Welcome Guest! To enable all features please try to register or login.
6 Pages«<456
دور حاضر کے جدید مسائل اور انکا حل قرآن اور احادیث کی روشنی میں
mannan Offline
#101 Posted : Friday, March 11, 2011 3:18:58 PM(UTC)

Rank: KP Expert

Groups: Member, Moderators
Joined: 1/20/2009(UTC)
Posts: 384
Points: 1,064
Woman
Location: LONDON

Was thanked: 5 time(s) in 5 post(s)
اسلام میں شاتم رسول ﷺکی سزا
اسلام میں شاتم رسول ﷺکی سزا
سوال
محترم مفتی صاحب ! السلام و علیکم ! ائمہ کرام سے اس مسئلہ کے بارے میں فتویٰ حاصل کرنا ہے کہ ”جوشخص بلحاظ اسم مسلمان ہو اور خدا تعالیٰ اور اس کے برگزیدہ پیغمبروں اور نبی آخر الزماں فخر موجودات اور محسن انسانیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہنسی اُڑاتا ہو ان کے بارے میں استہزائیہ انداز اختیار کرتا ہو۔ جو ازواج مطہرات کی شان میں گستاخی اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں نازیبا الفاظ کا استعمال کرتا ہو اورقرآن مجیدکے بارے میں یہ کہتا ہو کہ یہ کوئی تاریخ نہیں فقط ناول ہے ،اور اک دیوانے شخص کا خواب ہے، جسے کہانی کا رنگ دیا گیا ہے تو ایسے شخص یعنی سلمان رشدی ملعون کے لئے علماء کرام کا کیا فتویٰ ہے؟ عام مسلمانوں کے لئے، علماء کرام کے لئے، حکّام وقت اور حکومت وقت کے لئے، ازراہِ کرم بتائیے ایسے مسلمانوں کے لئے کیا حکم ہے جو ایسے گستاخ کو قتل کرنا چاہتے ہوں ،جبکہ وہ ایک غیر اسلامی ملک (برطانیہ یا امریکا) میں موجود ہو۔ کیا اس ملک کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات قائم رکھے جاسکتے ہیں جبکہ وہ ملک اس ملعون کتاب کی اشاعت کی پشت پناہی بھی کررہا ہو۔ اور ایسے ملعون شخص کو اپنے ہاں پناہ بھی دے رکھی ہو۔

جزاک اللہ


سائل : سعید احمد (کراچی)


جواب
صورت مسئولہ میں جو آدمی (کافر ہو یا مسلم )سیّد الاولین وآلاخرین، شفیع المذنبین ، رحمة للعالمین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ہنسی اڑاتا ہے، یا ان کی سیرت و زندگی کے کسی گوشے کے بارے میں استہزائیہ انداز اختیا رکرتاہے، یا ان کی توہین و تنقیص کرتاہے یا ان کی شان میں گستاخی کرتاہے،یا ان کو گالی دیتا ہے، یا ان کی طرف بُری باتوں کو منسوب کرتا ہے یا آپ کی ازواج مطہرات اور امّہات المومنین (رضی الله عنہا) کو بازاری عورت اور طوائفوں کے ساتھ تشبیہ دیتاہے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان میں نازیبا الفاظ استعمال کرتاہے اور قرآن مجید کو ایک دیوانہ اور مجنون آدمی کا خواب بتاتا ہے، یا ایک ناول اور کہانی سے تعبیر کرتاہے تو وہ آدمی سراسر کافر، مرتد، زندیق اور ملحد ہے۔ اگر ایسا آدمی کسی مسلمان ملک میں حرکت کرتاہے تو اس کو قتل کرنا مسلمانوں کی حکومت پر واجب ہے اور مشہور قول کے مطابق اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ اور جو اس کے کفر میں شک کرتاہے وہ بھی کافر ہے اور یہ ائمہ اربعہ کا مسلک ہے اور اس پر امت کا اجماع ہے۔
جیسا کہ شیخ الاسلام امام تقی الدین ابو العباس احمد بن عبد العلیم بن عبد السلام الحرانی الدمشقی المعروف بابن تیمیہ نے اپنی مشہور و معروف کتاب ”الصارم المسلول علی شاتم الرسول“ میں نقل فرمایا کہ:

”ان من سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم من مسلم او کافر فانہ یجب قتلہ ھذا مذھب علیہ عامة اھل العلم ۔قال ابن المنذر: أجمع عوام أھل العلم علی أن حد من سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم، القتل ، وممن قالہ مالک واللیث واحمد واسحق وھو مذھب الشافعی ……وقد حکی ابوبکر الفارسی من اصحاب الشافعی اجماع المسلمین علی ان حد من سب النبی صلی اللہ علیہ وسلم القتل“۔(۱)
ترجمہ : عام اہل علم کا مذہب ہے کہ جو آدمی خواہ مسلمان ہو یا کافر، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دیتا ہے اس کو قتل کرنا واجب ہے۔ ابن منذر نے فرمایا کہ عام اہل علم کا اجماع ہے کہ جو آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دیتا ہے، اس کی حد قتل کرنا ہے اور اسی بات کو امام مالک، امام لیث، امام احمد، امام اسحق نے بھی اختیار فرمایا ہے اور امام شافعی رحمة اللہ علیہ کا بھی یہی مذہب ہے…… اور ابوبکر فارسی نے اصحابِ امام شافعی سے مسلمانوں کا اجماع نقل کیا ہے کہ شاتم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حد قتل ہے۔

”وقال محمد بن سحنون: اجمع العلماء علی ان شاتم النبی صلی اللہ علیہ وسلم والمُتَنَقِّص لہ کافر، والوعید جاء علیہ بعذاب اللہ لہ وحکمہ عند الامة القتل، ومن شک فی کفرہ وعذابہ کفر“۔(۲)
”محمد بن سحنون نے فرمایا کہ علماء کا اجماع ہے کہ شاتم رسول اور آپ کی توہین وتنقیص ِشان کرنے والا کافر ہے اور حدیث میں اس کے لئے سخت سزا کی وعید آئی ہے اور امت مسلمہ کے نزدیک اس کا شرعی حکم ،قتل ہے۔ اور جو آدمی اس شخص کے کفر اور عذاب کے بارے میں شک و شبہ کرے گا وہ بھی کافر ہو گا“۔
مندرجہ بالا عبارات سے یہ بات آفتاب نیم روزکی مانند واضح ہوگئی کہ باجماع امت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینے والا یا ان کی توہین و تنقیص کرنے والا کھلا کافر ہے اور اس کو قتل کرنا واجب ہے۔ اور آخرت میں اس کے لئے دردناک عذاب ہے۔ اور جو آدمی اس کے کافر ہونے اورمستحقِ عذاب ہونے میں شک کرے گا وہ بھی کافر ہوجائے گا۔ کیونکہ اس نے ایک کافر کے کفر میں شبہ کیا ہے۔
علامہ ابن تیمیہ نے”ابن سحنون“سے مزید نقل کیا ہے کہ:

”ان الساب ان کان مسلما فانہ یکفر ویقتل بغیر خلاف وھو مذھب الائمہ الأربعة وغیرھم“۔(۳)
”اگر گالی دینے والا مسلمان ہے تو وہ کافر ہوجائے گا اور بلا اختلاف اس کو قتل کردیا جائے گا۔ اور یہ ائمہ اربعہ وغیرہ کا مذہب ہے۔“
اور امام احمدبن حنبل نے تصریح کی ہے کہ:

”قال احمد بن حنبل: سمعت ابا عبد اللہ یقول :کل من شتم النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم او تنقصہ مسلما کان أوکافرا فعلیہ القتل، وأری أن یقتل و لایستتاب(۴)
”جوآدمی بھی خواہ مسلمان ہو یا کافر اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دیتا ہے یا ان کی توہین و تنقیص کرتاہے اس کو قتل کرنا واجب ہے ۔اور میری رائے یہ ہے کہ اسکو توبہ کرنے کیلئے مہلت نہیں دی جائے گی بلکہ فوراً ہی قتل کردیا جائے گا۔“
”الدرالمختار“ میں ہے:

وفی الاشباہ ولا تصح ردة السکران الا الردة بسب النبی صلی اللہ علیہ وسلم فانہ یقتل ولا یعفی عنہ“۔(۵)
”اشباہ میں ہے کہ (نشہ میں)مست آدمی کی ردّت کا اعتبار نہیں ہے ،البتہ اگر کوئی آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینے کی وجہ سے مرتد ہوجاتاہے تو اس کو قتل کردیا جائے گا اور اُس گناہ کو معاف نہیں کیا جائے گا“۔
امام احمد اور” اشباہ“ کی عبارات سے یہ بات معلوم ہوئی کہ شاتم رسول کے جرم کو معاف نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کو قتل کردیا جائے گا۔
پھر یہ شخص جب مسلسل اس جرم کے ارتکاب میں قائم ہے اور اس پر مصرہے تواس کے واجب القتل ہونے اور اس کی توبہ قبول نہ کرنے کے بارے میں کوئی شک ہی نہیں۔
چنانچہ کتب فقہ میں لکھا ہے کہ جو آدمی ارتداد کی حالت پر بدستور برقرار رہتاہے یا بار بارمرتد ہوتا رہتاہے اس کو فوراً قتل کردیا جائے گا اور اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔
جیسا کہ ”فتاوی شامی “میں ہے:

”وعن ابن عمر وعلی: لا تقبل توبة من تکر رت ردتہ کالزندیق وھو قول مالک واحمد واللیث وعن ابی یوسف لو فعل ذلک مراراً یقتل غیلة“۔ (۶)
”حضرت عبد اللہ بن عمراورحضرت علی رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ متعددبارمرتدہونے والے کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی جیساکہ زندیق کی توبہ قبول نہیں کی جاتی اور یہ امام مالک، احمد اورلیث کا مذہب ہے، امام ابویوسف سے مروی ہے کہ اگر کوئی آدمی مرتد ہونے کا جرم بابار کرے تواسے حیلہ سے بے خبری میں قتل کردیا جائے“۔
اسی طرح”در مختار“ میں ہے:

”وکل مسلم إرتد فتوبتہ مقبولة إلا جماعة من تکررت ردتہ علی ما مر۔والکافر بسب نبی من الانبیاء فانہ یقتل حدا ً ولا تقبل توبتہ مطلقاً“۔ (۷)
”ہر وہ مسلم جو (نعوذ باللہ) مرتد ہوجاتاہے اس کی توبہ قبول ہوتی ہے ، مگر وہ جماعت جس کا ارتداد مکرر(بار بار) ہوتا ہو۔ ان کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ اور جو آدمی انبیاء میں سے کسی نبی کو گالی دینے کی وجہ سے کافر ہوجائے اس کو قتل کر دیاجائے گا اور اس کی توبہ کسی حال میں بھی قبول نہیں کی جائے گی“۔
ان عبارات سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ سبِّ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کی توہین اتنا بڑا جرم ہے کہ بالفرض اگر کوئی (نشہ میں) مست آدمی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے گا یا آپ کی توہین و تحقیر کرے گا تو اس کو قتل کردیا جائے گا۔
اسی طرح امہات المومنین (رضوان اللہ علیہن )کی شان میں گستاخی کرنے سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہونچتی ہے اور گستاخی کرنے والے پر دنیا وآخرت میں اللہ تعالیٰ کی لعنت ہوتی ہے اسی لئے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ امہات المومنین  کی شان میں گستاخی کرنے والے کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اور وہ مباح الدم ہے۔
چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما کو گناہ کی تہمت لگانے والوں کے جرم کا ثبوت اور حضرت عائشہ  کی پاکدامنی کا ثبوت تو قرآن میں مذکور ہے، فقہاء کرام نے بھی اس کی رُو سے ایسے شخص کو مباح الدم کہا ہے۔ جو حضرت عائشہ پر تہمتِ گناہ لگاتاہے۔ جیسا کہ” فتاویٰ شامی“ میں ہے:

”نعم لا شک فی تکفیر من قذف السیدة عائشة رضی اللہ عنہا“۔ (۸)
”سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو تہمت لگانے والا شخص بلا شبہ کافر ہے“۔
اور ملعون سلمان رشدی اپنی کتاب میں امہات المومنینکی شان میں گستاخی کا مرتکب ہوا ہے بالخصوص حضرت عائشہ صدیقہ کے بارے میں ، جیسا کہ ہفت روزہ”حریت“ جلد۷ -۱۱تا۱۷نومبر ۱۹۸۸ء شمارہ ۴۵میں تفصیلی طورپرنقل کیا گیا ہے۔
اور یہ بات اہل دنیا کے سامنے ظاہر ہے کہ ملعون سلمان رشدی نے حالیہ ناول”شیطانی آیات“ (satanic Verses)کے علاوہ ”مڈنائٹ چلڈرن“ اور ”شیم“ میں بھی شان رسالت میں دریدہ د ہنی اور ذہنی خباثت کی بدترین مثال پیش کی ہے۔ تفصیل کے لئے ”انڈیا ٹوڈے“ ”ستمبر ۱۹۸۸ء کی اشاعت میں موجودہے۔اور مزید اس کتاب کو متعدد ممالک سے شائع کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے تاکہ دنیا میں فساد پھیلایا جائے اور دین اسلام کو بدنام کیا جائے، تاریخ کو مسخ کیا جائے، ناپختہ اذہان کو اسلام سے برگشتہ کیا جائے اور مسلمانوں کے دل و جگر پر تیشے چلائے جائیں اور تلاش حق میں دامن اسلام کی طرف بڑھنے والے سادہ دل انسانوں کو اسلام اور مسلمانوں سے بد ظن کیا جائے۔ لہٰذا یہ شخص اگر پہلے سے مسلمان تھا تو اب مرتد ہوگیا ہے اور ارتداد پر اصرار کرنے کی وجہ سے ملحد اور زندیق ہے جس کی توبہ کا کچھ اعتبار نہیں اور اس کی سزا قتل ہی ہے۔
دنیا کے تمام مسلمانوں کا عقیدہ اور ایمان ہے کہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں، تبلیغ دین اور اشاعت حق میں بالکل امین اور حق گو ہیں اور اس منصب کو بالکل صحیح صحیح طریقہ سے انجام دینے والے ہیں۔ اور دین اسلام کی تکمیل فرمادی گئی ہے اس میں کسی قسم کی کوتاہی اور خامی نہیں ہوئی ہے اسی طرح قرآن مجید کو اللہ پاک کا کلام سمجھتے ہیں۔
قرآن کو غیر اللہ کا کلام کہنا سراسر کفر ہے اسی لئے جب کفار مکہ نے قرآن کے کلام ”انسانی “ ہونے کا دعویٰ کیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے جواب میں یہ چیلنج دیا کہ اگر قرآن اللہ کا کلام نہیں ہے اور غیر اللہ کا کلام ہے تو تم اور تمہارے سارے دوست احباب اکھٹے ہوکر قرآن کی ایک چھوٹی سی سورت جیسی کوئی سورت بنا لاؤ اگر تم سچے ہو۔ لیکن اب تک کوئی نہ بنا سکا نہ تا قیامت بنا سکے گا۔
لیکن شاتم رسول سلمان رشدی نے لفظ (Mahound)کی آڑ لے کر یہ تاثر دیا ہے کہ ”جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم میں فرشتے اور شیطان کی آواز میں تمیز کرنے کی اہلیت نہ تھی“ اور یوں کلام الہٰی کو جو حضرت جبرائیل کی وساطت سے نازل ہوا ہے، نعوذ باللہ شیطانی کلام ظاہر کرنے کی گستاخانہ مکروہ اور شیطانی جسارت کی ہے۔ ان عبارات سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ سلمان رشدی قرآن شریف کو اللہ کا کلام ماننے کے لئے تیار نہیں ہے اور جو قرآن کو اللہ کا کلام نہیں مانتا وہ بد ترین کافر ہے اس قسم کے کافروں کو قتل کرنا واجب ہے جیسا کہ اوپر گذرا ہے۔
اسی لئے تمام اسلامی حکومتوں کے لئے ضروری ہے کہ اگر کافر، مرتد ،زندیق سلمان رشدی ان کی حکومت کے ماتحت ہے توفوری طور پر قتل کرکے اسے جہنم رسید کریں اگر ان کی حکومت میں نہیں لیکن سفارتی تعلقات کے ذریعہ اس پر دباؤ ڈالنا کسی بھی طریقہ سے ممکن ہے تو اس پر دباؤ ڈال کر اس کو قتل کردینا ضروری ہے ورنہ ایک بدبخت شقی ازلی اور شاتم رسول کو پناہ دینے والے یا اس کی پشت پناہی کرنے والے ملک سے تعلق اور دوستی رکھنا جائز نہیں ہوگا۔ جیسا کہ قرآن شریف میں ہے:

”لاتجد قوما یؤمنون بالله والیوم الاخر یوادون من حاد اللہ ورسولہ ولو کانوا اٰبائھم او ابنا ئھم او اخوانھم او عشیرتھم“۔(المجادلة :۲۲)
”جو لوگ اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں آپ ان کو نہ دیکھیں گے کہ وہ ایسے شخصوں سے دوستی رکھیں جو اللہ اور اس کے رسول کے برخلاف ہیں وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا اپنے گھرانے کے ہوں”۔

”یا ایھا الذین امنوا لا تتخذوا عدوی وعدوکم اولیاء تلقون الیھم بالمودة“۔(الممتحنة :۱)
”اے ایمان والو ! تم میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ کہ ان سے دوستی کا اظہار کرنے لگو“۔
اور اگر حکومت اس امر عظیم کو انجام دینے کے لئے تیار نہیں ہے تو ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ طاقت بشری کے مطابق کوشش کرکے اللہ کی زمین کو شاتم رسول سے پاک وصاف کردے کیونکہ یہ اظہار دین خداوندی کی تکمیل اور اعلاء کلمة اللہ کا ذریعہ ہے، جب تک زمین سے شاتم رسول کو ختم نہیں کیا جائے گا اس وقت تک مکمل دین اللہ کے لئے نہیں ہوتاہے جو اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔

”وقاتلوھم حتی لا تکون فتنة ویکون الدین کلہ لله“(الانفال:۳۹)
”اور تم ان سے اس حد تک لڑو کہ ان میں فساد عقیدہ نہ رہے ،اور دین اللہ تعالیٰ کا ہوجاوے“۔
اسی لئے صفحہٴ گیتی میں تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دیتا تھا اس کو قتل کردیا جاتا تھا جیسا کہ کعب بن اشرف، یہودیہ عورت اور قبیلہ خطمہ کی عورت کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینے کی وجہ سے اور اسلام کی مخالفت میں سرگرم عمل رہنے کی وجہ سے قتل کردیا گیاتھا۔
اسی طرح حضرت کعب بن زہیر عہد نبوی کے ایک نامور شاعر تھے، ابتداء میں وہ اسلام کی مخالفت میں سرگرم رہے حتی کہ ہادی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی”ہجو“میں کچھ شعر تک کہہ دیئے، معاندانہ کاروائیوں اور ہجو گوئی کی پاداش میں بارگاہ رسالت سے ان کے واجب القتل ہونے کا اعلان کردیا گیا تھا۔ جبکہ سلمان رشدی نے صرف سب وشتم پر بس نہیں کیا بلکہ اس نے اسلام ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، امّہات المومنین اور قرآن مجید کے بارے میں بھی ہر قسم کی گستاخی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
لہٰذا جو آدمی اس کو قتل کرے گا اسکو بہت زیادہ ثواب ملے گا تاکہ زمین اسکے فتنے سے محفوظ ہوجائے، اور آئندہ کسی کو اس جیسی دریدہ دھنی کی جسارت نہ ہو۔ جیسا کہ”فتاویٰ شامی“میں ہے:

”وجمیع الکبائر…یباح قتل الکل ویثاب قاتلھم“(۱۰)
”اور ایسے تمام مرتکبین کبیرہ جن کے گناہوں کا ضرر دوسروں کی طرف متعدی ہوتا ہے ان کو قتل کرنا جائز ہے اور قاتل ثواب کا مستحق ہے“۔

فقط والله اعلم


الجواب صحیح


کتبہ


۱-محمد عبدالسلام عفاالله عنہ محمد انعام الحق


۲-محمد شفیق عارف


۳-ابوبکر سعید الرحمن


بینات -شعبان المعظم ۱۴۰۹ھ مطابق اپریل ۱۹۸۹ء


جلد: ۵۱، شمارہ: ۸ ص: ۱۹، ۲۶





حوالہ جات
________________________________________________________________________________________
(۱) الصارم المسلول علی شاتم الرسول لتقی الدین ابن تیمیہ-المتوفی (۷۲۸ھ) المسئلة الاولی : (۳،۴) ط: نشر السنة ملتان ۔
(۲) المرجع السابق۔ (۳،۴)
(۳) الصارم المسلول - (۳،۴)۔
(۴) المرجع السابق․ (ص:۴)
(۵) الدر المختار -کتاب الجھاد-باب المرتد-۴/۲۲۴․ ط:سعید کراچی۔
(۶) رد المحتارعلی الدرالمختار -کتاب الجھاد-باب المرتد-مطلب مایشک فی انہ ردة لایحکم بھا - ۴/۲۲۵۔ ط:سعید کراچی،
(۷) الدر المختار -کتاب الجھاد-باب المرتد-۴/۲۳۱،۲۳۲، ط:سعید۔کراچی۔
(۹) رد المحتارعلی الدر المختار -کتاب الجھاد-باب المرتد-۴/۲۳۷․ط:سعید ،کراچی۔
(۱۰) الد رالمختار -کتاب الحدود-باب التعزیر-۴/۶۴․ط: ایچ ،ایم ،سعید کراچی ۔

mannan Offline
#102 Posted : Friday, March 11, 2011 3:20:16 PM(UTC)

Rank: KP Expert

Groups: Member, Moderators
Joined: 1/20/2009(UTC)
Posts: 384
Points: 1,064
Woman
Location: LONDON

Was thanked: 5 time(s) in 5 post(s)
سوال
محترم مفتی صاحب!
السلام علیکم !
کیا انبیاء کے علاوہ اور کسی کے نام کے ساتھ علیہ السلام لکھا جاسکتاہے؟
اس کے لیے بعض لوگ نیچے دیا گیاحوالہ پیش کرتے ہیں۔
صحیح بخاری،باب اہلِ بیت،حدیث 1107
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ میری امت پہ لازم ہے کہ میری آل اور بالخصوص میری آل کے امام (علی ؓ،حسنؓ،حسینؓ،زین، باقر،جعفر،موسیٰ،علی رضا،تقی،نقی،حسن،اور قائم مہدی علیہ السلام ) پر درودوسلام واجب ہےاور اس کا انکاری مسلمان نہیں ہوسکتا ۔
برائے کرم اس حدیث کی صحت اور غیر انبیاء کے نام کے ساتھ علیہ السلام لکھنا کیسا ہے اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔

جزاک اللہ


سائل : عامر کلیم


جواب
صورت مسئولہ میں انبیاء کرام کے علاوہ کسی کے نام کے ساتھ " علیہ السلام " کہنا اور لکھنا جائز نہیں ہے ۔ردالمختار میں ہے :
[ص: 753،ج:6۔ط: سعید]
البتہ حضور ﷺ کے نام کے ساتھ تبعاً آپ ﷺ کے ازواجِ مطہرات ،آل اور تمام صحابہ پر درودو سلام کہنا جائز بلکہ سنت ہے جیسا کہ بخاری شریف میں ہے :
ترجمہ: عمرو بن سلیم زرقی روایت کرتے ہیں کہ ابوحمید الساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ صحابہ کرام نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ہم آپ پر کیسے درود بھیجیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس طرح کہو :

" اللھم صل علی محمد وأٔ زواجہٖ وذریتہ کما صلیت علیٰ اٰل ابراھیم و بارک علیٰ محمد وأ زواجہ وذریتہ کما بارکت علیٰ اٰل ابراھیم انک حمید مجید"
[حدیث نمبر3189،ص:1145،ج:2،ط: دارالعلوم الانسانیہ ددمشق]
سوال میں مذکور باب اور حدیث شریف بخاری میں تلاش کے باوجود نظروں سے نہیں گزری ۔

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء


جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی

mannan Offline
#103 Posted : Friday, March 11, 2011 3:22:04 PM(UTC)

Rank: KP Expert

Groups: Member, Moderators
Joined: 1/20/2009(UTC)
Posts: 384
Points: 1,064
Woman
Location: LONDON

Was thanked: 5 time(s) in 5 post(s)
بشریت انبیاء علیہم السلام
بشریت انبیاء علیہم السلام
سوال
جناب مکرمی مولانا صاحب!
السلام علیکم
بعدہ عرض ہے کہ آپ کا رسالہ” بینات“شاید پچھلے سال یعنی ۱۹۸۰ئئکا ہے اس کا مطالعہ کیا جس میں چند جگہ کچھ اس قسم کی باتیں دیکھنے میں آئیں کہ جن کی وضاحت ضروری ہے کیونکہ میں نے اوردیگر حضرات کی کتابوں کا مطالعہ بھی کیا ہے جس سے آپ کی بات اوران حضرات کی بات میں بڑا فرق ہے یا تو آپ ان کے خلاف ہیں ؟ یا ان کی تحریروں کو نظر انداز کررہے ہیں ۔
مثلا: نمبر۱،ص۳۵:
”آپ صلی الله علیہ وسلم اپنی ذات کے لحاظ سے نہ صرف نوع بشر میں داخل ہیں ،افضل البشر ہیں ،نوع انسان کے سردار ہیں۔ آدم کی نسل سے ہیں ،بشر اور انسان دونوں ہم معنی لفظ ہیں “۔
لیکن جب میں دوسرے حضرات کی تصنیف کو سامنے رکھتا ہوں تو زمین آسمان کافرق محسوس ہوتا ہے آخر اس کی کیا وجہ ،حالانکہ شاہ ولی الله صاحب محدث دہلوی رحمہ الله فرماتے ہیں کہ:
”اصل عبارت“ امت نے اتفاق کیا ہے کہ وہ معرفتِ شریعت میں سلف پر اعتماد کریں گے ،چنانچہ تابعین نے صحابہ پر، تبع تابعین نے تابعین اور اسی طرح ہر طبقہ کے علماء نے اپنے سے پہلوں پر اعتماد کیا ہے۔(۱)
امید ہیکہ اگر دین کا سمجھ دار طبقہ یا کم از کم جو حضرات تبلیغ دین میں قدم رکھتے ہیں وہ تو اس طریقہ کو اختیار کریں تاکہ دین میں تواتر قائم رہے اب مندرجہ بالا مسئلہ میں آپ نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ حضورصلی الله علیہ وسلم صرف بشر ہیں مگر افضل ہیں انسانوں کے سردار اور آدم  کی نسل میں سے ہیں یعنی حضورصلی الله علیہ وسلم کی حقیقت بشر ہے ۔
مگر حکیم الامت جناب مولانا اشرف علی صاحب تھانوی نے اپنی تصنیف ”نشرالطیب فی ذکر النبی الحبیب “میں پہلا باب ہی نور محمدی صلی الله علیہ وسلم پر لکھا ہے جس میں حضورصلی الله علیہ وسلم کی پیدائش الله تعالیٰ کے نور سے اور حضورصلی الله علیہ وسلم کے نور سے ساری کائنات کی پیدائش کا اظہار کیا ہے اور اس ضمن میں چند احادیث بھی روایت کی ہیں جن میں یہ ذکر بھی ہے کہ حضورصلی الله علیہ وسلم آدم علیہ السلام کے پیدا ہونے سے چودہ ہزار برس پہلے اپنے رب کے پاس نور تھے ۔اور یہ بھی ہے کہ میں اس وقت نبی تھا جبکہ آدم  ابھی پانی اور مٹی کے درمیان تھے ۔(۲)
اور جناب رشید احمد گنگوہی فرماتے ہیں ”امدادلسلوک ”میں :
”اور احادیث متواترہ سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم سایہ نہ رکھتے تھے اور ظاہر ہے کہ نور کے سوا تمام اجسام سایہ رکھتے ہیں “۔(۳)
حضرت مجدد الف ثانی  نے (دفتر سوم مکتوب نمبر ۱۰۰میں)فرمایا جس سے چند باتوں کا اظہار ہوتا ہے :
۱: حضورصلی الله علیہ وسلم ایک نور ہیں کیونکہ حضورصلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : خلقت من نور الله،”میں الله کے نور سے پیدا ہواہوں ۔“
۲: آپ نور ہیں اور آپ کا سایہ نہ تھا۔
۳: آپ نور ہیں جس کو الله تعالیٰ نے حکمت و مصلحت کے پیش نظر بصورت انسان ظہور فرمایا ۔(۴)
مطلب یہ کہ مجدد صاحب بھی آپ کی حقیقت کو نور ہی مانتے ہیں لیکن قدرت خداوندی نے مصلحت کے تحت شکل انسانی میں ظہور کیا۔
رسالہ ”التوسل“جو مولوی مشتاق احمد صاحب دیوبندی کی تصنیف ہے اور مولوی محمودالحسن صاحب ، مفتی کفایت الله صاحب ،اور مفتی محمد شفیع صاحب علماء دیوبند کی تصدیقات سے موٴیّد ہے ،اس میں لکھا ہے کہ :
قد جاء کم من الله نور وکتاب مبین ،میں نور سے مرادد حضرت رسول اکرم ا ہیں اور کتاب سے مراد قرآن مجید ہے۔نور اور سراج منیر کا اطلاق حضور اکی ذات پر اسی وجہ سے ہے کہ حضورصلی الله علیہ وسلم نور مجسم اور روشن چراغ ہیں۔
نور اور چراغ ہمیشہ ذریعہ وسیلہ صراط مستقیم کے دیکھنے اور خوفناک طریق سے حالت حیات میں بھی وسیلہ ہے اور بعد وفات بھی وسیلہ ہیں بلکہ آپ صلی الله علیہ وسلم کے دنیا میں تشریف لانے سے پہلے آپ کے جد امجد عبد المطلب کو قریش مصیبت کے وقت اسی نور کے سبب حل مشکلات کا وسیلہ بنایا کرتے تھے (التوسل ص۲۲)(۵)
تفسیر کبیرمیں ہے:

قد جا ء کم من الله نور وکتاب مبین ،ان المراد بالنور محمد -صلی الله علیہ وسلم - وبالکتب القران،(۶)
آپ سے عرض ہے کہ آپ بتائیں کہ یہ عقائد درست ہیں ؟
نوٹ: ان حضرات کے عقائد سے حضورصلی الله علیہ وسلم کی حقیقت نور ثابت ہے جو آدم  سے پہلے پیدا ہوئی ۔
فقط محمد عالمگیر


جواب
حکیم الامت شاہ ولی الله محدث دہلوی قدس سرہ کے حوالے سے آپ نے جو اصول نقل کیا ہے کہ ”شریعت کی معرفت میں سلف پر اعتماد کیا جائے“ یہ بالکل صحیح ہے لیکن آنجناب کا یہ خیال صحیح نہیں کہ راقم الحروف نے نور وبشر کی بحث میں اس اصول سے انحراف کیا ہے میں نے جو کچھ کہا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم بیک وقت نور بھی ہیں اور بشر بھی ،اور یہ کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کے نور اوربشرہونے میں کوئی منافات نہیں کہ ایک کا اثبات کرکے دوسرے کی نفی کی جائے ۔بلکہ آپ صفت ہدایت اور نورانیت باطن کے اعتبار سے نور مجسم ہیں اور اپنی نوع کے اعتبار سے خالص اور کامل بشرہیں ۔
بشر اور انسان ہونا کوئی عار اور عیب کی چیز نہیں کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی طرف اس کا انتساب خدانخواستہ معیوب سمجھا جائے ،انسانیت وبشریت کو خداتعالیٰ نے چونکہ” احسن تقویم“فرمایا ہے اس لئے بشریت آپ صلی الله علیہ وسلم کے لئے کمال شرف ہے اور آپ صلی الله علیہ وسلم کا انسان ہونا انسانیت کے لئے موجب صد عزت وافتخار ہے۔
میرے علم میں نہیں کہ حضرات سلف صالحین میں سے کسی نے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی بشریت کاانکار کرکے آپ کو دائرہ انسانیت سے خارج کیا ہو ،بلاشبہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم اپنی بشریت میں بھی منفرد ہیں اور شرف ومنزلت کے اعتبار سے تمام کائنات سے بالاتر اور ”بعد ازخدا بزرگ توئی قصہ مختصر“ کے مصداق ہیں اس لئے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا اکمل البشر ،افضل البشر اور سید البشر ہونا ہر شک وشبہ سے بالاتر ہے کیوں نہ ہو جب کہ خود فرماتے ہیں:

انا سید ولد اٰدم یوم القیمة ولافخر(۷)
”میں اولاد آدم کا سردار ہوں گاقیامت کے دن اور یہ بات بطور فخر نہیں کہتا“۔
قرآن کریم نے اگر ایک جگہ ﴿قد جاء کم من الله نور وکتاب مبین﴾فرمایا ہے (اگر نور سے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی ذات گرامی مرادلی جائے)تو دوسری جگہ یہ بھی فرمایا ہے:

قل سبحان ربی ھل کنت الا بشراً رسولاً۔ (الاسراء:۹۳)
”آپ فرمادیجئے کہ سبحان الله!میں بجز اس کے کہ آدمی ہوں مگر پیغمبر ہوں اورکیا ہوں“۔

قل انما انا بشر مثلکم یوحی إلیّ انما الھکم الہ واحد (الکھف:۱۱)
”آپ کہدیجئے کہ میں تو تم ہی جیسا بشر ہوں میرے پاس بس یہ وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے“۔

وما جعلنا لبشر من قبلک الخلد ،افائن مت فھم الخالدون (الانبیاء: ۳۴)
”اور ہم نے آپ(صلی الله علیہ وسلم) سے پہلے بھی کسی بھی بشر کے لئے ہمیشہ رہنا تجویز نہیں کیا ۔پھر اگر آپ( صلی الله علیہ وسلم) کا انتقال ہوجائے تو کیا یہ لوگ دنیا میں ہمیشہ کو رہیں گے ؟“۔
قرآن کریم یہ اعلان بھی کرتا ہے کہ انبیاء کرام علیہم الصلوةوالسلام ہمیشہ نوع بشر ہی سے بھیجے گئے:

وماکان لبشر ان یوٴتیہ الله الکتاب والحکمة والنبوة ثم یقول للناس کونوا عباداً لی من دون الله (آل عمران:۷۹)
”اور کسی بشر سے یہ بات نہیں ہوسکتی کہ الله تعالی اس کو کتاب اور فہم اور نبوت عطا فرمادے پھر وہ لوگوں سے کہنے لگے کہ میرے بندے بن جاؤ خداتعالی کو چھوڑ کر“۔

وماکان لبشر ان یکلمہ الله الا وحیا او من وراء حجاب او یرسل رسولا فیوحی باذنہ مایشاء (الشوری:۵۱)
”اور کسی بشر کی یہ شان نہیں کہ الله تعالی اس سے کلام فرماوے مگر (تین طریق سے) یاتو الہام سے ،یا حجاب کے باہر سے یا کسی فرشتے کو بھیج دے کہ وہ خدا کے حکم سے جو خدا کومنظور ہوتا ہے پیغام پہنچادیتا ہے “۔
اور انبیاء کرام علیہم الصلوةوالسلام سے یہ اعلان بھی کرایاگیا ہے۔

قالت لھم رسلھم ان نحن الا بشر مثلکم ولکن الله یمن علی من یشاء من عبادہ۔ (ابراھیم:۱۱)
”ان کے رسولوں نے ان سے کہا کہ ہم بھی تمہارے جیسے آدمی ہیں ۔لیکن الله اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے احسان فرمادے“۔
قرآن کریم نے یہ بھی بتایا کہ بشر کی تحقیر سب سے پہلے ابلیس نے کی اور بشر اول حضرت آدم کو سجدہ کرنے سے یہ کہہ کر انکار کردیا :

قال لم اکن لاسجد لبشر خلقتہ من صلصا ل من حماٍ مسنون (الحجر:۳۳)
”کہنے لگا میں ایسا نہیں کہ بشر کو سجدہ کروں جس کو آپ نے بجتی ہوئی مٹی سے جو سڑے ہوئے گارے سے بنی ہے پید ا کیا ہے “۔
قرآن کریم یہ بھی بتاتا ہے کہ کفار نے ہمیشہ انبیاء کرام علیہم الصلوةوالسلام کی اتباع سے یہ کہکر انکار کیا کہ یہ تو بشر ہیں ،کیا ہم بشر کورسول مان لیں؟

فقالواابشراً منا واحدا نتبعہ انا اذالفی ضلال وسعر (القمر:۲۴)
”پس کہا:کیاہم اپنے میں سے ایک آدمی کے کہنے پرچلیں تب توہم ضرورگمراہی اوردیوانگی میں جاپڑیں گے “۔ (ترجمہ حضرت لاہوری)

وما منع الناس ان یوٴ منوا اذجاء ھم الھدی الا ان قالوا ابعث الله بشر ارسولا قل لو کان فی الارض ملائکة یمشون مطمئنین لنزلنا علیھم من السماء ملکا رسولا۔ (بنی اسرائیل:۹۴/۹۵)
”اور جس وقت ان لوگوں کے پاس ہدایت پہنچ چکی اس وقت ان کوایمان لانے سے بجز اس کے اور کوئی بات مانع نہ ہوئی کہ انہوں نے کہا کیا الله تعالی نے بشر کورسول بناکر بھیجا ہے؟آپ فرمادیجئے اگر زمین پر فرشتے رہتے ہوتے کہ اس پر چلتے بستے تو البتہ ہم ان پر آسمان سے فرشتے کو رسول بناکر بھیجتے “۔
ان ارشادات سے واضح ہے کہ انبیاء کرام علیہم الصلوةوالسلام انسان اور بشر ہی ہوتے ہیں ،گویا کسی نبی کی نبوت پر ایمان لانے کا مطلب ہی یہ ہے کہ ان کو بشر اور رسول تسلیم کیاجائے اسی لئے تمام اہل سنت کے ہاں رسول کی تعریف یہ کی گئی ہے:

والرسولانسان بعثہ الله تعالیٰ الی الخلق لتبلیغ الأحکام (۸)
”رسول وہ انسان ہے جس کو الله تعالی اپنے پیغامات اور احکام بندوں تک پہنچانے کے لئے مبعوث فرماتے ہیں “۔
جس طرح قرآن کریم نے انبیاء کرام علیہم الصلوةوالسلام کی بشریت کا اعلان فرمایا ہے اسی طرح احادیث طیبہ میں آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے بھی بغیر کسی دغدغہ کے اپنی بشریت کا اعلان فرمایا ہے چنانچہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم جہاں یہ فرماتے ہیں کہ سب سے پہلے میرا نور تخلیق کیا گیا (اگر اس روایت کو صحیح تسلیم کرلیا جائے) وہاں یہ بھی فرماتے ہیں :

۱: اللّٰھم إنما أنا بشر فأی المسلمین لعنتہ أو سببتُہ فاجعلہ لہ زکوة وأجراً (۹)
”اے الله میں بھی ایک انسان ہی ہوں پس جس مسلمان پر میں نے لعنت کی ہو یا اسے برا بھلا کہا ہوآپ اس کو اس شخص کے لئے پاکیزگی اور اجر کا ذریعہ بنادے “۔

۲: عن ابي ہریرة رضی اللّٰہ عنہ أن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال:اللّٰھم إنی أتخذعندک عھدا لن تخلفنیہ فإنما أنا بشر فأی الموٴمنین اٰذیتہ، شتمتہ، لعنتہ،جلدتہ فاجعلھا لہ صلوٰة وزکوة وقربةتقربہ بھا إلیک (۱۰)
”اے الله!میں آپ کے یہاں سے ایک عہد لینا چاہتا ہوں آپ اس کے خلاف نہ کیجئے کیونکہ میں بھی ایک انسان ہوں پس جس مومن کو میں نے ایذاء دی ہو، گالی دی ہو ،لعنت کی ہو ،اس کو ماراہو،آپ اس کے لئے اس کو رحمت ،پاکیزگی بنادیجئے کہ آپ اس کی وجہ سے اس کو اپنا قرب عطافرمائیں“۔

۳: اللّٰھم إنما محمد(صلی الله علیہ وسلم) بشر یغضب کما یغضب البشر، الحدیث(۱۱)
”اے الله !محمد صلی الله علیہ وسلم بھی ایک انسان ہی ہیں ان کو بھی غصہ آتا ہے جس طرح اور انسانوں کو غصہ آتا ہے “۔

۴: انی اشترطت علی ربی ،فقلتإنماأنا بشر أرضی کما یرضی البشر واغضب کما یغضب البشر(۱۲)
”میں نے اپنے رب سے ایک شرط کرلی ہے میں نے کہا کہ میں بھی ایک انسان ہی ہوں میں بھی خوش ہوتا ہوں جس طرح انسان خوش ہوتے ہیں اور غصہ ہوتا ہوں جس طرح دوسرے انسان غصہ ہوتے ہیں “۔

۵: ”انما أنا بشر وأنہ یأتینی الخصم فلعلبعضکم أن یکون أبلغ من بعض فأحسب أنہ قدصدق وأقضی لہ بذالک فمن قضیت لہ بحق مسلم فانما ھی قطعة من النارفلیأخذھا او فلیترکھا۔“(۱۳)
”میں بھی ایک آدمی ہوں اور میرے پاس مقدمہ کے فریق آتے ہیں،ہوسکتا ہے کہ ان میں سے بعض زیادہ زبان آور ہوں پس میں اس کو سچا سمجھ کر اس کے حق میں فیصلہ کردوں ،پس جس کے لئے میں کسی مسلمان کے حق کافیصلہ کردوں وہ محض آگ کا ٹکڑا ہے اب چاہے وہ اسے اٹھالے جائے ،اور چاہے چھوڑ جائے ۔“

۶: انما أنا بشر مثلکم أنسی کما تنسون فاذا نسیت فذکرونی (۱۴)
”میں بھی تم جیسا انسان ہی ہوں میں بھی بھول جاتا ہوں جیسے تم بھول جاتے ہو پس جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلادیا کرو“۔

۷: انما أنا بشر ،إذا أمرتکم بشیءٍ من دینکم فخذوا بہ وإذا امرتکم بشیءٍ من رأیی فانما أنا بشر(۱۵)
”میں بھی ایک انسان ہی ہوں جب تم کو دین کی کسی بات کا حکم کروں تو اسے لے لو اور جب تم کو (کسی دنیوی معاملے میں) اپنی رائے سے بطور مشورہ کوئی حکم دوں تو میں بھی ایک انسان ہی ہوں “۔

۸: ألاأیھا الناس !فانما أنا بشر یوشک أن یأتی رسول ربی فأجیب …،الخ(۱۶)
”سنو!اے لوگو!!پس میں بھی ایک انسان ہی ہوں قریب ہے کہ میرے رب کا قاصد(یہاں سے کوچ کا پیغام لے کر) آئے تو میں اس کو لبیک کہوں “۔
قرآن کریم اور ارشادات نبوی صلی الله علیہ وسلم سے واضح ہے کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے صفت نور کے ساتھ موصوف ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کی بشریت کی نفی کردی جائے ، نہ ان نصوص قطعیہ کے ہوتے ہوئے آپ صلی الله علیہ وسلم کی بشریت کا انکار ممکن ہے ۔
میں نے یہ بھی لکھا تھا کہ بشریت کوئی عار اور عیب کی چیز نہیں جس کی نسبت آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی جانب کرنا سوء ادب کا موجب ہو ،بشر اور انسان تو اشرف المخلوقات ہے اس لئے بشریت آپ کا کمال ہے، نقص نہیں اور پھر آپ صلی الله علیہ وسلم کا اشرف المخلوقات میں سب سے اشرف افضل ہونا خود انسانیت کے لئے مایہٴ فخر ہے ۔
”اس لئے آپ کا بشر ،انسان اور آدمی ہونا نہ صرف آپ صلی الله علیہ وسلم کے لئے طرہٴ افتخار ہے بلکہ آپ کے بشر ہونے سے انسانیت وبشریت رشک ملائکہ ہے “۔(۱۷)
یہی عقیدہ اکابر اور سلف صالحین کاتھا چنانچہ قاضی عیاض  ”الشفاء بتعریف حقوق المصطفی صلی الله علیہ وسلم“ میں لکھتے ہیں۔

قد قدمنا انہ صلی الله علیہ وسلم وسائرالانبیاء والرسل من البشر ،وان جسمہ وظاہر ہ خالص للبشر یجوز علیہ من الاٰفات والتغیرات والاٰلام والاسقام وتجرع کأس الحمام ما یجوز علی البشر وھذا کلہ لیس بنقیصة ،لان الشئی انما یسمی ناقصا بالاضافة الی ماھو اتم منہ واکمل من نوعہ وقد کتب الله تعالی علی اھل ھذہالدار فیھا یحیون وفیھا یموتون ومنھا یخرجون وخلق جمیع البشر بمدرجة الغیر۔(۱۸)
”ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم اور دیگر انبیاء ورسل نوع بشر میں سے ہیں اور آپ صلی الله علیہ وسلم کا جسم مبارک اور ظاہر خالص بشر کاتھا آپ صلی الله علیہ وسلم کے جسم اطہر پر وہ تمام آفات وتغیرات اور تکالیف وامراض اور موت کے احوال طاری ہو سکتے تھے جو انسان پر طاری ہوتے ہیں اور یہ تمام امور کوئی نقص اور عیب نہیں ،کیونکہ کوئی چیز ناقص اس وقت کہلاتی ہے جبکہ اس کی نوع میں سے کوئی دوسری چیز اتم واکمل ہو، داردنیا کے رہنے والوں پر الله تعالی نے یہ بات مقدر فرمادی کہ وہ زمین میں جئیں گے یہیں مریں گے اور یہیں سے نکالے جائیں گے اور تمام انسانوں کو الله تعالی نے تغیر کا محل بنایا ہے “۔
آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی تکالیف کی چند مثالیں پیش کرنے کے بعد لکھتے ہیں :

وھکذا سائر أنبیائہ مبتلی ومعافی،وذلک من تمام حکمتہ لیظھر شرفھم فی ھذہ المقامات ،وبین أمرھم ویتم کلمتہ فیھم ولیحقق بامتحانھم بشریتھم ،ویرتفع الالتباس من اھل الضعف فیھم لئلا یضلوا بما یظھر من العجائب علی ایدیھم ضلال النصاری بعیسی بن مریم……قال بعض المحققین وھذہ الطواری والتغیرات المذکورة انما تختص باجسامھم البشریة المقصودة منھا مقاومة البشر ومعافات بنی ادم ، لمشاکلةالجنس ،وامابواطنھم فمنزّھَة غالبا عن ذلک معصومة منہ ،متعلقة بالملأ الاعلی والملئکة لاخذ ھا عنھم وتلقیھا الوحی عنھم (۲۰)
اسی طرح دیگر انبیاء کرام علیہم الصلوةوالسلام کہ وہ تکالیف میں بھی مبتلاء ہوئے اور ان کو عافیت سے بھی نوازا گیا اور یہ حق تعالیٰ کی کمال حکمت تھی تاکہ ان مقامات میں ان حضرات کا شرف ظاہر ہو اور ان کا معاملہ واضح ہوجائے اور الله تعالیٰ کی بات ان کے حق میں پوری ہوجائے اور تاکہ الله تعالیٰ ان کی بشریت کو ثابت کردے ،اور امت کے اہل ضعف کو ان کے بارے میں جو التباس ہوسکتا تھا وہ اٹھ جائے تاکہ ان عجائبات کی وجہ سے جو ان حضرات کے ہاتھ پر ظاہر ہوتے ہیں گمراہ نہ ہوجائیں جس طرح نصاری حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں گمراہ ہوئے۔ بعض محققین نے فرمایا ہے کہ یہ عوارض اور تغیرات مذکور ہ ان بشری اجسام کے ساتھ مخصوص ہیں جن سے مقصود بشر کی مقاومت اور بنی آدم کی مشقتوں کا برداشت کرنا ہے تاکہ ہم جنسوں کے ساتھ مشاکلت ہو لیکن ان کی ارواح طیبہ ان امور سے متاثر نہیں ہوتیں بلکہ وہ معصوم ومنزہ اور ملأ اعلی اور فرشتوں سے تعلق رکھتی ہیں کیونکہ وہ فرشتوں سے علوم اخذ کرتی ہیں اور ان سے وحی کی تلقی کرتی ہیں ۔“
الغرض آپ صلی الله علیہ وسلم کے نور ہونے کے یہ معنی ہر گز نہیں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم بنی نوع انسان میں داخل نہیں ۔آپ نے جو حوالے نقل کئے ہیں ان میں آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے لئے نور کی صفت کااثبات کیاگیا ہے ،مگر اس سے چونکہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی بشریت کا انکار لازم نہیں آتا اس لئے وہ میرے مدعا کے خلاف نہیں اور نہ میرا عقیدہ ان بزرگوں سے الگ ہے۔
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی  نے” نشر الطیب“ میں سب سے پہلے نور محمدی (علی صاحبہ الصلوات والتسلیمات)کی تخلیق کا بیان فرمایا ہے اور اس کے ذیل میں وہ احادیث نقل کی ہیں جن کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے لیکن حضرت  نے نور محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریح بھی فرمادی ہے،چنانچہ پہلی روایت حضرت جابررضی الله عنہ کی”مسند عبد الرزاق“کے حوالے سے یہ نقل کی ہے ۔
آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ۔اے جابر! الله تعالیٰ نے تمام اشیاء سے پہلے تیرے نبی کا نور اپنے نورسے (نہ بایں معنی کہ نورالٰہی اس کا مادہ تھابلکہ اپنے نورکے فیض سے) پیدا کیا، پھر جب الله تعالیٰ نے اور مخلوق کو پیدا کرنا چاہا تو اس نور کے چار حصے کئے ایک حصہ سے قلم پیداکیا ،دوسرے سے لوح اور تیسرے سے عرش۔ آگے حدیث طویل ہے۔
اس کے فائدہ میں لکھتے ہیں :
”اس حدیث سے نور محمدی صلی الله علیہ وسلم کا اول الخلق ہونا باولیت حقیقیہ ثابت ہوا کیونکہ جن جن اشیاء کی نسبت روایات میں اولیت کاحکم آیا ہے ان اشیاء کانور محمدی صلی الله علیہ وسلم سے متأ خر ہونا اس حدیث میں منصوص ہے “۔
اور اس کے حاشیہ میں تحریر فرماتے ہیں :
” ظاہراً نور محمدی ،روح محمدی سے عبارت ہے اور حقیقت روح کی اکثر محققین کے قول پر مادہ سے مجرد ہے اور مجرد کا مادیات کے لئے مادہ ہونا ممکن نہیں پس ظاہراً اس نور کے فیض سے کوئی مادہ بنایاگیا اور اس مادہ سے چا رحصے کئے گئے الخ،اور اس مادہ سے پھر کسی مجرد کا بننا اس طرح ممکن ہے کہ وہ مادہ اس کا جزء نہ ہو ،بلکہ کسی طریق سے محض اس کا سبب خارج عن الذات ہو۔“
دوسری روایت جس میں فرمایاگیا ہے کہ بے شک میں حق تعالیٰ کے نزدیک خاتم النبیین ہوچکا تھا اور آدم علیہ السلام ہنوز اپنے خمیر ہی میں پڑے تھے۔
اس کے حاشیہ میں لکھتے ہیں:
اور اس وقت ظاہر ہے آپ صلی الله علیہ وسلم کا بدن تو بنا ہی نہ تھا تو پھر نبوت کی صفت آپ کی روح کو عطا ہوئی تھی اور نور محمدی اسی روحمحمدی کا نام ہے ،جیسا وپر مذکور ہوا۔(۲۱)
اس سے واضح ہے کہ حضرت تھانوی  کے نزدیک نور محمدی صلی الله علیہ وسلم سے مراد آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی پاک اور مقدس روح ہے اور اس فصل میں جتنے احکام ثابت کئے گئے ہیں وہ آپ صلی الله علیہ وسلم کی روح مقدسہ کے ہیں اور ظاہر ہے کہ آپ کی پاک روح کے اول الخلق ہونے سے آپ کی بشریت کا انکارلازم نہیں آتا ،اور حضرت تھانوی  کی تشریح سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے نور کے خدا تعالیٰ کے نور سے پیدا کئے جانے کایہ مطلب نہیں کہ نور محمدی صلی الله علیہ وسلم نعوذبالله نور خدا وندی کا کوئی حصہ ہے بلکہ یہ مطلب ہے کہ نور خدا وندی کا فیضان آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی روح مقدسہ کی تخلیق کا باعث ہوا۔
آپ نے قطب العالم حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی  کی”امداد السلوک“کا حوالہ دیا ہے کہ
”احادیث متواترہ سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم سایہ نہیں رکھتے تھے اور ظاہر ہے کہ نور کے سواتمام اجسام سایہ رکھتے ہیں“۔
امدادالسلوک کا فارسی نسخہ تو میرے سامنے نہیں البتہ اس کا اردو ترجمہ جو حضرت مولانا عاشق الٰہی میرٹھی نے ”ارشادالملوک“ کے نام سے کیا ہے اس کی متعلقہ عبارت یہ ہے :
”آنحضرت صلی الله علیہ وسلم بھی اولاد آدم ہی میں ہیں مگر آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے اپنی ذات کو اتنا مطہر بنالیاتھا کہ نور خالص بن گئے اور حق تعالیٰ نے آپ صلی الله علیہ وسلم کو نور فرمایا اور شہرت سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کاسایہ نہ تھا اور ظاہر ہے کہ نور کے علاوہ ہر جسم کے سایہ ضرور ہوتا ہے “۔
اسی طرح آپ صلی الله علیہ وسلم نے اپنے متبعین کو اس قدر تزکیہ اور تصفیہ بخشا کہ وہ بھی نور بن گئے چنانچہ ان کی کرامات وغیرہ کی حکایتوں سے کتابیں پر اور اتنی مشہور ہیں کہ نقل کی حاجت نہیں نیز حق تعالیٰ نے فرمایاہے کہ جو لوگ ہمارے حبیب صلی الله علیہ وسلم پر ایمان لائے ان کا نور ان کے آگے آگے دوڑتا ہوگا اور دوسری جگہ فرمایا ہے کہ یاد کرو اس دن کو جب کہ مومنین کانور ان کے آگے اور دا ہنی طرف دوڑتا ہوگا اور منافقین کہیں گے کہ ذرا ٹھہرجاؤ تاکہ ہم بھی تمہارے نور سے کچھ اخذ کریں
ان دونوں آیتوں سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت صلی الله علیہ وسلم کی متابعت سے ایمان اور نور دونوں حاصل ہوتے ہیں (ص۱۱۴،۱۱۵)(۲۲)
اس اقتباس سے چند امور بالکل واضح ہیں:
اول: آنحضر ت صلی الله علیہ وسلم کا اولاد آدم علیہ السلاممیں سے ہونا تسلیم کیاگیا ہے اور آدم علیہ السلام کا بشر ہونا قرآن کریم میں منصوص ہے۔
دوم: آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے لئے جس نورانیت کااثبات کیاگیا ہے یہ وہ ہے جو تزکیہ وتصفیہ سے حاصل ہوتی ہے اور جس میں آنحضرصلی الله علیہ وسلم کامرتبہ اس قدر اکمل واعلی تھا کہ آپ نور خالص بن گئے تھے ۔
سوم : جسم اطہر کا سایہ نہ ہونے کو متواتر نہیں کہاگیا بلکہ ”شہرت سے ثابت ہے“ کہا گیا ہے بہت سی روایات ایسی ہیں کہ زبان زدعام وخاص ہوتی ہیں مگر ان کو تواتر یا اصطلاحی شہرت کامرتبہ تو کیا حاصل ہوتا خبر آحاد کے درجہ میں ان کو حدیث صحیح یا قابل قبول ضعیف کادرجہ بھی حاصل نہیں ہوتا بلکہ وہ خالصةً بے اصل اور موضوع ہوتی ہیں سایہ نہ ہونے کی روایت بھی حد درجہ کمزور ہے یہ روایت مرسل بھی ہے اور ضعیف بھی اس درجہ کی کہ اس کے بعض راویوں پر وضع حدیث کی تہمت ہے (اس کی تفصیل حضرت مفتی شفیع صاحبکے مضمون میں ہے جو آخر میں بطور تکملہ نقل کررہاہوں )۔
چہارم: احادیث کی تصحیح وتنقیح حضرات محدثین کا وظیفہ ہے حضرات صوفیائے کرام کا اکثر وبیشتر معمول یہ ہے کہ وہ بعض ایسی روایات جو عام طور سے مشہور ہوں ان کی تنقیح کے درپے نہیں ہوتے ،بلکہ برتقدیر صحت اس کی توجیہ کردیتے ہیں یہاں بھی شیخ قطب الدین مکی قدس سرہ نے (جن کے”رسالہ مکیہ“کا ترجمہ حضرت گنگوہی  نے کیا ہے)اس مشہور روایت کی یہ توجیہ فرمائی ہے کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی ذات عالی پر نورانیت اور تصفیہ کا اس قدر غلبہ تھا کہ بطور معجزہ آپ کا سایہ نہیں تھا بہرحال اگر سایہ نہ ہونے کی روایت کو تسلیم کرلیاجائے تو یہ بطور معجزہ ہی ہوسکتا ہے گویا غلبہ نورانیت کی بناء پر آپ کے جسم اطہر پر روح کے احکام جاری ہوگئے تھے اور جس طرح روح کاسایہ نہیں ہوتا اسی طرح آپ صلی الله علیہ وسلم کے جسم اطہر کا بھی سایہ نہیں تھا لیکن اس سے آپ صلی الله علیہ وسلم کی بشریت کی نفی لازم نہیں آتی ایک تو اس لئے کہ شیخ  خود آپ کی بشریت کی تصریح فرمارہے ہیں ،ظاہر ہے کہ اس نور کی بشریت سے منافات ہوتو آپ صلی الله علیہ وسلم کے تمام متبعین کی بشریت کا انکار لازم آئے گا تیسرے ام الموٴمنین حضرت عائشہ صدیقہ جو آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے حالات کو سب سے زیادہ جانتی ہیں وہ فرماتی ہیں،

کان بشرا من البشر (۲۳)
آنحضرت صلی الله علیہ وسلم بھی انسانوں میں سے ایک انسان تھے ۔
سایہ نہ ہونے کی روایت کے بارے میں”فتاوی رشیدیہ“سے اصل سوال وجواب یہاں نقل کرتا ہوں:
”سوال:سایہ مبارک رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا پڑتا تھایانہیں اور جو ترمذی نے نوادرالاصول میں عبد الملک بن عبد الله بن وحید سے انہوں نے ذکوان سے روایت کیا ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا سایہ نہیں پڑتا تھا سند اس کی صحیح ہے یا ضعیف یا موضوع؟ ارقام فرمادیں ۔
جواب: یہ روایت کتب صحاح میں نہیں اور نوادر کی روایت کا بندہ کو حال معلوم نہیں کہ کیسی ہے۔نوادر الاصول حکیم ترمذی کی ہے نہ ابو عیسی ترمذی کی فقط والله اعلم۔رشید احمد گنگوہی (۲۴)
اس اقتباس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ سایہ نہ ہو نے کی روایت حدیث کی متداول کتابوں میں نہیں۔ امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہ کے حوالے سے آپ نے تین باتیں نقل کی ہیں :
۱: حضورصلی الله علیہ وسلم ایک نور ہیں کیونکہ حضورصلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ہے ،خلقت من نور الله ،میں الله کے نور سے پیدا ہواہوں۔
۲: آپ صلی الله علیہ وسلم نور ہیں آ پ کا سایہ نہ تھا ۔
۳: آپ صلی الله علیہ وسلم نور ہیں جس کو الله تعالیٰ نے حکمت ومصلحت کے پیش نظر بصورت انسان ظاہر فرمایا ۔
آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے نور سے پیدا ہونے اور سایہ نہ ہونے کی تحقیق اوپر عرض کرچکاہوں البتہ یہاں اتنی بات مزید عرض کردینا مناسب ہے کہ ”خلقت من نور الله“ کے الفاظ سے کوئی حدیث مروی نہیں ،مکتوبات شریفہ کے حاشیہ میں اس کی تخریج کرتے ہوئے شیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ کی ”مدارج النبوة“کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے :

”انا من نور الله والمومنون من نوری “․
”میں الله کے نور سے ہوں اور موٴمن میرے نور سے ہیں “۔
مگر ان الفاظ سے بھی کوئی حدیث ذخیرہ احادیث میں نظرسے نہیں گزری،ممکن ہے کہ یہ حضرت جابر  کی حدیث ( جو نشر الطیب کے حوالے سے گزرچکی ہے ) کی روایت بالمعنی ہو بہرحال اگر یہ روایت صحیح ہوتو اس کی شرح ہے جو حضرت حکیم الامت تھانوی  کی ”نشر الطیب“ سے نقل کر چکا ہوں۔
سب جانتے ہیں کہ الله تعالیٰ کانور اجزاء وحصص سے پاک ہے اس لئے کسی عاقل کو یہ تو وہم بھی نہیں ہو سکتا کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا نور ،نور خداوندی کا جز ء اور حصہ ہے پھر اس روایت میں اہل ایمان کی تخلیق آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے نورسے ذکر کی گئی ،اگر جزئیت کا مفہوم لیا جائے تو لازم آئیگا کہ تمام اہل ایمان نور خداوندی کا جزء ہوں اس قسم کی روایت کی عارفانہ تشریح کی جاسکتی ہے ،جیساکہ امام ربانی نے کی ہے ، مگر ان پرعقائد کی بنیاد رکھنا اور آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کو نصوص قطعیہ کے علی الرغم نوع انسان سے خارج کردینا کسی طرح بھی جائز نہیں ۔
تیسری بات جو آپ نے حضرت مجدد سے نقل کی ہے اول تو وہ ان دقیق علوم ومعارف میں سے ہے کہ جو عقول متوسطہ سے بالاتر ہیں اور جن کا تعلق علوم مکاشفہ سے ہے ،جوحضرات تصفیہ و تزکیہ اور نور باطن کے عالی ترین مقامات پر فائز ہوں وہی ان کے افہام وتفہیم کی صلاحیت رکھتے ہیں ،عام لوگ ان دقیق علوم کو سمجھنے سے قاصر ہیں ان لوگوں کو اگر ظاہر شریعت سے کچھ مس ہوگا تو ان اکابر کی شان میں گستاخی کریں گے (جس کا مشاہدہ اس زمانے میں خوب خوب ہورہا ہے، اور جن لوگوں کو ان اکابر سے عقیدت ہو گی وہ ظاہر شریعت اور نصوص قطعیہ کو پس پشت ڈال کر الحاد وزندقہ کی وادیوں میں بھٹکاکریں گے ،فإن الجاھل اما مفرِط واما مفرِّط،اس لئے اکابر کی وصیت یہ ہے کہ :
نکتہ ہاں چوں تیغ پولاد است تیز
چوں نداری تو سپر واپس گریز
پیش ایں الماس بے اسپر میا
گزبریدن تیغ رانبودحیا
چہ شبہا نسشتم دریں سیر گم
کہ دہشت گرفت آستینم کہ قم
محیط است علم ملک بر بسیط
قیاس تو بروے نہ گردد محیط
نہ ادراک در کنہ ذاتش رسد
نہ فکرت بغور صفاتش رسد
دوسرے ،آپ نے حضرت مجدد  کا حوالہ نقل کرنے میں خاصے اختصار سے کام لیا ہے جس سے فہم مرادمیں التباس پیدا ہوتا ہے ،حضرت مجدد  فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی تخلیق حق تعالیٰ کے علم اضافی سے ہوئی ہے ۔
ومشہورمی گردد کہ علم جملی کہ ازصفات اضافیہ گشتہ است نوریست کہ درنشأة عنصری بعد از انصبا ب از اصلاب بارحام متکثرہ بمقتضائے حِکَم ومصالح بصورت انسانی کہ احسن تقویم ست ظہور نمودہ است ومسمی بہ محمدواحمد شدہ۔(۲۵)
”اور ایسا نظر آتا ہے کہ علم اجمالی جو کہ صفات اضافیہ میں سے ہوگیا ہے ایک نور ہے جو کہ نشأة عنصری میں بہت سی پشتوں اور رحموں میں منتقل ہو ا، حکم ومصالح کے تقاضے سے انسانی صورت میں جلوہ گر ہوا اور محمد واحمد کے پاک ناموں سے موسوم ہوا ا “۔
حضرت امام ربانی کے اقتباس سے مندرجہ ذیل امور واضح ہوئے ۔
۱: آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی تخلیق حق تعالیٰ کے علم اجمالی سے صفت اضافیہ کے مرتبہ میں ہوئی ۔
۲: یہ صفت اضافیہ ایک نور تھا جس کو انسانی قالب عطاکیاگیا ۔
۳: چونکہ انسانی صورت سب سے خوبصورت سانچہ ہے اسلئے حکمت خداوندی کاتقاضا ہواکہ آپ کو انسان اور بشر کی حیثیت سے پیدا کیاجائے ،اگر بشری ڈھانچے سے بہتر کوئی اور قالب ہوتا تو آنحضرت ا کو کبھی انسانی شکل میں پیدا نہ کیاجاتا ،اس سے واضح ہے کہ حضرت امام ربانی  آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی بشریت کے منکر نہیں ،اور نہ وہ نور ، بشریت کے منافی ہے جس کا وہ اثبات فرمارہے ہیں۔
آپ نے”رسالہ التوسل“ اور” تفسیر کبیر“ کے حوالے سے لکھا ہے کہ آیت کریمہ ،قد جاء کم من الله نور وکتاب مبین،میں نورسے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی ذات گرامی مراد ہے اس آیت میں نور کی تفسیر میں تین قول ہیں :
ایک یہ کہ: اس سے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم مراد ہیں ۔
دوم یہ کہ : اسلام مراد ہے ۔
اور سوم یہ کہ : قرآن کریم مراد ہے، اس قول کو امام رازینے اس بناء پر کمزور کہا ہے کہ معطوفین میں تغایر ضروری ہے ،لیکن یہ دلیل بہت کمزور ہے ،بعض اوقات ایک چیز کی متعدد صفات کو بطور عطف ذکر کردیا جاتا ہے، چنانچہ حضرت حکیم الامت تھانوی نے”بیان القرآن“میں اسی کو اختیار کیا ہے۔
بہرحال نور سے مراد آنحضرت صلی الله علیہ وسلم ہوں یا اسلام ہو،یاقرآن کریم، بہرصورت یہاں نور سے نور ہدایت ہے، جس کا واضح قرینہ آیت کاسیاق ہے۔

یھدی بہ الله من اتبع رضوانہ سبل السلام ویخرجھم من الظلمت إلی النور بإذنہ ویھدیھم إلی صراط مستقیم (المائدة : ۱۶)
اس کے ذریعہ سے الله تعالیٰ ایسے شخصوں کو ،جو رضائے حق کے طالب ہوں سلامتی کی راہیں بتلاتے ہیں (یعنی جنت میں جانے کے طریقے کہ عقائد واعمال خاصہ ہیں، تعلیم فرماتے ہیں ،کیونکہ پوری سلامتی بدنی وروحانی جنت ہی میں نصیب ہوگی)اور ان کو اپنی توفیق (اور فضل )سے(کفر ومعصیت کی ) تاریکیوں سے نکال کر (ایمان وطاعت کے) نور کی طرف لے آتے ہیں اور ان کو (ہمیشہ) راہ راست پر قائم رکھتے ہیں (بیان القرآن )۔
امام رازی فرماتے ہیں :

وتسمیة محمد والاسلام والقرآن بالنور ظاہرة لان النور الظاہر ھوالذی یتقوی بہ البصر علی ادراک الاشیاء الظاہرة ،والنور الباطن ایضاً ھوالذی تتقوی بہ البصیرة علی ادراک الحقائق والمعقولات ۔(۲۶)
آنحضرت صلی الله علیہ وسلم اور اسلام اور قرآن کو نور فرمانے کی وجہ ظاہر ہے ، کیونکہ ظاہری روشنی کے ذریعہ آنکھیں ظاہری اشیاء کو دیکھ پاتی ہیں ،اسی طرح نورباطن کے ذریعہ بصیرت حقائق ومعقولات کا ادراک کرتی ہے ۔
علامہ نسفی”تفسیر مدارک“میں لکھتے ہیں :

”أوالنور، محمد صلی الله علیہ وسلم لانہ یھتدی بہ کما یسمی سراجا۔“(۲۷)
”یانور سے مراد آنحضرت صلی الله علیہ وسلم ہیں کیونکہ آپ صلی الله علیہ وسلم کے ذریعہ ہدایت ملتی ہے ،جیساکہ آپ صلی الله علیہ وسلم کو چراغ کہاگیا ہے ۔“
قریب قریب یہی مضمون تفسیر خاز ن،تفسیربیضاوی،تفسیرصاوی،روح البیان اور دیگر تفاسیر میں ہے۔
اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے میں نے لکھا تھا:جس طرح آپ صلی الله علیہ وسلم اپنی نوع کے اعتبار سے بشر ہیں اسی طرح آپ صلی الله علیہ وسلم صفت ہدایت کے لحاظ سے ساری انسایت کے لئے مینارہٴ نور ہیں ،یہی نور ہے جس کی روشنی میں انسانیت کو خداتعالیٰ کا راستہ مل سکتا ہے اور جس کی روشنی ابد تک درخشندہ وتابندہ رہے گی ،لہٰذا میرے عقیدے میں آپ بیک وقت نور بھی ہیں اور بشر بھی ۔میری ان تمام معروضات کاخلاصہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی بشریت دلائل قطعیہ سے ثابت ہے اس لئے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے لئے نور کی صفت ثابت کرتے ہوئے آپ صلی الله علیہ وسلم کو انسانیت اور بشریت کے دائرے سے خارج کردینا ہرگز صحیح نہیں ،جس طرح آپ صلی الله علیہ وسلم کی رسالت ونبوت کا اعتقاد لازم ہے اسی طرح آپ کی انسانیت وبشریت کاعقیدہ بھی لازم ہے چنانچہ میں ”فتاوی عالمگیری“کے حوالے سے یہ نقل کر چکاہوں :

ومن قال لا ادری ان النبی صلی الله علیہ وسلم کان انسیا اوجنیا یکفر کذا فی الفصول العمادیة (۲۸)
اور جو شخص یہ کہے کہ میں نہیں جانتا کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم انسان تھے یا جن ،وہ کافر ہے ۔

والله اعلم


کتبہ : محمد یوسف لدھیانوی


بینات - محرم الحرام ۱۴۰۲ھ بمطابق نومبر ۱۹۸۱ء


جلد:۴۰، شمارہ:۱ ص: ۲۱،-۳۹




حوالہ جات
___________________________________________________________________
(۱) عقید الجید (عربی متن مع اردو ترجمہ) الباب الثالث-ص۵۴-ط: محمد سعید اینڈ سنزکراچی
(۲) نشر الطیب فی ذکر النبی الحبیب-پہلی فصل نور محمدی کے بیان میں -۱۰ تا ۱۲-ط: انتظامی کانپور․فروری ۱۹۱۵ء
(۳) امداد السلوک -لم نطلع علی طبع جدید․
(۴) مکتوبات امام ربانی مجدد الف ثانی (فارسی) دفترسوم - حصہ نہم -مکتوب ۱۰۰-مجلد ۲ ص ۷۵-ط: ایچ ایم سعید ۔ کراچی، ۱۳۹۲ھ
وایضا المکتوبات الربانیة (عربی) المکتوب۵۱۲- إلی الشیخ نور الحق فی کشف سر محبة یعقوب لیوسف علیھم السلام خاتم حسنة فی بیان الحسن والجمال المحمدیین علی صاحبھما السلام - ۳/۳۵۱- دار الکتب العلمیة بیروت الطبعة الأولیٰ۱۴۲۴ھبمطابق ۲۰۰۴ء
(۵) لم نطلع علی اصل الرسالة ۔(مرتب)
(۶) التفسیر الکبیر للإمام الرازی - ۳/۳۸۲-ط: مطبعة خیریة ۱۳۰۸ھ․
(۷) مشکوة المصابیح -باب فضائل سید المرسلین -۵۱۱،۵۱۳-ط:قدیمی ۱۳۶۸ھ
(۸) شرح العقائد النسفیة مع حاشیة الخیالی-ص۳۰-ط: مصطفی البابی الحلبی ․
(۹) الصحیح لمسلم-باب من لعنہ النبی صلی الله علیہ وسلم او سبہ :۲/۳۲۳-ط:قدیمی․الطبعة الثانیہ ۱۳۷۵ھ بمطابق ۱۹۵۶ء
(۱۰) المرجع السابق ا -۲/۳۲۴․
(۱۱) نفس المرجع السابق․
(۱۲) المرجع السابق ․
(۱۳) صحیح البخاری - ابواب المظالم والقصاص، باب اثم من خاصم فی باطل وھو یعلمہ، -۱/۳۳۲-ط: قدیمی کتب خانہ۔
الصحیح لمسلم - باب بیان ان حکم الحاکم لالغیرالباطن -۲/۷۴-واللفظ لمسلم-ط:قدیمی․الطبعة الثانیہ ۱۳۷۵ھ بمطابق ۱۹۵۶ء۔
(۱۴) صحیح البخاری،کتاب الصلوة،باب التوجہ نحو القبلةحیث کان:۱/۵۸،ط: قدیمی․الطبعة الثانیہ۱۳۸۱ھ بمطابق ۱۹۶۱ء۔
الصحیح لمسلم -باب سجودالسھوفی الصلوٰة-۱/۲۱۲۔۲۱۳․ الطبعة الثانیہ ۱۳۸۱ھ بمطابق ۱۹۶۱ء
(۱۵) الصحیح لمسلم -باب وجوب امتثال ماقالہ شرعا…الخ-۲/-۲۶۴ ط: قدیمی، الطبعة الثانیہ ۱۳۷۵ھ بمطابق ۱۹۵۶ء۔
(۱۶) الصحیح لمسلم -باب من فضائل علی بن ابی طالب -۲/۲۷۹․ط: قدیمی۔
(۱۸) اختلاف امت اور صراط مستقیم ازحضرت مولانامحمدیوسف لدھیانوی شہید-دیوبندی بریلوی اختلاف-نور وبشر- ۱/۳۹-ط:مکتبہ لدھیانوی․
(۱۹) الشفاء بتعریف حقوق المصطفی صلی الله علیہ وسلم-للإمام القاضی عیاض -القسم الثانی فیما یخصھم فی الامورالدنیویة- ۲/۱۵۸،۱۵۹․
(۲۰) المرجع السابق․
(۲۱) نشر الطیب فی ذکر النبی الحبیب -ص:۱۱-الفصول ،پہلی فصل، نور محمدی کے بیان میں “ ۔ ط:انتظامی کانپور ۱۹۱۵ء۔
(۲۲) ارشادالملوک ترجمہ امدادالسلوک ، از حضرت مولاناعاشق الہٰی میرٹھی رحمہ الله، ص۱۱۴،۱۱۵(لم نطلع علیٰ اصل النسخة ۔ والله اعلم -مرتب)
(۲۳) مشکوة المصابیح -باب فی اخلاقہ وشمائلہ صلی الله علیہ وسلم -الفصل الثانی-ص۵۲۰․
(۲۴) فتاوی رشیدیہ -کتاب التفسیر والحدیث-ص۱۵۲-ط:محمدسعیداینڈسنزکراچی․
(۲۵) مکتوبات امام ربانی مجددالف ثانی شیخ احمد سرھندی-دفترسوم -مکتوب صدم -۳/۷۵ خاتمہ حسنہ درمیان حسن وجمال-ط:ایچ ، ایم سعید کراچی، الطبعة الثانیہ ،۱۳۹۲ء۔
(۲۶) التفسیر الکبیر للامام الرازی-۱۱/۱۹۰- ط: الطبعة الثالثة ایران ۔
(۲۷) تفسیر المدارک للإمام أبی البرکات النسفی المتوفیٰ (۷۱۰ھ)-سورة المائدة :۱۶- ۱/۴۳۶- مکتبة رحمانیہ لاھور۔
(۲۸) الفتاوی الھندیة -کتاب السیر -الباب التاسع فی احکام المرتدین -مطلب موجبات الکفر انواع -منھا مایتعلق بالانبیاء-۲/۲۶۳-ط: ماجدیہ کوئٹہ ۔ الطبعة الثانیہ ۱۴۰۳ھ بمطابق ۱۹۸۳ء۔
وکذا فی البحر الرائق -لابن نجیم -باب احکام المرتدین -۵/۱۲۱- ط:ایچ ایم سعید۔

mannan Offline
#104 Posted : Friday, March 11, 2011 3:25:32 PM(UTC)

Rank: KP Expert

Groups: Member, Moderators
Joined: 1/20/2009(UTC)
Posts: 384
Points: 1,064
Woman
Location: LONDON

Was thanked: 5 time(s) in 5 post(s)
سوال
محترم مفتی صاحب
! السلام علیکم ورحمةالله وبرکاتہ
قاضی ابوبکر ابن العربی ۴۶۸ھ تا ۵۴۳ھ اپنی کتاب ”العواصم من القواصم“ کے ایک باب میں رقم طرازہیں۔
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ایک کمر توڑ حادثہ تھا۔ اور عمر بھر کی مصیبت۔ کیونکہ حضرت علی حضرت فاطمہ کے گھر میں چھپ کر بیٹھ گئے“،
”اور حضرت علی اور حضرت عباس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کے دوران اپنی الجھن میں پڑگئے۔ حضرت عباس نے حضرت علی سے کہا کہ موت کے وقت بنی عبد المطلب کے چہروں کی جو کیفیت ہوتی ہے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کی دیکھ رہا ہوں۔ سو آؤ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ لیں اور معاملہ ہمارے سپرد ہوتو ہمیں معلوم ہوجائے گا“۔
”پھراس کے بعد حضرت عباس اور حضرت علی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ترکہ میں اُلجھ گئے وہ فدک، بنی نضیر اورخیبر کے ترکہ میں میراث چاہتے تھے“۔
ائمہ حدیث کی روایت کے مطابق حضرت عباس رضی الله عنہ نے حضرت علی(رضی الله عنہ)کے متعلق کہا تھا کہ جب حضرت عباس رضی الله عنہ اور علی رضی الله عنہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوقاف کے بارے میں حضرت عمررضی الله عنہ کے پاس اپنا جھگڑا لے کر آئے تو حضرت عباس رضی الله عنہ نے حضرت عمر رضی الله عنہ سے کہا: ”اے امیر المومنین میرے اور اس………… کے درمیان فیصلہ کرادیں“۔
دیگر جگہ پر ہے کہ آپس میں گالی گلوچ کی……“۔(ابن حجر،فتح الباری)
”حضرت علی بن ابی طالب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آخری بیماری میں مبتلا تھے لوگوں نے آپ سے پوچھا کہ اے ابوالحسن!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت کیسی ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ اب آپ پہلے سے اچھی حالت میں ہیں۔ تو حضرت عباس نے حضرت علی کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا:”خدا کی قسم تین روز کے بعد آپ پر لاٹھی کی حکومت ہوگی۔ مجھے معلوم ہورہاہے کہ اس بیماری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات عنقریب ہونے والی ہے۔ کیونکہ بنی عبد المطلب کے چہروں کی جو کیفیت موت کے وقت ہوتی ہے وہ مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معلوم ہورہی ہے۔ آؤ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلیں اور آپ سے پوچھ لیں کہ آپ کے بعد خلیفہ کون ہوگا؟ آپ ہمیں خلافت دے جائیں توبھی ہمیں معلوم ہوجائے اور اگر آپ کسی اور کو خلافت دے دیں تو پھر ہمارے متعلق اس کو وصیت کرجائیں“توحضرت علی نے کہا ”خدا کی قسم اگر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کریں اور آپ ہم کو نہ دیں تو پھر لوگ ہم کو کبھی نہ دیں گے اور میں تو خدا کی قسم اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہرگز سوال نہ کروں گایہ حدیث صحیح بخاری کتاب المغازی اور” البدایہ والنہایہ“ میں ابن عباس سے مروی ہے اور امام احمد نے اپنی مسند میں روایت کیاہے۔
سوالات:
۱…حضرت علی(رضی الله عنہ)چھپ کر کیوں بیٹھ گئے تھے؟
۲…کیا ان دونوں کو مال و دولت کی اس قدر حرص تھی کہ بار بار ترکہ مانگتے تھے جبکہ ان کو حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے علم کرادیا تھا کہ اس مال کی حیثیت ترکے کی نہیں۔ تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔
۳…یہ جھگڑا ان دونوں کو نہ صرف مال ودولت کا حریص ثابت کرتاہے بلکہ اخلاقی پستی کی طرف بھی اشارہ ملتاہے کیونکہ گالی گلوچ شرفاء کا وطیرہ نہیں……………“۔
۴…”تین روز کے بعد آپ پر لاٹھی کی حکومت ہوگی“۔ اس عبارت کو واضح کریں۔
۵…حضرت عباس کو کیسی فکر پڑی ہے کہ خلافت ملے، نہ ملے تو وصیت ہی ہوجائے کہ ان کے مفادات محفوظ ہوجائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری اور وفات کا صدمہ اگر غالب ہوتا تو یہ خیالات اور یہ کاروائیاں کہاں ہوتیں؟
۶…خط کشیدہ الفاظ سے تو حضرت علی کاارادہ یہی ظاہر ہوتاہے کہ خواہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انکار ہی کیوں نہ کردیں ،انہیں خلافت درکار ہے اور یہ بھی کہ انہیں احتمال یہی تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منع فرمادیں گے اسی لئے کہتے ہیں کہ میں نہ سوال کروں گا(اور بعد میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے بعد اس خلافت کو حاصل کرونگا) خط کشیدہ الفاظ اگر یہ مفہوم ظاہر نہیں کرتے تو پھر کیا ظاہر کرتے ہیں؟ امید ہے کہ جواب جلد ارسال فرمائیں گے .

فقط والسلام


محمد ظہور الاسلام


جواب
سوالات پر غور کرنے سے پہلے چند امور بطور تمہید عرض کردینا مناسب ہے۔
اول: اہل حق کے نزدیک صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی کی تحقیر وتنقیص جائز نہیں۔ بلکہ تمام صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین کو عظمت ومحبت سے یاد کرنا لازم ہے۔ کیونکہ یہی اکابر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور امت کے درمیان واسطہ ہیں۔امام اعظم اپنے رسالہ ”فقہ اکبر“میں فرماتے ہیں:

”ولانذکر الصحابة(وفی نسخة ولا نذکر احدا من اصحاب رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ) الابخیر“۔ (۱)
”اور ہم صحابہ کرام کو (…اور ایک نسخہ میں ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کسی کو)خیر کے سوایاد نہیں کرتے“۔
امام طحاوی اپنے”عقیدہ“میں فرماتے ہیں:

”ونحب اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ولا نفرط فی حب احد منھم ولا نتبرأ من أحد منھم ونبغض من یبغضھم وبغیر الخیر یذکرھم ولانذکرھم إلا بخیر وحبھم دین وایمان واحسان۔ وبغضھم کفر ونفاق وطغیان“۔ (۲)
”اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ سے محبت رکھتے ہیں۔ ان میں سے کسی کی محبت میں افراط و تفریط نہیں کرتے۔ اور نہ کسی سے برأت کا اظہار کرتے ہیں۔ اور ہم ایسے شخص سے بغض رکھتے ہیں جو ان میں سے کسی سے بغض رکھے یا ان کو نارواالفاظ سے یاد کرے۔اور ہم ان کا ذکر بھلائی کے ساتھ ہی کرتے ہیں ان سے محبت رکھنا دین وایمان اور احسان ہے۔ اور ان سے بغض رکھنا کفرونفاق اور طغیان ہے“۔
امام ابوزرعہ عبید اللہ بن عبد الکریم الرازی (المتوفی ۲۶۴ھ)کا یہ ارشاد بہت سے اکابر نے نقل کیاہے کہ:

”اذارأیت الرجل ینتقص احدا من اصحاب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فاعلم انہ زندیق۔ لان الرسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم عندنا حق۔ والقرآن حق ،وانما ادی الینا ھذا القراٰن والسنن، اصحابُ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وانما یریدون ان یجرحوا
شھودنا لیبطلوا الکتاب والسنة والجرح بھم اولیٰ، وھم زنادقة“۔ (۳)
”جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کسی کی تنقیص کرتاہے تو سمجھ لوکہ وہ زندیق ہے۔ اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے نزدیک حق ہیں۔ اور قرآن کریم حق ہے۔ اور قرآن کریم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات ہمیں صحابہ کرام نے ہی پہنچائے ہیں،یہ لوگ صحابہ کرام پر جرح کرکے ہمارے دین کے گواہوں کو مجروح کرنا چاہتے ہیں تاکہ کتاب و سنت کو باطل کر دیں۔ حالانکہ یہ لوگ خود جرح کے مستحق ہیں۔ کیونکہ وہ خود زندیق ہیں“۔
یہ تو عام صحابہ کرام علیہم الرضوان کے بارے میں اہل حق کا عقیدہ ہے جبکہ حضرت عباس اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کا شمار خواص صحابہ میں ہوتاہے۔ حضرت عباس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ”عمی وصنوابی“ فرمایا کرتے تھے۔ یعنی ”میرے چچا اور میرے باپ کی جگہ“ ۔ اور ان کا بے حد اکرام فرماتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے وسیلہ سے استسقاء(بارش کی دعاء)کرتے تھے۔ ان کے علاوہ حدیث کی کتابوں میں ان کے بہت سے فضائل ومناقب وارد ہیں۔اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے فضائل و مناقب تو حد شمار سے خارج ہیں۔ ان کے دیگر فضائل سے قطع نظر وہ اہل حق کے نزدیک خلیفہٴ راشد ہیں۔
قاضی ابوبکر بن العربی”العواصم من القواصم“میں جس کے حوالے آپ نے سوال میں درج کئے ہیں لکھتے ہیں:

”وقُتل عثمان، فلم یبق علی الأرض احق بھا من علی۔فجاء تہ علی قدر فی وقتھا ومحلھا۔ وبیَّن اللہ علی یدیہ من الاحکام والعلوم ما شاء اللہ ان یبین۔ وقد قال عمر:”لو لا علی لھلک عمر“۔ وظھر من فقھہ وعلمہ فی قتال اھل القبلة من استد عائھم ومناظرتھم۔وترک مبادرتھم والتقدم الیھم قبل نصب الحرب معھم۔ وندائہ: لانبدأ بالحرب۔ ولا یتبع مولّ ولا یجھز علی جریح ولا تھاج امراة ولا نغنم لھم مالاً وامرہ بقبول شھادتھم والصلوة خلفھم حتی قال اھل العلم: لو لا ماجری ما عرفنا قتال اھل البغي“۔ (۴)
”اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو روئے زمین پر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر کوئی خلافت کا مستحق نہیں تھا، چنانچہ نوشتہٴ الہٰی کے مطابق خلافت انہیں اپنے ٹھیک وقت میں ملی۔ اور برمحل ملی۔ اور ان کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ نے ان احکام وعلوم کا اظہار فرمایا جو اللہ تعالیٰ کو منظور تھا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا“۔ ”اگر علی نہ ہوتے توعمر ہلاک ہوجاتا“۔اور اہل قبلہ سے قتال میں ان کے علم وتفقہ میں سے بہت سے امور ظاہر ہوئے۔ مثلاً انہیں دعوت دینا۔ ان سے بحث ومناظرہ کرنا، ان سے لڑائی میں پہل نہ کرنا۔ اور ان سے جنگ کرنے سے قبل یہ اعلان کرنا کہ ہم جنگ میں ابتداء نہیں کریں گے، بھاگنے والے کا تعاقب نہیں کیا جائے گا، کسی زخمی کو قتل نہیں کیاجائے گا، کسی خاتون سے تعرض نہیں کیاجائے گا، اور ہم ان کے مال کو غنیمت نہیں بنائیں گے۔ اور آپ کا یہ حکم فرمانا کہ اہل قبلہ کی شہادت مقبول ہوگی۔ اور ان کی اقتداء میں نماز جائز ہے وغیرہ، حتی کہ اہل علم کا قول ہے کہ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اہل قبلہ سے قتال کے یہ واقعات پیش نہ آتے تو ہمیں اہل بغی کے ساتھ قتال کی صورت ہی معلوم نہ ہوسکتی“۔
پس جس طرح ایک نبی کی تکذیب پوری جماعت انبیاء کرام علیہم السلام کی تکذیب ہے۔ کیونکہ یہ دراصل وحی الہٰی کی تکذیب ہے۔ ٹھیک اسی طرح کسی ایک خلیفہٴ راشد کی تنقیص خلفائے راشدین کی پوری جماعت کی تنقیص ہے۔ کیونکہ یہ دراصل خلافت نبوت کی تنقیص ہے۔اسی طرح جماعت صحابہ میں سے کسی ایک کی تنقیص وتحقیر پوری جماعت صحابہ کی تنقیص ہے کیونکہ یہ دراصل صحبت نبوت کی تنقیص ہے۔ اسی بناء پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”اللّٰہ اللّٰہ فی اصحابی لا تتخذوھم غرضا بعدی فمن احبھم فبحبی احبھم ومن ابغضھم فببغضی ابغضھم“۔ (۵)
”میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو۔ ان کو میرے بعد ہدف ملامت نہ بنالینا پس جس نے ان سے محبت کی تو میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی۔ اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض کی وجہ سے اُن سے بغض رکھا“۔
خلاصہ یہ ہے کہ ایک مسلمان کے لئے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت رکھنااورانہیں خیر کے ساتھ یاد کرنا لازم ہے۔ خصوصًاحضرات خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم جنہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نیابتِ نبوت کا منصب حاصل ہوا۔ اسی طرح وہ صحابہ کرام جن کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ عالی میں مُحب ومحبوب ہونا ثابت ہے، ان سے محبت رکھنا حب نبوی کی علامت ہے۔ اس لئے امام طحاوی اس کو دین وایمان اور احسان سے تعبیر فرماتے ہیں۔ اور ان کی تنقیص وتحقیر کو کفر ونفاق اور طغیان فرماتے ہیں۔
دوم: ایک واقعہ کے متعدد اسباب وعلل ہوسکتے ہیں۔ اور ایک قول کی متعدد توجیہات ہوسکتی ہیں۔ اس لئے ہمیں کسی واقعہ پر گفتگو کرتے ہوئے یا کسی کے قول کی توجیہہ کرتے ہوئے صاحب واقعہ کی حیثیت ومرتبہ کو ملحوظ رکھنا لازم ہوگا۔مثلاً ایک مسلمان یہ فقرہ کہتا ہے کہ مجھے فلاں ڈاکٹر سے شفا ہوئی تو قائل کے عقیدہ کے پیش نظر اس کو کلمہٴ کفر نہیں کہاجائے گا۔ لیکن یہ فقرہ اگر کوئی دہریہ کہتا ہے تو یہ کلمہ کفر ہوگا۔ یا مثلاً کسی پیغمبر کی توہین وتذلیل اور اس کی ڈاڑھی نوچنا کفر ہے لیکن جب ہم یہی واقعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں پڑھتے ہیں تو ان کی شان وحیثیت کے پیش نظر کسی کو اس کا وسوسہ بھی نہیں آتا۔
سوم: جس چیز کو آدمی اپنا حق سمجھتا ہے اس کا مطالبہ کرنا، نہ کمال کے منافی ہے اور نہ اسے حرص پر محمول کرنا صحیح ہے۔ انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بڑھ کر کون کامل ومخلص ہوگا۔ لیکن حقوق میں بعض اوقات ان کے درمیان بھی منازعت کی نوبت آتی تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے درمیان فیصلے فرماتے تھے۔ مگرنہ اس پر نکیر فرماتے تھے کہ یہ منازعت کیوں ہے؟ اور نہ حق طلبی کو حرص کہاجاتاہے۔
چہارم: اجتہادی رائے کی وجہ سے فہم میں خطا ہوجانا لائق مواخذہ نہیں۔ اور نہ یہ کمال واخلاص کے منافی ہے۔ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام باجماع اہل حق معصوم ہیں مگر اجتہادی خطا کا صدور ان سے بھی ممکن ہے، لیکن ان پر چونکہ وحی الہٰی اور عصمت کا پہرہ رہتاہے اس لئے انہیں خطاء اجتہادی پر قائم نہیں رہنے دیاجاتا۔ بلکہ وحی الہٰی فوراً انہیں متنبہ کردیتی ہے۔ انبیاء کرام علیہم السلام کے علاوہ دیگر کاملین معصوم نہیں۔ان سے خطائے اجتہادی سرزد ہوسکتی ہے۔ اور ان کا اس پر برقراررہنا بھی ممکن ہے۔ البتہ حق واضح ہوجانے کے بعد وہ حضرات بھی اپنی خطائے اجتہادی پر اصرار نہیں فرماتے بلکہ بغیر جھجھک کے اس سے رجوع فرمالیتے ہیں۔
پنجم: رائے کا اختلاف ایک فطری امر ہے اور کاملین ومخلصین کے درمیان اختلاف رائے کی وجہ سے کشاکشی اور شکر رنجی پیداہوجانا بھی کوئی مستبعد امر نہیں بلکہ روز مرہ کا مشاہدہ ہے، قیدیان بدر کے قتل یا فدیہ کے بارے میں حضرت ابوبکروحضرت عمر( رضی اللہ عنہما)کے درمیان شرعًا وعقلاً جو اختلاف رائے ہوا وہ کس کو معلوم نہیں‘ لیکن محض اس اختلاف رائے کی وجہ سے کسی کا نام دفتر اخلاص وکمال سے نہیں کاٹاگیا‘ باوجودیکہ وحی الہٰی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تائید کی اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی رائے پر…جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید حاصل تھی…رحیمانہ عتاب بھی ہوا مگر کون کہہ سکتاہے کہ اس کی وجہ سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے فضل وکمال اور صدیقیت کبریٰ میں کوئی ادنیٰ فرق بھی آیا اسی طرح بنوتمیم کا وفد جب بارگاہِ نبوی میں حاضر ہوا تو اس مسئلہ پر کہ ان کا رئیس کس کو بنایا جائے، حضرات شیخین رضی اللہ عنہما کے درمیان اختلاف رائے ہوا، جس کی بناء پر دونوں کے درمیان تلخ کلامی تک نوبت پہنچی، اور سورة حجرات کی ابتدائی آیات اس سلسلہ میں نازل ہوئیں اس کے باوجود ان دونوں بزرگوں کے قرب ومنزلت اور محبوبیت میں کوئی فرق نہیں آیا۔
الغرض اس کی بیسیوں نظیریں مل سکتی ہیں کہ انتظامی امور میں اختلاف رائے کی بناء پر کشاکشی اور تلخی تک نوبت آسکتی ہے مگر چونکہ ہر شخص اپنی جگہ مخلص ہے اس لئے یہ کشاکشی ان کے فضل وکمال میں رخنہ انداز نہیں سمجھی جاتی۔
ششم: حکومت وامارت ایک بھاری ذمہ داری ہے اور اس سے عہدہ برآ ہونا بہت ہی مشکل اور دشوار ہے اس لئے جو شخص اپنے بارے میں پورا اطمینان نہ رکھتا ہوکہ وہ اس عظیم ترین ذمہ داری سے عہدہ برآ ہوسکے گا یا نہیں اس کے لئے حکومت وامارت کی طلب شرعاً وعرفاً مذموم ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:

”انکم ستحرصون علی الأمارة وستکون ندامة یوم القیامة فنعم المرضعة وبئست الفاطمة “۔ (۶)
”بے شک تم امارت کی حرص کرو گے اور عنقریب یہ قیامت کے دن سراپا ندامت ہوگی۔ پس یہ دودھ پلاتی ہے تو خوب پلاتی ہے۔ اور دودھ چھڑاتی ہے تو بری طرح چھڑاتی ہے“۔
لیکن جو شخص اس کے حقوق ادا کرنے کی اہلیت وصلاحیت رکھتا ہو اس کے لئے اس کا مطالبہ شرعاً وعقلاً جائز ہے۔ اور اگر وہ کسی خیر کا ذریعہ ہوتو مستحسن ہے۔ سیدنایوسف علیہ السلام کا ارشاد قرآن کریم میں نقل کیا ہے کہ انہوں نے شاہ مصر سے فرمایا تھا:

”اجعلنی علی خزائن الأرض انی حفیظ علیم“۔(یوسف:۵۵)
”ملکی خزانوں پر مجھ کو مامور کردو۔ میں ان کی حفاظت رکھوں گا۔ اور خوب واقف ہوں“۔
اور قرآن کریم ہی میں سید نا سلیمان علیہ الصلوٰة والسلام کی یہ دعا بھی نقل کی گئی ہے:

”رب اغفرلی وھب لی ملکا لا ینبغی لاحد من بعدی انک انت الوھاب“۔ (صٓ:۳۵)
”اے میرے رب میرا(پچھلا) قصور معاف کر اور (آئندہ کے لئے)مجھ کو ایسی سلطنت دے کہ میرے سوا(میرے زمانہ میں)کسی کو میسر نہ ہو“۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خلافت و نیابت‘ جسے اسلام کی اصطلاح میں ”خلافت راشدہ“ کہا جاتاہے۔ ایک عظیم الشان فضیلت ومنقبت اور حسب ذیل وعدہ الہٰی کی مصداق ہے:

”وعد الله الذین اٰمنوامنکم وعملوا الصٰلحٰت لیستخلفنّھم فی الارض کما استخلف الذین من قبلھم ولیمکنّن لھم دینھم الذی ارتضی لھم ولیبدّلنّھم من بعد خوفھم امنا۔ یعبدوننی لا یشرکون بی شیئا“۔(النور:۵۵)
”(اے مجموعہ امت) تم میں جو لوگ ایمان لاویں اور نیک عمل کریں ان سے اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتاہے کہ کہ ان کو (اس اتباع کی برکت سے)زمین میں حکومت عطا فرمائے گا۔ جیساان سے پہلے (اہل ہدایت) لوگوں کو حکومت دی تھی۔ اور جس دین کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے پسند کیا (یعنی اسلام) اس کو ان کے (نفع آخرت)کے لئے قوت دے گا۔ اور ان کے اس خوف کے بعد اس کو مبدل بامن کردے گا۔ بشرطیکہ وہ میری عبادت کرتے رہیں اور میرے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کریں“۔ (بیان القرآن)
جو شخص اس خلافت کی اہلیت رکھتا ہو اس کے لئے اس کے حصول کی خواہش مذموم نہیں۔ بلکہ اعلیٰ درجہ کے فضل وکمال کو حاصل کرنے کی فطری خواہش ہے۔ حدیث میں ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہٴ خیبر میں یہ اعلان فرمایا کہ ”میں یہ جھنڈا کل ایک ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ااس سے محبت رکھتے ہیں” تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ہر شخص اس فضیلت کو حاصل کرنے کا خواہشمند تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

”ماأحببت الامارة الا یومئذ۔قال:فتساورت لھارجاء أن أدعیٰ لھا۔ قال: فدعارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی بن أبی طالب فأعطاہ إیاھا “۔ (۷)
”میں نے اس دن کے سوا امارت کو کبھی نہیں چاہا۔ پس میں اپنے آپ کو نمایاں کررہا تھا۔ اس امید پر کہ میں اس کے لئے بلایا جاؤں۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو طلب فرمایا اور وہ جھنڈا ان کو عنایت فرمایا“۔
ظاہر ہے کہ اس موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا یہ خواہش کرنا کہ امارت کا جھنڈا انہیں عنایت کیا جائے اس بشارت اور اس فضیلت کو حاصل کرنے کے لئے تھا۔ شیخ محی الدین نووی اس حدیث کے ذیل میں لکھتے ہیں:

”انما کانت محبتہ لھا لما دل علیہ الامارة من محبتہ للہ ولرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ومحبتھما لہ والفتح علی یدیہ“۔(۸)
”حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اس دن یا رات کی محبت وخواہش کرنا اس وجہ سے تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے محب ومحبوب ہونے کی دلیل تھی۔ اور اس شخص کے ہاتھ پر فتح ہونے والی تھی“۔
الغرض خلافتِ نبوت ایک غیر معمولی شرف، امتیاز اور مجموعہٴ فضائل وخواص ہے۔ جو حضرات اس کے اہل تھے اور انہیں اس کا پورا اطمینا ن تھا کہ وہ اس کے حقوق ان شاء اللہ پورے طور پر ادا کرسکیں گے ان کے دل میں اگر اس شرف وفضیلت کے حاصل کرنے کی خواہش ہو تو اس کو ”خواہش اقتدار“ سے تعبیر کرنا جائز نہیں ہوگا۔ بلکہ یہ کار نبوت میں شرکت اور جارحہ نبوی بننے کی حرص کہلائے گی۔ مسند الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں:
”ایام خلافت بقیہ ایام نبوت بودہ است۔ گویا در ایام نبوت حضرت پیغامبر صلی اللہ علیہ وسلم تصریحاً بزبان مے فرمود۔ ودرایام خلافت ساکت نشستہ بدست وسر اشارہ مے فرماید“۔ (۹)
”خلافت راشدہ کا دور دور نبوت کا بقیہ تھا۔ گویا دور نبوت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صراحتاً ارشادات فرماتے تھے۔ اور دور خلافت میں خاموش بیٹھے ہاتھ اور سر کے اشارے سے سمجھاتے تھے“۔
ان مقدمات کو اچھی طرح ذہن نشین کرلینے کے بعد اب اپنے سوالات پر غور فرمائیے:
۱-حضرت علی رضی اللہ عنہ کا گھر میں بیٹھ جانا:
قاضی ابوبکر بن العربی نے پہلا قاصمہ (کمر توڑحادثہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کو قرار دیا ہے۔ اور اس سلسلہ میں لکھا ہے کہ اس ہوش ربا سانحہ کی وجہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ گھر میں چھپ کر بیٹھ گئے تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر سکتہ طاری ہوگیا تھا۔اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر وارفتگی کی سی کیفیت طاری ہوگئی تھی۔وغیرہ وغیرہ۔
اس پوری عبارت سے واضح ہوجاتاہے کہ اس قیامت خیز سانحہ کے جواثرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر مرتب ہوئے قاضی ابوبکر بن العربی ان اثرات کو ذکر کرہے ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر اس حادثہ کا یہ اثر ہوا تھا کہ وہ گھر میں عزلت نشین ہوگئے تھے۔
آپ نے بہت سے لوگوں کو دیکھا ہوگا کہ کسی محبوب ترین شخصیت کی رحلت کے بعد جہان ان کے لئے تیرہ وتار ہوجاتاہے۔ان کی طبیعت پرانقباض وافسردگی طاری ہوجاتی ہے۔ اور دل پر ایک ایسی گرہ بیٹھ جاتی ہے جو کسی طرح نہیں کھلتی۔ ان کی طبیعت کسی سے ملنے یا بات کرنے پر کسی طرح آمادہ نہیں ہوتی۔ وہ کسی قسم کے جزع فزع یا بے صبری کا اظہار نہیں کرتے لیکن طبیعت ایسی بجھ جاتی ہے کہ مدتوں تک معمول پر نہیں آتی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی محبوب اس خطہٴ ارضی پرنہیں ہوا اور صحابہ کرام رضوان الله علیھم اجمعین سے بڑھ کرکوئی عاشقِ زار اس چشم فلک نے نہیں دیکھا ہمیں تو ان اکابر کے صبر وتحمل پر تعجب ہے کہ انہوں نے اس عشق ومحبت کے باوجود یہ حادثہ عظیمہ کیسے برداشت کرلیا، لیکن آپ اُنہیں عُشاق کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ وہ گھر میں چھپ کرکیوں بیٹھ گئے تھے؟
راقم الحروف نے اپنے اکابر کودیکھاہے کہ جب درسِ حدیث کے دوران آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے سانحہ کبریٰ کاباب شروع ہوتا تو آنکھوں سے اشکہائے غم کی جھڑی لگ جاتی، آواز گلوگیر ہوجاتی اور بسا اوقات رونے کی ہچکیوں سے گھگھی بندھ جاتی ……جب چودہ سو سال بعد اس حادثہ جانکاہ کا یہ اثر ہے تو جن عُشاق کی آنکھوں کے سامنے یہ سب کچھ بیت گیا، سوچنا چاہئے کہ ان کا کیا حال ہوا ہوگا۔
رفتم وازرفتن من عالمے ویران شد من مگر شمعم چوں رفتم بزم برہم ساختم
خاتون جنت، جگر گوشہٴ رسول(صلی اللہ علیہ وسلم)حضرت فاطمة الزہراء رضی اللہ عنہا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خادمِ خاص حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتی تھیں”انس تم نے کیسے گوارا کرلیا کہ تم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر مٹی ڈالو“ (۱۰)
اور مسند احمد کی روایت میں ہے تم نے کیسے گوارا کرلیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کرکے خود لوٹ آؤ(حیاة الصحابہ،ص۳۲۸) (۱۱)
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کی خبر ہوئی تو فرمایا آہ! میری کمر ٹوٹ گئی۔ صحابہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر مسجد میں پہنچے مگر کسی کو توقع نہ تھی کہ وہ مسجد تک آسکیں گے(حیاة الصحابہ،ج۔۲،ص۔۳۲۳)(۱۲)
اگر ہم درد کی اس لذّت اور محبت کی اس کسک سے ناآشنا ہیں تو کیا ہم سے یہ بھی نہیں ہوسکتا کہجن حضرات پر یہ قیامت گذر گئی تو ہم ان کو معذور ہی سمجھ لیں۔
اور پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گھر میں بیٹھ جانے کا یہ مطلب نہیں کہ وہ جمعہ، جماعت اور دینی ومعاشرتی حقوق وفرائض ہی کو چھوڑ بیٹھے تھے۔ شیخ محب الدین الخطیب”حاشیہ العواصم“میں لکھتے ہیں:

”واضاف الحافظ ابن کثیر فی البدایة والنھایة(۵:۲۴۹)أن علیا لم ینقطع عن صلاة من الصلوات خلف الصدیق وخرج معہ الی ذی القصة لما خرج الصدیق شاھرا سیفہ یرید قتال اھل الردة“۔ (۱۳)
”اور حافظ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں اس پر اتنا اضافہ کیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نماز پڑھنے کا سلسلہ ترک نہیں فرمایا تھا، نیز جب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مرتدّین سے قتال کرنے کے لئے تلوار سونت کر ”ذی القصہ“تشریف لے گئے تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ بھی ان کے ساتھ نکلے تھے“۔
پس جب آپ سے نہ دین و معاشرتی فرائض میں کوتاہی ہوئی اور نہ نصرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ میں ان سے کوئی ادنیٰ تخلف ہوا تو کیا اس بناء پر کہ شدت غم کی وجہ سے ان پر خلوت نشینی کا ذوق غالب آگیاتھا، آپ انہیں مورد الزام ٹھہرائیں گے؟
۲-طلب میراث:
جہاں تک بار بار ترکہ مانگنے کا تعلق ہے، یہ محض غلط فہمی ہے۔ ایک بار صدیقی دور میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ترکہ ضرور مانگا تھا۔ اور بلاشبہ یہ ان کی اجتہادی رائے تھی جس میں وہ معذور تھے اسے اپنا حق سمجھ کر مانگ رہے تھے، اس وقت نص نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ”لا نورث ما ترکناہ صدقة“ ”ہماری وراثت جاری نہیں ہوتی جو کچھ ہم چھوڑ کر جائیں وہ صدقہ ہے“ کا یا تو انکو علم نہیں ہوگا۔ یا ممکن ہے کہ حادثہ وصال نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے انکو ذہول ہوگیا ہو جس طرح اس موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو آیت ”وما محمد الا رسول“ سے ذہول ہوگیا تھا۔ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب یہ آیت(دیگر آیات کے ساتھ)برسرمنبرتلاوت فرمائی تو انہیں ایسا محسوس ہوا گویا یہ آیت آج ہی نازل ہوئی تھی۔ الغرض ان اکابر کا ترکہ طلب کرنا، نہ مال کی حرص کی بناء پر تھا۔ اور نہ یہ ثابت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اس ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سننے کے بعد انہوں نے دوبارہ کبھی مطالبہ دہرایا ہو، یا انہوں نے اس حدیث میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ سے کوئی منازعت فرمائی ہو۔ قاضی ابوبکر بن العربی لکھتے ہیں:

”وقال لفاطمة وعلی والعباس: ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:لا نورث۔ ماترکنا صدقة۔ فذکر الصحابة ذالک“۔ (۱۴)
”اور حضرت صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرات فاطمہ،علی اور عباس رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”ہماری وراثت جاری نہیں ہوتی۔ ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔ تب دیگر صحابہ نے بھی یہ حدیث ذکر کی“۔
اس کے حاشیہ میں شیخ محب الدین الخطیب لکھتے ہیں:

”قال شیخ الاسلام ابن تیمیة فی منھاج السنة (۲/۱۵۸)قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم: لا نورث۔ ماترکنا صدقة“ رواہ عنہ ابوبکر وعمر وعثمان، وعلی،وطلحة والزبیر،وسعد وعبد الرحمن بن عوف،و العباس بن عبد المطلب ، وازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم وابوھریرة۔ والروایة عن ھٰولاء ثابتة فی الصحاح والمسانید“۔ (۱۵)
”شیخ الاسلام ابن تیمیہ منہاج السنة میں لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ ”ہماری وراثت جاری نہیں ہوتی۔ ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے“ ۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مندرجہ ذیل حضرات روایت کرتے ہیں۔ حضرت ابوبکر ،عمر، عثمان،علی ،طلحہ،زبیر،سعد،عبدالرحمن بن عوف،عباس بن عبدالمطلب، ازواج مطہرات،اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم اجمعین اور ان حضرات کی احادیث صحاح و مسانید میں ثابت ہیں“۔
اس سے واضح ہے کہ حدیث: ”لانورث، ماترکناہ صدقة“ کو خود حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما بھی روایت کرتے ہیں اس لئے یا تو ان کو اس سے پہلے اس حدیث کا علم نہیں ہوگا۔ یا وقتی طور پر ذہول ہوگیا ہوگا۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس حدیث کے مفہوم میں کچھ اشتباہ ہوا ہو اور وہ اسکو صرف منقولات کے بارے میں سمجھتے ہوں۔
بہر حال حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے متنبہ کردینے کے بعد انہوں نے نہ اس حدیث میں کوئی جرح وقدح فرمائی۔ نہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے منازعت کی۔ بلکہ اپنے موٴقف سے دستبردار ہوگئے۔ اور یہ ان موٴمنین قانتین کی شان ہے جن میں نفسانیت کا کوئی شائبہ نہیں ہوتا۔
الغرض ”بار بار ترکہ مانگنے“ کی جو نسبت ان اکابر کی طرف سوال میں کی گئی ہے وہ صحیح نہیں‘ ایک بار انہوں نے مطالبہ ضرور کیا تھا جس میں وہ معذور تھے۔ مگر وضوح دلیل کے بعد انہوں نے حق کے آگے سر تسلیم خم کردیا۔ البتہ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دورخلافت میں یہ درخواست ضرور کی تھی کہ ان اوقاف نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تولیت ان کے سپرد کردی جائے۔حضرت عمررضی الله عنہ کو اولاًاس میں کچھ تأمل ہوا لیکن بعد میں ان کی رائے بھی یہی ہوئی اور یہ اوقاف ان کی تحویل میں دیدئیے گئے، بعد میں ان اوقاف کے انتظامی امور میں ان کے درمیان منازعت کی نوبت آئی تو حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت علی کی شکایت کی(جس کاتذکرہ سوال سوم میں کیا گیا ہے)اور حضرت عمررضی اللہ عنہ سے درخواست کی کہ یہ اوقاف تقسیم کرکے دونوں کی الگ الگ تولیت میں دے دیئے جائیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ درخواست مسترد فرمادی۔ صحیح بخاری میں مالک بن اوس بن حدثان رضی اللہ عنہ کی طویل روایت کئی جگہ ذکر کی گئی ہے“۔
”باب فرض الخمس“میں ان کی روایت کے متعلقہ الفاظ یہ ہیں:

”ثم جئتمانی تکلمانی وکلمتکما واحدة وأمرکما واحد جئتنی یا عباس تسئالنی نصیبک من ابن اخیک وجاء نی ھذا(یرید علیا)یریدنصیب امرأتہ من ابیھا۔ فقلت لکما: ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:”لانورث، ماترکنا صدقة“ فلما بدالی ان ادفعہ الیکما قلت: ان شئتما دفعتھا الیکما علی ان علیکما عھد اللہ ومیثاقہ لتعملان فیھا بما عمل فیھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وبما عمل فیھا ابوبکر وبما عملت فیھا منذ ولیتھا، فقلتما: ادفعھا الینا، فبذالک دفعتھا الیکما۔ فانشدکم باللہ ھل دفعتھا الیھما بذالک؟ قال الرھط:نعم ۔ ثم اقبل علیٰ علی وعباس فقال: انشد کما باللہ ھل دفعتھا الیکما بذالک، قالا:نعم۔ قال:فتلتمسان منی قضاءً غیرذالک؟ فو اللہ الذی باذنہ تقوم السماء والارض لا اقضی فیھا قضاءً غیر ذالک، فان عجزتما عنھا فادفعاھا الیّ فانی اکفیکماھا“۔ (۱۶)
”حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا‘ پھر تم دونوں میرے پاس آئے درآنحالیکہ تمہاری بات ایک تھی۔ اور تمہارامعاملہ ایک تھا۔ اے عباس! تم میرے پاس آئے تم مجھ سے اپنے بھتیجے (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم)سے حصہ مانگ رہے تھے اور یہ صاحب یعنی حضرت علیاپنی بیوی کا حصہ ان کے والد سے مانگ رہے تھے۔ پس میں نے تم سے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ”ہماری وراثت جاری نہیں ہوتی۔ ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے“۔ پھر میری رائے ہوئی کہ یہ اوقاف تمہارے سپرد کردیئے جائیں۔ چنانچہ میں نے تم سے کہا کہ اگر تم چاہو تو میں تمہارے سپرد کئے دیتا ہوں مگرتم پر اللہ تعالیٰ کا عہد ومیثاق ہوگا کہ تم ان میں وہی معاملہ کروگے جورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے۔ اور جو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا۔ اور جو میں نے کیا جب سے یہ میری تولیت میں آئے ہیں۔ تم نے کہا کہ ٹھیک ہے یہ آپ ہمارے سپرد کردیجئے چنانچہ اسی شرط پر میں نے یہ اوقاف تمہارے سپرد کئے۔ پھر حاضرین سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا میں نے اسی شرط پر ان کے سپرد کئے تھے یا نہیں”سب نے کہا جی ہاں! پھر حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا‘ میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا میں نے یہ اوقاف اسی شرط پر تمہاری تحویل میں دیئے تھے یا نہیں؟ دونوں نے کہا جی ہاں! اسی شرط پر دیئے تھے۔ فرمایا‘ اب تم مجھ سے اور فیصلہ چاہتے ہو(کہ دونوں کو الگ الگ حصہ تقسیم کرکے دے دوں)پس قسم ہے اس اللہ تعالیٰ کی جس کے حکم سے زمین وآسمان قائم ہیں میں اس کے سوا تمہارے درمیان کوئی فیصلہ نہیں کروں گا۔اب اگر تم ان اوقاف کی تولیت سے عاجز آگئے ہو تو میرے سپرد کردو۔ میں ان کے معاملہ میں تمہاری کفایت کروں گا۔
اس روایت کے ابتدائی الفاظ سے یہ وہم ہوتاہے کہ ان دونوں اکابر نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے پھر میراث کا مطالبہ کیا تھا۔مگر سوال و جواب اور اس روایت کے مختلف ٹکڑوں کو جمع کرنے کے بعد مراد واضح ہوجاتی ہے کہ اس مرتبہ ان کا مطالبہ تکہ نہیں تھابلکہ ان کے نزدیک یہ حقیقت مسلم تھی کہ ان اراضی کی حیثیت وقف کی ہے۔ اور وقف میں میراث جاری نہیں ہوتی۔ اس بار ان کا مطالبہ ترکہ کانہیں تھا۔ بلکہ وہ یہ چاہتے تھے کہ اس کی تولیت ان کے سپرد کردی جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اولاً اس میں تامل ہوا کہ کہیں یہ تولیت بھی میراث ہی نہ سمجھ لی جائے ۔ لیکن غوروفکر کے بعد ان حضرات کی درخواست کو آپ نے قبول فرمالیا اور یہ اوقاف ان دونوں حضرات کے سپرد کردیئے گئے پھر جس طرح انتظامی امور میں متولیان وقف میں اختلاف رائے ہوجاتاہے ان کے درمیان بھی ہونے لگا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ علم وفقاہت میں چونکہ فائق تھے اس لئے وہ اپنی رائے کو ترجیح دیتے تھے گویا عملی طور پر بیشتر تصرف ان اوقاف میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا چلتا تھااور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے تصرفات مغلوب تھے اس سے ان کو شکایت پیدا ہوئی اور انہوں نے دوبارہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مطالبہ کیا کہ ان اوقاف کو تقسیم کرکے ہر ایک کا زیر تصرف حصہ الگ کردیا جائے۔ مگر حضرت عمر نے یہ مطالبہ تسلیم نہیں کیا بلکہ یہ فرمایا کہ یا تو اتفاق رائے سے دونوں اس کا انتظام چلاؤ۔ ورنہ مجھے واپس کردو میں خود ہی اس کا انتظام کرلوں گا۔
اور علی سبیل التنزل یہ فرض کرلیا جائے کہ یہ حضرات، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھی پہلی بار طلب ترکہ ہی کے لئے آئے تھے تب بھی ان کے موٴقف پر کوئی علمی اشکال نہیں۔اور نہ ان پر مال ودولت کی حرص کا الزام عائد کرنادرست ہے بلکہ یوں کہا جائے گا کہ ان کو حدیث کی تاویل میں اختلاف تھا۔ جیسا کہ”بخاری شریف“کے حاشیہ میں اس کی تفصیل ذکر کی گئی ہے۔
شرح اس کی یہ ہے کہ حدیث: ”لانورث، ماترکناہ صدقة“۔ تو ان کے نزدیک بھی مسلم تھی، مگر وہ اس کو صرف منقولات کے حق میں سمجھتے تھے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کو منقولات وغیر منقولات سب کے حق میں عام قراردیا۔بلا شبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے حدیث کا جو مطلب سمجھا وہی صحیح تھا۔لیکن جب تک ان حضرات کو اس مفہوم پر شرح صدر نہ ہوجاتا ان کو اختلاف کرنے کا حق حاصل تھا۔ اس کی نظیر مانعینِ زکوٰة کے بارے میں حضرات شیخین کا مشہور مناظرہ ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے بار بار کہتے تھے:

”کیف تقاتل الناس؟ وقد قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: امرت ان اقاتل الناس حتی یقولوا لا الٰہ الا الله۔ فمن قالھا فقد عصم منی مالہ ونفسہ الا بحقہ وحسابہ علی الله‘۔ (۱۷)
”آپ ان لوگوں سے کیسے قتال کرسکتے ہیں جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ مجھے حکم ہواہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک وہ ”لا الٰہ الا اللہ“ کے قائل ہوجائیں پس جو شخص اس کلمہ کا قائل ہوگیا اس نے مجھ سے اپنا مال اور اپنی جان محفوظ کرلی۔ مگر حق کے ساتھ اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ کا ذمہ ہے“۔
یہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ایک حدیث کا مفہو م سمجھنے میں دقت پیش آرہی ہے۔ اور وہ حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کے موٴقف کو خلاف حدیث سمجھ کر ان سے بحث واختلاف کرتے ہیں تاآنکہ الله تعالیٰ نے ان پر بھی ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ مفہوم کھول دیا جو حضرت صدیق اکبر پر کھلا تھا۔ جب تک انہیں شرح صدر نہیں ہوا انہوں نے حضرت صدیق رضی اللہ عنہ سے نہ صرف اختلاف کیا۔ بلکہ بحث ومناظرہ تک نوبت پہنچی۔
ٹھیک اسی طرح ان حضرات کو بھی حدیث ”لانورث، ما ترکناہ صدقة“۔ میں جب تک شرح صدر نہیں ہوا کہ اس کا مفہوم وہی ہے جو حضرت صدیق رضی اللہ عنہ نے سمجھا تب تک ان کو اختلاف تھا۔ اور ان کامطالبہ ان کے اپنے اجتہاد کے مطابق بجا اور درست تھا۔ لیکن بعد میں ان کو بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرح شرح صدر ہوگیا۔ اور انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے موٴقف کو صحیح اور درست تسلیم کرلیا۔ جس کی واضح دلیل یہ ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اپنے دور خلافت میں ان اوقاف کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں فرمائی۔ بلکہ ان کی جو حیثیت حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ متعین کرگئے تھے اسی کو برقرار رکھا۔ اگر ان کو حضرت صدیق رضی اللہ عنہ کے موٴقف پر شرح صدر نہ ہوا ہوتا تو ان اوقاف کی حیثیت تبدیل کرنے سے انہیں کوئی چیز مانع نہ ہوتی۔
خلاصہ یہ کہ مطالبہٴ ترکہ ان حضرات کی طرف سے ایک بار ہوا بار بارنہیں، اور اس کو مال و دولت کی حرص سے تعبیر کرنا کسی طرح بھی زیبانہیں۔ اس کو اجتہادی رائے کہہ سکتے ہیں اور اگر وہ اس سے رجوع نہ بھی کرتے تب بھی لائقِ ملامت نہ تھے۔ اب جبکہ انہوں نے اس سے رجوع بھی کرلیا تو یہ ان کی بے نفسی وللّٰہیت کی ایک اعلیٰ ترین مثال ہے۔ اس کے بعد بھی ان حضرات پر لب کشائی کرنا نقص علم کے علاوہ نقص ایمان کی بھی دلیل ہے۔
۳-حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما کی منازعت:
اس منازعت کا منشاء اوپر ذکر کیا جاچکاہے۔ اور اسی سے یہ بھی معلوم ہوچکاہے کہ یہ منازعت کسی نفسانیت کی وجہ سے نہیں تھی۔ نہ مال ودولت کی حرص سے اس کا تعلق ہے۔ بلکہ اوقاف کے انتظام وانصرام میں رائے کے اختلاف کی بناء پر حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے وقتی طور پر شکایت پیدا ہوگئی تھی۔ اور جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکاہے ایسا اختلاف رائے نہ مذموم ہے نہ فضل وکمال کے منافی ہے۔جہاں تک حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے ان الفاظ کا تعلق ہے جو سوال میں نقل کئے گئے ہیں۔ اور جن کے حوالے سے نعوذ باللہ ان پر اخلاقی پستی کا فتویٰ صادر کیا گیاہے۔ تو سائل نے یہ الفاظ تو دیکھ لئے مگر یہ نہیں سوچا کہ یہ الفاظ کس نے کہے تھے۔ کس کو کہے تھے۔ اور ان دونوں کے درمیان خوردی وبزرگی کا رشتہ کیا تھا۔اور عجیب تر یہ کہ قاضی ابوبکر بن العربی کی جس کتاب کے حوالے سے یہ الفاظ نقل کئے گئے ہیں اسی کتاب میں خود موصوف نے جو جواب دیاہے اسے بھی نظر انداز کردیا گیا۔ ابوبکر بن العربی ”العواصم“ میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے ان الفاظ کو نقل کرکے لکھتے ہیں:

”قلنا: اما قول العباس لعلی فقول الأب للابن، وذلک علی الرأس محمول۔ وفی سبیل المغفرة مبذول۔ وبین الکبار والصغار… فکیف الاٰباء والابناء مغفور موصول“۔ (۱۸)
”ہم کہتے ہیں کہ حضرت علی کے بارے میں حضرت عباس کے الفاظ بیٹے کے حق میں باپ کے الفاظ ہیں، جو سر آنکھوں پر رکھے جاتے ہیں، اور سبیل مغفرت میں صرف کئے جاتے ہیں، بڑے اگر چھوٹوں کے حق میں ایسے الفاظ استعمال کریں تو انہیں لائق مغفرت اور صلہ رحمی پر محمول کیا جاتاہے چہ جائیکہ باپ کے الفاظ بیٹے کے حق میں “۔
اور ”العواصم“ ہی کے حاشیہ میں”فتح الباری“کے حوالے سے لکھا ہے:

”قال الحافظ: ولم ارفی شیئی من الطرق انہ صدر من علی فی حق العباس شیئی۔ بخلاف مایفھم من قولہ فی روایة عقیل ”استبَّا“ واستصوب المازری صنیع من حذف ھذہ الألفاظ من ھذا الحدیث۔ وقال: لعل بعض الرواة وھم فیھا۔ وان کانت محفوظة فاجود ما تحمل علیہ ان العباس قالھا دلالا علیٰ علی لانہ کان عندہ بمنزلة الولد، فاراد ردعہ عما یعتقد انہ مخطئی فیہ“۔ (۱۹)
”حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ کسی روایت میں میری نظر سے نہیں گذرا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جانب سے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے حق میں کچھ کہا گیا ہو۔ بخلاف اس کے جو عقیل کی روایت میں”استبَّا“کے لفظ سے سمجھا جاتاہے۔ اور مازری نے ان راویوں کے طرز عمل کو درست قرار دیاہے جنہوں نے اس حدیث میں ان الفاظ کے ذکر کو حذف کردیاہے۔ مازری کہتے ہیں غالباً کسی راوی کووہم ہواہے اور اس نے غلطی سے یہ الفاظ نقل کردیئے ہیں۔ اور اگر یہ الفاظ محفوظ ہوں تو ان کا عمدہ ترین محمل یہ ہے کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے یہ الفاظ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر ناز کی بناء پرکہے۔ کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حیثیت ان کے نزدیک اولاد کی تھی۔ اس لئے پر زور الفاظ میں ان کو ایسی چیز سے روکنا چاہاجس کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ غلطی پر ہیں“۔
حافظ کی اس عبارت سے مندرجہ ذیل امور منقح ہوگئے:
اوّل: حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جانب سے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے حق میں کوئی نامناسب لفظ سرزد نہیں ہوا۔ اور عقیل کی روایت میں ”استبّا“کے لفظ سے جو اس کا وہم ہوتاہے وہ صحیح نہیں۔
دوم: حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے جو الفاظ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حق میں نقل کئے گئے ہیں۔ ان میں بھی راویوں کا اختلاف ہے۔ بعض ان کو نقل کرتے ہیں۔ اور بعض نقل نہیں کرتے۔ حافظ ، مازری کے حوالے سے ان راویوں کی تصویب کرتے ہیں جنہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کئے۔ اور جن راویوں نے نقل کئے ہیں ان کا تخطیہ کرتے ہیں اور اسے کسی راوی کا وہم قرار دیتے ہیں۔
سوم: بالفرض یہ الفاظ محفوظ بھی ہوں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حیثیت چونکہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے سامنے بیٹے کی ہے…اور والدین، اولاد کے حق میں اگر ازراہ عتاب ایسے الفاظ استعمال کریں تو ان کو بزرگانہ ناز پر محمول کیا جاتاہے۔ نہ کوئی عقلمند ان الفاظ کو ان کی حقیقت پر محمول کیا کرتاہے اور نہ والدین سے ایسے الفاظ کے صدور کو لائقِ ملامت تصور کیا جاتاہے۔ اس لئے حضرت عباس کے یہ الفاظ بزرگانہ نازپر محمول ہیں۔
تمہیدی نکات میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ کی طرف اشارہ کرچکا ہوں۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے اس واقعہ کو موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ سے ملا کر دیکھئے۔ کیا یہ واقعہ اس واقعہ سے بھی زیادہ سنگین ہے؟ اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس عتاب وغضب سے ان کے مقام ومرتبہ پر کوئی حرف نہیں آتاتو اگر حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کے حق میں اپنے مقام ومرتبہ کے لحاظ سے کچھ الفاظ استعمال کرلئے تو ان پر (نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ)اخلاقی پستی کا فتویٰ صادر کرڈالنا میں نہیں سمجھتا کہ دین و ایمان یا عقل ودانش کا کونسا تقاضہ ہے؟ بلا شبہ گالی گلوچ شرفاء کاوطیرہ نہیں، مگر یہاں نہ تو بازاری گالیاں دی گئیں تھیں۔ اور نہ کسی غیر کے ساتھ سخت کلامی کی گئی تھی کیا اپنی اولاد کو سخت الفاظ میں عتاب کرنا بھی وطیرہ شرفاء سے خارج ہے؟ اور پھر حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا وارد ہے:

”اللّٰھم انی اتخذ عندک عھداً لن تخلفنیہ۔ فانما انا بشرفأیّ الموٴمنین اٰذیتہ شتمتہ لعنتہ جلدتہ فاجعلھا لہ صلوٰة وزکوٰة وقربة تقربہ بھا الیک یوم القیامة“۔ (۲۰)
”اے اللہ! میں آپ سے ایک عہد لینا چاہتاہوں۔ آپ میرے حق میں اس کو ضرور پورا کردیجئے۔ کیونکہ میں بھی انسان ہی ہوں۔ پس جس مومن کو میں نے ستایا ہو، اسے کوئی نامناسب لفظ کہا ہو۔ اس پر لعنت کی ہو۔ اس کو مارا ہو، آپ اس کو اس شخص کے حق میں رحمت وپاکیزگی اور قربت بنادیجئے۔ کہ اس کی بدولت اس کو قیامت کے دن اپنا قرب عطا فرمائیں“۔
اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف ”سب وشتم“ کی نسبت فرمائی ہے جس سے مراد یہ ہے کہ اگر کسی مسلمان کے حق میں میری زبان سے ایسا لفظ نکل گیا ہو جس کا وہ مستحق نہیں تو آپ اس کو اس کے لئے رحمت وقربت کاذریعہ بنادیجئے۔ کیا اس کا ترجمہ گالی گلوچ کرکے نعوذ باللہ آپ پر بھی اخلاقی پستی کی تہمت دھری جائے گی اور اسے وطیرہ شرفاء کے خلاف کہا جائے گا؟ حق تعالیٰ شانہ سخن فہمی اور مرتبہ شناسی کی دولت سے کسی مسلمان کو محروم نہ فرمائے۔
۴- لاٹھی کی حکومت:
حدیث کے اصل الفاظ یہ ہیں:
”انت والله بعد ثلث عبد العصا“
(بخدا تم تین دن بعد محکوم ہوگے)”صحیح بخاری“ کے حاشیہ میں ”عبد العصا“ کے تحت لکھا ہے:

”کنایة عن صیرورتہ تابعا لغیرہ۔ کذا فی التوشیح قال فی الفتح والمعنی :انہ یموت بعد ثلث وتصیر انت مامورا علیک۔ وھذا من قوة فراسة العباس“۔ (۲۱)
”یہ اس سے کنایہ ہے کہ وہ دوسروں کے تابع ہوں گے۔” توشیح“میں اسی طرح ہے حافظ فتح الباری میں لکھتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ تین دن بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوجائے گا۔ اور تم پر دوسروں کی امارت ہوگی۔ اور یہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی قوت فراست تھی“۔
خلاصہ یہ ہے کہ ”عبد العصا“ جس کا ترجمہ‘ ترجمہ نگار نے ”لاٹھی کی حکومت“ کیاہے۔ مراد اس سے یہ ہے کہ تم محکوم ہوگے اورتمہاری حیثیت عام رعایا کی سی ہوگی۔ یہاں یہ عرض کردینا ضروری ہے کہ کنائی الفاظ میں لفظی ترجمہ مراد نہیں ہوتا اور اگر کہیں لفظی ترجمہ گھسیٹ دیا جائے تو مضمون بھونڈا بن جاتاہے، اور قائل کی اصل مراد نظروں سے اوجھل ہوجاتی ہے۔مثلاً عربوں میں ”فلان کثیر الرماد“ کا لفظ سخاوت سے کنایہ ہے۔ اگر اس کا لفظی ترجمہ گھسیٹ دیا جائے کہ ”فلاں کے گھر راکھ کے ڈھیر ہیں“ تو جو شخص اصل مراد سے واقف نہیں وہ راکھ کے ڈھیر تلے دب کر رہ جائے گا اور اسے یہ فقرہ مدح کے بجائے مذمت کا آئینہ دار نظر آئے گا…یہی حال ”عبد العصا“ کا بھی سمجھنا چاہئے۔ ترجمہ کرنے والے نے اس کا لفظی ترجمہ کرڈالا۔ اور عام قارئین چونکہ عربوں کے محاورات اور لفظ کی اس” کنائی مراد“سے واقف نہیں اس لئے انہیں لاٹھیوں کی بارش کے سواکچھ نظر نہیں آئے گا۔ ایک حدیث میں آتاہے:

”لا ترفع عنھم عصاک ادباً “(۲۲)
(اپنے گھر والوں سے کبھی لاٹھی ہٹاکر نہ رکھو) صاحب مجمع البحار اس کی شرح میں لکھتے ہیں:

”ای: لا تدع تادیبھم وجمعھم علی طاعة اللہ تعالیٰ، یقال: شق العصا‘ ای: فارق الجماعة، ولم یرد الضرب بالعصا، ولکنہ مثل…لیس المراد بالعصا المعروفة بل اراد الادب وذا حاصل بغیر الضرب“۔ (۲۳)
”یعنی ان کی تادیب اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طاعت پر جمع کرنے کا کام کبھی نہ چھوڑو، محاورے میں کہا جاتاہے کہ فلاں نے ”لاٹھی چیرڈالی“ یعنی جماعت سے الگ ہوگیا۔ یہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد لاٹھی سے مراد مارنا نہیں، بلکہ یہ ایک ضرب المثل ہے…یہاں”عصا“سے معروف لاٹھی مراد نہیں۔ بلکہ ادب سکھانا مراد ہے۔ اور یہ مارنے پیٹنے کے بغیر بھی ہوسکتاہے“۔
اسی طرح ”عبد العصا“ میں بھی معروف معنوں میں لاٹھی مراد نہیں۔ نہ لاٹھی کی حکومت کا یہ مطلب ہے کہ وہ حکومت لاٹھیوں سے قائم ہوگی یا قائم رکھی جائے گی۔ بلکہ خود حکومت واقتدار ہی کو ”لاٹھی“ سے تعبیر کیا گیاہے، اور مطلب یہ ہے کہ تم دوسروں کی حکومت کے ماتحت ہوگے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عزیز وخویش اور آپ کے پروردہ تھے، اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زیر سایہ ان کی حیثیت گویا ایک طرح سے شہزادے کی تھی (اگر یہ تعبیر سوء ادب نہ ہو)حضرت عباس انکو جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ تین دن بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہٴ عاطفت اُٹھتا محسوس ہورہاہے۔ اس کے بعد تمہاری حیثیت …ملت اسلامیہ کے عام افراد کی سی ہوگی۔
۵-حضرت عباس رضی اللہ عنہ کا مشورہ:
# قاضی ابوبکرکی کتاب ”العواصم من القواصم“ میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے الفاظ اس طرح نقل کئے گئے ہیں:

”اذھب بنا الی رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم فلنسألہ فیمن یکون ھذا الامر بعدہ۔ فان کان فینا علمنا ذلک۔ وان کان فی غیرنا علمنا، فاوصیٰ بنا“۔ (۲۴)
”چلو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چلیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کریں کہ آپ کے بعد یہ امر خلافت کس کے پاس ہوگا؟ پس اگر ہمارے پاس ہو تو ہمیں معلوم ہوجائے گا۔ اور اگر کسی دوسرے کے پاس ہوا تب بھی ہمیں معلوم ہوجائے گا۔ اس صورت میں آپ ہمارے حق میں وصیت فرمائیں گے“۔
اور یہ بعینہ صحیح بخاری کے الفاظ ہیں۔(۲۵) آپ نے اول تو خط کشیدہ الفاظ کا ترجمہ ہی صحیح نہیں کیا۔ معلوم نہیں کہ یہ ترجمہ جناب نے خود کیا ہے۔ یا کسی اور کا ترجمہ نقل کیاہے۔
دوم : یہ ہے کہ اہل علم آج تک صحیح بخاری پڑھتے پڑھاتے آئے ہیں مگر حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے ان الفاظ میں ان کو کبھی اشکال پیش نہیں آیا۔ خود قاضی ابوبکر بن العربی اس روایت کو نقل کر کے لکھتے ہیں:

”رأی العباس عندی اصح۔ واقرب الی الاٰخرة۔ والتصریح بالتحقیق۔ وھذا یبطل قول مدعی الاشارة: باستخلاف علی، فکیف ان یدعی فیہ نص“؟(۲۶)
”حضرت عباس کی رائے میرے نزدیک زیادہ صحیح اور آخرت کے زیادہ قریب ہے۔ اور اس میں تحقیق کی تصریح ہے اور اس سے ان لوگوں کا قول باطل ہوجاتاہے جو دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلیفہ بنائے جانے کا اشارہ فرمایا تھا۔ چہ جائیکہ اس باب میں نص کا دعویٰ کیا جائے“۔
انصاف فرمائیے کہ جس رائے کو ابوبکر بن العربی زیادہ صحیح اور” اقرب الی الاخرة“فرمارہے ہیں، آپ انہی کی کتاب کے حوالے سے اسے ”خلافت کی فکر پکڑنے“ سے تعبیر کرکے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ اور آپ کا یہ خیال بھی آپ کاسوء ظن ہے کہ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری اور وفات کا صدمہ اگر غالب ہوتا تو یہ خیالات اور یہ کاروائیاں کہاں ہوتیں“…خود آپ نے جو روایت نقل کی ہے اس میں تصریح ہے کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے یہ اندازہ لگایا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحت مایوسی کی حد میں داخل ہوچکی ہے۔ اور آپ اپنے خدام کو داغ مفارقت دینے والے ہیں‘ عین اس حالت میں اگر کوئی شخص یہ چاہتاہے کہ جو امور اختلاف ونزاع اور امت کے شقاق وافتراق کاموجب ہوسکتے ہیں۔ ان کا تصفیہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے کرالینا مناسب ہے۔ تاکہ بعد میں شورش وفتنہ نہ ہو تو آپ کا خیال ہے کہ وہ بڑا ہی سنگ دل ہے، اس کو ذرابھی نہ آنحضرت ص
mannan Offline
#105 Posted : Friday, March 11, 2011 3:27:07 PM(UTC)

Rank: KP Expert

Groups: Member, Moderators
Joined: 1/20/2009(UTC)
Posts: 384
Points: 1,064
Woman
Location: LONDON

Was thanked: 5 time(s) in 5 post(s)

معیارحق۔ عصمت و حفاظت۔ تنقید صحاب
سوال
۱۔ معیار حق کی تعریف و تشریح کیجئے۔
۲۔کیا صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین معیار حق ہیں؟ اگر معیار حق ہیں تو ان کے درمیان جو اختلاف آتاہے اس وقت ایک رائے کو لینے اور دوسری رائے کو چھوڑنے سے کیامعیار حق پر اثر نہیں پڑے گا؟
۳۔کیا رضاء الہٰی کی وجہ سے گناہوں سے حفاظت ہوتی ہے جیسا کہ عصمت سے ہوتی ہے؟
۴۔کیا صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید کرنا جائزہے؟ اگر ہے تو کسی نے کسی صحابی پر تنقید کی ہے؟
۵۔اگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید جائز سمجھی جائے توکیا اس آیت کریمہ پر اثر نہیں پڑے گا؟

”واعلموا أن فیکم رسول اللّٰہ لو یطیعکم فی کثیر من الأمر لعنتم ولکن الله حبب الیکم الإیمان وزیّنہ فی قلوبکم وکرّہ الیکم الکفر والفسوق والعصیان“۔ آلایة (الحجرات :۷)
۶۔کیا ایسی بھی کوئی جگہ ہے کہ صحابہ کی رائے ہوتے ہوئے کسی نے اپنی رائے پر عمل کیا ہو اور صحابی کی رائے کو چھوڑ دیا ہو۔؟

جواب
۱۔معیار حق کوئی قرآنی یا حدیثی، فقہی اصطلاح نہیں،ایک خاص مفہوم کے پیش نظر ادبی وانشائی طور پر یہ لفظ استعمال کیا گیاہے۔
”کل یوٴخذ من قولہ و یترک إلا صاحب ھذا القبر صلی الله علیہ وسلم“۔
جیسا کہ امام مالک کا مقولہ ہے۔ اس مفہوم کو ادا کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ لیکن اس کو جس مفہوم میں استعمال کرنے کے بعد اس سے جو نتائج نکالے جارہے ہیں۔ اکثر صحیح نہیں ہے۔
۲۔سنت اور بدعت کے درمیان بنیادی فرق یہی ہے، کہ جو عہد نبوت اور عہد خلافت راشدہ وعہد صحابہ میں دین کا جزو نہ بن سکا۔ (۱)
اس لئے احادیث میں سنت نبویہ اور سنت خلفاء راشدین کے تمسک کا حکم دیا گیا (۲)اور صحابہ کے بارے میں تصریح فرمادی گئی کہ جو دین کا کام وہ کریں گے وہ غلط نہیں ہوسکتا وہ بدعت نہ ہوگی۔ اگر اختلاف پایا جائے تو ان میں سے کسی کو بھی اختیار کیا جائے توخروج عن الدین نہ ہوگا۔ (۳)اور اگر سب متفق ہوگئے تو صورت اجماع کی ہوجاتی ہے، اتباع اس کی فرض ہوجاتی ہے اب کوئی شخص یہ کہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین معیار حق نہیں ہیں، صرف آنحضرت صلی الله علیہ وسلم معیار حق ہیں تو اس کا حاصل یہ نکلتا ہے کہ اگر حدیث نبوی موجود نہیں تو تعامل صحابہ یا سنت صحابہ حجت نہیں یہ کتنی غلط بات ہوگی اور اس پر مستزاد یہ بھی کہا جائے کہ کبھی کبھی انبیاء سے بتقاضائے شریعت ایسی بات ظہو رمیں آسکتی ہے جو عصمت کے خلاف ہو تو بات انتہائی خطرناک صورت اختیار کرلیتی ہے ،گویا نبی باوجود عصمت کے احیاناً غیر معصوم ہوسکتاہے اس طرح عصمت سے بھی امان اُٹھ جاتاہے، ہر وقت یہ احتمال قائم رہتاہے، کہ اس وقت شاید وہ غیر معصومانہ حالت ہو۔
۳۔رضاء الہٰی سے اتنی بات ضرور ثابت ہوجاتی ہے کہ صحابی سے کوئی بات ایسی ظاہر نہیں ہوسکتی ہے جو نجات کے منافی ہو اگر کوئی شخص غیر معصوم بھی ہو تو یہ کیا ضروری ہے کہ وہ ضرور اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف کام کرے گا؟ اور گناہ بھی کرے گا؟ بہت سے صالحین امت غیر معصوم ہیں، لیکن اس کے باوجود ان سے کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ عصمت سے گناہ کا صدور ہو نہیں سکتا، رضاء کا ثمرہ یہ ہے کہ گناہ ہوتا نہیں اگر چہ ناممکن نہ ہونے کا امکان ہے۔ لیکن کسی چیز کے امکان کے لئے کیا یہ ضروری ہے کہ واقع ہوجائے۔ بہرحال اس کو محفوظ کہیں یا اور کوئی لفظ اس حقیقت کو ظاہر کرے۔
۴۔صحابہ ہماری تنقید سے بالا تر ہیں۔”الله، الله فی اصحابی لا تتخذوھم غرضاً من بعدی“…الخ وغیرہ احادیث میں تصریح ہے۔(۴)
۵۔جواب نمبر۴ سے جواب معلوم ہوگیا تنقید جائز نہیں۔
۶۔بظاہر اس کی نظیر اختلافات ائمہ میں نہیں ملے گی، کہ حدیث میں کوئی تصریح نہ ہو، اور پھر صحابہ میں ان کا تعامل موجود ہو، اس کو ترک کردیا جائے، اور صرف اپنی رائے سے کام لیا جائے، البتہ اس کے نظائر بہت ہیں ،کہ صحابہ میں آراء کااختلاف رہا‘ان میں کسی ایک کو ترک کیا گیا ،اور دوسرے کو اختیار کیا گیا۔اس وقت بہت عجلت میں یہ چند سطریں لکھ سکا، مزید تفصیل و دلائل کی اس وقت فرصت نہیں۔

فقط والله اعلم


بینات -ذوالقعدہ۱۳۸۵ھ مطابق مارچ ۱۹۶۶ء

جلد : ۷ شمارہ:۵ ,ص: ۵۷، ۵۹




حوالہ جات
________________________________________________________________________
(۱) ”الابداع فی مضار الابتداع ،للشیخ علی محفوظ- طریقة ثانیة فی معنی البدعة“ -ص:۱۷، ط:المکتبة العلمیة بالمدینة المنورة۔الطبعة الخامسة۱۳۹۱ھمطابق ۱۹۷۱ء ولفظہ: ”ما احدث بعدہ صلی اللہ علیہ وسلم أو بعد القرون المشھود لھم بالخیرخیراً کان او شراً عبادةً او عادةًوھی مایراد بہ عرض دنیوی…الخ“۔
(۲) سنن الترمذی - ابواب المناقب- باب من سب اصحاب النبی -۲/۲۲۵․ط: ایچ ،ایم سعید کراچی ۱۹۸۸ء۔
(۳) مشکوةالمصابیح،باب الاعتصام بالکتاب والسنة ، الفصل الثانی ،عن العرباض بن ساریة … فعلیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدین المھدیین-۱/۲۹،۳۰․ط: قدیمی کراچی ۱۳۶۸ھ۔
(۴)مشکوة المصابیح ،باب مناقب الصحابة ، الفصل الثانی،-۲/۵۵۴۔ط: قدیمی ۱۳۶۸ھ کراچی، وفیہ ایضاً۔عن عمر بن الخطاب رضی الله عنہ قال: سمعت رسول الله یقول: سألت ربی عن اختلاف اصحابی من بعدی فاوحی الی یا محمد! ان اصحابک عندی بمنزلة النجوم فی السماء بعضھا اقوی من بعض ولکل نور فمن اخذ بشئ مما ھم علیہ من اختلافھم فھو عندی علی ھدی “․


» یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ
mannan Offline
#106 Posted : Friday, March 11, 2011 3:28:28 PM(UTC)

Rank: KP Expert

Groups: Member, Moderators
Joined: 1/20/2009(UTC)
Posts: 384
Points: 1,064
Woman
Location: LONDON

Was thanked: 5 time(s) in 5 post(s)
سوال
محترم مفتی صاحب !
السلام علیکم !
ہم احناف کے نزدیک ظہر کی چاررکعت ایک سلام کے ساتھ پڑھنا سنت ہے اس بارے میں براہ کرم احادیث اور حوالے لکھ کے دیدیں۔

جزاک اللہ


سائل : محمدامین


جواب
ظہر کی چاررکعات فرض کے بارے میں توکوئی اشکال نہیں ہوناچاہیے جبکہ چاررکعت سنت کاایک سلام کے ساتھ پڑھنا بھی بالکل واضح اور صریح ہے۔
حدیث کی مندرجہ کتب میں یہ وضاحت وصراحت موجود ہے۔
شمائل ترمذی،باب الصلوٰۃالضحیٰ ص ۱۲ ط میر محمد
سنن ابی داؤد،باب الاربع قبل الظہروبعد ص:۱۸ ط:سعید
سنن ابن ماجہ ، باب فی الاربع قبل الظہر ص:۸۲ ط میرمحمد

فقط واللہ اعلم


دارالافتاء


جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی

buttercup Offline
#107 Posted : Friday, March 11, 2011 10:25:37 PM(UTC)

Rank: KP Expert

Groups: Member
Joined: 10/26/2010(UTC)
Posts: 655
Points: 1,991
Location: pakistan

jazak Allah mannan,,,aik aik lafz itna shandaar hay k kya btaoon...Allah pak aap ko jazaey khair day ameen
TariqRaheel Offline
#108 Posted : Thursday, May 17, 2012 1:26:14 PM(UTC)

Rank: KP Newbie

Groups: Member
Joined: 10/24/2009(UTC)
Posts: 12
Points: 36
Man
Location: Karachi

Thanksشکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Quick Reply Show Quick Reply
Users browsing this topic
Guest
6 Pages«<456
Forum Jump  
You cannot post new topics in this forum.
You cannot reply to topics in this forum.
You cannot delete your posts in this forum.
You cannot edit your posts in this forum.
You cannot create polls in this forum.
You cannot vote in polls in this forum.