Welcome Guest! To enable all features please try to register or login.
9 Pages«<45678>»
1433 Hijree
imbajjo Offline
#101 Posted : Sunday, May 06, 2012 9:14:18 AM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 10/13/2010(UTC)
Posts: 1,710
Points: 5,160
Woman
Location: kuwait

Thanks: 33 times
Was thanked: 35 time(s) in 28 post(s)

..
آیت 168 کا مفہوم : "بےشک وہ لوگ جو کفر کرتے ہیں اور ظلم کرتے ہیں "
.. ظلم کس پر ؟ ایک تو اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں
۔۔
"کفر کرنا" یہ اپنے اوپر ظلم ہے ،
"اللہ کی نافرمانی کرنا" یہ اپنے اوپر ظلم ہے ۔
اور بعض اوقات دوسروں پر بھی ظلم کرتے ہیں اور وہ کیا ؟ کہ اُنکو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ تو ۔۔ "وہ لوگ جو کفر کرتے ہیں اور ظلم کرتے ہیں ، نہ تو اللہ اُنہیں بخشے گا اور نہ ہی اللہ اُنہیں کوئی راستہ دکھائیگا۔"
یعنی اُنہیں سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق نہیں دے گا۔
۔۔

آیت 169 کا مفہوم : "سوائے جہنم کے راستے کے [اور کوئی راستہ اُنکو نہیں دکھائےگا] اُسمیں ہمیشہ ہمیشہ پڑے رہیں گے اور یہ اللہ پر بڑا آسان ہے"
مسلمانوں کا خُدا ۔۔ مشرک قوموں کی طرح عاجز نہیں ہے ، کمزور نہیں ہے ، محدود اختیارات والا نہیں ہے ۔ بلکہ وہ تو "فعّالُ لِما یُرید " ہے ، جو چاہتا ہے وہ کرسکتا ہے ، کرلیتا ہے ، اُسے کوئی روکنے والا نہیں
مشرک قوموں نے جن کو خُدا مان رکھا ہے اُن خُداوَں کے بارے میں اُنکے تصوّرات یہاں تک گِرے ہوئے ہیں کہ 'اُنہیں نیند بھی آتی ہے ، وہ بیمار بھی ہوجاتے ہیں ، وہ شکست بھی کھاجاتے ہیں ، وہ کمزور بھی پڑجاتے ہیں ' ۔۔ بلکہ ایسے بھی خُداوَں کو ماننے والے مشرک دنیا میں ہیں جو خُدا مر بھی جاتے ہیں ، اور دوبارہ زندہ ہوجاتے ہیں ۔ ایسے خُداوَں کے حوالے بھی ہم نے کتابوں میں پڑھے کہ ایسے ایسے معبودوں کو ماننے والے ہیں دنیا میں ۔۔ کہ خُود اُنکا عقیدہ ہے کہ 'خُدا فلاں متعین دن میں مر گیا اور اور پھر فلاں تاریخ کو زندہ ہوگیا '
۔۔
لیکن الحمدللہ مسلمانوں کے خُدا کو نہ مَوت آتی ہے ، نہ بیماری آتی ہے ، نہ تھکاوٹ ہوتی ہے ، نہ وہ کسی کے سامنے عاجز ہے ، نہ وہ لاچار ہے ،
اللہ لا الٰه الّا ھو ۔ الحی القیّوم ۔ لا تاخذہ سنة وّلا نوم ۔ له ما فی السّمٰوٰت وما فی الارض ۔ من ذا الّذی یشفع عندہ الّا باذنه ۔ یعلم ما بین ایدیھم وما خلفھم ۔ ولا یحیطون بشیء مّن علمه الّا بما شاء ۔ وسع کرسیّه السّمٰوٰت والارض ۔ ولا يئُوده حفظھما ۔ وھو العلیّ العظیم
 

یہ آیت الکرسی میں اللہ کا اور اللہ کی توحید کا بہترین انداز میں ذکر کیا گیا اور جب آیت الکرسی کا درس آیا تھا .. مَیں نے آپکو بتایا تھا کہ صرف اس آیتِ کریمہ میں صراحتاً , اشارتاً اور ضمیر کی شکل میں اللہ پاک کا سترہ [ 17] بار ذکر آیا ہے ، صرف اِس آیت الکرسی کے اندر۔۔
تو بہر حال ۔۔ فرمایا کہ ۔۔ "یہ اللہ پر آسان ہے"۔۔ اللہ کے لئیے یہ مشکل نہیں ہے، اللہ کا ۔۔ کوئی ہاتھ نہیں پکڑ سکتا، اللہ کو ۔۔ کوئی روک نہیں سکتا -
۔۔

imbajjo Offline
#102 Posted : Sunday, May 06, 2012 9:47:10 AM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 10/13/2010(UTC)
Posts: 1,710
Points: 5,160
Woman
Location: kuwait

Thanks: 33 times
Was thanked: 35 time(s) in 28 post(s)


آیت 170 کا مفہوم : "اے انسانو تمہارے پاس رسول آیا سچی بات لے کر تمہارے رب کی طرف سے ، پس تم ایمان لے آوَ"
یہ خطاب ہے سارے انسانوں سے ۔۔ عربوں سے بھی ، عجمیوں سے بھی ، کالوں سے بھی گوروں سے بھی ، سب سے خطاب ہے۔ اسلئیے کہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلّم ، کسی خاص علاقے کے نبی نہیں تھے، کسی خاص قوم کے نبی نہیں تھے اور کسی خاص زمانے کے نبی نہیں تھے ۔ بلکہ آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی نبوّت سارے انسانوں کے لئیے ، سارے جہانوں کے لئیے ، سارے زمانوں کے لئیے اور سارے مکانوں کے لئیے ہے ۔ اسلئیے بعض اوقات قرآنِ کریم میں سبکو خطاب کیا گیا ۔
۔ "یاایھاالناس" اے انسانو۔۔!
اور یہ خطاب جیسے کل تھا ۔۔ یہ خطاب آج کے بھی سارے انسانوں کے لئیے ہے "تمہارے پاس رسول آگیا تمہارے رب کی طرفسے سچی بات لے کر "
اور وہ سچی بات کیا ہے ؟ ۔۔ "قرآن"
قرآن سچی بات ہے، حقائق کا مجموعہ۔
"تو تم اِس پر ایمان لے آوَ ، یہ تمہارے لئیے بہتر ہے "
قرآن پر ایمان لانا، اِس سچائی پر ایمان لانا ، انسانیت کے حق میں بہتر ہے ،
انسانیت کی فلاح ، انسانیت کی بہبودی اور انسانیت کی نجات ۔۔ قرآن پر ایمان لانے میں ہے ۔
تو فرمایا جارہا ہے کہ تم سب اِس پر ایمان لے آوَ ، اِس کے حقائق پر ایمان لے آوَ ۔
" اور [ اگر تم ایمان نہیں لاتے ] اگر تم کفر کرتے ہو تو پھر اللہ ہی کے لئیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے "
یعنی اللہ تمہارے ایمان سے غنی ہے ، بےنیاز ہے ، بےپرواہ ہے، وہ تمہارے ایمان لانے کا محتاج نہیں ہے ۔۔ جیسا کہ اللہ پاک نے دوسری جگہ فرمایا ۔۔ "موسیٰ علیہ السّلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ اگر تم [تم سارے کے سارے، جتنے زمین میں بستے ہو] کفر کرو تو بھی[اللہ کے جلال میں ، اللہ کے جمال میں ، اللہ کے اقتدار میں ، اللہ کی سلطنت میں ، اللہ کی بادشاہی میں ، اللہ کے اختیار میں ، اللہ کی قوت و طاقت میں کوئی کمی نہیں آئیگی ] اللہ غنی ہے ، [بےنیاز ہے اور] قابلِ تعریف ہے"
[سورہَ ابرٰھیم ۔ آیت 8]
کوئی بھی اُسکی تعریف نہ کرے تو بھی وہ 'حمید' ہے , تو بھی وہ قابلِ تعریف ہے
اور سارے تعریف کریں تو بھی وہ 'حمید' ہے ،
کسی کے تعریف نہ کرنے سے معاذاللہ ، معاذاللہ وہ مذموم نہیں بنتا ۔ اور ساری انسانیت اُسکی تعریف کرنے لگے تو اُسکے مقام میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا تو فرمایا ۔۔ اگر تم کفر کروگے تمہارے ایمان سے وہ غنی ہے اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ۔۔ سبکا مالک بھی اللہ ، سبکا خالق بھی اللہ ، اور سبکا مولیٰ بھی اللہ ۔ یہ ساری چیزیں اُسکی ملکیت ہیں ، اُسکی مخلوق ہیں ، اور سب کے سب اُسکے بندے ہیں ۔
"اور اللہ جاننے والا ہے ، اللہ حکمت والا ہے"
وہ عِلم رکھتا ہے ، وہ جانتا ہے ، کون اُسکی مانتا ہے اور کون اُسکی نہیں مانتا ؟ کون فرمانبردار ہے اور کون نافرمان ہے؟ وہ یہ جانتا ہے ، کون کتنا عمل کرتا ہے ۔۔ وہ جانتا ہے ۔ اور کسی کے عمل کو وہ ضایع نہیں کریگا ۔۔اور ایسا بھی نہیں کرسکتا کہ
مومن اور کافر کو ، شکر گزار اور ناشکرے کو ، فرمانبردار اور نافرمان کو برابر کردے ۔۔ ایسا نہیں ہوسکتا۔
اللہ فرماتے ہیں 'سورہَ ص' میں ، "کیا وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کئیے ہم اُنہیں اُنکے برابر کردیںگے ؟ جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ۔۔ یا تقویٰ والوں کو فاجروں کے برابر کردینگے ؟ " [ ۔ آیت 28]
ایسا نہیں ہوسکتا کہ دونوں کو اللہ برابر کردے۔
بہت سے ہمارے سادہ بھائی ۔۔ غیر مسلموں کی باتیں سن سن کر کہ اُن کے ہاں اس طرح کے عقیدے ہیں کہ
[ فلاں پیر کو خوش کرلو اور فلاں شیخ کو خوش کرلو ۔۔ عمل کرنے کی ضرورت نہیں ،
اور مرو تو اپنے کفن میں 'عہد نامہ' رکھ لو اور فلاں سورہ رکھ لو عمل کی ضرورت نہیں
بخشے جاوَگے میرا مرشد بڑا مضبوط ہے۔ وہ مجھے بخشوادےگا، وہ جنت میں داخل کروادےگا۔۔ ]
تو اسکا مطلب تو یہ ہُوا کہ پھر عمل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں اور اللہ کے نزدیک سارے برابر ہیں ،
عمل کرنے والا اور بےعمل، نافرمان اور فرمانبردار ،
راتوں کو جاگنے والا اور راتوں کو سونے والا، مسجد میں آکر پیشانی رگڑنے والا اور کبھی بھی اللہ کے گھر میں نہ آنے والا ،
اللہ کی راہ میں سب کچھ لُٹانے والا اور کبھی بھی اللہ کی راہ میں ایک روپیہ نہ خرچ کرنے والا ،
اللہ کے دِین کے لئیے خُون دینے والا اور اللہ کے دِین کے لئیے پسینہ بھی نہ بہانے والا ۔۔ سب برابر ہیں ۔۔؟
یہ سارے برابر ہوگئے ۔؟ تو اللہ انصاف کرنے والا تو نہ ہُوا
جبکہ اللہ پاک قرآنِ کریم میں بار بار کہتے ہیں کہ ۔۔ میرے نزدیک یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔۔
قربانی دینے والا اور قربانی سے بچنے والا۔
اور میری مان کر چلنے والا اور میری نافرمانی کرنے والا
یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے ۔۔ مَیں عدل کرنے والا ہُوں ۔۔
ذرّہ برابر عمل ہو ۔۔ نیک عمل ہو تو اُسے بھی دیکھتا ہُوں، اور ذرّہ برابر گناہ ہو ۔۔ اُسے بھی دیکھتا ہُوں ۔
 
فمن یّعمل مثقال ذرّةٍ خیرًا یّرہ ۔ ومن یّعمل مثقال ذرّةٍ شرًّا یّرہ [سورہ الزلزال ۔ آیت 7، 8 ] ۔
..
۔ اللہ کہتے ہیں، رائی کے برابر بھی نیک عمک کیا ہوگا ۔۔ تو عمل کرنے والا اُسکو ضرور دیکھےگا، اور ذرّہ برابر گناہ کیا ہوگا ۔۔ تو اُسے بھی ضرور دیکھےگا۔
تو اللہ 'علیم ' ہے، اللہ عِلم والا ہے ، سبکے احوال کو جانتا ہے اور سبکے اعمال کو جانتا ہے اور سبکے خیالات کو جانتا ہے ،
اور اللہ 'حکیم ' ہے، اللہ حکمت والا ہے ، اپنے قول میں بھی حکمت والا، اپنے فعل میں بھی حکمت والا، اپنے فیصلوں میں بھی حکمت والا، اُسکی شریعت میں بھی اُسکی حکمت دکھائی دیتی ہے ، اُسکی تقدیر میں بھی اُسکی حکمت دکھائی دیتی ہے ، ہر چیز میں اُسکی حکمت نظر آتی ہے ،
یہ الگ بات ہے کہ بعض اوقات ۔۔ ہم اپنی جہالت کی وجہ سے ، کم عِلمی کی وجہ سے ، بے عقلی کی وجہ سے ۔۔ اللہ کی حکمت کو سمجھ نہیں پاتے ۔۔ وگرنہ اللہ پاک کا کوئی حُکم ، کوئی فیصلہ اور کوئی فعل ۔۔ حکمت سے خالی نہیں ہے ۔ ہر چیز میں حکمت ہے اُسکی
عربی کا مقولہ ہے ۔۔ فعل الحکيم لا یخلو عن الحکمه ۔۔ جو حکیم ہوتا ہے، عقلمند ہوتا ہے ،اُسکا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں ہوتا ۔۔ عربوں نے یہ قول کہا ۔۔ انسانوں کے بارے میں ، اور انسان کیا ! اور اُنکی حکمت کیا ! ۔۔ انسان کیا ! اور اُنکی عقل کیا ! ۔۔ اگر عام عقلمند انسان کا کوئی عمل حکمت اور فائدے سے خالی نہیں ، تو میرے اللہ کا کوئی عمل، کوئی فیصلہ ، کوئی فعل حکمت سے خالی کیسے ہوسکتا ہے۔۔ ؟
تو اللہ پاک کے ہر فیصلے میں ، ہر حکم میں ، ہر امر میں ، ہر نہی میں کوئی حکمت ہے ۔۔
اللہ نے جس چیز کو حلال کیا ۔۔ حکمت
جس چیز کو حرام کیا ۔۔ اسمیں حکمت
جس کو جائز قرار دِیا ۔۔ اسمیں بھی حکمت ہے
اور جس کو ناجائز قرار دِیا ۔۔ اسمیں بھی حکمت ہے
۔۔

imbajjo Offline
#103 Posted : Sunday, May 06, 2012 12:38:50 PM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 10/13/2010(UTC)
Posts: 1,710
Points: 5,160
Woman
Location: kuwait

Thanks: 33 times
Was thanked: 35 time(s) in 28 post(s)

 
آیت 171 کا مفہوم : "اے اہلِ کتاب اپنے دِین میں غُلو نہ کرو اور اللہ کے بارے میں سوائے حق بات کے کچھ نہ کہو "
غُلو کا معنیٰ کیا ہے؟ ۔۔ حد سے تجاوز کرجانا ، حد سے نکل جانا۔
یہود اور نصاریٰ دونوں ہی غُلو کا شکار تھے ، نصاریٰ غُلو کرتے تھے 'تعظیم' میں ۔۔ اور یہودی غُلو کرتے تھے 'توہین' میں
نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کی 'تعظیم' میں ، اُنکے ادب اور احترام میں اتنا غُلو کیا ، کہ اُنمیں سے کسی نے اُنکو خُدا کہہ دیا اور کسی نے خُدا کا بیٹا کہہ دیا
اور یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کے بارے میں 'توہین' میں غُلو کیا اور اتنا غُلو کیا ، کہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کو وہ نبی تو کیا مانتے ۔۔ شریف انسان بھی ماننے سے انکار کردیا
یہ چیزیں اُنکی کتابوں میں آج بھی موجود ہیں ۔۔ آج بھی۔
تو ہم بےبنیاد بات نہیں کررہے ، بلکہ اگر آپ اُنکی کتابوں کا مطالعہ کریں ، تو وہ نہ صرف یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام ۔۔ بلکہ اُنکی والدہ، اُنکی نانی، اور اُنکے پورے خاندان کو بھی شریف اور عصمت و عفت والا خاندان تسلیم کرنے کے لئیے تیار نہیں ہیں ، تو اُنہوں نے تو اتنی توہین کی ،
اِنہوں نے بھی غُلو کیا ، اور اُنہوں نے بھی غُلو کیا۔
اور یہ غُلو صرف حضرت عیسیٰ علیہ السّلام تک محدود نہ رہا بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کے جو متّبعین تھے ، اُنکے جو جانشین تھے ۔۔ اُنکے بارے میں بھی غُلو کیا ۔ کیسے غُلو کیا ؟ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کے جانشینوں کو ، عُلماء کو ، صوفیوں کو ، خُدا بنادیا ۔
جیسا کہ اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں فرمایا ۔۔
"اُنہوں نے اپنے عُلماء کو اور اپنے مشائخ کو رب بنالیا تھا اللہ کو چھوڑ کر۔ حالانکہ اُنکو حکم دیا گیا تھا کہ عبادت صرف ایک اللہ کی کرنا اُسکے سِوا کسی کی عبادت نہ کرنا" [سورہ التوبة ۔ آیت 31]
لیکن اُنہوں نے اپنے 'پِیروں' کو ، اپنے 'مولویوں' کو ، اپنے 'صوفیوں' کو ، ربوبیت کے منصب پر، خُدائی کے منصب پر فائز کردیا ۔۔۔۔۔ نبئ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم نے جب یہ آیتِ کریمہ سُنائی ، تو بعض صحابہ [جنمیں حاتم طائی کے بیٹے بھی شامل تھے جو پہلے عیسائیت میں رہے] اُنہوں نے عرض کیا ۔۔ یا رسول اللہ ! ہم نے تو کبھی ایسا نہیں سُنا کہ عیسائیوں نے اپنے عُلماء اور اپنے مشائخ کو اور اپنے پِیروں کو رب بنایا ہو ۔۔ اور اللہ کہتا ہے ۔۔ "یہ رب بناتے ہیں اپنے عُلماء اور مشائخ کو" ۔۔ تو نبئ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم نے اُن سے سوال کیا ۔۔ "کیا ایسا نہیں ہے کہ وہ جس چیز کو حلال کہہ دیں ، تم بھی حلال کہتے ہو۔ چاہے اُسکی کوئی دلیل بائیبل کے اندر موجود نہ بھی ہو ، اور وہ جس چیز کو حرام کہہ دیں ، تم بھی حرام سمجھنے لگتے ہو۔ چاہے اُسکی کوئی دلیل اللہ کی کتاب میں موجود نہ ہو؟" تو اُنہوں نے عرض کیا ۔۔ کہ یارسول اللہ ۔۔ ! ہاں ایسا تو ہے۔ بس ہم اُنکے کہنے پر ، جس چیز کو وہ حلال کہہ دیتے ۔۔ ہم بھی حلال مان لیتے تھے، اور جس چیز کو وہ حرام کہہ دیتے ۔۔ ہم بھی حرام مان لیتے تھے اور اُن سے یہ مطالبہ نہیں کرتے تھے کہ اللہ کی کتاب سے ہمیں اس پر کوئی دلیل دکھاوَ۔ تو نبئ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا ،کہ "یہی مطلب ہے اُنکو رب بنانے کا"
۔۔
تو میرے بھائیو! غُلو کو اسلام نے حرام قرار دیا ۔ ہمارے پیارے نبئ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا کہ ، "میرے بارے میں ایسے غُلو نہ کرنا جیسے نصاریٰ نے عیسیٰ علیہ السّلام کے بارے میں غُلو کیا اور اُنکو خُدا بنا لیا [میرے بارے میں تم ایسا غُلو نہ کرنا] مجھے تو بس اللہ کا بندہ کہو اور اللہ کا رسول کہو" [مجھے نہ تو خُدا کہو، نہ خُدا کا بیٹا کہو، مجھے تو بس عبداللہ کہو اور رسول اللہ کہو اسکے سِوا مجھے اور کچھ نہیں کہنا میرے مقام کو اتنا نہیں بڑھانا کہ خُدا تک جا پہنچاوَ]
یہاں تک کہ آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے لعنت فرمائی ۔۔ فرمایا ۔۔" یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو کہ اُنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا ۔۔ مسلمانو! تم میری قبر کو سجدہ گاہ نہ بنانا [غُلو نہ کرنا]"
۔۔ ہمارے کتنے ہی سیدھے سادے بھائی ہیں وہ بظاہر نبئ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم کا مقام اور مرتبہ بیان کرتے ہیں ، ادب اور احترام کرتے ہیں ، لیکن اُسمیں غُلو کرتے ہیں یہاں تک کہ حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کو خُدا سے جا مِلاتے ہیں ۔۔ یہ بہت سے پیشہ ور قِسم کے نعت خواں اور قوّال ۔۔ اِنکی قوّالیاں سُن کر دیکھیں اور اِنکی نعتیں اور اِنکی شاعری سُن کر دیکھیں۔۔۔ بالکل ایسے لگتا ہے کہ اللہ کے درمیان اور حضور صلّی اللہ علیہ کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے ۔۔ اور بعض تو صاف کہتے ہیں ۔۔ کہ محمد اور احد میں ، احمد اور احد میں صرف "میم" کا فرق ہے ۔۔ یہاں تک ایک صاحب نے کہہ دیا ۔۔
وہی جو مستوی تھا عرش پہ خُدا ہو کر
مدینے میں اُتر پڑا مصطفیٰ ہو کر۔
۔۔
اللہ کے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کا مقام اتنا بڑھادیا ۔۔ اور اپنے خیال میں یہ ادب کررہے ہیں ۔ احترام کررہے ہیں اور احترام میں اتنا آگے بڑھ گئے کہ نبی کو اللہ کے ساتھ جا مِلایا۔ بلکہ بعض نے اپنے مشائخ کے بارے میں ایسی ایسی باتیں کہِیں ، کہ مشائخ کو، اپنے پِیروں کو خُدا کے ساتھ جا مِلایا۔ تو ولیوں کو نبی بنادینا ،، اور نبیوں کو خُدا بنادینا ، خُدائی کے مقام تک پہنچادینا ۔۔ یہ اُنکا ادب و احترام نہیں ہے، یہ اُنکی توہین ہے، اُنکی تنقیص ہے اور اپنے ایمان کو ضایع کرنا ہے ۔
تو فرمایا کہ "اے اہلِ کتاب ! تم غُلو نہ کرو "
اور ہمارے پیارے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نے بھی غُلو کرنے سے بچنے کا حُکم دِیا ۔۔
ایک حدیث میں اللہ کے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا ۔۔ "اے مسلمانو! تم دِین میں غُلو کرنے سے بچنا اسلئیے کہ تم سے پہلی قوموں کو 'دِین میں غُلو' نے ہلاک کردیا۔ اُنکو تباہ کردیا۔ "
بعض لوگ ہوتے ہیں دِین میں غُلو کرتے ہیں، دِین پر چلنے میں غُلو کرتے ہیں ۔۔ جو چیزیں صرف نفل کا درجہ رکھتی ہیں ، مستحب کا درجہ رکھتی ہیں ۔۔ اُنکو فرض کا درجہ دے دیتے ہیں اور غُلو کرتے ہیں، غیر ضروری چیز کو بہت ضروری چیز بنادیتے ہیں۔
 
ایمان کا حِصّہ بنادیتے ہیں ۔ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جن کو تقویٰ کا ہیضہ ہوجاتا ہے ، تقویٰ اچھی چیز ہے ۔۔ لیکن ' تقویٰ کا ہیضہ' یہ اچھی چیز نہیں ہے ۔ اتنا متقی بن گیا ، اتنا متقی بن گیا۔۔ کہ اب اِسکے اندر معاذ اللہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین سے بھی زیادہ تقویٰ آگیا ہے۔ بہت ہی متقی بن گیا
تو بھائی یہ دِین کے اندر غُلو کرنا۔۔ یہ صحیح نہیں ہے
حد سے تجاوز کرجانا ۔۔ یہ غلط ہے ، اپنے آپ کو تباہی میں ڈالنا ہے اور اپنے لئیے مشکلات کو پیدا کرنا ہے۔
اسلام اعتدال کا حُکم دیتا ہے اور یہ اُمّت، اعتدال والی اُمّت ہے ۔ دوسرے پارے کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔۔ "ہم نے تمہیں درمیانی اُمّت بنایا ہے" ۔۔
[ سورہ البقرہ ۔ آیت 143 ]
اعتدال والی اُمّت
اور اعتدال ۔۔ ہر شعبے کے اندر ، عدل میں بھی اعتدال ہو، محبت میں بھی اعتدال ہو، دِین اور دنیا کے اعتبار سے بھی اعتدال ہو۔ ایسا نہیں کہ بظاہر یہ سمجھنا کہ مَیں دِین والا بن گیا ہُوں ، دیندار بن گیا ہُوں ، لہٰذا اب بیوی بچوں کے بھی حقوق ادا نہیں کرتا ، والدین کے بھی حقوق ادا نہیں کرتا ، بھائی بہنوں کے بھی حقوق ادا نہیں کرتا ارے بھئی کیا ہوگیا ؟ ۔۔ بس مَیں دِیندار بن گیا ہُوں ۔۔ مجھ پر دِین کا کچھ زیادہ غلبہ ہوگیا ہے اسلئیے مَیں سبکے حقوق ادا نہیں کررہا۔
اللہ اکبر
مجھے ایک صاحب نے بتایا کہ بھائی سے ناراضگی چل رہی تھی اور صِلہَ رحمی کا بیان سُنا [ہم بھی الحمدللہ صِلہَ رحمی پر بیان کرتے رہتے ہیں کہ بھئی رشتے داروں کے حقوق ادا کرو] تو صِلہَ رحمی کا بیان سُنا تو میرے دِل میں بڑا جوش آیا کہ بھائی کے ساتھ جا کر مِلنا چاہئیے اگرچہ نفرت کرتا ہے لیکن مِلنا چاہئیے ۔۔ تو مَیں اُس سے جا کر مِلا ، اُسکو سلام کیا اور اُس نے مجھے گھر کے دروازے سے ہی واپس بھیج دیا ۔۔ کہتا ہے "نہیں اب مجھ پر کچھ دِین کا غلبہ ہوگیا ہے ، مَیں خلوت پسند ہوگیا ہُوں اور میرے پاس اِن چیزوں کے لئیے وقت نہیں ہے"
۔۔

تو یہ وہ لوگ ہیں جو دِین کی سمجھ نہیں رکھتے ۔۔ جاہل قِسم کے لوگ ، بظاہر سمجھتے ہیں کہ مَیں دِیندار ہوگیا۔۔ لیکن حقیقت میں یہ دِین کو بدنام کرنے والے لوگ ہیں ۔۔ کہ اب حقوق ہی کو بھول گیا ۔۔ بھائی بہنوں کے حقوق، والدین کے حقوق ، رشتے داروں کے حقوق ۔۔ اور اپنے خیال میں سمجھ رہا ہے کہ مَیں دِین کے لئیے کررہا ہُوں ۔۔ اللہ کی رضا کے لئیے کررہا ہُوں ۔۔ حالانکہ اللہ اِن باتوں سے ناراض ہوتے ہیں ۔ تو بھئی دِین کے اعتبار سے بھی غُلو نہ کرے ، دنیا کے اعتبار سے بھی غُلو نہ کرے ، کہ دنیا میں اتنا آگے چلا جائے کہ دینی فرائض کو بھی بھول جائے ۔۔ اسمیں بھی اعتدال کی ضرورت ہے ۔۔ بس دنیا کمانے کی اور پیسے بنانے کی مشین بن کر رہ گیا ۔
اوّل تو اسکی بھی ضرورت نہیں ، یہ بہانہ پیش کرنے کی بھی ضرورت نہیں کہ 'دنیا کمانے کے لئیے'بس دنیا دار بن گیا ۔۔ لیکن بعض لوگ ہوتے ہیں ، وہ بہانہ کرتے ہیں ، کہ بھئی دنیا کمانا بھی تو عبادت ہے ۔۔ رزقِ حلال کمانا بھی تو فرض ہے ۔۔ بڑا ضروری کام ہے۔
تو اب اُسمیں اتنا غُلو کِیا ۔۔ کہ نماز کی فکر نہیں ، روزے کی فکر نہیں ، تلاوت کی فکر نہیں ، ذکر کی فکر نہیں ، حلال حرام کی فکر نہیں ۔۔ دنیا میں غُلو کررہا ہے
،
یہ بھی غلط
خُرد و نوش میں ، کھانے پینے میں بھی اعتدال ضروری ہے ۔۔ نہ تو ایسا اپنے اوپر ظلم کرے کہ اتنا کم کھائے کہ جان خطرے میں پڑ جائے ، اور نہ ہی ایسا ہو کہ ہر وقت کھانے پینے ہی کی فکر ہے ۔۔ میرے بہت سارے بھائی اور بہنیں ایسی ہیں۔۔ اُنکو پُوری کراچی کا پتہ ہے ۔۔ کونسی دکان ایسی ہے ۔۔ وہاں سموسے اچھے ہیں ، کونسی دکان ایسی ہے ۔۔ وہاں حلیم اچھا ہے، کونسی دکان ایسی ہے ۔۔ جہاں سے بریانی اچھی مِلتی ہے ،
 
۔۔۔ کہتے ہیں بڑا ٹیسٹ
[TASTE ]
ہے، بڑا ٹیسٹ ہے فلاں چیز کے اندر ۔۔ تو اِسی ٹیسٹ میں ہی مگن رہتے ہیں ہر وقت اسی کی فکر، ٹیسٹ ہی کی فکر ۔۔
لباس کے اعتبار سے غُلو ۔۔ بعض ایسے ہیں کہ اُنکو تو فکر ہی نہیں ہے اور ایسے کم ہیں ۔۔ پہلے ہوتے ہونگے ، آجکل ایسے کم ہیں کہ لباس کی فکر ہی نہیں ہے
۔
یہ بھی غلط ۔
۔ اللہ نے اگر دِیا ہے تو اچھا لباس پہنا جائے صاف ستھرا لباس پہنا جائے ۔۔ لیکن دوسرے اعتبار سے غُلو ، کہ ہر وقت لباس کی فکر ہے ۔۔ ہر وقت ، اور یہ بیماری خاص طور پر میری بہنوں اور بیٹیوں کے اندر پائی جاتی ہے ۔۔ ہر وقت نئے فیشن کی فِکر ، ملاقات کرینگی، حال احوال تو بعد میں پوچھیں گی ۔۔ پہلے ایک ہی نظر میں دیکھ لیں گی کہ کونسا کپڑا پہنا ہُوا ہے ، کونسا فیشن ہے ، کونسا جُوتا ہے ۔۔ اوپر سے نیچے تک جائزہ لے لیا ۔۔ زیورات کونسے ہیں اور پُھول بُوٹے کیسے ہیں ۔۔ اور دوپٹہ کیسا ہے ۔۔ اور بیٹھیں گی تو اسی چیز کا ذکر ۔۔ اسی چیز کے تذکرے ۔
تو میری بہنو ! اور بیٹیو! اسقدر بھی غُلو نہیں کرنا چاہئیے کہ ہر وقت اسی چکر میں پڑی رہیں ۔
تو بھئی اعتدال ضروری ہے ، ہمیں اعتدال کا حُکم دیا گیا ۔۔ اللہ نے فرمایا : "اے اہلِ کتاب اپنے دِین میں غُلو نہ کرو اور اللہ کے بارے میں حق کے سِوا کچھ نہ کہو
 
مسیح , عیسیٰ ، مریم کے بیٹے تھے اور اللہ کے رسول اور اُسکے کلمہ تھے "
مسیح کون تھے ؟ ۔۔۔ عیسیٰ علیہ السّلام ، مریم کے بیٹے اور اللہ کے رسول اور اللہ کے کلمہ۔
"جس کلمے کو اللہ نے مریم تک پہنچا دیا تھا اور [مسیح] ایک جان ہیں اللہ کی طرف سے "
یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کا ۔۔ ایک تو، نام ذکر کیا گیا 'عیسیٰ'
دوسرے، اُنکی کنیت : 'مریم کے بیٹے'
تیسرے ، اُنکا لقب : "مسیح" ، "کلمة اللہ" ، "روح اللہ"
یہ مختلف الفاظ اور کلمات , اللہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کے لئیے یہاں استعمال فرمائے
'عیسیٰ' تو ، حضرت مسیح علیہ السّلام کا نام تھا ، اور اُنکو "مسیح" اسلئیے کہتے تھے کہ ۔۔ "کہتے ہیں کہ وہ ہاتھ پھیرتے تھے ، "مسح" کرتے تھے کسی کے جسم پر تو اُس مسح کرنے سے بیمار کو شِفا حاصل ہوجاتی تھی " اور اُنکو "کلمة اللہ" کہا ۔۔ اللہ کا کلِمہ ۔۔ اسلئیے کہ "وہ اللہ کے کلمے سے پیدا ہوئے " ۔۔ بغیر ، "باپ کے واسطے" کے اور اللہ نے کہا "کُن" ۔۔ ہوجا ، پیدا ہوجا ۔۔ ہوگئے ۔
اور اللہ نے اُنکو "روح اللہ" قرار دیا "رُوحٌ مِنهُ" یعنی اللہ کے بنائے ہوئے .. جو ظاہری اسباب کے بغیر حضرت مریم علیہ السّلام کے پیٹ میں مجسّم ہوگئے ۔۔ بچے کی شکل اختیار کر گئے ۔۔ لیکن یہ جو اللہ کی طرف نسبت ہے ۔۔ "رُوحُ اللہ" ۔۔ "وہ اللہ کی رُوح تھے " ۔ ۔ یہ نسبت "صرف عظمت" کے لئیے ہے ، صرف اُنکے احترام کے لئیے ہے ، یہ مطلب نہیں ہے کہ صرف عیسیٰ علیہ السّلام کے اندر ہی اللہ کی روح تھی بلکہ کائنات کی ہر چیز کے اندر اللہ کی روح ہے۔ یہاں نسبت کی گئی تعظیم کے لئیے ۔۔
جیسے بیت اللہ ۔۔ کعبہ کو کہا جاتا ہے، "اللہ کا گھر"
تو کیا اللہ اُسمیں رہتے ہیں ؟ یا صرف وہی کعبہ .. اللہ کی ملکیت ہے؟ نہیں ۔۔ اللہ کی ملکیت تو ساری کائنات ہے ۔۔ ساری چیزیں ہی اللہ کی ہیں ،
تو بیت اللہ کی نسبت اللہ کی طرف ۔۔ یہ تعظیم کے لئیے ہے ،
"عبداللہ : اللہ کا بندہ" ۔۔ تو کیا صرف یہی اللہ کا بندہ ہے ؟ اور کوئی اللہ کا بندہ نہیں ہے ؟ نہیں ۔۔ سارے ہی "عبداللہ" ہیں ، مَیں بھی عبداللہ، آپ بھی عبداللہ ۔ اور ساری کائنات ہی عبداللہ ۔۔ "اللہ کے بندے" ۔۔ لیکن یہ جو نسبت کی جاتی ہے ، یہ تعظیم کے لئیے ۔۔ "عبدہُ، عبدنا " ۔۔ یہ تعظیم کے لئیے ہے ۔
اور اسی طرح یہ بھی جان لیں کہ اِسکا یہ مطلب نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام .. اللہ کا جزو تھے ۔
۔ بعض نے معاذاللہ اِس سے یہ استدلل بھی کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام ، اللہ کا جُزو تھے، اللہ کی روح کا جُز اور اللہ کا ایک حِصّہ ۔
۔ تو بھئی یہ بھی استدلال کرنا غلط ہے ۔۔ اُنکو "رُوحٌ مِنهُ" ۔۔ اللہ کی رُوح ایسے ہی قرار دیا ۔۔
جیسے کہا جاتا ہے ۔۔ "ھٰذِہِ نِعمَةٌ مِنَ اللہ" : "یہ اللہ کی نعمت ہے"
تو اسکا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ یہ اللہ کا حصہ ہے ۔۔ اللہ کا جُزو ہے ۔۔ بلکہ اللہ کی عطا کردہ ایک نعمت ہے ۔
۔۔۔ تو عیسیٰ علیہ السّلام بھی اللہ کے عطا کردہ، اللہ کے تخلیق کردہ ایک بندے تھے اور ویسے قرآنِ کریم میں اللہ نے صرف حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کی طرف ہی رُوح کی نسبت نہیں کی، بلکہ دوسروں کی طرف بھی نسبت کی ہے ۔۔ مثال کے طور پر فرمایا ۔۔ : "جب مَیں آدم کو برابر کردوں اور آدم کے اندر اپنی روح پُھونک دوں تو اے فرشتو تم آدم کے سامنے سجدے میں گِر جانا" [سورہ الحجر ۔ آیت 29 ]
اب ظاہر ہے کہ اِس آیتِ کریمہ سے کوئی یہ استدلال نہیں کرتا کہ معاذ اللہ ۔۔ حضرت آدم علیہ السّلام ، اللہ کا ایک حِصّہ تھے ، اللہ کا ایک جُزوتھے ، تو اسی طریقے سے ، یہاں سے بھی یہ استدلال کرنا بالکل غلط کہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام ، اللہ کا ایک حِصّہ تھے،
 
"تو ایمان لے آوَ اللہ پر اور اُسکے رسولوں پر ، اور یہ نہ کہو کہ [خُدا] تین ہیں ، باز آجاوَ ۔۔ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے ۔ "

باز آجاوَ اِس کہنے سے کہ خُدا تین [3] ہیں ، عیسائی جو ہیں وہ عقیدہَ تثلیث کے قائل ہیں ، پھر اُن میں سے بعض تو کہتے ہیں کہ خُدائی ۔۔ تین اجزاء سے مرکّب ہے، اور بعض تو کہتے ہیں کہ تین مستقل بِالذّات خُدا ہیں ، اور یہ عجیب و غریب عقیدہ ہے ، اُنکی کتابوں کے اندر جو حقیقت میں بعض اوقات سمجھ میں بھی نہیں آتا ۔۔ مثال کے طور پر مَیں آپکو اُنکی کتابوں سے عبارت سُنا رہا ہُوں ۔۔۔
[---] ۔
آپ بتائیے کہاں یہ گورکھ دھندا ! اور کہاں اسلام کا سادہ سا کلمہ !
 
لا الہ الا اللہ ۔۔ اللہ کے سِوا کوئی معبود نہیں
غیر مخلوق ۔۔ صرف اللہ، غیر محدود ۔۔ صرف اللہ،
ازلی، ابدی ۔۔ صرف اللہ، قادرِ مطلق ۔۔ صرف اللہ،
سب کچھ کرنے والا ۔۔ صرف اللہ ۔
تو اللہ ہی کے بارے میں مسلمانوں کے یہ عقائد ۔۔ الحمدللہ اسلام کا عقیدہ بہت سیدھا سادہ سا ۔۔ اُس مالک کا شُکر ادا کیجئیے جس نے ہمیں ایک سادہ سا عقیدہ عطا فرمایا ، اور ہم کسی شِرکیہ اور کُفریہ گورکھ دھندے میں نہیں پڑے ۔
"اللہ تو بس ایک ہی معبود ہے وہ پاک ہے اِس سے کہ اُسکا کوئی بیٹا ہے اُسی کے لئیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور اللہ کا کارساز ہونا کافی ہے"

imbajjo Offline
#104 Posted : Sunday, May 06, 2012 1:01:27 PM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 10/13/2010(UTC)
Posts: 1,710
Points: 5,160
Woman
Location: kuwait

Thanks: 33 times
Was thanked: 35 time(s) in 28 post(s)

آیت 172 کا مفہوم : "مسیح ، اللہ کا بندہ ہونے میں ہرگز عار محسوس نہیں کرتے اور نہ ہی مقرّب فرشتے "
بہت سے لوگ اپنے بزرگوں کے بارے میں اور اپنے بڑوں کے بارے میں شاید یہ تصوّر رکھتے ہیں کہ اللہ کا بندہ ہونے میں کوئی شرم کی بات ہے عار کی بات ہے ، اللہ فرماتے ہیں ، نہیں ۔۔ جو میرے بندے ہیں وہ میری بندگی میں عار محسوس نہیں کرتے میرا بندہ ہونے میں فخر محسوس کرتے ہیں ، عزت محسوس کرتے ہیں ۔ انسان کے لئیے سب سے بڑا مقام اور مرتبہ یہ ہے کہ وہ اللہ کا بندہ ہو اسی لئیے ہمارے پیارے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم باوجودیکہ آپ رحمت للعٰلمین بھی تھے
 
شفیع المذنبین بھی تھے ، سید المرسلین بھی تھے ، لیکن اللہ پاک نے عزت کے مقام پر حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کے جس لقب کا ذکر کیا ہے وہ عبدیت کا ذکر کیا ہے ۔۔ "عبداللہ" ۔۔ سبحٰن الّذی اسرٰی بعبدہ ۔۔ [سورہ بنی اسرائیل ۔ آیت 1]
اور
اشھد ان لا الہ الا اللہ و اشھد ان محمد عبدہ ورسولہ

تو عبدیت کو ذکر کیا ہے، تو اللہ کے بندے , اللہ کی بندگی میں کوئی شرم اور عار محسوس نہیں کرتے ۔۔ بلکہ اللہ کے بندوں کے لئیے سب سے بڑی عزت کی بات یہ ہے کہ اللہ کہہ دے کہ یہ میرا بندہ ہے ۔۔ اس سے بڑھ کر اور کوئی مقام نہیں ۔۔
"اور جو کوئی اللہ کی عبادت سے اور اللہ کی بندگی سے عار محسوس کرتا ہے اور تکبر کرتا ہے تو وہ اُن سبکو اپنی طرف جمع کرلے گا "
اور پھر اُن سے پوچھے گا ۔۔ کیا تم میری بندگی میں عار محسوس کرتے تھے ؟
اللہ اکبر ۔۔
اور کیا تم نے لوگوں کو حکم دیا تھا کہ ہمیں خُدا بناوَ ۔۔ ہمیں معبود بناوَ ۔۔؟
اللہ نے فرمایا ۔۔ "اے عیسیٰ مریم کے بیٹے کیا تم نے لوگوں کو کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنالو اللہ کو چھوڑ کر؟ [حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کہیں گے ۔۔ نہیں اے اللہ] تُو پاک ہے مَیں ایسی بات کیسے کہہ سکتا ہُوں جسکا مجھے حق ہی نہیں ہے"
 [سورہ المائدہ ۔ آیت 116]
مَیں نے کسی کو نہیں کہا تھا کہ تم مجھے معبود بناوَ۔
..
تو اللہ کے ولی، اللہ کے نبی ، اللہ کے نیک بندے .. وہ اللہ کی بندگی میں شرم اور عار محسوس نہیں کرتے ۔۔ عزت محسوس کرتے ہیں ۔
اور وہ لوگ ظلم کرتے ہیں جو اللہ کے نیک بندوں کو معاذ اللہ .. معبود بنالیتے ہیں ۔
..
آیت 173کا مفہوم : "پس وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کئیے تو اُنہیں اُنکے اجر اللہ پُورے پُورے دے گا
لیکن جن لوگوں نے اللہ کی بندگی میں شرم محسوس کی اور تکبر کیا اللہ اُنکو دردناک عذاب دے گا"
۔۔
آیت 174 کا مفہوم : "اور وہ اپنے لئیے اللہ کے سِوا نہ کوئی حامی پائیں گے نہ کوئی سرپرست اور نہ کوئی مددگار"
۔۔

imbajjo Offline
#105 Posted : Sunday, May 06, 2012 1:30:00 PM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 10/13/2010(UTC)
Posts: 1,710
Points: 5,160
Woman
Location: kuwait

Thanks: 33 times
Was thanked: 35 time(s) in 28 post(s)

 

آیت 175 کا مفہوم : "اے لوگو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے برہان آگئی اور ہم نے تمہاری طرف واضح نُور نازل کردیا ہے"
بُرہان ۔۔ ہمارے پیارے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کی ذات ۔۔ یہ ایک بُرہان ہے ۔۔ ایک حُجّت ہے ۔۔ ایک دلیل ہے ۔۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم کا وجود ، آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی زندگی ، آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی سیرت ، آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے اخلاق ، آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے کمالات ، جتنے بھی انسانی کمالات کا ہم تصوّر کرسکتے ہیں ۔۔ وہ سارے کے سارے کمالات , اللہ نے حضرت محمد الرّسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم کو عطا فرمادئیے ۔۔
کمالات کی انتہا ہوگئی حضورِ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم پر .. حضورِ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم صرف نبوّت کے خاتم نہیں تھے ، کمالات کے بھی خاتم تھے ۔۔
حضرت مولانا قاسم نانوتوی رحمت اللہ علیہ نے یہ بات فرمائی ۔۔ بعض لوگ نہ سمجھے تو حضرت مولانا قاسم نانوتوی پر اعتراضات کرنا شروع کردئیے کہ معاذ اللہ مولانا قاسم نانوتوی ۔۔ ختمِ نبوّت کا انکار کرتے ہیں ۔ ۔۔ نہیں ، ایسا نہیں ہے ۔۔ مولانا قاسم نانوتوی کیا بات فرمارہے ہیں ؟ ۔۔ فرمارہے ہیں کہ .. "حضورِ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم پر .. صرف نبوّت ہی ختم نہیں ہوئی سارے مرتبے اور کمالات بھی حضورِ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم پر ختم ہوگئے " ۔۔۔ انسان کے لئیے ہم جو بڑے سے بڑے مرتبے کا تصوّر کر سکتے ہیں ۔۔ اللہ نے وہ مرتبہ اور کمال حضورِ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم کو دے دیا ۔۔ حضورِ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم کے بعد اب کوئی ایسا مقام اور مرتبہ نہیں بچا جو کسی انسان کو دیا جا سکے ۔۔
ایک مغربی فلسفی گزرے ہیں ۔۔ نطشے کے نام سے ۔۔ اُنہوں نے جو ایک خاص نظریہ ۔۔ "نظریہَ ارتقاَ" پیش کیا ۔۔ تو وہ اِس بات کے قائل ہیں کہ انسانوں کے اندر ایک " سُوپر مَین " کا ہونا ضروری ہے ۔۔ " سُوپر مَین " ۔۔ یعنی ایک ایسا انسان ، جس پر سارے انسانی کمالات کی انتہا ہوجائے ۔۔ اُنکا نظریہ , یہ ہے ۔ انسان ارتقاَ کررہا ہے ، ترقی کررہا ہے ، یہاں تک کہ ترقی کرتے کرتے ایک ایسا انسان آئیگا جو " سُوپر مَین " ہوگا اور اُس پر سارے انسانی کمالات کی انتہا ہوجائے گی۔
کاش نطشے نے ، ہمارے پیارے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم کی سیرت کا مطالعہ کیا ہوتا تو وہ اقرار کرنے پر مجبور ہوجاتا کہ وہ جس " سُوپر مَین " کی تلاش میں ہے وہ " سُوپر مَین " مکّہ معظمہ میں پیدا ہوچکے اور اللہ نے اُن کو سارے انسانی کمالات عطا فرمادئیے اور جسے نطشے نے " سُوپر مَین " کا نام دیا ۔۔ علّامہ اقبال اُسے نام دیتے ہیں ۔۔ "عبدُہ" کا ۔۔ اور اُنہوں نے حضورِ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم کی تعریف میں بڑا عجیب شعر کہا ۔۔
عبد دیگر عبدُہ چیزِ دیگر
بندہ اور چیز ہے اور اللہ کا بندہ ہونا اور چیز ہے ۔۔ عبدُہ ۔۔ عبدُہ سے مراد حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم ۔۔
عبد دیگر عبدُہ چیزِ دیگر
ما سراپا انتظار اُو منتظر
 [عبد اور چیز ہے اور عبدُہ اور چیز ہے ۔۔
سارے کے سارے بندے انتظار میں ہوتے ہیں اور عبدُہ کا ۔۔ اللہ خود انتظار کرتا ہے۔]
.
تو بہر حال حضورِ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم پر , اللہ نے سارے کمالات کی انتہا فرمادی
حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم کا وجود ۔۔ اسلام کی حقانیت کی ایک مستقل دلیل ہے
آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم , اللہ کی حُجت اور بُرہان ہیں
اور اللہ کہتے ہیں : "ہم نے تمہاری طرف نورِ مُبین عطا کیا"
واضح نُور ۔۔ اور یہ واضح نُور ، قرآن ہے۔
جتنی بھی آسمانی کتابوں میں سچائیاں ہیں ، وہ ساری کی ساری قرآنِ کریم کے اندر ہیں ۔ قرآن سے نُور پیدا ہوتا ہے میرے بھائیو ۔۔! دِلوں میں بھی نُور پیدا ہوتا ہے ، گھروں میں بھی نُور پیدا ہوتا ہے ، معاشروں میں بھی نُور پیدا ہوتا ہے ، مُلکوں میں بھی نُور پیدا ہوتا ہے ۔۔ اگر ہم قرآنِ کریم کے حقوق ادا کرینگے تو نُور پیدا ہوگا ۔۔ ہر جگہ نُور پیدا ہوگا۔
 
--
 

imbajjo Offline
#106 Posted : Monday, May 07, 2012 8:23:50 AM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 10/13/2010(UTC)
Posts: 1,710
Points: 5,160
Woman
Location: kuwait

Thanks: 33 times
Was thanked: 35 time(s) in 28 post(s)

آیت 176 کا مفہوم : "پس وہ لوگ جو ایمان لائے اللہ پر اور اللہ کو مضبوطی سے تھام لیا"
..
بس اللہ کے ہو کر رہ گئے
۔۔ یہ ہے ۔۔
ایک دفعہ مان لیا اللہ کو اور بس پھر اُسی کے ہو کر رہ گئے ، اِسی پر جم گئے ، ڈٹ گئے ، "ہم تو اللہ کے ہیں ۔۔ اللہ ہمارے ہیں " .. نبئ اکرم صلّی اللہ علیہ وسلّم سے ایک صحابی نے درخواست کی یا رسول اللہ ! مجھے مختصر سی نصیحت فرمائیں ۔۔ مَیں لمبی باتیں یاد نہیں رکھ سکتا ،مختصر سی ۔۔ اور ایسی نصیحت فرمائیں کہ اللہ پاک مجھے کامیابی عطا فرمادیں ۔۔
حضور صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا ۔۔ قُل اٰمنتُ بِاللہ ثُمَّ استَقِم ۔۔ "تم کہہ دو مَیں اللہ پر ایمان لایا پھر اِس پر ڈٹ جاوَ ۔۔ "
[مَیں یُوں بھی کہہ سکتا ہُوں ۔۔ اسلئیے کہ ہم نے تو ایمان کو عجیب سی چیز بنادیا .. کہ ایسے ہی رسمی طور پر کہہ دیں , کہ مَیں اللہ کو مانتا ہُوں ۔۔ لیکن مَیں یُوں کہہ رہا ہوں ]
"کہہ دو ایک دفعہ .. مَیں اللہ کا ہُوں "
"کہہ دو ایک دفعہ مَیں اللہ کا ہُوں ۔۔ پھر اِسی پر ڈٹ جاوَ"

"ایمان" کا کیا مطلب ہے ؟ ..
"ایمان بِاللہ" کا کیا مطلب ہے ؟
مَیں اللہ کا ہُوں ۔۔ میرا اللہ جو کہے گا ، مَیں مانوں گا ۔

 


تو فرمایا کہ : "پس وہ لوگ جو ایمان لائے اللہ پر اور اللہ کو مضبوطی سے تھام لیا اُنہیں اللہ اپنی رحمت میں اور اپنے فضل میں داخل کرے گا اور اُن کو اپنی طرف سیدھے راستے کی ہدایت دے گا"

--

 

 

imbajjo Offline
#107 Posted : Monday, May 07, 2012 8:40:39 AM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 10/13/2010(UTC)
Posts: 1,710
Points: 5,160
Woman
Location: kuwait

Thanks: 33 times
Was thanked: 35 time(s) in 28 post(s)

..
یہ سورہ النساء کی آخری آیت ہے۔۔ اس میں وراثت کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے۔۔ اور وراثت کے مسائل اسی سورہ کے آغاز میں تفصیل سے بیان ہوچکے۔ آپکو وہاں اسکی تفصیل بتائی جاچکی ہے
..

 
آیت 177 کا مفہوم : "یہ آپ سے سوال کرتے ہیں [مسئلہ پوچھتے ہیں] فرمادیجئیے اللہ تمہیں فتویٰ دیتا ہے کلالہ کے بارے میں "
کلالہ : ۔۔ وہاں بتایا تھا آپکو۔۔ کلالہ اُسکو کہتے ہیں ، نہ تو اُسکے اُصول [والدین] ہوں اور نہ ہی اُسکے فروع [اولاد] ہوں ۔۔ اور اُسکا انتقال ہوجائے ۔۔ اِسکو کہتے ہیں کلالہ۔ نہ اُسکے اُصول، نہ اُسکے فروع ۔۔ تو فرمایا کہ ۔
"اگر کسی شخص کا انتقال ہوجائے اور اُسکی کوئی اولاد نہ ہو لیکن اُسکی کوئی بہن ہو تو اُسکی بہن کو اُسکے ترکہ میں سے [میراث میں سے ] آدھا مال مِلے گا ۔ اور اگر بہن ایسی ہو
 [جسکا کوئی نہیں سوائے بھائی کے، اور اُسکا انتقال ہوگیا ]
تو بھائی کو سارے کا سارا مال مِلے گا اگر بہن کی کوئی اولاد نہ ہو۔ اور اگر بہنیں دو ہوں ۔۔"
[بھائی کا انتقال ہُوا ایسا بھائی ۔۔ کہ جسکی اولاد بھی نہیں، بیوی بھی نہیں ، اور والدین بھی نہیں اور اُسکی دو بہنیں ہیں ، یا دو سے زیادہ ہیں ۔۔ تو پھر بھائی نے جو کچھ ترکہ میں چھوڑا ہو ]
 
" تو اُسکے دو تہائی وہ اِن دونوں بہنوں کو مِل جائیںگے لیکن اگر بھائی بہن دونوں ہوں تو پھر بھائی کو دو بہنوں کے برابر حصّہ مِلے گا ۔ اللہ تمہارے سامنے اِن احکام کو بیان کرتے ہیں کہیں تم گمراہ نہ ہوجاوَ اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے"
 ..
 
واٰخر دعوانا ان الحمدللہ رب العِلمین
 
 



imbajjo Offline
#108 Posted : Monday, May 07, 2012 9:22:03 AM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 10/13/2010(UTC)
Posts: 1,710
Points: 5,160
Woman
Location: kuwait

Thanks: 33 times
Was thanked: 35 time(s) in 28 post(s)

اَلحمدُ لِلہ
سورة النساء مکمل ہوگئی ہے ۔۔
اللہ پاک ہمیں سورہَ المائدہ اور بقیہ سورتیں بھی اسی طریقے سے پڑھنے ، سُننے ، سُنانے ، سمجھانے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
الحمد للہ رب العٰلمین ۔ والصّلاة والسّلام علیٰ سید الانبیاء والمرسلین ۔
 
ربّنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفرلنا وترحمنا لنکونن من الخٰسرین
ربّنا ھب لنا من ازواجنا وذرّیّٰتنا قرّة اعین واجعلنا للمتّقین اماما

یا رب العٰلمین ! یا ارحم الرّٰحمین ! اپنے فضل و کرم سے ہمارے صغیرہ کبیرہ ، خفیہ علانیہ ، سارے گناہوں کو معاف فرمادے
اے اللہ ! اے اللہ ! ہماری مغفرت کا اعلان فرمادے
یا اللہ ! اپنے غضب سے ، اپنے عذاب سے ہماری حفاظت فرمالے
یا اللہ ! ہم پر اپنی رحمت نازل فرما
یا اللہ ! ہمارے گھروں پر اپنی رحمت نازل فرما
یا اللہ ! جتنے بیماروں کے لئیے دعا کے لئیے کہا گیا
یا اللہ ! اُنہیں بھی شِفا عطا فرما اور جنکے لئیے نہ کہا جا سکا
یا اللہ ! اُنکو بھی شِفا عطا فرما
یا اللہ ! تُو ہم سبکو ، ہمارے متعلّقین کو۔۔ جسمانی اور روحانی ، ساری بیماریوں سے شِفا عطا فرمادے
اے اللہ ! ہماری ساری پریشانیوں کو دُور فرمادے
ہماری جائز ضروریات غیب کے خزانوں سے پُوری فرمادے
یا اللہ ! جو والدین اپنی نوجوان اولاد ۔۔ خصوصاً بیٹیوں کے رشتوں کے سلسلے میں پریشان ہیں .. 
 اے اللہ ! اُنی پریشانی کو دُور فرمادے
اے اللہ ! تُو .. نیک اور صالح رشتے مہیّا فرمادے
یا اللہ ! جو بے روزگار ہیں اُنہیں روزگار عطا فرمادے
ہمارے مرحومین کی مغفرت فرمادے
اے اللہ ! اُمّتِ مُسلِمہ کو اچھی قیادت نصیب فرمادے
یا اللہ ! یہ درسِ قرآن کی نشست اپنی بارگاہ میں قبول فرمالے
یا اللہ ! ہمارے سُننے سُنانے کو قبول فرمالے
یا اللہ ! جتنے بھی ہمارے بھائی اور بہنیں ، ذوق شوق سے اِسمیں شرکت کرتے ہیں ۔۔
یا اللہ ! سبکے دِلوں کو قرآن کے نُور سے مُنوّر فرمادے
یا اللہ ! سبکے گھروں کو قرآن کے نُور سے مُنوّر فرمادے
یا اللہ ! قرآن کو ہمارے دِلوں کی بہار بنادے ، آنکھوں کا نُور بنادے ، غم اور پریشانیوں کا علاج بنادے ، زندگی کا اِمام بنادے ، قبر اور حشر کا ساتھی بنادے
قرآنِ کریم کی تعلیمات کو پُوری دنیا میں پھیلانے کی توفیق عطا فرمادے
! اے اللہ  
 اے اللہ ! قرآن کے نُور کو عام کرنے کی توفیق عطا فرمادے
یا اللہ ! جیسے سورہ النساء مکمل ہوئی
یا اللہ ! اگلی سورتیں بھی اسی طریقے سے ہمیں سُننے سُنانے کی توفیق عطا فرمادے
یا رب العٰلمین ! یا ارحم الرّٰحمین ! ہم بہت کمزور ہیں ۔۔ ہمارے ساتھ کمزوروں والا معاملہ فرما اے اللہ۔!
یا اللہ ! ہماری دعاوَں میں ، ہماری نمازوں میں ، ہمارے ذکر میں ، ہماری تلاوت میں ، ہمارے اِس درس کے سُننے سُنانے میں جو غلطیاں ، کمزوریاں ، کوتاہیاں ہوگئیں ۔۔ معاف فرمادے
اے اللہ ! معاف فرمادے۔۔۔ اپنی بارگاہ میں قبول فرمالے

--
ربّنا اٰتنا فی الدّنیا حسنةً وّفی الاٰخرة حسنةً وقنا عذاب النّار
ربّنا تقبّل منّا انّك انت السّمیع العلیم - وتب علینا انّك انت التّوّاب الرّحیم
صلّی اللہ تعالیٰ علیٰ رسوله و خیر خلقه سیدنا و مولانا محمّد واٰله واصحابه واہلِ بیته اجمعین ۔۔ اٰمین برحمتك یا ارحم الرّٰحمین

Jia Offline
#109 Posted : Tuesday, May 08, 2012 1:47:19 PM(UTC)

Rank: The KP Queen

Groups: Member, Moderators
Joined: 11/30/2008(UTC)
Posts: 5,993
Points: 4,062
Woman
Location: karachi

Thanks: 16 times
Was thanked: 18 time(s) in 17 post(s)


الحمدُ لِلہ
سورة النساء مکمل ہوگئی ہے ۔۔

 


الحمدُ لِلہ
جزاک اللہ خیر بجّو بہت خوشی کی بات ہے آپ اپنے مقصد میں ثابت قدم رہیں

ہم خطاکاروں نے بھلے آپ کی باتوں کو با قاعدگی سے نہ پڑھا لیکن دعا ہے

.اللہ سبحان تعالئ آپ کی تمام مخلص کاوشوں کا اجر عظیم عطا فرمائیں اورہمیں بھی بھلائی کی راہ پہ چلنے کی توفیق دیں

ِ آمین

 

 

 

 


وَقُل رَّبِّ ٱرۡحَمۡهُمَا كَمَا رَبَّيَانِى صَغِيرً۬ا
اے میرے رب جس طرح انہوں(والدین) نے مجھے بچپن سےپالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما
( سورة بنیٓ اسرآئیل / الإسرَاء آیت 24
Submit Your Recipe | Dinnerware Showcase

imbajjo Offline
#110 Posted : Sunday, May 13, 2012 8:58:38 AM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 10/13/2010(UTC)
Posts: 1,710
Points: 5,160
Woman
Location: kuwait

Thanks: 33 times
Was thanked: 35 time(s) in 28 post(s)

 

 

آمین ثمّ آمین۔

یہ میری باتیں تھیں ہی کہاں ؟

یہ تو جن بزرگ ہستی کے قیمتی الفاظ تھے آج وہ اپنے خالقِ حقیقی سے جا مِلے

۔۔

 انا للہ و انا الیہ رٰجعون۔

..

http://www.dailyislam.pk.../may/13-05-2012/news.php


 

imbajjo Offline
#111 Posted : Sunday, May 13, 2012 9:07:43 AM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 10/13/2010(UTC)
Posts: 1,710
Points: 5,160
Woman
Location: kuwait

Thanks: 33 times
Was thanked: 35 time(s) in 28 post(s)

 

مولانا صاحب کی شہادت کی خبر سن کر دل ڈُوبا جا رہا ہے

۔۔ انا للہ وانا الیہ رٰجعون ۔۔

اللہ انکے لواحقین کو صبر عطا فرمائے، آمین

مولانا صاحب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ ترین درجات عطا فرمائے،آمین

مَیں نے نہ اُن سے کسی مدرسے میں پڑھا ۔۔ نہ اُنکے کسی بیان میں شرکت کی سعادت حاصل کرسکی ۔۔ پھر بھی وہ میرے اُستاد تھے ۔۔ اِن دو سالوں میں مَیں نے نیٹ پہ اُن کے بیانات اور تفسیر سے اتنا کچھ سیکھا ہے ۔۔ وہ میرے لئیے اُستاد تھے، میرے شیخ تھے ۔۔ اب بھی وہ میرے لئیے مشعلِ راہ ہیں ۔

.

.

مجھے اللہ سے پوری اُمید ہے کہ مولانا صاحب کی شہادت اور قربانیاں رائیگاں نہیں جائیںگی۔۔ جو لوگ اب تک نہیں سُنا کرتے تھے ۔۔ وہ اب سُنیںگے مولانا صاحب کے بیانات اور تفسیر

۔۔ ایک خلقت قرآن کو تھامے گی، اُس پر عمل کرے گی ۔۔ اور اُنکی تڑپ اور اُنکے جذبے کی قدر کرنے والے ، دِین کے اور قرآن کے مزید قریب آئینگے ۔۔ سبکی زندگی میں ، عمل میں نکھار آئیگا، سبکی انفرادی اور اجتماعی کوششوں سے پورا معاشرہ سنور جائیگا۔ آمین۔ 

 

imbajjo Offline
#112 Posted : Sunday, May 13, 2012 11:42:24 AM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 10/13/2010(UTC)
Posts: 1,710
Points: 5,160
Woman
Location: kuwait

Thanks: 33 times
Was thanked: 35 time(s) in 28 post(s)

 

 

 

سبحان اللہ

کیا قابلِ رشک زندگی تھی ۔۔! جہاد  بالقلم ، جہاد بانفس ، جہاد بالعلم ، جہاد باللسان ۔۔

 اللہ اُنکی قبر کی منزل آسان کردے، اُسے کشادہ کردے، اُسے جنت کا باغ بنادے آمین۔ 

http://www.darsequran.com/articles/articles.php

article : a restless man

 

اُنہوں نے دنیا میں اپنے بھیجے جانے کا مقصد سمجھ لیا

 ۔

۔

اور ایک ہم ہیں ۔۔

کب تک بے مقصد زندگی گزاریں گے ۔۔ پتہ نہیں ہمارے کتنے دن رہ گئے ؟

 ہم کیا جواب دیں گے اللہ کو ؟ عُمر کہاں اور کیسے خرچ کی؟ 


imbajjo Offline
#113 Posted : Sunday, May 13, 2012 12:03:05 PM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 10/13/2010(UTC)
Posts: 1,710
Points: 5,160
Woman
Location: kuwait

Thanks: 33 times
Was thanked: 35 time(s) in 28 post(s)

 

 

خُلاصہَ قرآن

http://www.darsequran.com/quran/khulasa.php

..

 

القرآن کورسز سینٹر بہادرآباد

http://www.darsequran.com/bhdbaloch/bhdrabad.php

..


درسِ قرآن کا طریقہ

http://www.darsequran.co...l/darsequran-tariqah.php

..


اور اُنکے خوابوں کی تعبیر ۔۔ مسجدِ توّابین

http://www.darsequran.com/tawwabeen/tawwabeen.php

 

..

اللہ پاک اُن پر اپنی کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے ۔۔ اللہ پاک اُن سے راضی ہوجائے ۔۔ اُنکی مغفرت فرمائے آمین ۔۔ اور ہم سبکو اُنکے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں بھی اُن جیسا باعمل اُمّتی ، باعمل مسلمان بنائے آمین۔ اللہ پاک اپنے دِین کی خدمت کے لئیے ، قرآن کی خدمت کے لئیے ہمیں قبول فرمالے آمین ۔ 

imbajjo Offline
#114 Posted : Sunday, May 13, 2012 1:33:00 PM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 10/13/2010(UTC)
Posts: 1,710
Points: 5,160
Woman
Location: kuwait

Thanks: 33 times
Was thanked: 35 time(s) in 28 post(s)
imbajjo Offline
#115 Posted : Sunday, May 13, 2012 1:38:37 PM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 10/13/2010(UTC)
Posts: 1,710
Points: 5,160
Woman
Location: kuwait

Thanks: 33 times
Was thanked: 35 time(s) in 28 post(s)
imbajjo Offline
#116 Posted : Sunday, May 13, 2012 1:40:34 PM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 10/13/2010(UTC)
Posts: 1,710
Points: 5,160
Woman
Location: kuwait

Thanks: 33 times
Was thanked: 35 time(s) in 28 post(s)
imbajjo Offline
#117 Posted : Sunday, May 13, 2012 1:51:41 PM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 10/13/2010(UTC)
Posts: 1,710
Points: 5,160
Woman
Location: kuwait

Thanks: 33 times
Was thanked: 35 time(s) in 28 post(s)
buttercup Offline
#118 Posted : Monday, May 14, 2012 8:28:50 AM(UTC)

Rank: KP Expert

Groups: Member
Joined: 10/26/2010(UTC)
Posts: 655
Points: 1,991
Location: pakistan

jazakAllah.o.khair bajjo.....Allah pak Moalana sahab ko Jannat.ul.firdose mein jaga anayat karain....aur aap ko jazaey khair dain.ameen
imbajjo Offline
#119 Posted : Wednesday, May 16, 2012 11:17:58 AM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 10/13/2010(UTC)
Posts: 1,710
Points: 5,160
Woman
Location: kuwait

Thanks: 33 times
Was thanked: 35 time(s) in 28 post(s)

 

http://www.darsequran.co...speech_htmls/parah14.php

نَو سال قبل شروع کِیا گیا درسِ قرآن کا یہ نایاب سلسلہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جاری و ساری تھا کہ چودھویں پارے کے اختتام پر پہنچ کر مولانا صاحب مرحوم ہمارا ساتھ چھوڑ گئے

۔۔

 بائیس اپریل کے بعد اُنکی بامقصد زندگی میں  تین اتوار مزید آئے ۔۔ 29 اپریل ، 6 مئی  اور 13 مئی [یقیناً "درسِ قرآن ڈاٹ کام " کی ٹیم اُن دو بیانات کو بھی جلد "ویب سائٹ" پہ "اپ لوڈ" کرنے کی  کوشش میں لگی ہوگی] اُسکے بعد والے اتوار کو تو شام والے "ہفتہ وار" درس کی نوبت ہی نہیں آئی ، [درس میں باقاعدہ شرکت کرنے والے عقیدت مند ہی جانتے ہیں کہ وہ خبر سُن کر اُنکے دلوں پہ کیا گزری ہوگی]  صبح والے "ماہانہ" درس کے فوراً بعد ہی مولانا صاحب نے اپنی جان ، جان آفرین کے سپرد کردی۔

 ۔

لبَّيك اللّٰهم لبَّيك ، لبَّيك لا شريك لك لبَّيك، إنَّ الحمد والنّعمة لك والملك لا شريك لك 

۔

اشھد ان لا اله الَّا اللہ و اشھد انَّ محمَّدا الرَّسول اللہ 

۔

یٰایَّتھا النَّفس المطمئنَّة ۔ ارجعی الٰی ربّك راضیة مَّرضیَّة ۔ فادخلی فی عبٰدی ۔ وادخلی جنَّتی ۔

[سورہ الفجر ۔ آیت 27 - 30]

۔

اللہ اُن سے راضی ہوجائے ، اُنکو بہترین اجر عطا فرمائے آمین

۔۔

 اُنکے پاس بھی روز وہی چوبیس گھنٹے ہُوا کرتے تھے جو اللہ نے ہمکو بھی عطا فرمائے ہیں ..

اُنہوں نے وقت کا کیسا استعمال کیا؟ اور ہم کیسا استعمال کررہے ہیں ؟

اُنکے چوبیس گھنٹوں کا موازنہ اپنے چوبیس گھنٹوں سے کر کے دیکھا تو بڑی شرم آئی مجھے 

وہ تو ایک ایک دن میں کئی کئی مقامات پر درسِ قرآن دیا کرتے تھے ۔۔

اُنہوں نے اپنی زندگی کو قرآن کی خدمت کے لئیے وقف کردیا تھا ,

اللہ کی رضا کے لئیے ۔۔ پوری لگن اور سچے جذبے کے ساتھ 

۔۔

کیا ہم اپنے چوبیس گھنٹوں میں سے ایک گھنٹہ روز تفسیر سننے کے لئیے نہیں مخصوص کرسکتے؟

 

imbajjo Offline
#120 Posted : Wednesday, May 16, 2012 11:57:24 AM(UTC)

Rank: KP Princess

Groups: Member
Joined: 10/13/2010(UTC)
Posts: 1,710
Points: 5,160
Woman
Location: kuwait

Thanks: 33 times
Was thanked: 35 time(s) in 28 post(s)

 

قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کی وہ نعمتِ بے بہا ہے، جسکے ہم پر کئی حقوق ہیں، ہم ان حقوق سے غافل بھی ہیں۔

 ۔ ہماری سب سے بڑی سعادت اور خوش نصیبی ، مقدور بھر قرآنِ کریم سے استفادہ حاصل کرنا ہے-- اور سب سے بڑی شقاوت اور بد نصیبی اس سے اعراض اور اسے چھوڑنا ہے۔ اسلئیے ہر مسلمان پر اسکی فکر ضروری اور فرضِ عین ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب، قرآنِ کریم کو صحتِ لفظی کے ساتھ پڑھیں، اور اولاد کو پڑھانے کی کوشش کریں، اور جسقدر ممکن ہو، اسکے معانی اور احکام سمجھنے اور اُن پر عمل کرنے کی فکر میں لگی رہیں ۔۔ لہٰذہ قرآنِ کریم کو اپنی زندگی کا وظیفہ سمجھیں۔ اور اپنے حوصلے و ہمت کے مطابق اسکا جو بھی حصہ نصیب ہوجائے اسکو اس جہان کی سب سے بڑی نعمت سمجھیں ۔ جزاک اللہ خیراً کثیراً

 

Quick Reply Show Quick Reply
Users browsing this topic
Guest
9 Pages«<45678>»
Forum Jump  
You cannot post new topics in this forum.
You cannot reply to topics in this forum.
You cannot delete your posts in this forum.
You cannot edit your posts in this forum.
You cannot create polls in this forum.
You cannot vote in polls in this forum.