SHOP  |  Join for FREE!  |  Sign In!  |  Submit Recipe!  |  Submit Your Blog

New & Improved Search Helps You Find Even More Recipes & Videos!


Articles >> How To? Recipes > زندگی کو زیادہ آسان کیسے بنایا جا سکتا ہے؟ How to Make Life Much Easier?

زندگی کو زیادہ آسان کیسے بنایا جا سکتا ہے؟ How to Make Life Much Easier?

زندگی کو زیادہ آسان کیسے بنایا جا سکتا ہے؟ How to Make Life Much Easier?
زندگی کو زیادہ آسان کیسے بنایا جا سکتا ہے؟ How to Make Life Much Easier? - Here are basic and more effective ways that you can do that will make your life much easier.
Viewed: 3999
Source:  Yasmeen Khan
2 Ratings
4 out of 5 stars
 Rate It

  • زندگی کو زیادہ آسان کیسے بنایا جا سکتا ہے؟
    ایسے مسائل جو عام زندگی میں انسانوں کو پیش آتے ہیں۔ جن کے باعث افراد زندگی کو مسئلوں سے تعبیر کر لیتے ہیں حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں ہوتی۔ تھوڑی سی کوشش سے ان مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔ کون ہے جو نہیں چاہتا کہ اسے کوئی راہنما مل جائے جو اس کی مشکلات میں صحیح سمت میں اس کی راہنمائی کر سکے۔ ان کو دور کرنے کا راستہ دکھا سکے۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے چند تجاویز اور ہدایات ہیں جو زندگی کے تمام طبقوں کے لئے فائدہ مند ہیں۔ ان تجاویز کی مدد سے آپ اپنے مسائل، دشواریوں اور خطرات پر قابو پانا سیکھ جائیں گے۔ کیونکہ اگر ان مسائل کو حل نہ کیا جائے تو پوری زندگی اور فرد میں ایک کمی رہ جاتی ہے۔

    تشویش سے نجات حاصل کریں
    آپ نے اکثر ایسے لوگ دیکھے ہوں گے جنہیں عموماً کسی نہ کسی معاملے میں فکریں لاحق رہتی ہیں۔ وہ زیادہ تر یہی سوچتے ہیں کہ معاملات بگڑنے والے ہیں۔ گویا تشویش ایک ذہنی رویہ ہے جو ہمیں معاملات کے سلسلے میں ڈراؤنی فکروں سے دو چار رکھتا ہے۔

    اس دور میں عام آدمی اس مرض کا خصوصیت سے شکار دکھائی دیتا ہے۔ تشویش آدمی میں کئی ذہنی اور جسمانی علامتیں اُبھارنے کا سبب بنتی ہے۔ ان باتوں کے علاوہ اس کے ذہن میں "خوف" جاگزین ہو جاتا ہے اور یہ خوف بےحد پریشان کن ہوتا ہے۔ اس سے بری بات یہ ہوتی ہے کہ آدمی اپنے خیالات کو خود ہی روکنے کی کوشش کرتا ہے۔ اوپر سے وہ پرسکون نظر آنا چاہتا ہے مگر اس کے اندر خوف (تشویش) بڑھتا جاتا ہے۔ تشویش سے نجات حاصل کرنے کے لئے مندرجہ ذیل تجاویز پر عمل کریں۔

  • ·         اپنے خوف، خواہشات اور دبی ہوئی ضروریات کو تسلیم کرلیں، ان کی شناخت کرلیں۔ انہیں خود اپنے آپ سے نہ چھپائیں۔

  • ·         خود کو یہ کہہ کر دھوکا نہ دیں"مجھے اس کی کوئی شدید احتیاط نہیں"۔ خواہشات اور محسوسات کو دبانے سے توانائی ضائع ہوتی ہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں"مجھے تو غصہ نہیں آتا"۔

  • ·         جائزہ لیں آپ کی تشویش کہیں فضول اور بے معنی تو نہیں۔ یہ اکیلے پن کے احساس سے تو نہیں ابھری۔

  • ·         ان کاموں میں خود کو تھکانے کی ضرورت نہیں، جو آپ کی تشویش دور کرنے کی صلاحیت نہ رکھتے ہوں، مصروفیات ذرا دیر کے لئے تو تشویش روک سکتی ہے مگر مستقلاً نہیں۔

  • ·         تشویش کو ختم کرنے کے لئے حقیقت پسندی بہت ضروری ہے۔ اسے مکمل طور سے ختم کرنے کی کوشش نہ کریں۔ زندگی میں ہر وقت بے یقینی اور خطرے کا عنصر ضرورت رہتا ہے۔ صرف ان خطرات کو پیش نظر رکھیں جو واقعی حقیقی ہیں۔ تھوڑی سی تشویش ہمیں زندہ رکھنے میں معاون ہے۔

  • ·         ورزش سے بھی تشویش کم ہوتی ہے۔ کم از کم آدھا گھنٹہ ورزش ضرور کیا کریں۔ کوئی ایسا کم کریں جو جسم کو مسلسل ایک خاص انداز میں حرکت دینے والا ہو۔

  • ·         یاد رکھیں تصور میں کوئی بات سوچنا اور چیز ہے اور عملاً کچھ کرنا اور چیز ہے۔ لہذا خوامخواہ کی سوچوں کو اپنے اوپر مسلط نہ کریں۔

  • بوریت سے نجات
    اشیاء افراد یا کام میں دلچسپی نہ ہونے سے ہمارے اندر جو کیفیت پیدا ہوتی ہے اسے بوریت کہتے ہیں۔
    اکثر اوقات ہم اسے متبادل مسئلے کا نام دے سکتے ہیں۔ زیادہ تر یہ موجود مسئلے کی بے کیفی کی بجائے کسی اور اہم معاملے سے کنی کترانے کا نتیجہ ہوتی ہے۔ بہت سے لوگ بوریت کو کوئی بڑا مسئلہ نہیں سمجھتے۔ لیکن اگر اس پر قابو نہ پایا جائے تو یہ بعد میں ڈپریشن کا باعث بن جاتی ہے۔

    بوریت سے نجات کے لئے اپنی قوتوں کو حرکت میں لائیں۔ اپنے بارے میں اپنی رائے کو بہتر بنائیں کوئی ایسا کام کریں جو آپ کو اچھا اور بامعنی لگتا ہو۔ حال پر زیادہ سے زیادہ توجہ دیں۔

    اگر یہ بوریت اس لئے ہے کہ آپ کے اندر کوئی بات اثہار کا راستہ نہ پانے کی وجہ سے پھنسی ہوئی ہے تو اس کا کھلم کھلا اظہار کریں۔ کسی کام میں مشغول ہو جائیں۔ کوئی ذمہ داری قبول کریں۔ اپنی یادداشت میں ماضی کی کامیابی یا کوئی اور اچھی بات ابھاریں اور اس سے لطف اندوز ہوں۔

    کسی ایسی جگہ جہاں انتظار کرنے کا امکان ہو تو اپنے ساتھ کوئی دلچسپ کتاب یا میگزین وغیرہ لے جائیں۔
    اپنے کاموں کے بارے میں سنجیدگی سے منصوبہ بندی کریں۔ اپنی موجودہ احتیاجات کا جائزہ لیں اور اپنے لئے مناسب مقاصد کا تعین کریں۔

    بڑی اُلجھنوں سے نجات
    ہم سب کی زندگی میں چھوٹی بڑی اُلجھنیں آتی ہی رہتی ہیں۔ تاہم ایسی الجھنیں جو فوری اور خطرناک ہوں، اگر رفع بھی ہو جائیں۔ تو زخم کا نشان ضرور چھوڑ جاتی ہیں۔ یہ الجھنیں ہمیں سبق بھی سکھاتی ہیں۔ اکثر دشواریاں شروع میں واقعی بےحد پریشان کن لگتی ہیں۔ تاہم اس سے دل برداشتہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں انسانی دماغ پر ایمان رکھنا چاہیے۔

    اپنے دل کی آواز سنیں
    کل کو فراموش کرکے اپنے حال کے حقائق پر نگاہ ڈالیں۔ اکثر اس عمل سے دشواری سے نکلنے کا کوئی راستہ دکھائی دے جاتا ہے۔ ہمارے بزرگوں کا کہنا تھا کہ کچھ کرنے سے قبل سوچو۔ مگر آج ہمارے لئے زیادہ موزوں یہ ہوگا کہ ہم پہلے محسوس کریں اور محسوس کرنے کے بعد سوچیں۔ آدمی جذبات سے خالی ہوکر حرکت میں نہیں آسکتا۔ عقل اور جذباتیت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔

    ناکامی کے چند اسباب

  • ·         یہ خیال کے رقم کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا غلط ہے۔ اس طرح آدمی عمل ہی نہیں کرتا۔

  • ·         ماضی اور حال کا ٹکراؤ، اس میں ماضی حال کو بھی تباہ کرنے کا باعث بنتا ہے۔

  • ·         ذہنی طور پر متبادل راستہ نکالنے سے رُک جانا۔

  • ·         یہ سوچنا کہ اب حالات قابو میں نہیں آسکتے۔

  • ·         مشکل وقت میں گھبرا جانا۔ کوئی بھی مسئلہ ہو چوبیس گھنٹے سے زیادہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر مت بیٹھیں۔ اسے بدلنے کے لئے کوشش ضرور شروع کردیں۔

  • غیر معمولی مسائل کے حل کی تجاویز

  • ·         مسئلہ جتنا دشوار ہوگا اسی قدر اس کا حل بھی غیر معمولی ہوگا۔

  • ·         زندگی کے مسئلے بھی، ریاضی کے سوالات کی مانند، جوڑنے گھٹانے سے ہی حل ہوتے ہیں۔

  • ·         کیا ضروری ہے؟ اور کون اس میں اہم ہے؟ دونوں کا پتہ کریں۔

  • ·         یہ مت سوچیں کہ جس نے آپ کو دشواری میں ڈالا ہے جان بوجھ کر ڈالا ہے۔

  • ·         کسی کے غلط کاموں کو برا ضرور کہیں اور حقائق کا سامنا کرنے کی ہمت پیدا کریں۔

  • ·         یاد رکھیں ہم میں سے کوئی فرشتہ نہیں۔ اکثر مشکلات غلط فہمیوں سے جنم لیتی ہیں۔ انہیں عمل سے قبل ہی دور کردیں۔

  • پہلے اپنے مسئلے کے سبھی پہلوؤں کو اچھی طرح دیکھ لیں۔ اس میں اچھی طرح ذہنی اور جسمانی طور پر شامل ہو کر دیکھیں۔ خود کو اپنی جگہ سے ہٹا کر دوسروں کی جگہ پر رکھیں۔ اور سوچیں۔ دیکھیں دوسروں کا کردار کس طرح معاملے کو متاثر کر رہا ہے۔ اس کے بعد ماضی کے تجربات اور حالات کو بروئے کار لائیں۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ آئندہ اب سب کچھ ٹھیک ہی نہیں رہے گا۔ یاد رکھیں! مشکلات سے اور طرح بھی نمٹا جا سکتا ہے۔ یا تو آپ مشکلات کو تبدیل کردیں یا پھر خود کو تبدیل کرکے اس کا سامنا کریں۔

    ان تجاویز پر اپنی قوت ارادی سے عمل کرکے ہم نہ صرف ان مشکلات سے نجات حاصل کر سکتے ہیں بلکہ اپنی زندگی کو مزید آسان بنا سکتے ہیں۔ مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں ہر پریشانی اور مشکل کے وقت خدا کی ذات پر بھروسہ کرنا چاہیے اور اس سے تعلق جوڑنا چاہیے۔ کیونکہ یہ روحانی تعلق ہمیں ہر قسم کی ذہنی و جسمانی پریشانیوں اور اُلجھنوں سے بچا سکتا ہے۔

Tried out this recipe? Let us know how you liked it?

Pleasebe judicious and courteous in selecting your words.

Name:
Email:

 
Submit your comments

Comments posted by users for زندگی کو زیادہ آسان کیسے بنایا جا سکتا ہے؟ How to Make Life Much Easier?

  1. Salam! Oh jese bolte he na " Ne Dunya Se Ne Ghar Abad Kar Ne Se, Tasale Dil Ko Hoti He KHUDA Ko Yad Kar Ne Se" agar hum gum khosi kabe be kahi be ALLAH ko yad karte reahe Aur 5 time nemaz ada karna to koy khof nahe ke hum khabi pareshan ho jaye. aur porsakon nend ne aye.

    on Aug 8 2011 1:01PM Report Abuse KHAN

Featured Brands


Payment Methods
Secure Online Shopping