"چار دُعائیں"
--
کسی زمانے میں ایک تاجر تھا،روزانہ اسکا یہ معمول تھا کہ رات کو وہ اور اسکے احباب جمع ہوا کرتے،کھاتے پیتے اور دیر تک مشغول رہتے، شراب نوشی گانا بجانا بھی ہوتا تھا ، رتجگہ کر کے سوجاتے۔
وہ زمانہ غلام ، باندیوں کا تھا، ایک دن معمول کے مطابق وہ تاجر اپنے گھر پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ جمع تھا، کھانا تیار ہونے میں دیر تھی، اس نے سوچا کہ پِستے بادام منگوالیتا ہوں،کچھ دیر یہ کھائینگے اتنی دیر میں کھانا تیار ہوجائیگا۔ اس نے اپنے غلام کو چار درہم دےکر بازار سے بادام پستے لانے کو کہا، اس تاجر کی رہائش اور بازار کے درمیان راستے میں حضرت عمّار رحمت اللہ علیہ کی مجلس ہوتی تھی، اور وہ اُس زمانے کے بزرگ، اللہ والے تھے۔ وہ غلام اشتیاق سے انکا بیان سُننے کھڑا ہوگیا، اس نے دیکھا کہ، نہ بیان ہو رہا ہے، نہ وعظ ہورہا ہے، البتہ ایک فقیر کھڑا ہوا ہے اور چار درہم مانگ رہا ہے، حضرت عمّار رحمت اللہ علیہ نے فرمایا کہ "میرے پاس تو دینے کو کچھ نہیں" البتہ حضرت نے اعلان کیا کہ، "حاضرین میں سے جو شخص اسکو چار درہم دےدے، میں اسکے لئیے چار دعائیں کردوںگا" تو اللہ تعالیٰ نے اس غلام کے دل میں ڈالا کہ اس سے اچھا موقع کیا آئیگا، اس نے لمحہ بھر کی دیر کئیے بغیر یہ نیکی کمالی، اور حضرت کے سامنے بیٹھ گیا، حضرت نے دریافت فرمایا کہ، "پہلی دعا کیا کروں؟"
غلام بڑا سمجھدار تھا اس نے پہلی دعا یہ کروائی کہ،
"اللہ تعالیٰ مجھے ان چار درہموں کا نعم البدل عطا فرمادے"
دوسری دعا؟ : "میں غلام ہوں ، اللہ تعالیٰ مجھے آزادی کی نعمت عطا فرمادے"
تیسری دعا؟ : " اللہ تعالیٰ میرے آقا کو، اور اسکے یار دوستوں کو توبہ کی توفیق دےدے"
چوتھی دعا؟ : " اللہ تعالیٰ میری، آپکی، حاضرین کی، میرے آقا کی، انکے ساتھیوں کی گھر والوں کی، سبکی بخشش فرمادے"
---
حضرت سے دعائیں کروا کے وہ غلام خالی ہاتھ واپس تاجر کی رہائش کی طرف لَوٹا۔
چونکہ اس سارے واقعے میں کافی وقت گزر چکا تھا، تو اُدھر آقا بے چینی سے دروازے پر کھڑا اسکا انتظار کر رہا تھا ، دُور سے جب دیکھا کہ غلام آرہا ہے، اور آ بھی خالی ہاتھ رہا ہے تو اسے بڑا غصہ آیا، جب غلام نے دیکھا کہ آقا کا مزاج بدلا ہوا ہے، تو وہ دور ہی سے بولا،
"آپ غصہ نہ کیجئیے،پہلے پورا ماجرہ سُن لیجئیے پھر میرے ساتھ جو چاہے کیجئیے۔"
تو اتنی بات کہنے سے آقا کا غصہ ٹھندا ہوگیا،اس نے قریب پہنچ کے سلام کیا، اور ماجرہ کہہ سُنایا کہ میں یوں چار درہم دے کر چار دعائیں لے کر آرہا ہوں،
چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں حضرت عمّار رحمت اللہ علیہ کی دعا قبول ہوچکی تھی،اور آقا کا دل اندر سے بدل چکا تھا،اسلئیے بجائے غصہ کرنے کے ، اس نے کہا،
"جلدی بتاوَ تم کون کونسی دعائیں کروا کر لائے ہو"
پہلی دعا کا مضمون سنکر اسکے آقا نے کہا، "جا میرے خزانے میں سے چار ہزار اشرفیاں لےلے"
دوسری دعا کا مضمون سنکر اسکے آقا نے کہا، " جا میں نے اللہ کے لئیے تجھ کو آزاد کیا"
تیسری دعا ؟ : " اللہ تعالیٰ آپکو، آپکے ساتھیوں کو توبہ کی توفیق دےدے"
تو اس تاجر نے کہا، " تُو گواہ رہ، میں نے توبہ کرلی۔"
اور اندر جا کر اپنے دوستوں سے کہا کہ، "یاروں میں نے تو توبہ کرلی ہے، اب دیکھ لو تم بھی اگر توبہ کرلو تو ہماری تمہاری دوستی باقی رہیگی، نہیں تو تم اپنے راستے، میں اپنے راستے۔۔ وہ بھی اس کے مخلص دوست تھے، سب نے توبہ کرلی، گانے بجانے کے آلات توڑ ڈالے، شراب کی بوتلیں بہا دیں، اور سچی توبہ کرلی۔
اسکے بعد آقا نے چوتھی دعا کے متعلق دریافت کیا۔۔۔۔ اور جواب سنکر کہا کہ یہ میرے اختیار میں نہیں ہے۔ یہ توخاص اللہ تعالیٰ کے ہی اختیار میں ہے۔ جتنا میرے اختیار میں تھا میں نے کِیا۔ لیکن یہ میرے اختیار میں نہیں۔۔۔
---
اُسی رات اس تاجر کو خواب میں اللہ پاک کی زیارت ہوئی، کہ وہ فرما رہے ہیں،
"تُو نے وہ کام کرلیا جو تیرے اختیار میں تھا، تو کیا ہم وہ کام نہیں کرینگے جو ہمارے اختیار میں ہے ، میں نے حضرت عمّار کی بھی، انکے حاضرین کی بھی، تیرے غلام کی بھی، تیری بھی ، تیرے یار دوستوں کی بھی سبکی بخشش کردی"
ماخوذ از:
"دعا -- ذکر بھی اور عبادت بھی" ۔۔
بیان ، مفتی عبدالرّوَف سکھروی
--
http://darsequran.com/weeklyvoice/weeklyvoice.php
--
ضرور سُنئیے، بس پینتالیس منٹ کی بات ہے۔