہ کسی کو دنیا میں سے ایک تِل کے برابر بھی نہیں دینگے}
---
آیت نمبر چَوَّن:
{یہودیوں کو حسد یہ تھا کہ نبئ آخِرُالزّماں صلّی اللہ علیہ وسلّم ، بنو اسرائیل میں کیوں نہیں آیا؟
اور بنو اسمٰعیل میں کیوں آگیا؟
تو اللہ کہتے ہیں۔۔ کیا یہ مَیں نے وعدہ کِیا تھا؟
کہ میرا فضل صرف بنو اسرائیل تک محدود رہیگا۔۔
اور مَیں کسی اور کو دنیا میں اپنا فضل عطا نہیں کرونگا۔۔
یا عطا کرنا چاہوں تو تم سے مشورہ کرونگا۔۔ ؟
کہ کسی اور کو اپنا فضل دوں یا کہ نہ دوں؟
میری مرضی ہے۔۔۔ مَیں جِسے چاہوں عزّت و عظمت سے نوازدوں۔۔۔
چاہوں تو بنو اسرائیل میں نبی پیدا کردوں۔۔
اور چاہوں تو بنو اسمٰعیل میں نبی پیدا کردوں۔۔
۔
اور اللہ نے کِیا۔۔ زیادہ انبیاء علیہم السّلام تو آئے بنو اسرائیل میں۔۔۔
لیکن انبیاء کے سردار صلّی اللہ علیہ وسلّم، آئے بنو اسمٰعیل میں}
---
آیت نمبر پچپن:
ترجمہ:
"اُن میں سےبعض وہ ہیں جو آپ پر ایمان رکھتے ہیں،اور بعض ایسے ہیں جو آپ سے اعراض کرتے ہیں۔۔ [دُور بھاگتے ہیں] اور دہکتا ہوا جہنّم ہی اِنکے لیئے کافی ہے"
---
آیت نمبر چھپّن:
{دنیا کی آگ تو ایسی ہے کہ اگر کسی کو دنیا کی آگ میں ڈال دِیا جائے، جلے گا۔۔ گھنٹہ جلےگا۔۔ آدھا گھنٹہ جلےگا۔۔ پانچ منٹ جلےگا۔۔۔ جل کر راکھ ہوجائےگا۔۔ جِلد ایسی ہوجائیگی کوئلہ، کہ پھر آگ اُس پر کوئی اثر نہیں کریگی۔۔ اور تکلیف کا احساس نہیں ہوگا۔۔ تو اللہ فرماتے ہیں کہ یہ مت سمجھنا کہ دوزخ میں بھی ایسا ہی ہوگا۔۔ کہ تمہیں دوزخ میں ڈالا ، ہڈّیاں جل گئیں اور جِلد کوئلہ ہوگئی۔۔تو اب دوزخ کی آگ تمہیں کوئی تکلیف نہیں دےگی۔۔
یہ مت سمجھنا۔۔ ہم بار بار جِلد کو بدلتےرہینگے۔۔۔ تمہارے چمڑے کو بدلتے رہینگے تاکہ تم عذاب کو خوب چکّھو۔۔}
.
اَللّٰہمَّ اَجِرنا مِنَ النَّار
اَللّٰہمَّ اِنّی اَعُوذُبِکَ مِن عَذابِ جَہَنَّم ، وَ مِن عَذَابِ القَبر
۔۔۔
میرے بھائیو۔۔ میری بہنو ۔۔ میرے عزیزو۔۔۔
دوزخ کا معاملہ بڑا سخت ہے ۔۔۔
میں اور آپ دوزخ کی آگ کا ہزارواں حصّہ بھی برداشت کرنےکی طاقت نہیں رکھتےہیں۔۔
اور آج اللہ نے ہمیں موقع دِیا ہے، کہ ہم اپنےاوپر دوزخ کی آگ کو حرام کرلیں۔۔
اللہ کے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم بتاتے رہے، لوگوں کو بتاتے رہے،
اور علماء نے بتایا۔۔
لوگو ۔۔ ہم بتارہےہیں۔۔
ایسا طریقہ ہے کہ تم دوزخ کی آگ سےبچ سکتےہو۔۔
اور دوزخ کی آگ کو اپنے اوپر حرام کرسکتے ہو۔۔
اب بھی موقع ہے۔۔
آپ تیس سال کے ہیں۔۔ چالیس سال کے ہیں۔۔ پچاس سال کے ہیں۔۔ ستّر سال کے ہیں۔۔
زندگی گناہوں میں گزری ہے۔۔۔ اب باز آجاوَ۔۔
توبہ کرلو۔۔ ندامت کے آنسوں بہا دو۔۔
آئندہ کے لیئے گناہ نہ کرنے کا عزم کرلو۔۔
جوہوچکا ، اُسکی تلافی کی صورت کرلو،
اللہ دوزخ کی آگ کو حرام کردینگے، وگرنہ،ہمارے بس میں نہیں ہے،
ہم برداشت نہیں کرسکتےدوزخ کی آگ کو،
.
اللہ فرماتے ہیں کہ جب اُنکی جِلدیں، اُنکے چمڑے پک جائینگے، توہم اُنکےچمڑوں کو بدل کر دوسرا چمڑا دےدینگے۔ نیا چمڑا۔۔
وہ جلےگا، تیسرا۔۔ بار بار چمڑے بدلتےرہینگے،تاکہ وہ عذاب کوچکھتےرہیں۔
.
ترجمہ:
"بےشک اللہ غالب ہے حکمت والا ہے، [اسکے لیئے ایسا کرنا کچھ بھی مشکل نہیں ہے]"
---
آیت نمبر ستاون:
{یہ میرے اللہ کا کلام ہے۔ اللہ ایسا نہیں کرتا،کہ دوزخ کی سزائیں بیان کرتا جائے،
اگر ایسا کرتا تو بندے مایوس ہوجاتے،
تو اللہ پاک دوزخ کا ذکر کرتے ہیں تو ساتھ ہی جنّت کا بھی ذکر کردیتے ہیں،
اللہ کافروں کا ذکر کرتے ہیں تو ایمان والوں کا بھی ذکر کردیتےہیں،
اپنی پکڑ کا ذکر کرتے ہیں تو اپنی مغفرت اور بخشش کا بھی ذکر کردیتے ہیں
اس آیت میں جنّت کے گھنے سائے کا ذکر ہے
سُبحان اللہ۔۔ کیسے سائے ہونگے کیسی جنّت ہوگی۔۔ کیسی نعمتیں ہونگی۔۔
آج ہم دنیا میں جنّت کی نعمتوں کی پوری حقیقت نہ بیان کرسکتے ہیں نہ سمجھ سکتےہیں۔
اللہ نے خود کہا قرآن میں:
ترجمہ:
"مَیں نے تمہارے لیئے جنّت کی جو ٹھنڈک چُھپا رکھی ہے ،کوئی بھی آج دنیا میں رہتے ہوئے اُسے جان نہیں سکتا"
.
اور ہمارے پیارے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا:
"وہاں ایسی نعمتیں ہیں جنکو نہ کسی آنکھ نےدیکھااور نہ کسی دِل پر اُنکا خیال گُزرا۔"
--
یہ باتیں تو اللہ ہمیں سمجھانے کے لیئے کرتے ہیں۔۔
باغ ہونگے، نہریں ہونگی، اور دودھ ہوگا اور شہد ہوگا، اور پھل ہونگے۔۔
۔ کیسے ہونگے؟ کیا حقیقت ہوگی۔۔؟ یہ ہم سمجھ نہیں سکتے،
یہ تو ہمارے فہم کے قریب کرنےکےلیئے،ہماری عقل کے قریب کرنےکےلیئے،
تاکہ ہم بات کو سمجھ سکیں،
ہم تو اندھے ہیں۔۔ آخرت کےبارےمیں اندھے ہیں،
ہم نے دیکھا نہیں ہے،
ہاں --- ہمارے پیارے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نےدیکھا
ہم نے نہیں دیکھا۔۔ ہم تو ایمان رکھتے ہیں۔۔
دیکھا نہیں ہے۔۔ اندھے ہیں۔۔
تو اللہ ہماری سمجھ سے قریب کرنےکےلیئےبات کو بیان کرتے ہیں۔۔
---
آج کے درس کی آخری آیت۔۔
آیت نمبر اٹھاون:
ترجمہ :
"بےشک اللہ تمہیں حُکم دیتا ہے کہ امانتیں، امانت والوں کےحوالےکردو۔۔۔۔۔"
.
تفسیروں میں اس آیتِ کریمہ کا ایک شانِ نُزول لِکھا ہے:
اصل میں آپ جانتے ہیں کہ زمانۃ جاہلیت میں بھی کعبے کی خِدمت کو بڑا اعزاز سمجھا جاتا تھا۔۔
مشرک بھی، ابو جہل بھی، ابو لہب بھی،
یہ کعبےکی خدمت کو اپنے لیئے بہت بڑی عزّت سمجھتے تھے،کہ
"مَیں کعبےکی خدمت کرنےوالاہوں"
"مَیں نے حاجِیوں کوپانی پِلایا"
اور "مَیں کعبے کا چوکیدار ہوں" اور "مَیں کعبےکی صفائی کرتاہوں"
مشرک بھی یہ سمجھتے تھے اور آج ہم مسلمان ہوکر مسجد کی خدمت کرنےکواپنےلیئےعیب سمجھتےہیں۔۔
"خادِم کرےصفائی۔۔مَیں کیوں کروں؟"
]جبکہ ،اللہ کے گھر کی صفائی کرنا، اللہ کےگھر میں جھاڑو دینا،
یہ ذلّت کی بات نہیں ہے، عزّت کی بات ہے۔۔ نصیبےکی بات ہے،
خادِم تو تنخواہ لے کر کرتا ہے، ہم کرینگے اللہ کی رضا کے لیئے،
اللہ کے گھر میں جھاڑو دینگے،اللہ کے گھر کی صفائی کرینگے۔
جو حقیقتاً اللہ کی رضا کے لیئے ، اللہ کے گھر کا خادِم بن جائے،تو اِس سے بڑا مقام کوئی نہیں ہے،
جسے بادشاہوں کےبادشاہ کے دربار میں صفائی کا موقع ملے، کیوں نہ اپنی قسمت پر ناز کرے۔۔
بعض ایسے حضرات کے واقعات پڑھنے میں آتے ہیں جنہیں ، کعبہ یا روضۃ اقدس میں داخل ہونے کاموقع مِلا
تو اُنہوں نے اپنی ڈاڑھی سے، اپنے چہرے سے وہاں کی صفائی کرنی شروع کردی
کہ پتہ نہیں یہ موقع پھر دوبارہ ملے گا یا نہیں ملےگا؟[
.
تو زمانۃ جاہلیت میں بھی کعبےکی خدمت کو باعثِ عزّت سمجھاجاتاتھا
اور انہوں نے آپس میں مختلف خدمتیں تقسیم کر رکھی تھیں،
عثمان بن طلحہ تھے ایک صاحب،اُنکے ذمّے یہ تھا کہ وہ کعبے کا دروازہ کھولتےتھے،
کلید بردار تھے،کعبےکی چابی اُنکےپاس تھی،
تومختلف اوقات میں لوگوں کے لیئے کعبے کا دروازہ کھولا کرتے تھے،
اور کہتے ہیں کہ عام طور پر پِیر اور جمعرات کو کعبے کا دروازہ کھولاجاتاتھا،
۔۔۔ ہجرت سے پہلےایک دفعہ نبئ کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم نے کعبےمیں داخل ہونا چاہا،
تو عثمان بن طلحہ نے بڑے سخت الفاظ کہہ کر آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم کو اندر داخل ہونے نہیں دِیا۔
عثمان کو پتہ ہی نہیں تھا کہ مَیں اپنے آقا کو محروم کررہا ہوں
پتہ ہی نہیں تھا کہ مَیں کعبےکےمحافظ کو محروم کررہاہوں،
حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا۔۔ کہ عثمان ایک دن آئیگا کہ کعبے کی کنجی،
کعبے کی چابی میرے ہاتھ میں ہوگی،پھر مَیں جسےچاہونگا،دونگا۔۔
[ حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم نے پیشنگوئی فرمائی]،
بےبسی کا دَور ہے،بےچارگی کا دَور ہے،گُمنامی کا دَور ہے،
کوئی جانتا ہی نہیں ہے، کوئی مانتا ہی نہیں ہے،
اور آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم فرما رہے ہیں کہ عثمان ایک دن آئیگا،یہ چابی میرے ہاتھ میں ہوگی،
پھر جسے چاہونگا،دونگا
۔۔عثمان نے کہا، اگر ایسا وقت آیا تو وہ وقت قریش کی ہلاکت اور ذلّت کا وقت ہوگا،
حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا، نہیں عثمان وہ وقت قریش کی آبادی اور عزّت کا وقت ہوگا۔
اُس دن قریش کو عزت ملےگی اور قریش آباد ہونگے۔۔
پھرایسا ہوا۔۔
حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لے گئے ،
پھر مکہ فتح ہوا، مکّہ آئے واپس اور عثمان سے چابی لی
اور حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کعبے میں داخل ہوئے،
نماز ادا کی، کعبےسےباہرنکلے ۔۔۔ تو کئی اُمیدوار ہیں۔۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ اُمید رکھتے ہیں
اور دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین اُمید رکھتےہیں۔
کہ چابی مجھے دےدی جائے، مَیں کعبے کا دربان بن جاوَں،
لیکن حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم نے پوچھا،
"عثمان بن طلحہ کہاں ہیں؟"
حاضر ہوئے۔۔ حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا۔۔ عثمان لو چابی، اسلیئے کہ میرے اللہ نے کہا،
"امانت ، امانت والوں کے حوالے کردو"
آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم رکھ سکتےتھے چابی۔۔
آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم فاتح تھے مکّہ کے،
بڑے بڑے سردار سر جُھکائے کھڑے تھے
لیکن حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا
"نہیں ہم خیانت کرنے والے نہیں ہیں۔۔ ہم امانت کا خیال کرنے والے ہیں۔۔ "
میرا اللہ کہتا ہے:
"بےشک اللہ تمہیں حُکم دیتا ہے کہ امانتیں، امانت والوں کےحوالےکردو۔۔۔۔۔"
۔۔
عثمان نے چابی لی اور ساتھ ہی کلمہ پڑھا۔۔
لا الہ الّا اللہ ، محمّد الرّسولُ اللہ
۔۔۔
یہ تو ہے اس آیتِ کریمہ کا شانِ نزول
لیکن یاد رکھیں ، کوئی آیت بھی اپنےشانِ نزول کےساتھ خاص نہیں ہے،
بلکہ اُسکا مفہوم عام ہوتا ہے،اسی لیئے اللہ نے یہاں ، "امانت" نہیں کہا "امانات" کہا۔۔
جمع کا صیغہ ہے، امانات۔۔
"بےشک اللہ تمہیں حُکم دیتا ہے کہ امانتیں، امانت والوں کےحوالےکردو۔۔۔۔۔"
{امانت میں خیانت نہ کرو۔۔
"معارف القرآن" اُٹھا کر دیکھ لیجیئے ، "مفتئ اعظم پاکستان" ، حضرت مفتی محمّد شفیع صاحب ، نَوَّرَ اللہ مرقدہ نے
اس آیت کے مفہوم کو بڑا وسیع کِیا ہے کہ ساری امانتوں کا لحاظ کرنا ضروری ہےاور امانت میں بہت ساری چیزیں آتی ہیں،
یہ ہمارا جسم، یہ اللہ کی امانت ہے ، یہ ہمارا نہیں ہے
یہ آنکھیں ، اللہ کی امانت ہیں
یہ کان، اللہ کی امانت ہیں
یہ زبان ، اللہ کی امانت ہے
۔۔ ہم میں سےجو آنکھوں کو بد نظری کے لیئے استعمال کر رہے ہیں، امانت میں خیانت کررہےہیں
ہم جو روزمرّہ کے معمولات میں، روانی سے جھوٹ بولتے ہیں، غیبت کرتے ہیں ہم جان لیں کہ ہم اللہ کی امانت میں خیانت کررہےہیں
وہ ہاتھ جو ظلم کےلیئےاستعمال ہورہےہیں ، ان ہاتھوں میں خیانت ہورہی ہے۔۔
اب دیکھیئے، اس جسم کو اگر اللہ کی مرضی کے مطابق ٹکڑے ٹکڑے کروادے تو شہادت کا مقام ملتا ہے
اور اگر اس امانت میں خیانت کرتے ہوئے خود کُشی کرلے ، تو جہنّم کا ایندھن بنتا ہے۔۔
خودکشی حرام ہے۔۔ اللہ کی امانت اللہ کی مرضی کے مطابق استعمال کرلے تو شہادت کا مقام،
اور اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرے۔۔
[گلےپرچُھری پھیرلی،زہر کھا لِیا، اپنے آپکو بلندی سے گِرا لِیا،]
امانت میں خیانت کی ہے اور جو جس طریقےسےخودکشی کرےگا،
اسے قیامت کے دن بار بار اُسی طریقےسے عذاب دِیا جائیگا،
ہر مسلمان جانتا ہے کہ خود کشی حرام ہے،
اور جانتا ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیئے،
آپ دیکھیں اسی لیئے ، پوری دنیا میں خود کشی کا تناسب مسلمانوں میں سب سے کم ہے۔۔ غربت کے باوجود۔۔۔
کئی ایسے غریب ہیں ہم جانتے ہیں ، جنکے پاس سر چُھپانےکےلیئےجھونپڑا تک نہیں ہے،
دو وقت کی ڈھنگ کی روٹی نہیں پکتی۔۔ کِتنوں کے ہاں سالن ہی نہیں پکتا۔۔
بُھوک ہے لیکن خودکشی نہیں،
بیماری ہے۔۔ خودکشی نہیں،
بےروزگاری ہے۔۔ خودکشی نہیں،
-- ہے ۔۔ مگر اُتنی نہیں جتنی مغرب کے خوشحال مُلکوں میں ہے۔۔
معلومات کےبطابق سب سے خوشحال مُلک سُویڈن ہے، جہاں ہر شہری کو ہر سہولت حاصل ہے
علاج مفت، تعلیم مفت، سہولتیں ساری،
لیکن دنیا میں سب سے زیادہ خودکشی سُویڈن میں ہوتی ہے۔
اللہ اکبر--
معلوم ہوا اِس خودکشی کا تعلّق غریبی اور خوشحالی سے نہیں ہے۔۔۔
ایمان اور کُفر سےہے،
جسکےاندر ایمان ہو وہ کبھی خودکشی نہیں کرتا،خاص طور پر تو اللہ کا ذِکر کرنےوالا ہو،کبھی خودکشی نہیں کرتا،پریشانیوں کےبادل برستے ہیں، مصیبتوں کی آندھیاں چلتی ہیں،حوادث کے طُوفان آتے ہیں، گِھر جاتا ہے ہر طرف سے مصیبتیں ہی مصیبتیں، لیکن پھر بھی خودکشی نہیں کرتا،
"یا اللہ تُو رحم فرمادے، اللہ تُو کرم فرمادے"
.
خودکشی وہ کرتا ہے،جو یہ سمجھتا ہے کہ میرا تو اب کوئی نہیں۔
اور مسلمان ہر وقت سمجھتا ہے کہ میرا اللہ تو ہے۔
جب تک یہ احساس اور یقین رہتا ہے،مسلمان خودکشی نہیں کرتا،
---
تو یہ جسم اللہ کی امانت ہے، خدارا دِل میں اُتار لیجیئے۔۔ یہ جسم اللہ کی امانت ہے
آنکھوں سے خیانت نہ کریں۔۔
زبان سے خیانت نہ کریں۔۔
کانوں سے خیانت نہ کریں۔۔
ہاتھوں سے، پَیروں سے خیانت نہ کریں۔۔
یہ اللہ کی امانت ہے۔ جو اِسے اللہ کی نافرمانی کے لیئے استعمال کرتا ہے وہ اللہ کی امانت میں خیانت کرتا ہے۔
مال بھی اللہ کی امانت ہے، مسلمان کی سوچ یہ ہے کہ مال میرا نہیں.. اللہ کا ہے،
اللہ بھی بار بار قرآن میں یہی کہتا ہے:
"ہم نے دِیا"
.
اور یہ جو سوچ ہے کہ مال میرا ہے، میں نے اپنی ذہانت سے، اپنے عِلم سے کمایا،
یہ مومن کی سوچ نہیں ہے، کافر کی سوچ ہے۔
یہ قارون کی سوچ ہے۔۔ سورۃ القصص میں ہے،حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے قارون کو سمجھایا:
"تم بھی[اللہ کے بندوں کے ساتھ] احسان کرو جیسا اللہ نے تمہارے ساتھ احسان کِیا ہے"
تو قارون نے کہا:
یہ مال مجھے اللہ نے نہیں دِیا، میرے عِلم اور ذہانت کی وجہ سے مجھے مِلا ہے۔
یہ قارون کی سوچ ہے
جو شخص مال کو اللہ کی مرضی کے مطابق استعمال کرتا ہے،وہ امانت کا حق ادا کرتاہے،
اور جو حرام میں استعمال کرتا ہے، فضول خرچی کرتا ہے،نمود و نمائش کے لیئے استعمال کرتا ہے
وہ اللہ کی امانت میں خیانت کرتا ہے۔۔
چند مسلمان ہیں , واقعی جنکا مال اللہ کی رضا کے لیئے استعمال ہورہا ہے۔
وگرنہ اکثریت وہ ہے۔۔ پچانوے فیصد ، ننانوے فیصد مسلمان وہ ہیں
جنکا مال اللہ کی رضا کے خلاف استعمال ہورہاہے، نمود و نمائش، دکھاوا، اسراف ، فضول خرچی
حرام کے کام، گناہ کے کام--
--
اور ہاں، یہ اولاد بھی اللہ کی امانت ہے،اللہ جسے چاہتا ہے،دیتا ہے،جسے چاہتا ہے،نہیں دیتا۔۔
حضرت اُمّ سُلَیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بیٹا فوت ہوگیا۔۔
شوہر سفر سے واپس آئے، وہ چاہتی تھیں کہ سفر کی تھکن ہے انکو جلدی پریشان نہ کروں،شوہر کی تکلیف اور تھکاوٹ کا احساس کرتے ہوئے،ظاہر ہی نہیں کِیا کہ بیٹا فوت ہوگیا ہے،صبح ہوئی،توشوہرسےکہنےلگیں کہ اگر کسی شخص نے ہمارےپاس امانت رکھوائی ہوئی ہو اور وہ امانت واپس مانگے،تو ہمیں واپس کردینی چاہیئے یا منع کردینا چاہیئے؟
{یہ تمہید باندھی} ۔۔
انہوں نے کہا، منع کیوں کرنا ہے؟ ہم کوئی خیانت کرنےوالےتھوڑےہی ہیں۔۔
جسکی امانت ہے اسکو واپس کردینگے جب وہ مانگےگا،
توکہنےلگیں کہ دیکھو وہ بیٹا اللہ کی امانت تھا، اللہ نےاپنی امانت واپس مانگ لی،
وہ تو انتقال کرچکا، اللہ اپنی امانت واپس لےچُکا،مَیں نے بتایا اسلیئے نہیں تاکہ تم پریشان نہ ہوجاوَ،
اُنہیں بڑا غُصّہ بھی آیا کہ پُوری رات ایسے گُزر گئی، میرا بیٹا فوت ہوگیا تم نے مجھے بتایا نہیں؟
گئے نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلّم کی خدمت میں۔۔
حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا،
ابو طلحہ ۔۔ مبارک ہو، اللہ نے تمہیں سمجھدار بیوی عطا کی ہے، مبارک ہو{اللہ اسمیں برکت دےگا} ۔۔
اور اللہ نے ایسی برکت دی کہ ابو طلحہ کے بیٹے، حضرت عبداللہ، -- اللہ نے اُنکو نَو بیٹے دیئے، نَو کے نَو قرآن کے خادم اور حافظ،
۔۔تو اولاد بھی اللہ کی امانت، اس امانت میں بھی خیانت کرنا جائز نہیں ہے۔
جولوگ اپنے بچوں کی غلط تربیت کرتےہیں یا اپنے بچوں کو تباہ ہوتے دیکھتےہیں،مگر روک ٹوک نہیں کرتے،
اولاد اللہ کے حُکموں کو توڑ رہی ہے،مگر روک ٹوک نہیں کرتے،وہ امانت میں خیانت کے مرتکب ہورہےہیں،
اللہ کہتا ہے:
"اےلوگو اپنے آپکو بھی دوزخ کی آگ سے بچاوَ ، اور اپنے اہل و عیال کو بھی دوزخ کی آگ سے بچاوَ "
۔۔۔
کسی کو اللہ پاک عہدہ اور منصب عطا کردے،یہ بھی امانت ہے، اِس امانت میں بھی خیانت جائز نہیں ہے،
عالِم کے پاس عِلم ، امانت ہے
دولت مند کے پاس دولت، امانت ہے
والدین کے پاس اولاد امانت ہے
حکمرانوں کےپاس اقتدار امانت ہے
یہ جوانی امانت ہے، یہ زندگی امانت ہے،
یہ آنکھیں،یہ زبان ، یہ ہاتھ، یہ پاوَں،یہ امانت ہے
یہ دماغی اور ذہنی صلاحیت، یہ امانت ہے
اور اللہ کہتا ہے:
"مَیں قیامت کےدِن پوچھونگا ،
مَیں نے کان دِیئے تھے، کہاں استعمال کِیئے؟
آنکھیں دی تھیں، کہاں استعمال کِیں؟
دِل دماغ دِیا تھا، کہاں استعمال کِیا؟"
---
اور سب سے بڑی امانت دِین کی امانت ہے
اللہ پاک نے ہمکو دِین کی امانت دی ہے، قرآن کی امانت دی ہے، شریعت کی امانت دی ہے،
ہم پر لازم ہے، اس امانت کا حق ادا کریں، خود بھی عمل کریں اور دوسروں کو بھی عمل کی دعوت دیں،
اور ہمارے آقا حضرت محمد صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا:
"جسکےاندر امانت کی صِفت نہیں، اُسکے ایمان کا اعتبار نہیں اور
جِسکےاندر ایفائے عہد کی صفت نہیں،اُسکے دِین کا اعتبار نہیں"
.
آج اس معاشرے میں، سَو میں سے کوئی ایک مِل جائے تو بڑی بات ہے جو امانتدار ہو۔۔ باقی خیانت ہی خیانت--
مال ہمارا خُدا بن گیا
مال کی خاطر خیانت۔۔ دو پیسےکےلیئےایمان بیچ دیتے ہیں۔
.
آئیے عہد کرتے ہیں کہ منافقوں والی جو چار بڑی علامتیں ہیں، آج ہم اُن سے توبہ کر ہی لیں۔۔۔
اللہ پاک ہمارے دل میں یہ خیال ڈالدے آمین۔
عملی منافق کی چار بڑی علامتیں:
اللہ کے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا
منافق جب بات کرتا ہے جھوٹ بولتا ہے
جب وعدہ کرتا ہے وعدہ خلافی کرتا ہے
اور امانت رکھی جائے تو امانت میں خیانت کرتا ہے
اور ذرا سا جھگڑا ہوجائے تو گالی گلوچ پر اُتر آتا ہے
۔۔
آئیں آج بیٹھے بیٹھے اپنے اپنے دِل میں عزم کرلیں، اپنے اللہ سے وعدہ کرلیں کہ
اے اللہ مَیں اپنی باقی زندگی میں چاروں علامتوں سے بچُونگا
جھوٹ نہیں بولونگا -- انشاءاللہ
امانت میں خیانت نہیں کرونگا -- انشاءاللہ
وعدہ خلافی نہیں کرونگا -- انشاءاللہ
اور گالی گلوچ سےزبان کو گندا نہیں کرونگا
تو اِس آیت نمبر اٹھاون میں فرمایا:
ترجمہ:
"بےشک اللہ تمہیں حُکم دیتا ہے کہ امانتیں، امانت والوں کےحوالےکردو۔۔۔اور جب تُم، لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کےساتھ فیصلہ کرو۔۔"
.
مَیں کِیا بتاوَں آپکو کہ اللہ نے اور اللہ کے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نے عدل کی کتنی اہمیت بیان کی ہے
اللہ حُکم دیتا ہے:
"جب بات کرو تو عدل کی بات کرو"
اور اللہ کہتا ہے:
"عدل کرو، عدل کرنےوالے اللہ کے محبوب ہوتے ہیں"
اور اللہ کے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم فرماتے ہیں:
قیامت کے دِن انسانوں میں سے
سب سے زیادہ اللہ کا محبوب اور اللہ کے قریب "اِمامِ عادل" ہوگا۔۔ عدل کرنے والا اِمام۔۔
اور سب سے زیادہ اللہ سے دُور اور اللہ کی نظر میں قابلِ نفرت "ظالم بادشاہ" ہوگا-
--
ایک طرف میرے رب کی یہ آیات اور پیارے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کی یہ احادیث۔۔
اور دوسری طرف پُورا عالَمِ اسلام۔۔۔ کم و بیش چھپّن اسلامی ممالک۔۔
ایسا لگتا ہے پُورے عالمِ اسلام پر ظالموں کی حکمرانی ہے۔
ایسے ظالِم کہ امریکیوں کے سامنے تو بھیڑ بنتے ہیں اور اپنے مسلمان شہریوں کے لیئے بھیڑیئے۔
خوفناک قِسم کے بھیڑیئے۔۔ ظالم حکمران مُسلّط ہیں۔
لیکن ساتھ یہ بھی کہہ دوں کہ یہ نتیجہ ہےہمارےاعمال کا
ہم بھی تو ظالم ہیں،ہم میں سے کوئی بھی ظلم سے چُوکتا نہیں ہے،
جہاں اُسکا داوَ چلتا ہے، ظلم سے باز نہیں آتا،
ہم میں سے بھی تو ہر ایک ظالم بنا ہوا ہے،
کوئی اپنے دفتر میں ، کوئی اپنی فیکٹری میں،
کوئی اپنی دکان میں، کوئی اپنے گھر میں، ۔۔۔
اگر ہم عدل کرنے والے بن جائیں تو اللہ پاک ہمیں عادل حکمران عطا فرمادیں،
تو فرمایا کہ:
ترجمہ:
"بےشک اللہ تمہیں حُکم دیتا ہے کہ امانتیں، امانت والوں کےحوالےکردو۔۔۔اور جب تُم، لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کےساتھ فیصلہ کرو۔۔ بےشک بہت ہی اچھی بات ہے جسکی نصیحت تمہیں اللہ کرتا ہے، بےشک اللہ پاک سُننے والا ہے، دیکھنے والا ہے"
---
وَاٰخِرُ دعوانا عَنِ الحمدللہِ ربّ العٰلمین