"سورہ الفجر"
والفجر کی تفسیر میں علماء نے لکھا ہے کہ فجر کی قَسم کھانے سے یہ مراد ہے اس بات کی کہ اللہ تعالیٰ کو صبح کا وقت بہت پسندیدہ ہے۔
ان قرآن الفجر کان مشھودا
[الاسراء ۔ 78]
اللہ نے فرمایا فجر کے وقت قرآن پڑھنا اللہ کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں
اللہ چاہتے ہیں کہ میرے بندے اس وقت قرآن پڑھیں
امام شافعی رحمت اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ اللہ کو قرآن سنانے کا بہترین وقت ، وہ ہے جب فجر ہورہی ہو، تہجد کا وقت ہوچکا ہو، فجر کا وقت داخل ہونا چاہتا ہو ۔۔ اُس موقع پر جو قرآن سنائےگا ، اللہ کے عرش تک آواز پہنچ جاتی ہے۔
اللہ نے فجر کی قَسم کھائی ہے، اسلئے فجر کی نماز ضایع نہ ہو۔
پھر کہتے ہیں پریشانیاں ہیں
حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم نے ارشاد فرمایا:
"اے اللہ میری اُمّت کے صبح کے وقت میں برکت دے دینا"
--
اور ہماری فجر کی جماعت میں بڑی کوتاہی ہے، سچی بات ہے
--
حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم کے پاس ایک نابینا صحابی نے آکر عرض کیا ۔۔ اے اللہ کے نبی کیا مَیں نماز کی جماعت چھوڑ سکتا ہوں؟
حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا "ہاں کوئی لانے والا نہ ہو تو چھوڑ دیا کر"
پھر جب مسجد کے دروازے پہ پہنچے تو فرمایا ، دوبارہ بلاوَ اُسے ۔۔
اور دریافت فرمایا : "تجھے اذان کی آواز آتی ہے؟"
عرض کیا، ہاں
تو فرمایا، "اگرچہ اندھا ہے، لیکن مجھے اپنے اللہ سے شرم آتی ہے کہ اذان کی آواز سن کر بھی تُو مسجد میں حاضر نہ ہو"
--
بیان کا عنوان : "عشرہَ ذوالحجہ کے قیمتی ایام"
بتاریخ : 8 نومبر 2009