.
.
..اور آیت نمبر 80 ، 81 کی تفسیر بیان کرتے ہوئے، "مولانا محمد اسلم شیخوپوری شہید" نے فرمایا : اصل بات یہ ہے
کہ جس شخص کو گندگی کا چسکا لگ جائے ، اُسے پھر پاکیزگی کی طرف کوئی رغبت نہیں رہتی -- اللہ ہمیں اس سے بچائے آمین
خباثت سے ، گندگی سے، حرام سے ، گناہ سے ، معصیت سے اللہ پاک بچائے
ورنہ جنکو گندگی کا ، خباثت کا ، غلاظت کا چسکا لگ جائے ۔۔ اُنکو
حلال میں ، طہارت میں ، پاکیزگی میں لذّت ہی محسوس نہیں ہوتی
--
اور اللہ کے ایسے خوش نصیب بندے بھی ہیں کہ اللہ پاک اُنکو حلال کا چسکا عطا فرمادیتے ہیں ، حلال کی لذّت عطا فرمادیتے ہیں ، تو حرام کی طرف اُنہیں کوئی رغبت نہیں ہوتی، یاد رکھیں کہ جو شخص کسی گندگی یا گناہ میں مبتلا ہوتا ہے ، تو اللہ پاک اُسے ، اُس سے مِلتی جُلتی نعمت سے محروم کردیتا ہے ۔
---
اور اسی متعلق ایک واقعہ کے ذیل میں فرمایا : ہم تو عجیب لوگ ہیں ، عجیب بیمار ہیں ، جو دوا پیتے ہیں مگر دوا اثر نہیں کرتی ، نماز تو دوا ہے، بہترین ٹانِک ہے ، اور یہ ایسی دوا ہے کہ اللہ نے اِسکے فائدے بتائے ہیں ، اللہ نے اِکِیسویں پارے کے آغاز میں فرمایا :
ان الصلوٰة تنھٰی عن الفحشاء والمنکر
مفہوم : "مَیں اللہ کہتا ہُوں ، نماز اگر واقعی نماز ہو تو بے حیائی سے روک دیتی ہے ، گناہ سے روک دیتی ہے"
جو پانچ وقت اللہ کے سامنے حاضر ہوکر عہد و پیماں کریگا ،
"مَیں تیرا ہُوں ، تُو میرا ہے "
وہ کیسے اُسکی نافرمانی کرسکتا ہے ؟
جو پانچ وقت سینکڑوں بار کہے گا
"اللہ اکبر ، اللہ اکبر"
اللہ سب سے بڑا
اللہ سب سے بڑا
اللہ سب سے بڑا
تو وہ کیسے نفس کی غلامی کرسکتا ہے؟
تو اللہ ہمیں بھی ویسی نماز نصیب کردے
آمین