Shop Grocery (USA) | Shop Henna | Shop Spices | Beauty Shop | Join | Sign In | Submit Recipe

New & Improved Search Helps You Find Even More Recipes & Videos!


Articles >> Food Fact articles > Bittergourd (Karela) کریلا

Bittergourd (Karela) کریلا

Bittergourd (Karela) کریلا
The bitter melon (bitter gourd) is the bitterest of all vegetables known to humankind, but it is also the most medicinally effective. It is 10 to 20 cm. long, tapering at the ends and covered with blunt tubercles.
Viewed: 16796
Source:  Raafia
4 Ratings
3 out of 5 stars
 Rate It

  • کریلا (bittergourd) ایک جانی پہچانی سبزی ہے جو پورے برصیغر میں اُگائی اور کھائی جاتی ہے۔ کریلا عموماً دس سے بیس سینٹی میٹر (centimeter) لمبا ہوتا ہے۔ رنگ سبز اور چھلکا واضح قسم کے چھوٹے چھوٹے ابھاروں سے بھرا ہوتا ہے۔ اس کے دونوں سرے مخروطی ہوتے ہیں۔ کریلے کے بیج سفید مگر پکنے پر سرخ ہو جاتے ہیں۔ اور سبزی کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔ ایک کا پھل لمبا اور دوسری قسم کا چھوٹا ہوتا ہے۔ لمبی قسم مستطیل نما (rectangular) اور زردی مائل سبز رنگ کی جبکہ چھوٹی قسم بیضوی (elliptical) اور گہرے سبز رنگ کی ہوتی ہے۔ دونوں قسموں کا ذائقہ کڑوا (bitter) ہوتا ہے۔

  • کریلے کے ابتدائی وطن کا کسی کو علم نہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق یہ نیم استوائی خطے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کی کاشت وسیع پیمانے پر برصیغر جنوبی ایشیا (South Asia)، انڈونیشیا (Indonesia)، سری لنکا (Sril lanka)، ملائیشیا (Malaysia)، فلپائن (Philippine)، چین (China) اور کریسین جزائر میں کی جاتی ہے۔

  • غذائی صلاحیت

  • کریلا کے ایک سو گرام میں 9.4 فیصد رطوبت، 1.6 فیصد پروٹین، 0.2 فیصد چکنائی، 0.8 فیصد معدنی اجزاء، 0.8 فیصد ریشہ اور 4.2 فیصد کاربوہائیڈریٹس (carbohydrates) پائے جاتے ہیں۔ اس کے معدنی اور حیاتینی اجزا میں کیلشیم (calcium) تیس ملی گرام، فاسفورس 70 ملی گرام، آئرن 1.8 ملی گرام، وٹامن سی 88 ملی گرام اور معمولی مقدار میں وٹامن بی (vitamin B) کمپلیکس شامل ہوتے ہیں۔ کریلے کے ایک سو گرام قابل خوردنی حصے کی غذائی صلاحیت 25 کیلوریز (calories) ہے۔

  • شفابخش قوت اور طبی استعمال

  • کریلا اعلٰی قسم کی طبی خوبیوں سے مالا مال ہے۔یہ دافع زہر، دافع بخار، اشتہار انگیز، مقوی معدہ، دافع صفر اور مسہل ہے۔ افریقہ اور ایشیا (Africa and Asia) میں اسے مقامی طریقہ علاج دوا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

  • ذیابیطس

  • کریلا ذیابیطس کیلئے دیسی علاج ہے۔ حالیہ طبی تحقیق کے مطابق اس میں انسولین (insulin) سے مشابہہ ایک مادہ پایا جاتا ہے۔ اسے نباتاتی انسولین (insulin) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ مادہ خون اور پیشاب میں شوگر کی مقدار کم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طبیب شوگر (sugar) کے مریضوں کو باقاعدگی سے کریلے کا استعمال غذا کے طور پر کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ ذیادہ بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے ذیابطیس (شوگر) کے مریضوں کو چار پانچ کریلوں کا پانی روزانہ صبح نہارمنہ پینا چاہیے۔ کریلوں کے بیج سفوف بناکر غذا میں شامل کرنا بھی بہتر ہے۔ شوگر (sugar) کے مریض کریلوں کو اُبال کر اس کا پانی (جوشاندہ) پیئں یا اس کا سفوف استعمال کریں تو شفایاب رہتے ہیں۔

  • شوگر کے زیادہ تر مریض عموماً ناقص غذائیت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کریلا چونکہ تمام ضروری معدنی اجزاء اور وٹامنز (vitamins) بالخصوص وٹامن اے (vitamin A)، بی (1)، بی (2) سی اور آئرن (iron) رکھتا ہے۔ چنانچہ اس کا باقاعدہ استعمال بہت سی پیچیدگیوں سے محفوظ رکھتا ہے جن میں ہائی بلڈپریشر (high blood pressure)، آنکھوں کے امراض، اعصاب کی سوزش اور کاربویائیڈریٹس (carbohydrates) کاہضم نہ ہونا شامل ہے۔ کریلوں کا استعمال انفیکشن (infection) سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔

  • بواسیر

  • کریلوں کے تازہ پتوں کا جوس (juice) بواسیر میں بہت مفید رہتاہے۔ چائے کے تین چمچ پتوں کا جوس (juice)، ایک گلاس میں ڈال کر روزانہ صبح ایک ماہ تک پینا بواسیر کا عارضہ دور کرتا ہے۔ کریلوں کی جڑوں کا پیسٹ (paste) بواسیر کے مسوں پر لگانا بھی مفید ہے۔

  • خون کے امراض

  • خون کے متعدد امراض جن میں فساد خون سے پھوڑے پھنسیاں نکلنا، خارش تر،چنبل، بھگندر، جلندھر شامل ہیں، کا علاج کرنے کے لیے کریلا بہت کار آمد ہے۔ تازہ کریلوں کا جوس (juice) (پانی) ایک کپ (cup)، ایک چائے کا چمچ لیموں کا رس ملا کر صبح نہارمنہ ایک ایک چسکی میں پینا مفید رہتا ہے۔ پرانے امراض میں یہ علاج چار سے چھ ماہ تک جاری رکھنا پڑتا ہے۔ جن علاقوں میں جذام پھیل جائے وہاں کریلوں کا استعمال اس سے تحفظ دیتا ہے۔

  • سانس کی بیماریاں

  • کریلے کے پودے کی جڑوں کو قدیم زمانے سے سانس کی بیماریوں کے علاج میں استعمال کیا جارہا ہے جڑوں کا ملیدہ ایک چائے کا چمچ اسی مقدار میں شہد یا تلسی (honey or tulsi) کے پتوں کا جوس (juice) ملا کر ایک ماہ تک روزانہ رات کو پینے سے دمہ، برونکائٹس، زکام، گلے کی سوزش اور ناک کے استرکی سوزش کا عمدہ علاج میسر آتا ہے۔

  • ہیضہ

  • موسم گرما میں لاحق ہونے والے ہیضہ اور اسہال کے ابتدائی مرحلوں میں کریلوں کے پتوں کا تازہ جوس (juice) شفا بخش دوا ہے۔ چائے کے دو چمچ یہ جوس (juice) ہم وزن پیاز کے جوس (onion juice) اور ایک چائے کا چمچ لیموں کا رس ملاکر مذکورہ امراض میں دینا شافی علاج ہے۔

  • دیگر استعمال

  • کریلوں کو برصیغر اور مشرق بعید میں سالن کے طور پر پکاکر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کی کڑواہٹ کم کرنے کے لیے چھیلا ہوا کریلا نمک والے پانی میں بھگو (soak) دیتے ہیں اور کچھ دیر کے بعد پکانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ کریلے کا اچار (bittergourd pickle) بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ برصیغر میں پکے ہوئے کریلے کے بیج کھانوں کو چٹ پٹا بنانے کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ کریلے کے نوخیز پتوں اور شاخوں کو ساگ کے طور پر پکایا جاتا ہے۔


  • Important Note: The articles presented are provided by third party authors and do not necessarily reflect the views or opinions of KhanaPakana.com. They should not be construed as medical advice or diagnosis. Consult with your physician prior to following any suggestions provided.

More related articles to Bittergourd (Karela) کریلا:

  • Thanks for reading our artilcle about "Bittergourd (Karela) کریلا" filed under Food Fact articles. one of thousands of originally written Articles published exclusively at khanaPakana.com.

Tried out this recipe? Let us know how you liked it?

Pleasebe judicious and courteous in selecting your words.

Name:
Email:

 
Submit your comments

Comments posted by users for Bittergourd (Karela) کریلا

Featured Brands


Payment Methods
Secure Online Shopping