Welcome Guest! To enable all features please try to register or login.
3 Pages<123
Tips For Beginning To Wear Hijab
Hina_Khan Offline
#41 Posted : Sunday, May 02, 2010 9:01:35 PM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 3/21/2010(UTC)
Posts: 1,103
Points: 2,348
Location: newyork

Thanks: 8 times
Was thanked: 1 time(s) in 1 post(s)
Welcome to Ahliya on this thread. Ameen
umme huzaifa Offline
#42 Posted : Monday, May 03, 2010 1:52:01 AM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member, Moderators
Joined: 1/19/2010(UTC)
Posts: 1,308
Points: -2,092
Location: saudia arabia

Thanks: 1 times
Was thanked: 18 time(s) in 14 post(s)
salam to all
ustani jii nice post .....Allah apko bhehtreen ajar dai ameen
parda karna aur sharai parda muskil zaroor hai bt na mumkin nai
Allah hum sabko sharai parda karnay ki taufeeq dai ameen
meri shadi hoi tou na koi pic bani na movie aur meray sohar koi aalim nai mager Alhumdulilah unhoo nai mujay pura support kia aur ab alhumdulilah mujh se ziada deen ki illm unhay hai..mai aalima bannay se phehlay sharai parda kar rai hooo AUR Allah ka fazal sai ab tak is pai qaim ho aur dua hai Allah martay dam tak qaim rakay ameen suma ameen
umme huzaifa attached the following image(s):
aurtainizhaarezeenatnakarain.gif (74kb) downloaded 12 time(s).

You cannot view/download attachments. Try and register.
Hina_Khan Offline
#43 Posted : Monday, May 03, 2010 5:18:16 PM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 3/21/2010(UTC)
Posts: 1,103
Points: 2,348
Location: newyork

Thanks: 8 times
Was thanked: 1 time(s) in 1 post(s)
Ameen
umme huzaifa Offline
#44 Posted : Saturday, May 08, 2010 3:28:08 AM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member, Moderators
Joined: 1/19/2010(UTC)
Posts: 1,308
Points: -2,092
Location: saudia arabia

Thanks: 1 times
Was thanked: 18 time(s) in 14 post(s)
umme huzaifa attached the following image(s):
bepardamatphiro.gif (94kb) downloaded 10 time(s).

You cannot view/download attachments. Try and register.
Hina_Khan Offline
#45 Posted : Wednesday, May 19, 2010 12:06:19 AM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 3/21/2010(UTC)
Posts: 1,103
Points: 2,348
Location: newyork

Thanks: 8 times
Was thanked: 1 time(s) in 1 post(s)

چہرے كا پردہ كرنے كے متعلق ايك اشكال

الحمد للہ:

اول:

حق كو جاننے اور اس كى اتباع و پيروى كى حرص ركھنے پر ہم آپ كے مشكور ہيں، اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ ہميں حق كو حق ديكھنے كى توفيق نصيب فرمائے، اور ہميں اس حق پر عمل كرنے كى توفيق دے، اور باطل كو باطل دكھائے، اور اس سے اجتناب كرنے كى توفيق دے.

اس مسئلہ ميں صحيح يہ ہے كہ عورت كے ليے مردوں سے اپنا سارا جسم چھپانا واجب ہے، مزيد تفصيل كے ليے آپ سوال نمبر ( 21134 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

دوم:

آپ يہ كہنا كہ:

" باقى مسلمان عورتوں نے اپنے چہرے نہيں ڈھانپے تھے "

يہ بات صحيح نہيں، بلكہ پورا پردہ كرنے كا حكم تو عام ہے، جونبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اور ا نكى بيٹيوں اور مومن عورتوں سب كے ليے ہے، اس كى دليل اللہ سبحانہ و تعالى كا يہ فرمان ہے:

﴿ اے نبى صلى اللہ عليہ وسلم آپ اپنى بيويوں اور اپنى بيٹيوں اور مومنوں كى عورتوں سے كہہ ديجئے كہ وہ اپنے اوپر اپنى چادر لٹكا ليا كريں، اس سے بہت جلد ا نكى شناخت ہو جايا كريگى پھر وہ ستائى نہ جائينگى، اور اللہ تعالى بخشنے والا مہربان ہے ﴾الاحزاب ( 59 ).

اور دوسرے مقام پر اللہ رب العزت نے اس طرح فرمايا:

﴿ اور آپ مومن عورتوں كو كہہ ديجئے كہ وہ بھى اپنى نگاہيں نيچى ركھيں اور اپنى شرمگاہوں كى حفاظت كريں، اور اپنى زينت كو ظاہر نہ كريں، سوائے اسكے جو ظاہر ہے، اوراپنے گريبانوں پر اپنى اوڑھنياں ڈالے رہيں، اور اپنى آرائش كو كسى كے سامنے ظاہر نہ كريں، سوائے اپنے خاوندوں كے، يا اپنے والد كے، يا اپنے سسر كے، يا اپنے بيٹوں كے، يا اپنے خاوند كے بيٹوں كے، يا اپنے بھائيوں كے، يا اپنے بھتيجوں كے، يا اپنے بھانجوں كے، يا اپنے ميل جول كى عورتوں كے، يا غلاموں كے، يا ايسے نوكر چاكر مردوں كے جو شہوت والے نہ ہوں، يا ايسے بچوں كے جو عورتوں كے پردے كى باتوں سے مطلع نہيں، اور اس طرح زور زور سے پاؤں مار كر نہ چليں كہ انكى پوشيدہ زينت معلوم ہو جائے، اے مسلمانو! تم سب كے سب اللہ كى جانب توبہ كرو، تا كہ تم نجات پا جاؤ ﴾النور ( 31 ).

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ:

" اللہ تعالى پہلى مہاجر عورتوں پر رحمت كرے جب اللہ تعالى نے يہ آيت نازل فرمائى:

﴿ اور وہ اپنى چادريں اپنے گريبانوں پر لٹكا ليا كري ﴾.

تو انہوں نے اپنى چادريں دو حصوں ميں پھاڑ كر تقسيم كر ليں اور انہيں اپنے اوپر اوڑھ ليا "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 4480 ) سنن ابو داود حديث نمبر ( 4102 ).

اور اختمرن كا معنى يہ ہے كہ: انہوں نے اپنے چہرے ڈھانپ ليے، جيسا كہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس كى شرح كى ہے.

ديكھيں: فتح البارى ( 8 / 490 ).

آپ اس كى مزيد تفصيل معلوم كرنے كے ليے سوال نمبر ( 6991 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

اور ام سلمہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ:

" جب يہ آيت:

﴿ وہ اپنى چادريں اپنے اوپر لٹكا ليں ﴾.

نازل ہوئى تو انصار كى عورتيں باہر نكلتى تو اس طرح ہوتى كہ چادروں كى بنا پر ان كے سروں پر كوے ہيں "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 4101 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابو داود ميں اس حديث كو صحيح قرار ديا ہے.

اس طرح مہاجرين اور انصار كى عورتوں نے اس حكم پر عمل كرتے ہوئے اپنے چہرے كا پردہ كيا.

سوم:

رہا مسئلہ منگنى كرنے والے شخص كا اپنى ہونے والى منگيتر كو ديكھنا تو يہ سنت سے ثابت ہے.

جابر بن عبد اللہ رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جب تم ميں سے كوئى شخص كسى عورت كو شادى كا پيغام دے اور اس سے منگى كرے تو اگر اسے ديكھ سكے جو اس سے نكاح كى دعوت دے تو وہ ايسا ضرور كرے "

جابر رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ ميں نے ايك لڑكى سے منگنى كى اور اسے ديكھنے كے ليے چھپتا رہا حتى كہ ميں اس سے وہ كچھ ديكھ ليا جس نے مجھے اس سے نكاح اور شادى كى دعوت دى تو ميں نے اس سے شادى كر لى "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 1783 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابو داود حديث نمبر ( 1832 ) ميں اسے حسن قرار ديا ہے.

اور ابن ماجہ كى روايت ميں ہے كہ جابر رضى اللہ تعالى عنہ اسے ديكھنے كے ليے اس كے باغ ميں چھپے تھے.

يہ حديث اس بات كى دليل ہے كہ صحابہ كرام كى عورتيں اپنے چہرے كا بھى پردہ كيا كرتى تھيں، كيونكہ اگر چہر ننگا ركھنا عورتوں كى عادت ہوتى تو پھر چھپنے كى كوئى ضرورت ہى نہ تھى، كيونكہ اس حالت ميں تو چہر ننگا ہونے كى بنا پر اسے ہر جگہ ديكھ سكتے تھے.

ليكن جب عورتوں كى عادت چہرے كا پردہ كرنا تھى تو اس بنا پر جابر رضى اللہ تعالى عنہ كو چھپنے كى ضرورت پيش آئى، اور يہ تو معلوم ہى ہے كہ اگر عورت كے پاس كوئى نہ ہو تو وہ اپنا چہرہ نہيں ڈھانپتى، اور اسى طرح اگر وہ اپنے گھر يا اپنے كھيت يا باغ ميں ہو تو بھى چہرہ ننگا ركھتى ہے، جيسا كہ اس حديث ميں ہے.

واللہ اعلم .


Hina_Khan Offline
#46 Posted : Wednesday, May 19, 2010 12:37:27 AM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 3/21/2010(UTC)
Posts: 1,103
Points: 2,348
Location: newyork

Thanks: 8 times
Was thanked: 1 time(s) in 1 post(s)

چہرہ ننگا ركھنے كے متعلق حديث

الحمد للہ:

سوال ميں مذكور حديث كو ابو داود نے وليد عن سعيد بن بشير عنا قتادۃ عن خالد بن دريك عن عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كے طريق سے روايت كيا ہے.

وہ بيان كرتى ہيں كہ اسماء بنت ابى بكر رضى اللہ تعالى عنہا رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آئيں تو اسماء نے باريك كپڑے پہن ركھے تھے، چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس سے اعراض كر ليا اور فرمايا:

" اے اسماء جب عورت بالغ ہم جائے اور اسے حيض آنے لگے تو اس كے ليے اس اور اس كے علاوہ ظاہر ہونا صحيح نہيں "

اور انہوں نے اپنے چہرے اور ہاتھوں كى طرف اشارہ كيا.

سنن ابو داود حديث نمبر ( 4104 ) ابو داود رحمہ اللہ كہتے ہيں: يہ خالد بن دريك كى مرسل حديث ہے، كيونكہ اس نے عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كو پايا ہى نہيں.

اور يہ حديث ضعيف ہے، اس سے استدلال كرنا صحيح نہيں، اس كے ضعيف ہونے كے اسباب درج ذيل ہيں:

1 - اس حديث كى سند ميں انقطاع ہے، جيسا كہ امام ابو داود رحمہ اللہ خود اس كى تصريح كرتے ہوئے كہتے ہيں: يہ مرسل ہے؛ خالد بن دريك نے عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كو پايا ہى نہيں.

2 - اس كى سند ميں بشير ازدى، اور كہا جاتا ہے ابو عبد الرحمن البصرى ہے، بعض علماء حديث نے اسے ثقہ قرار ديا ہے، اور امام احمد اور ابن معين اور ابن مدينى اور نسائى اور امام حاكم، اور ابو داود نے اسے ضعيف قرار ديا ہے.

اور اس كے بارہ ميں محمد بن عبد اللہ نمير كہتے ہيں: يہ منكر حديث ہے، اور ليس بشئى، اور ليس بقوى الحديث ہے، اور قتادہ سے منكر احاديث روايت كرتا ہے.

اور ابن حبان رحمہ اللہ اس كے متعلق كہتے ہيں: يہ ردى حفظ اور فاحش الغلط تھا، قتادہ سے وہ احاديث بيان كرتا ہے جس كى متابعت نہيں كى جا سكتى.

اور اس كے متعلق حافظ ابن حجر كہتے ہيں: يہ ضعيف ہے.

3 - اس ميں قتادہ ہے، اور يہ مدلس راوى ہے، اور پھر اس حديث ميں وہ عن سے حديث بيان كر رہا ہے، اسى طرح اس ميں وليد بن مسلم بھى ہے جس كے متعلق حافظ رحمہ اللہ كہتے ہيں: يہ ثقہ ہے، ليكن بہت زيادہ تدليس اور تسويہ كرتا ہے، اور اس نے بھى عن سے روايت بيان كى ہے.

ان علتوں كى بنا پر اس حديث پر ضعيف كا حكم لگايا گيا ہے.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ماخوذ از مجلۃ البحوث الاسلاميۃ ( 21 / 68 ).

اور اگر حديث كو صحيح بھى مان ليا جائے، يا شواہد كى بنا پر اس كو قوى مان ليا جائے تو علماء كرام نے ا سكا جواب يہ ديا ہے كہ: يہ واقعہ پردہ سے قبل كا ہے.

ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں: اور رہى اسماء رضى اللہ تعالى عنہا والى حديث ت واسے پردہ كى آيت سے قبل پر محمول كيا جائيگا ".

اور شيخ محمد بن صالح عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اگر فرض كر ليا جائے كہ يہ حديث صحيح ہے، تو اسے پردہ سے قبل پر محمول كيا جائيگا "

ديكھيں كتاب: عودۃ الحجاب ( 3 / 336 ).

اور اگر ہم حديث كے متن پر غور كريں تو ہم اس ميں انتہائى بعد پائينگى، كيونكہ اسماء رضى اللہ تعالى عنہا ميں تو تقوى ورع اور شرم و حياء اتنى تھى جو انہيں اس طرح كے شفاف اور باريك لباس پہننے ميں مانع ہے، كہ وہ اس لباس ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے سامنے آئيں.

اس مسئلہ ميں صحيح يہى ہے كہ عورت غير محرم اوراجنبى مردوں سے اپنا سارا جسم جس ميں چہرہ بھى شامل ہے چھپائيگى.

آپ مزيد تفصيل كے ليے سوال نمبر ( 21134 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

اور رہا يہ مسئلہ كہ جس معاشرے ميں عورت رہ رہى ہو وہاں پردہ كرنے سے اسے اذيت پہنچے تو اسے اس اذيت پر صبر و تحمل سے كام لينا چاہيے، اور دين پر عمل اور اپنے پروردگار كى اطاعت و فرمانبردارى كرنے كى راہ ميں اسے جو تكليف پہنچے اس ميں وہ اجروثواب كے حصول كى نيت ركھے، اور پھر اس سلسلہ ميں تو ہمارے سلف صالحين رضى اللہ عنہم ہمارے ليے بہترين نمونہ ہيں، كيونكہ انہيں اللہ كى راہ ميں بہت تكليفيں اور اذيتيں دى گئيں، ليكن پھر بھى يہ چيز انہيں دين اسلام سے دور نہ كر سكى، بلكہ ان كے ليے يہ تكليف و اذيت تو دين پر اور زيادہ سختى سے كاربند رہنے اور عمل كرنے كا باعث بنا.

ہو سكتا ہے جن ايام ميں ہم زندگى بسر كر رہے يہ وہى صبر كے ايام ہوں جن كے بارہ ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنے درج ذيل فرمان ميں خبر دى ہے كہ:

" لوگوں پر ايك وقت آئيگا جس ميں اپنے دين پر صبر كرنے والا شخص اس طرح ہو گا جس طرح كسى نے انگارے كو پكڑ ركھا ہو "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 2260 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے السلسلۃ الاحاديث الصحيحۃ حديث نمبر ( 957 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

الجمر دہكتے ہوئے آگ كے انگارے كو كہتے ہيں.

ملا على قارى كہتے ہيں:

" حديث كا معنى يہ ظاہر ہوتا ہے كہ: جس طرح شديد ترين صبر و تحمل اور مشقت اٹھائے بغير انگارہ پكڑنا ممكن نہيں، اسى طرح اس دور ميں اپنے دين اور ايمان كے نور كى صبر عظيم كے بغير حفاظت كرنے كا تصور بھى نہيں كيا جا سكتا " ا ھـ.

ماخوذ از تحفۃ الاحوذى.

اور فيض القدير ميں مناوى رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" يعنى كتاب و سنت كے احكام پر صبر كرنے والے شخص كو بھى بدعتيوں اور گمراہ قسم كے لوگوں سے اتنى ہى تكليف پہنچتى ہے، جتنى كسى شخص كو آگ كا دہكتا ہوا انگارا پكڑنے سے ہو، بلكہ ہو سكتا ہے اس سے بھى زيادہ تكليف پہنچے، اور يہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے معجزات ميں شامل ہوتا ہے جس كے بارہ ميں انہوں نے خبر دى اور يہ ہو بھى چكا ہے " اھـ.

اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ ہميں اللہ تعالى سے ملاقات تك دين حق پر ثابت قدم ركھے.

واللہ اعلم .

umme huzaifa Offline
#47 Posted : Tuesday, June 01, 2010 7:55:57 AM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member, Moderators
Joined: 1/19/2010(UTC)
Posts: 1,308
Points: -2,092
Location: saudia arabia

Thanks: 1 times
Was thanked: 18 time(s) in 14 post(s)

jazakAllah khair hina .... Allah hum sabko amaal ki taufeeq dai n har wo kaam karnay ki taufeeq dai jis mai Allah ki raza aur khusnudi hoo n har us kaam se bachaey jo Allah ki narazgi ka sabab banay ameen suma ameen

 

imbajjo Offline
#48 Posted : Tuesday, June 19, 2012 11:59:40 AM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 10/13/2010(UTC)
Posts: 1,710
Points: 5,160
Woman
Location: kuwait

Thanks: 33 times
Was thanked: 35 time(s) in 28 post(s)

eeya wrote:
Ustani ji bara khod k nikaala hai last page p se aap ka ye itna important thread ab zara is ko abaad rakhne mein bhi madad dein plz

Quick Reply Show Quick Reply
Users browsing this topic
Guest (2)
3 Pages<123
Forum Jump  
You cannot post new topics in this forum.
You cannot reply to topics in this forum.
You cannot delete your posts in this forum.
You cannot edit your posts in this forum.
You cannot create polls in this forum.
You cannot vote in polls in this forum.