آیت 171 کا مفہوم : "اے اہلِ کتاب اپنے دِین میں غُلو نہ کرو اور اللہ کے بارے میں سوائے حق بات کے کچھ نہ کہو "
غُلو کا معنیٰ کیا ہے؟ ۔۔ حد سے تجاوز کرجانا ، حد سے نکل جانا۔
یہود اور نصاریٰ دونوں ہی غُلو کا شکار تھے ، نصاریٰ غُلو کرتے تھے 'تعظیم' میں ۔۔ اور یہودی غُلو کرتے تھے 'توہین' میں
نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کی 'تعظیم' میں ، اُنکے ادب اور احترام میں اتنا غُلو کیا ، کہ اُنمیں سے کسی نے اُنکو خُدا کہہ دیا اور کسی نے خُدا کا بیٹا کہہ دیا
اور یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کے بارے میں 'توہین' میں غُلو کیا اور اتنا غُلو کیا ، کہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کو وہ نبی تو کیا مانتے ۔۔ شریف انسان بھی ماننے سے انکار کردیا یہ چیزیں اُنکی کتابوں میں آج بھی موجود ہیں ۔۔ آج بھی۔
تو ہم بےبنیاد بات نہیں کررہے ، بلکہ اگر آپ اُنکی کتابوں کا مطالعہ کریں ، تو وہ نہ صرف یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام ۔۔ بلکہ اُنکی والدہ، اُنکی نانی، اور اُنکے پورے خاندان کو بھی شریف اور عصمت و عفت والا خاندان تسلیم کرنے کے لئیے تیار نہیں ہیں ، تو اُنہوں نے تو اتنی توہین کی ،
اِنہوں نے بھی غُلو کیا ، اور اُنہوں نے بھی غُلو کیا۔
اور یہ غُلو صرف حضرت عیسیٰ علیہ السّلام تک محدود نہ رہا بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کے جو متّبعین تھے ، اُنکے جو جانشین تھے ۔۔ اُنکے بارے میں بھی غُلو کیا ۔ کیسے غُلو کیا ؟ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کے جانشینوں کو ، عُلماء کو ، صوفیوں کو ، خُدا بنادیا ۔
جیسا کہ اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں فرمایا ۔۔
"اُنہوں نے اپنے عُلماء کو اور اپنے مشائخ کو رب بنالیا تھا اللہ کو چھوڑ کر۔ حالانکہ اُنکو حکم دیا گیا تھا کہ عبادت صرف ایک اللہ کی کرنا اُسکے سِوا کسی کی عبادت نہ کرنا" [سورہ التوبة ۔ آیت 31]
لیکن اُنہوں نے اپنے 'پِیروں' کو ، اپنے 'مولویوں' کو ، اپنے 'صوفیوں' کو ، ربوبیت کے منصب پر، خُدائی کے منصب پر فائز کردیا ۔۔۔۔۔ نبئ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم نے جب یہ آیتِ کریمہ سُنائی ، تو بعض صحابہ [جنمیں حاتم طائی کے بیٹے بھی شامل تھے جو پہلے عیسائیت میں رہے] اُنہوں نے عرض کیا ۔۔ یا رسول اللہ ! ہم نے تو کبھی ایسا نہیں سُنا کہ عیسائیوں نے اپنے عُلماء اور اپنے مشائخ کو اور اپنے پِیروں کو رب بنایا ہو ۔۔ اور اللہ کہتا ہے ۔۔ "یہ رب بناتے ہیں اپنے عُلماء اور مشائخ کو" ۔۔ تو نبئ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم نے اُن سے سوال کیا ۔۔ "کیا ایسا نہیں ہے کہ وہ جس چیز کو حلال کہہ دیں ، تم بھی حلال کہتے ہو۔ چاہے اُسکی کوئی دلیل بائیبل کے اندر موجود نہ بھی ہو ، اور وہ جس چیز کو حرام کہہ دیں ، تم بھی حرام سمجھنے لگتے ہو۔ چاہے اُسکی کوئی دلیل اللہ کی کتاب میں موجود نہ ہو؟" تو اُنہوں نے عرض کیا ۔۔ کہ یارسول اللہ ۔۔ ! ہاں ایسا تو ہے۔ بس ہم اُنکے کہنے پر ، جس چیز کو وہ حلال کہہ دیتے ۔۔ ہم بھی حلال مان لیتے تھے، اور جس چیز کو وہ حرام کہہ دیتے ۔۔ ہم بھی حرام مان لیتے تھے اور اُن سے یہ مطالبہ نہیں کرتے تھے کہ اللہ کی کتاب سے ہمیں اس پر کوئی دلیل دکھاوَ۔ تو نبئ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا ،کہ "یہی مطلب ہے اُنکو رب بنانے کا"
۔۔
تو میرے بھائیو! غُلو کو اسلام نے حرام قرار دیا ۔ ہمارے پیارے نبئ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا کہ ، "میرے بارے میں ایسے غُلو نہ کرنا جیسے نصاریٰ نے عیسیٰ علیہ السّلام کے بارے میں غُلو کیا اور اُنکو خُدا بنا لیا [میرے بارے میں تم ایسا غُلو نہ کرنا] مجھے تو بس اللہ کا بندہ کہو اور اللہ کا رسول کہو" [مجھے نہ تو خُدا کہو، نہ خُدا کا بیٹا کہو، مجھے تو بس عبداللہ کہو اور رسول اللہ کہو اسکے سِوا مجھے اور کچھ نہیں کہنا میرے مقام کو اتنا نہیں بڑھانا کہ خُدا تک جا پہنچاوَ]
یہاں تک کہ آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے لعنت فرمائی ۔۔ فرمایا ۔۔" یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو کہ اُنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا ۔۔ مسلمانو! تم میری قبر کو سجدہ گاہ نہ بنانا [غُلو نہ کرنا]"
۔۔ ہمارے کتنے ہی سیدھے سادے بھائی ہیں وہ بظاہر نبئ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم کا مقام اور مرتبہ بیان کرتے ہیں ، ادب اور احترام کرتے ہیں ، لیکن اُسمیں غُلو کرتے ہیں یہاں تک کہ حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کو خُدا سے جا مِلاتے ہیں ۔۔ یہ بہت سے پیشہ ور قِسم کے نعت خواں اور قوّال ۔۔ اِنکی قوّالیاں سُن کر دیکھیں اور اِنکی نعتیں اور اِنکی شاعری سُن کر دیکھیں۔۔۔ بالکل ایسے لگتا ہے کہ اللہ کے درمیان اور حضور صلّی اللہ علیہ کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے ۔۔ اور بعض تو صاف کہتے ہیں ۔۔ کہ محمد اور احد میں ، احمد اور احد میں صرف "میم" کا فرق ہے ۔۔ یہاں تک ایک صاحب نے کہہ دیا ۔۔
وہی جو مستوی تھا عرش پہ خُدا ہو کر
مدینے میں اُتر پڑا مصطفیٰ ہو کر۔
۔۔
اللہ کے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کا مقام اتنا بڑھادیا ۔۔ اور اپنے خیال میں یہ ادب کررہے ہیں ۔ احترام کررہے ہیں اور احترام میں اتنا آگے بڑھ گئے کہ نبی کو اللہ کے ساتھ جا مِلایا۔ بلکہ بعض نے اپنے مشائخ کے بارے میں ایسی ایسی باتیں کہِیں ، کہ مشائخ کو، اپنے پِیروں کو خُدا کے ساتھ جا مِلایا۔ تو ولیوں کو نبی بنادینا ،، اور نبیوں کو خُدا بنادینا ، خُدائی کے مقام تک پہنچادینا ۔۔ یہ اُنکا ادب و احترام نہیں ہے، یہ اُنکی توہین ہے، اُنکی تنقیص ہے اور اپنے ایمان کو ضایع کرنا ہے ۔
تو فرمایا کہ "اے اہلِ کتاب ! تم غُلو نہ کرو "
اور ہمارے پیارے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نے بھی غُلو کرنے سے بچنے کا حُکم دِیا ۔۔
ایک حدیث میں اللہ کے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا ۔۔ "اے مسلمانو! تم دِین میں غُلو کرنے سے بچنا اسلئیے کہ تم سے پہلی قوموں کو 'دِین میں غُلو' نے ہلاک کردیا۔ اُنکو تباہ کردیا۔ "
بعض لوگ ہوتے ہیں دِین میں غُلو کرتے ہیں، دِین پر چلنے میں غُلو کرتے ہیں ۔۔ جو چیزیں صرف نفل کا درجہ رکھتی ہیں ، مستحب کا درجہ رکھتی ہیں ۔۔ اُنکو فرض کا درجہ دے دیتے ہیں اور غُلو کرتے ہیں، غیر ضروری چیز کو بہت ضروری چیز بنادیتے ہیں۔
ایمان کا حِصّہ بنادیتے ہیں ۔ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جن کو تقویٰ کا ہیضہ ہوجاتا ہے ، تقویٰ اچھی چیز ہے ۔۔ لیکن ' تقویٰ کا ہیضہ' یہ اچھی چیز نہیں ہے ۔ اتنا متقی بن گیا ، اتنا متقی بن گیا۔۔ کہ اب اِسکے اندر معاذ اللہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین سے بھی زیادہ تقویٰ آگیا ہے۔ بہت ہی متقی بن گیا
تو بھائی یہ دِین کے اندر غُلو کرنا۔۔ یہ صحیح نہیں ہے
حد سے تجاوز کرجانا ۔۔ یہ غلط ہے ، اپنے آپ کو تباہی میں ڈالنا ہے اور اپنے لئیے مشکلات کو پیدا کرنا ہے۔
اسلام اعتدال کا حُکم دیتا ہے اور یہ اُمّت، اعتدال والی اُمّت ہے ۔ دوسرے پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔۔ "ہم نے تمہیں درمیانی اُمّت بنایا ہے" ۔۔
[ سورہ البقرہ ۔ آیت 143 ]
اعتدال والی اُمّت
اور اعتدال ۔۔ ہر شعبے کے اندر ، عدل میں بھی اعتدال ہو، محبت میں بھی اعتدال ہو، دِین اور دنیا کے اعتبار سے بھی اعتدال ہو۔ ایسا نہیں کہ بظاہر یہ سمجھنا کہ مَیں دِین والا بن گیا ہُوں ، دیندار بن گیا ہُوں ، لہٰذا اب بیوی بچوں کے بھی حقوق ادا نہیں کرتا ، والدین کے بھی حقوق ادا نہیں کرتا ، بھائی بہنوں کے بھی حقوق ادا نہیں کرتا ارے بھئی کیا ہوگیا ؟ ۔۔ بس مَیں دِیندار بن گیا ہُوں ۔۔ مجھ پر دِین کا کچھ زیادہ غلبہ ہوگیا ہے اسلئیے مَیں سبکے حقوق ادا نہیں کررہا۔
اللہ اکبر
مجھے ایک صاحب نے بتایا کہ بھائی سے ناراضگی چل رہی تھی اور صِلہَ رحمی کا بیان سُنا [ہم بھی الحمدللہ صِلہَ رحمی پر بیان کرتے رہتے ہیں کہ بھئی رشتے داروں کے حقوق ادا کرو] تو صِلہَ رحمی کا بیان سُنا تو میرے دِل میں بڑا جوش آیا کہ بھائی کے ساتھ جا کر مِلنا چاہئیے اگرچہ نفرت کرتا ہے لیکن مِلنا چاہئیے ۔۔ تو مَیں اُس سے جا کر مِلا ، اُسکو سلام کیا اور اُس نے مجھے گھر کے دروازے سے ہی واپس بھیج دیا ۔۔ کہتا ہے "نہیں اب مجھ پر کچھ دِین کا غلبہ ہوگیا ہے ، مَیں خلوت پسند ہوگیا ہُوں اور میرے پاس اِن چیزوں کے لئیے وقت نہیں ہے"
۔۔
تو یہ وہ لوگ ہیں جو دِین کی سمجھ نہیں رکھتے ۔۔ جاہل قِسم کے لوگ ، بظاہر سمجھتے ہیں کہ مَیں دِیندار ہوگیا۔۔ لیکن حقیقت میں یہ دِین کو بدنام کرنے والے لوگ ہیں ۔۔ کہ اب حقوق ہی کو بھول گیا ۔۔ بھائی بہنوں کے حقوق، والدین کے حقوق ، رشتے داروں کے حقوق ۔۔ اور اپنے خیال میں سمجھ رہا ہے کہ مَیں دِین کے لئیے کررہا ہُوں ۔۔ اللہ کی رضا کے لئیے کررہا ہُوں ۔۔ حالانکہ اللہ اِن باتوں سے ناراض ہوتے ہیں ۔ تو بھئی دِین کے اعتبار سے بھی غُلو نہ کرے ، دنیا کے اعتبار سے بھی غُلو نہ کرے ، کہ دنیا میں اتنا آگے چلا جائے کہ دینی فرائض کو بھی بھول جائے ۔۔ اسمیں بھی اعتدال کی ضرورت ہے ۔۔ بس دنیا کمانے کی اور پیسے بنانے کی مشین بن کر رہ گیا ۔
اوّل تو اسکی بھی ضرورت نہیں ، یہ بہانہ پیش کرنے کی بھی ضرورت نہیں کہ 'دنیا کمانے کے لئیے'بس دنیا دار بن گیا ۔۔ لیکن بعض لوگ ہوتے ہیں ، وہ بہانہ کرتے ہیں ، کہ بھئی دنیا کمانا بھی تو عبادت ہے ۔۔ رزقِ حلال کمانا بھی تو فرض ہے ۔۔ بڑا ضروری کام ہے۔
تو اب اُسمیں اتنا غُلو کِیا ۔۔ کہ نماز کی فکر نہیں ، روزے کی فکر نہیں ، تلاوت کی فکر نہیں ، ذکر کی فکر نہیں ، حلال حرام کی فکر نہیں ۔۔ دنیا میں غُلو کررہا ہے ،
یہ بھی غلط
خُرد و نوش میں ، کھانے پینے میں بھی اعتدال ضروری ہے ۔۔ نہ تو ایسا اپنے اوپر ظلم کرے کہ اتنا کم کھائے کہ جان خطرے میں پڑ جائے ، اور نہ ہی ایسا ہو کہ ہر وقت کھانے پینے ہی کی فکر ہے ۔۔ میرے بہت سارے بھائی اور بہنیں ایسی ہیں۔۔ اُنکو پُوری کراچی کا پتہ ہے ۔۔ کونسی دکان ایسی ہے ۔۔ وہاں سموسے اچھے ہیں ، کونسی دکان ایسی ہے ۔۔ وہاں حلیم اچھا ہے، کونسی دکان ایسی ہے ۔۔ جہاں سے بریانی اچھی مِلتی ہے ،
۔۔۔ کہتے ہیں بڑا ٹیسٹ
[TASTE ]
ہے، بڑا ٹیسٹ ہے فلاں چیز کے اندر ۔۔ تو اِسی ٹیسٹ میں ہی مگن رہتے ہیں ہر وقت اسی کی فکر، ٹیسٹ ہی کی فکر ۔۔
لباس کے اعتبار سے غُلو ۔۔ بعض ایسے ہیں کہ اُنکو تو فکر ہی نہیں ہے اور ایسے کم ہیں ۔۔ پہلے ہوتے ہونگے ، آجکل ایسے کم ہیں کہ لباس کی فکر ہی نہیں ہے ۔
یہ بھی غلط ۔
۔ اللہ نے اگر دِیا ہے تو اچھا لباس پہنا جائے صاف ستھرا لباس پہنا جائے ۔۔ لیکن دوسرے اعتبار سے غُلو ، کہ ہر وقت لباس کی فکر ہے ۔۔ ہر وقت ، اور یہ بیماری خاص طور پر میری بہنوں اور بیٹیوں کے اندر پائی جاتی ہے ۔۔ ہر وقت نئے فیشن کی فِکر ، ملاقات کرینگی، حال احوال تو بعد میں پوچھیں گی ۔۔ پہلے ایک ہی نظر میں دیکھ لیں گی کہ کونسا کپڑا پہنا ہُوا ہے ، کونسا فیشن ہے ، کونسا جُوتا ہے ۔۔ اوپر سے نیچے تک جائزہ لے لیا ۔۔ زیورات کونسے ہیں اور پُھول بُوٹے کیسے ہیں ۔۔ اور دوپٹہ کیسا ہے ۔۔ اور بیٹھیں گی تو اسی چیز کا ذکر ۔۔ اسی چیز کے تذکرے ۔
تو میری بہنو ! اور بیٹیو! اسقدر بھی غُلو نہیں کرنا چاہئیے کہ ہر وقت اسی چکر میں پڑی رہیں ۔
تو بھئی اعتدال ضروری ہے ، ہمیں اعتدال کا حُکم دیا گیا ۔۔ اللہ نے فرمایا : "اے اہلِ کتاب اپنے دِین میں غُلو نہ کرو اور اللہ کے بارے میں حق کے سِوا کچھ نہ کہو
مسیح , عیسیٰ ، مریم کے بیٹے تھے اور اللہ کے رسول اور اُسکے کلمہ تھے "
مسیح کون تھے ؟ ۔۔۔ عیسیٰ علیہ السّلام ، مریم کے بیٹے اور اللہ کے رسول اور اللہ کے کلمہ۔
"جس کلمے کو اللہ نے مریم تک پہنچا دیا تھا اور [مسیح] ایک جان ہیں اللہ کی طرف سے "
یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کا ۔۔ ایک تو، نام ذکر کیا گیا 'عیسیٰ'
دوسرے، اُنکی کنیت : 'مریم کے بیٹے'
تیسرے ، اُنکا لقب : "مسیح" ، "کلمة اللہ" ، "روح اللہ"
یہ مختلف الفاظ اور کلمات , اللہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کے لئیے یہاں استعمال فرمائے
'عیسیٰ' تو ، حضرت مسیح علیہ السّلام کا نام تھا ، اور اُنکو "مسیح" اسلئیے کہتے تھے کہ ۔۔ "کہتے ہیں کہ وہ ہاتھ پھیرتے تھے ، "مسح" کرتے تھے کسی کے جسم پر تو اُس مسح کرنے سے بیمار کو شِفا حاصل ہوجاتی تھی " اور اُنکو "کلمة اللہ" کہا ۔۔ اللہ کا کلِمہ ۔۔ اسلئیے کہ "وہ اللہ کے کلمے سے پیدا ہوئے " ۔۔ بغیر ، "باپ کے واسطے" کے اور اللہ نے کہا "کُن" ۔۔ ہوجا ، پیدا ہوجا ۔۔ ہوگئے ۔
اور اللہ نے اُنکو "روح اللہ" قرار دیا "رُوحٌ مِنهُ" یعنی اللہ کے بنائے ہوئے .. جو ظاہری اسباب کے بغیر حضرت مریم علیہ السّلام کے پیٹ میں مجسّم ہوگئے ۔۔ بچے کی شکل اختیار کر گئے ۔۔ لیکن یہ جو اللہ کی طرف نسبت ہے ۔۔ "رُوحُ اللہ" ۔۔ "وہ اللہ کی رُوح تھے " ۔ ۔ یہ نسبت "صرف عظمت" کے لئیے ہے ، صرف اُنکے احترام کے لئیے ہے ، یہ مطلب نہیں ہے کہ صرف عیسیٰ علیہ السّلام کے اندر ہی اللہ کی روح تھی بلکہ کائنات کی ہر چیز کے اندر اللہ کی روح ہے۔ یہاں نسبت کی گئی تعظیم کے لئیے ۔۔
جیسے بیت اللہ ۔۔ کعبہ کو کہا جاتا ہے، "اللہ کا گھر"
تو کیا اللہ اُسمیں رہتے ہیں ؟ یا صرف وہی کعبہ .. اللہ کی ملکیت ہے؟ نہیں ۔۔ اللہ کی ملکیت تو ساری کائنات ہے ۔۔ ساری چیزیں ہی اللہ کی ہیں ،
تو بیت اللہ کی نسبت اللہ کی طرف ۔۔ یہ تعظیم کے لئیے ہے ،
"عبداللہ : اللہ کا بندہ" ۔۔ تو کیا صرف یہی اللہ کا بندہ ہے ؟ اور کوئی اللہ کا بندہ نہیں ہے ؟ نہیں ۔۔ سارے ہی "عبداللہ" ہیں ، مَیں بھی عبداللہ، آپ بھی عبداللہ ۔ اور ساری کائنات ہی عبداللہ ۔۔ "اللہ کے بندے" ۔۔ لیکن یہ جو نسبت کی جاتی ہے ، یہ تعظیم کے لئیے ۔۔ "عبدہُ، عبدنا " ۔۔ یہ تعظیم کے لئیے ہے ۔
اور اسی طرح یہ بھی جان لیں کہ اِسکا یہ مطلب نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام .. اللہ کا جزو تھے ۔
۔ بعض نے معاذاللہ اِس سے یہ استدلل بھی کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام ، اللہ کا جُزو تھے، اللہ کی روح کا جُز اور اللہ کا ایک حِصّہ ۔
۔ تو بھئی یہ بھی استدلال کرنا غلط ہے ۔۔ اُنکو "رُوحٌ مِنهُ" ۔۔ اللہ کی رُوح ایسے ہی قرار دیا ۔۔
جیسے کہا جاتا ہے ۔۔ "ھٰذِہِ نِعمَةٌ مِنَ اللہ" : "یہ اللہ کی نعمت ہے"
تو اسکا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ یہ اللہ کا حصہ ہے ۔۔ اللہ کا جُزو ہے ۔۔ بلکہ اللہ کی عطا کردہ ایک نعمت ہے ۔
۔۔۔ تو عیسیٰ علیہ السّلام بھی اللہ کے عطا کردہ، اللہ کے تخلیق کردہ ایک بندے تھے اور ویسے قرآنِ کریم میں اللہ نے صرف حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کی طرف ہی رُوح کی نسبت نہیں کی، بلکہ دوسروں کی طرف بھی نسبت کی ہے ۔۔ مثال کے طور پر فرمایا ۔۔ : "جب مَیں آدم کو برابر کردوں اور آدم کے اندر اپنی روح پُھونک دوں تو اے فرشتو تم آدم کے سامنے سجدے میں گِر جانا" [سورہ الحجر ۔ آیت 29 ]
اب ظاہر ہے کہ اِس آیتِ کریمہ سے کوئی یہ استدلال نہیں کرتا کہ معاذ اللہ ۔۔ حضرت آدم علیہ السّلام ، اللہ کا ایک حِصّہ تھے ، اللہ کا ایک جُزوتھے ، تو اسی طریقے سے ، یہاں سے بھی یہ استدلال کرنا بالکل غلط کہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام ، اللہ کا ایک حِصّہ تھے،
"تو ایمان لے آوَ اللہ پر اور اُسکے رسولوں پر ، اور یہ نہ کہو کہ [خُدا] تین ہیں ، باز آجاوَ ۔۔ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے ۔ "
باز آجاوَ اِس کہنے سے کہ خُدا تین [3] ہیں ، عیسائی جو ہیں وہ عقیدہَ تثلیث کے قائل ہیں ، پھر اُن میں سے بعض تو کہتے ہیں کہ خُدائی ۔۔ تین اجزاء سے مرکّب ہے، اور بعض تو کہتے ہیں کہ تین مستقل بِالذّات خُدا ہیں ، اور یہ عجیب و غریب عقیدہ ہے ، اُنکی کتابوں کے اندر جو حقیقت میں بعض اوقات سمجھ میں بھی نہیں آتا ۔۔ مثال کے طور پر مَیں آپکو اُنکی کتابوں سے عبارت سُنا رہا ہُوں ۔۔۔
[---] ۔
آپ بتائیے کہاں یہ گورکھ دھندا ! اور کہاں اسلام کا سادہ سا کلمہ !
لا الہ الا اللہ ۔۔ اللہ کے سِوا کوئی معبود نہیں
غیر مخلوق ۔۔ صرف اللہ، غیر محدود ۔۔ صرف اللہ،
ازلی، ابدی ۔۔ صرف اللہ، قادرِ مطلق ۔۔ صرف اللہ،
سب کچھ کرنے والا ۔۔ صرف اللہ ۔
تو اللہ ہی کے بارے میں مسلمانوں کے یہ عقائد ۔۔ الحمدللہ اسلام کا عقیدہ بہت سیدھا سادہ سا ۔۔ اُس مالک کا شُکر ادا کیجئیے جس نے ہمیں ایک سادہ سا عقیدہ عطا فرمایا ، اور ہم کسی شِرکیہ اور کُفریہ گورکھ دھندے میں نہیں پڑے ۔
"اللہ تو بس ایک ہی معبود ہے وہ پاک ہے اِس سے کہ اُسکا کوئی بیٹا ہے اُسی کے لئیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور اللہ کا کارساز ہونا کافی ہے"