Welcome Guest! To enable all features please try to register or login.
مناقب صحابہ رضی اللہ عنہ اور اہل بیت رضی اللہ عنہ
zashah Offline
#1 Posted : Wednesday, March 09, 2011 4:25:25 AM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 12/14/2009(UTC)
Posts: 4,167
Points: 11,409
Woman
Location: france

Thanks: 1 times
Was thanked: 16 time(s) in 11 post(s)

٭حضرت علی رضی اللہ عنہ فرما تے ہیں اپنی اولاد کو تین چیزیں سکھا ﺅ۔ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت کی محبت اور قرآن مجید پڑھنا۔ (جامع الصغیر1:17)
٭حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے کعبہ کا دروازہ پکڑتے ہوئے فرمایا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔ خبردار ہوجاﺅ! تم میں میرے اہل بیت کی مثال حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جیسی ہے جو اس میں سوار ہوا وہ نجات پاگیا اور جو پیچھے رہا وہ ہلاک ہوگیا۔ (احمد' مشکوٰہ)
٭ ام حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر کسی کو عادات و اطوار اور نشست و برخاست میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت رکھنے والا نہیں دیکھا۔ (المستدرک)
٭ حضرت الیاس رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں اس سفید خچر کی لگام پکڑ کر چلا ہوں جس پر میرے آقا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ سوار تھے یہاں تک کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ مبارک میں داخل ہوگئے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آگے سوار تھے اور حسنین کریمین رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔ (مسند ابویعلیٰ)
٭رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے میرے تمام چچاﺅں میں سب سے بہتر حمزہ ہیں سید الشھداءحضرت حمزہ رضی اللہ عنہ ہیں۔ (مدارج النبوہ)
٭حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمام جہان کی عورتوں میں سے مریم بنت عمران، خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور فرعون کی بیوی آسیہ کی فضیلت جاننا کافی ہے۔ (ترمذی)
٭ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا! فاطمہ رضی اللہ عنہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے جس نے اسے تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی۔ (بخاری)

Sponsor  
 
zashah Offline
#2 Posted : Wednesday, March 09, 2011 4:28:27 AM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 12/14/2009(UTC)
Posts: 4,167
Points: 11,409
Woman
Location: france

Thanks: 1 times
Was thanked: 16 time(s) in 11 post(s)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ میں اٹھارہ ایسی صفات ہیں جو کسی اور صحابی میں نہیں ہیں جس جگہ قرآن کریم میں یا ایھا الذین آمنوا آیا ہے وہاں یہ سمجھنا چاہیے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ایمان والوں کے امیر و شریف ہیں۔ (فضائل صحابہ صفحہ 96)
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علی رضی اللہ عنہ مجھ سے ہیں اور میں صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ہوں اور وہ ہر ایمان والے کے یارو مددگار ہیں۔ (ترمذی)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکاردو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علی رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھنا بھی عبادت ہے۔ (ترمذی)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے میں نے یہ دعا کی ”الٰہی! میرے اہل بیت میں سے کسی کو جہنم میں نہ ڈالنا تو اللہ نے میری یہ دعا قبول فرمالی“۔ (الصواعق المحرقة صفحہ 244)
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فاطمہ رضی اللہ عنہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔ (بخاری، مسلم)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے ان دونوں یعنی حسن و حسین رضی اللہ عنہ سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے ان دونوں سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔ (فضائل الصحابہ للنسائی)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حسن اور حسین رضی اللہ عنہ دونوں دنیا میں میرے پھول ہیں۔(مناقب صحابہ)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاءمیں داخل ہوئے تو میں نے آپ کیلئے پانی رکھ دیا جب باہر نکلے تو فرمایا یہ کس نے رکھا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے یہ دعا فرمائی۔ ”اے اللہ اسے دین کی سمجھ عطا فرما“ (بخاری)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ کو سلام کرتے تو فرماتے اے دو پروں یا دو بازوں والے کے بیٹے تم پر سلام ہو۔ (بخاری)

sara_raz657 Offline
#3 Posted : Wednesday, March 09, 2011 4:57:58 AM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 1/3/2010(UTC)
Posts: 1,463
Points: 4,307
Woman
Location: islamabad

Was thanked: 9 time(s) in 8 post(s)
MashALLAh bohat piyari batain share ke hain ZARA
zashah Offline
#4 Posted : Wednesday, March 09, 2011 5:11:52 AM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 12/14/2009(UTC)
Posts: 4,167
Points: 11,409
Woman
Location: france

Thanks: 1 times
Was thanked: 16 time(s) in 11 post(s)
shukria Sara!
zashah Offline
#5 Posted : Thursday, March 10, 2011 3:52:22 AM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 12/14/2009(UTC)
Posts: 4,167
Points: 11,409
Woman
Location: france

Thanks: 1 times
Was thanked: 16 time(s) in 11 post(s)

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوحج کے دوران عرفہ کے دن دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قصواءاونٹنی پر سوار خطاب فرمارہے ہیں پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ”اے لوگو! میں نے تم میں وہ چیز چھوڑی ہے کہ اگر تم اسے مضبوطی سے تھام لو تو تم کبھی گمراہ نہیں ہوگے۔ اور وہ چیز کتاب اللہ اور میری عترت یعنی اہل بیت ہیں۔ (ترمذی)
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک فرشتہ جو اس رات سے پہلے کبھی زمین پر نہ اترا تھا اس نے اپنے پروردگار سے مجھے سلام کرنے کی اجازت مانگی اور مجھے بشارت دی کہ بے شک فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جنت کی عورتوں کی سردار ہیں۔ اور بے شک حسن اور حسین رضی اللہ عنہ جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں ۔ (ترمذی)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری بیٹی کا نام فاطمہ رضی اللہ عنہا اسی لیے رکھا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اور اس سے محبت رکھنے والوں کو دوزخ سے جدا کردیا ہے۔ (مسند دیلمی)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس عرب کے سردار کو بلائو میں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ عرب کے سردار نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمام اولاد آدم کا سردار ہوں اور علی رضی اللہ عنہ عرب کے سردار ہیں۔ (حاکم)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا حضرت علی رضی اللہ عنہ کا  ذکرکرنا بھی عبادت ہے۔ (مسند دیلمی)

smiling-kanwal@hotmail.com Offline
#6 Posted : Thursday, March 10, 2011 3:59:38 AM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 6/30/2010(UTC)
Posts: 2,846
Points: 8,583
Location: Jeddah K.S.A

Thanks: 13 times
Was thanked: 24 time(s) in 23 post(s)
Jazakillah Khair Zara
sara_raz657 Offline
#7 Posted : Thursday, March 10, 2011 5:08:43 AM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 1/3/2010(UTC)
Posts: 1,463
Points: 4,307
Woman
Location: islamabad

Was thanked: 9 time(s) in 8 post(s)
Jazakillah Khair Zara
zashah Offline
#8 Posted : Friday, March 11, 2011 4:10:11 AM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 12/14/2009(UTC)
Posts: 4,167
Points: 11,409
Woman
Location: france

Thanks: 1 times
Was thanked: 16 time(s) in 11 post(s)

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ


آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدیم رفیق‘ اسلام کے سب سے پرانے جان نثار‘ محرم اسرار نبوت‘ ثانی اثنین فی الغار حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جان نشین منتخب ہوئے۔آپ کا نام عبداللہ‘ کنیت ابوبکر اور صدیق عتیق لقب ہے‘ والد کا نام قحافہ تھا‘ آپ قریش کی شاخ بنی تمیم سے تعلق رکھتے تھے۔ چھٹی پشت پر آپ کا نسب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جاتا تھا۔ آپ کا گھرانہ زمانہ جاہلیت سے ہی نہایت معزز چلا آتا تھا۔ زمانہ جاہلیت میں بھی آپ رضی اللہ عنہ کا دامن اخلاق عرب کے عام مفاسد سے بالکل پاک رہا اور اس زمانہ کے لوگوں پر آپ رضی اللہ عنہ کے حسن اخلاق‘ راست بازی اور متانت و سنجیدگی کا سکہ بیٹھا ہوا تھا۔

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کا واقعہ
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ زمانہ جاہلیت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گہرے دوست تھے‘ بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک مرتبہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرتے ہوئے گھر سے نکلے‘ راستہ میں ملاقات ہوئی توپوچھا ”اے ابوقاسم! (حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت ہے) آپ اپنی قوم کی مجالس میں دکھائی نہیں دیتے اور آپ کی قوم کے لوگ آپ پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے باپ دادا کو برا بھلا کہتے ہیں؟“ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں اللہ کی طرف سے رسول بنایا گیا ہوں اور میں تجھے اللہ کی طرف دعوت دیتا ہوں“ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی گفتگو سے فارغ ہوئے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسلام قبول کرلیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس حال میں وہاں سے رخصت ہوئے کہ مکہ کے دو پہاڑوں کے درمیان اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوش اور مسرور کوئی آدمی نہ تھا۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں سے ملاقات کیلئے چلے گئے اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ‘ طلحہ بن عبید رضی اللہ عنہ ‘ حضرت زبیربن عوام رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم کو اسلام کی دعوت دی اور وہ سب کے سب دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے۔
اگلے دن صدیق اکبر رضی اللہ عنہ دعوت اسلام کی تبلیغ کیلئے حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ ‘ حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ‘ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ‘ حضرت ابوسلمہ بن عبدالاسد رضی اللہ عنہ اور حضرت ارقم بن ابی ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئے اور ان سب نے بھی اسلام قبول کرلیا۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے محبت
ایک مرتبہ ایک آدمی امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے پاس آیا‘ اس کی ظاہری حالت پرہیز گاروں جیسی تھی جبکہ خباثت وشرارت اس کی نگاہوں سے جھلک رہی تھی اس نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کیا: ”اے امیرالمومنین! اس کی کیا وجہ ہے کہ مہاجرین و انصار ابوبکر رضی اللہ عنہ کو فوقیت دیتے ہیں جبکہ آپ رضی اللہ عنہ مقام و مرتبہ کے اعتبار سے ان سے افضل ہیں۔ آپ اسلام لانے میں بھی ان سے مقدم ہیں اور آپ کو ان پر کئی چیزوں میں سبقت حاصل ہے؟“ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس شخص کی گفتگو کا مقصد بھانپ لیا اور فرمایا ”تم مجھے قریشی لگتے ہو اور شاید قبیلہ عائذہ کے!“ اس نے ہاں میں جواب دیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”تیرا ناس ہو! اگر تو ایک مومن کی پناہ لینے والا نہ ہوتا تو میں تجھے ضرور قتل کردیتا‘ یاد رکھو! ابوبکر رضی اللہ عنہ چار امور میں مجھ پر سبقت لے گئے‘ ایک تو وہ امامت میں مجھ سے سبقت لے گئے‘ دوسرے ہجرت میں‘ تیسرا غار ثور میں اور چوتھے اسلام کی ترویج میں مجھ سے آگے بڑھ گئے۔ تیرا ناس ہو! اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں سب لوگوں کی مذمت بیان فرمائی لیکن ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مدح فرمائی ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ”اگر تم پیغمبر کی مدد نہ کروگے تو خدا ان کا مددگار ہے۔“

صدیق کا اظہار صداقت
چاشت کا وقت تھا‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پاس تشریف فرما تھے‘ آپ کا دہن مبارک ذکر وتسبیح سے معمور تھا کہ اتنے میں دشمن خدا ابوجہل کی نظر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑی جو بیت اللہ کے اردگرد بے مقصد گھوم رہا تھا وہ بڑے فخر وتکبر کے انداز میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آیا اور ازراہ مزاح کہنے لگا:”اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیا کوئی نئی بات پیش آئی ہے؟“”ہاں! آج رات مجھے معراج کرائی گئی ہے۔“ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا ”پھر ابوجہل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوا اور آہستگی کے ساتھ متعجبانہ لہجہ میں بولا رات آپ کو بیت المقدس کی سیر کرائی گئی اور صبح آپ ہمارے سامنے پہنچ گئے؟ پھر مسکرایا اور بولا اگر میں سب لوگوں کو جمع کردوں تو کیا آپ وہ بات جو مجھے بتائی ہے سب کو بتادیں گے؟
چنانچہ ابوجہل جلدی جلدی خوشی کے ساتھ لوگوں کو جمع کرنے لگا اور انہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان کردہ بات بتانے لگا‘ لوگوں کا رش لگ گیا‘ لوگ اظہار تعجب کرنے لگے اور اس خبر کا ناقابل یقین خیال کرنے لگے‘ اسی دوران چندآدمی حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچے اوران کوبھی اس امید پر ان کے رفیق اور دوست کی یہ خبر سنائی کہ ان کے درمیان علیحدگی ہوجائیگی کیونکہ یہ سمجھ رہے تھے کہ اس خبر کو سنتے ہی ابوبکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کردیں گے لیکن جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ بات سنی تو فرمایا ”اگر یہ بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے تو یقینا درست فرمائی ہے تمہارا ستیا ناس ہو! میں تو ان کی اس سے بھی زیادہ بعیدالعقل بات کی تصدیق کروں گا جب میں صبح و شام آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر آنے والی وحی کی تصدیق کرتا ہوں تو کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات کی تصدیق نہیں کرونگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت المقدس کی سیر کرائی گئی ہے“۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس جگہ پہنچے جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد بیٹھے تھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیت المقدس کا واقعہ بیان فرمارہے تھے جب بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کوئی بات ارشاد فرماتے تو ابوبکر کہتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا۔ لہٰذا اسی روز سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کا نام ”صدیق“ رکھ دیا۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے محبت
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں ایک دن کچھ لوگ اس موضوع پر گفتگو کررہے تھے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ پرفوقیت حاصل ہے۔ یہ خبر جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ تک پہنچی توآپ رضی اللہ عنہ جلدی سے تشریف لائے اور لوگوں کے ایک مجمع میں کھڑے ہوکر فرمایا: ”خدا گواہ ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ایک رات عمر رضی اللہ عنہ کے سارے خاندانوں سے بہتر ہے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ایک دن عمر کے سارے خاندانوں سے بہتر ہے۔“

sara_raz657 Offline
#9 Posted : Friday, March 11, 2011 5:26:47 AM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 1/3/2010(UTC)
Posts: 1,463
Points: 4,307
Woman
Location: islamabad

Was thanked: 9 time(s) in 8 post(s)
jazakiALLAH khair zara..........very nice
zashah Offline
#10 Posted : Wednesday, March 16, 2011 4:22:22 AM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 12/14/2009(UTC)
Posts: 4,167
Points: 11,409
Woman
Location: france

Thanks: 1 times
Was thanked: 16 time(s) in 11 post(s)
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میںنے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ علی رضی اللہ عنہ قرآن کے ساتھ ہیں اور قرآن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہے یہ دونوں حوض کوثر تک ایک دوسرے سے جدا نہیں ہونگے۔ (طبرانی)
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں پل صراط پر سب سے زیادہ ثابت قدم وہ ہوگا جو میرے اہل بیت رضی اللہ عنہ اور میرے صحابہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ محبت رکھتا ہوگا۔ ( ابن عدی)
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے ابوجہل کی لڑکی کیلئے نکاح کا پیغام دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک فاطمہ رضی اللہ عنہ میرے جسم کا حصہ ہے اور مجھے یہ پسند نہیں کہ اسے تکلیف پہنچے اللہ کی قسم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک شخص کے نکاح میں جمع نہیں ہوسکتیں۔ (بخاری و مسلم)
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور حضرت حسن کو پکڑا اور فرمایا کہ میں ان دونوں سے محبت رکھتا ہوں تو بھی ان دونوں سے محبت رکھ۔ دوسری روایت میں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پکڑ کر اپنی ایک ران پر بٹھا لیتے اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کو دوسری ران مبارک پر پھر یہ کہتے اے اللہ ان دونوں پر رحم فرماکیونکہ میں بھی ان پر مہربانی کرتا ہوں۔ (بخاری )
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پیر کی صبح اپنے بیٹوں سمیت میرے پاس آنا تاکہ میں تمہارے لیے ایسی دعا کروں جو تمہیں نفع دے‘ چنانچہ جب ہم سب حاضر ہوئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سب پر چادر اوڑھا کر ایک دعا مانگی الٰہی عباس رضی اللہ عنہ اور اس کی اولاد کی ظاہری اور باطنی مغفرت فرما تاکہ انکاکوئی گناہ باقی نہ رہے اور انہیں ان کی اولاد میں عزت اور بلند مقام عطا فرما۔ ( ترمذی)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آقاو مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا الٰہی !میں ان دونوں (حسن وحسین رضی اللہ عنہ ) سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت فرما۔ (مسند احمد)
sara_raz657 Offline
#11 Posted : Wednesday, March 16, 2011 5:02:53 AM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 1/3/2010(UTC)
Posts: 1,463
Points: 4,307
Woman
Location: islamabad

Was thanked: 9 time(s) in 8 post(s)
jazakiALLAH khair zara
TariqRaheel Offline
#12 Posted : Thursday, May 17, 2012 1:24:27 PM(UTC)

Rank: KP Newbie

Groups: Member
Joined: 10/24/2009(UTC)
Posts: 12
Points: 36
Man
Location: Karachi

Thanksشکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Quick Reply Show Quick Reply
Users browsing this topic
Guest
Forum Jump  
You cannot post new topics in this forum.
You cannot reply to topics in this forum.
You cannot delete your posts in this forum.
You cannot edit your posts in this forum.
You cannot create polls in this forum.
You cannot vote in polls in this forum.