Shop Grocery (USA) | Shop Henna | Shop Spices | Beauty Shop | Join | Sign In | Submit Recipe

New & Improved Search Helps You Find Even More Recipes & Videos!


Articles >> Chefs and Experts articles > اداکاری کا جُنون کی حدتک شوق ہے Acting Is My Passion and Hobby Chef Gulzar

اداکاری کا جُنون کی حدتک شوق ہے Acting Is My Passion and Hobby Chef Gulzar

اداکاری کا جُنون کی حدتک شوق ہے Acting Is My Passion and Hobby Chef Gulzar
اداکاری کا جُنون کی حدتک شوق ہے Acting Is My Passion and Hobby - Special talk of Shazia Anwar with Live@9 cooking expert Chef Gulzar Hussain.
Viewed: 5210
Source:  1-on-1 Interview with Chef Gulzar Hussain From Masala TV
3 Ratings
4 out of 5 stars
 Rate It

  • "مصالحہ ٹی وی" کے معروف کُوکنگ ایکسپرٹ (cooking expert) گلزار حسین کا نام آج کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ہلکے پھلکے انداز میں ناچتے گاتے ہوئے مشکل کھانوں کو آسان بنا کر پیش کرنا ان کا خاصہ ہے۔ ہم ان کی ذاتی اور پیشہ وارانہ زندگی پر کی گئی گفتگو پیش کررہے ہیں، اُمید ہے قارئین کو پسند آئے گی۔

  • کچھ اپنے بیک گراؤنڈ (back ground) کے بارے میں بتائیے؟

  • گلزار حسین: میں 5 اگست 1964ء کو کراچی میں پیدا ہوا۔ میں بہن بھائیوں میں سب سے بڑا ہوں اس لئے گھر والوں کا بےحد لاڈلہ تھا، ہمارا بنیادی طور پر مدراس سے تعلق ہے۔ میں نے ابتدائی تعلیم پیسیڈل (Pacsidal) اسکول ناظم آباد سے حاصل کی، نیشنل کالج نارتھ ناظم آباد سے انٹر کرنے کے بعد جامعہ کراچی سے گریجویشن (graduation) مکمل کیا۔

  • کھانا پکانے کی تربیت حاصل کرنے کا خیال کیوں آیا؟

  • گلزار حسین: میرے والد محمد حسین واپڈا (wapda) میں الیکٹریکل انجینیئر ہونے کے ساتھ ساتھ "ٹاپ ٹیسٹ" (top test) نامی ریسٹورنٹ (restaurant) چلاتے تھے۔ والد کے دباؤ پر میں نے ریسٹورنٹ (restaurant) میں کام کرنا شروع کر دیا۔ ایک دن ایک صارف کی شکایت پر میں نے باورچی کو تنبیہ کی تو اس نے مجھے اُلٹا جواب دیا، اس پر مجھے سخت غصہ آیا اور میں نے گھر جاکر اپنے والد سے کہا کہ میں کُوکنگ (cooking) سیکھنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے میری باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ میں اس حوالے سے اس حد تک سنجیدہ تھا کہ میں نے جاپان کے گنزاٹوکیو ہوٹل (Ginza Tokyo Hotel) میں فوڈ اینڈ بیوریج (food and beverage) کی ڈگری کے لئے درخواست دے دی اور 1988ء میں وہاں اسکالر شپ (scholarship) کا آغاز کر دیا۔ بعدازاں اسی ہوٹل میں میری ملازمت ہو گئی اور مجھے ہوٹل کے توسط سے مختلف ممالک بشمول تھائی لینڈ (Thailand) میں کام کرنے کا موقع ملا۔

  • دیار غیر میں کن مسائل کا سامنا رہا؟

  • گلزار حسین: وہ بڑا تکلیف دہ وقت تھا۔ سب سے پہلے زبان کا مسئلہ درپیش آیا جسے سیکھنے میں ایک سال لگا۔ گھر والوں کی دوری نے پریشان کر رکھا تھا۔ ایسے میں ایک ڈاکٹر نے میرا بہت ساتھ دیا۔ وہ ہفتے اور اتوار کو میرے پاس آنے لگے اور چھ مہینوں تک مجھے خوب گھمایا پھرایا تاکہ میری تنہائی دور ہو جائے یہاں تک کہ مجھے اس ماحول کی عادت ہو گئ۔

  • آپ کی اپنی بیگم روبینہ سے ملاقات کب ہوئی اور کس بات نے شادی پر مائل کیا؟

  • گلزار حسین: روبینہ سے میری ملاقات جاپان (Japan) میں دوران تربیت ہوئی۔ ان کی محبت کرنے والی فطرت نے مجھے اتنا متاثر کیا کہ میں نے ان کا ہاتھ مانگ لیا۔ انہوں نے جواب دینے کے لئے اگلے دن تک کا وقت مانگا۔ میری وہ رات بہت بے چینی میں گزری لیکن اس وقت اس بے چینی کا ازالہ ہو گیا جب ان کی جانب سے مثبت جواب ملا اور یوں 1994ء میں ہماری شادی ہو گئی۔ روبینہ نے اسلام قبول کرلیا اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ مجھ سے بہتر مسلمان ہیں۔

  • وطن واپسی کب ہوئی اور یہاں سفر کا آغاز کیسے کیا؟

  • گلزار حسین: میں 2000ء میں پاکستان واپس آیا لیکن صورتحال اپنے حق میں نہ دیکھ کر واپس تھائی لینڈ (Thailand) چلا گیا۔ 2005ء میں پھر وطن واپس آیا اور پھر "تھائی سی فوڈ ریسٹورنٹ" (Thai seafood restaurant) میں کوآرڈینیٹر (coordinator) کے طور پر کام کا آغاز کیا، تب سے یہیں ہوں۔

  • وطن واپسی کا کیا سبب تھا؟

  • گلزار حسین: جب میں نے اپنی بیٹی 6 سالہ ایمانہ میں کچھ ڈرا دینے والی تبدیلی دیکھی تو یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ اس ماحول میں رہ کر وہ اپنے مذہب اور ثقافت سے دور ہو جائے گی۔ میں نے اپنی اہلیہ سے وطن واپسی کا مشورہ کیا۔ روبینہ مسلم ہی نہیں ہیں بلکہ انہیں مذہب سے بہت لگاؤ ہے۔ وہ بیٹی کے بہتر مستقبل کے لئے فوری طور پر رضا مند ہو گئیں۔

  • میڈیا کے علاوہ کیا مصروفیات رہیں؟

  • گلزار حسین: میں نے بحیثیت کنسلٹنٹ (consultant) کام شروع کیا،اس کا مجھے بہت اچھا ردعمل ملا جس کی وجہ سے میں نے اس سلسلے کو جاری رکھا۔ ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں مجھے سیٹ اپ (setup) بنانے کی آفر (offer) ہوتی ہے لیکن چینل (channel) اور دیگر برانڈ سے وابستگی کے ساتھ دوسرا کام کرنا بہت مشکل ہے۔

  • شوبزنس سے وابستگی کیسے ہوئی؟

  • گلزار حسین: مجھے اداکاری کا جنون کی حد تک شوق تھا۔ میں نے یونیورسٹی (university) کے زمانے ہی میں اسٹیج پروگرام (stage program)، وغیرہ کئے۔ میں نے 18 سال کی عمر میں کچھ کمرشلز (commercials) کئے، خود کو بڑے پردے پر دیکھنے کے شوق نے فلم "سیاست" میں کام پر مجبور کیا۔ شوق بڑھا تو میں لاہور چلا گیا۔ "پلکوں کی چھاؤں" کے لئے آڈیشن دیا اور پاس بھی ہو گیا۔ میں کراچی واپس آیا تو جاپان (Japan) سے میری ٹریننگ کا خط آچکا تھا اس لئے میں وہاں چلا گیا۔ کھانا پکانا سیکھنے کے حوالے سے بھی گھر والوں کی مخالفانہ رائے تھی لیکن انہوں نے بہتر سمجھا کہ میں بجائے اداکار کے شیف (chef) بن جاؤں۔

  • تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر شیف (chef) نہ ہوتے تو اداکار ہوتے؟

  • گلزار حسین: جی، سو فیصد۔ اگر میرا جاپان (Japan) سے بلاوا نہ آتا فلم میں بطور ہیرو کام کر چکا ہوتا۔

  • ہم نیٹ ورک سے کب اور کیسے وابستہ ہوئے؟

  • گلزار حسین:"تھائی سی فوڈ ریسٹورنٹ" (Thai seafood restaurant) کے افتتاح پر سلطانہ صدیقی بھی مدعو تھیں، انہوں نے مجھے مارننگ شو (morning show) کرنے کی دعوت کی۔ اس وقت بات آئی گئی ہو گئی لیکن کچھ دنوں کے بعد ہم ٹی وی سے فون آیا کہ سلطانہ صدیقی ملنا چاہتی ہیں۔ جب میں وہاں پہنچا تو مجھے سلطانہ آپا بورڈ روم میں لے گئیں جہاں مارننگ شو (morning show) کی پوری ٹیم اور کئی کُوکنگ ایکسپرٹ (cooking expert) موجود تھے، طے یہ ہوا کہ ہر شیف (chef) سے ایک، ایک ڈش بنوائی جائے گی۔ چوتھے فلور پر سیٹ لگا کر ہم سب سے ڈشیں بنوائی گئیں اور اسے ریکارڈ (record) بھی کیا گیا۔ چند دنوں کے بعد مجھے مطلع کیا گیا کہ آپ کو مارننگ شو (morning show) کے لئے منتخب کر لیا گیا ہے، یوں میں نے غزل سلام کے ساتھ مارننگ شو (morning show) کا آغاز کیا۔

  • ریسٹورنٹ بزنس (restaurant business) سے دُوری کی کیا وجہ ہے؟

  • گلزار حسین: میڈیا پر آنے کے ساتھ میں نے مائیکروویو کی کُوکنگ ریسرچ کے حوالے سے کام شروع کیا۔ بعدازاں کچھ دیگر برانڈز (brands) کے ساتھ منسلک ہو گیا، مصروفیات کچھ اتنی بڑھیں کہ ریسٹورنٹ بزنس (restaurant business) کی طرف پر توجہ دینا ممکن نہیں رہا۔ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک میرے پاس فرصت نہیں ہو گی اُس وقت تک کسی ریسٹورنٹ کی جانب نہیں جاؤں گا۔ اگر میں ریسٹورنٹ کروں گا تو اس پر بھرپور توجہ دوں گا کیوں کہ نام بنانا مشکل اور گنوانا آسان ہے۔

  • روبینہ کیسی بیوی ثابت ہوئیں؟

  • گلزار حسین: میری توقعات سے بھی اچھی۔ انہوں نے مسائل جھیلے مگر ہمیشہ مثبت سوچ رکھی اور میرا ساتھ دیا۔ مختلف ماحول اور ثقافت کو اختیار کرنا ان کے لئے دشوار تھا لیکن انہوں نے ہمت اور حوصلے سے وقت گزارا۔ اب تو یہ صورتحال ہے کہ مجھ سے زیادہ وہ پاکستان سے محبت کرتی ہیں اور حالات سے خوفزدہ ہونے کے باوجود پاکستان چھوڑ کر جانا نہیں چاہتیں۔

  • مصروفیات گھر پر جھگڑے کی وجہ تو نہیں بنتیں؟

  • گلزار حسین: بالکل بنتی ہیں! میں چھٹیوں میں بھی گھر پر وقت نہیں دے پاتا۔ جب کہ روبینہ کی خواہش ہوتی ہے کہ میں وقت نکال کر باہر کھانے یا گھومنے کے لئے چلوں اور اگر مہینے میں ایک بار بھی میں ایسا نہ کر سکوں تو ناراض ہو جاتی ہیں۔

  • جب اہلیہ ناراض ہو جاتی ہیں تو کیسے مناتے ہیں؟

  • گلزار حسین: پیار محبت سے، تحفے تحائف دے کر میں اُن کو منا لیتا ہوں۔

  • خوشی کے لمحات میں کیا کرتے ہیں؟

  • گلزار حسین: جب میں خوش ہوتا ہوں تو روبینہ اور ایمانہ کے ہمراہ گھومنے پھرنے چلا جاتا ہوں اور ہم خوب لطف اندوز ہوتے ہیں۔

  • اپنی کون سی بات اچھی لگتی ہے؟

  • گلزار حسین: اگر کوئی میری ذاتی زندگی کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے تو میں اس کی بات کو منفی انداز میں لینے کی بجائے اپنا جائزہ لیتا ہوں، اپنی غلطیوں کا محاسبہ کرتا ہوں اور پھر تنقید کرنے والے کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کرتا ہوں۔

  • کھانا پکانے کے علاوہ کن چیزوں کا شوق ہے؟

  • گلزار حسین: مجھے موسیقی (music) سننا بہت پسند ہے۔ مجھے گھر سجانے کا بہت شوق ہے کبھی کبھار میں اکیلے بیٹھ کر بھی بہت لطف اندوز ہوتا ہوں۔ جب میں بہت تھک جاتا ہوں تو پُرانے دوستوں کو بلاتا ہوں، ان کو کھانا کھلاتا ہوں، ہم مل کر رات بھر ناچتے گاتے اور خوب مزے کرتے ہیں۔

  • کیا کھانا پسند کرتے ہیں؟

  • گلزار حسین: میں باربی کیو (BBQ) کھانوں کا بےحد شوقین ہوں۔ سی فوڈز (foods) کھانا اور پکانا دونوں ہی مجھے پسند ہیں۔

  • شو میں ڈانس (dance) کا آئیڈیا کس کا تھا؟

  • گلزار حسین: میرا! میں نے پروگرام کو ہلکا پھلکا انداز دے کر اس میں ڈانس (dance) کو شامل کرنے کا مشورہ دیا اور الحمداللہ جب "لائیو ایٹ نائن" شروع ہوا تو اس نے زبردست کامیابی حاصل کی، اس کی ریٹنگ ڈراموں کے مقابلے کی آئی۔ ڈانس (dance) کا مقصد یہ سمجھانا ہے کہ آپ ہنستے کھیلتے کھانا پکا سکتے ہیں، یہ کوئی بوجھ یا عذاب نہیں ہے۔

  • کیسے والد ہیں؟

  • گلزار حسین: میں سخت گیر ہوں۔ جب تک ایمانہ چھ سال کی تھی اس وقت تک میں اس کے لاڈ اُٹھاتا تھا لیکن پھر میرے مزاج میں سختی آگئی کیوں کہ میں اس کی بہترین تربیت چاہتا ہوں اگر میں ایسا نہ کرتا تو میرا پاکستان آنا بےمقصد ہو جاتا ہے۔ پڑھائی میں رعایت نہیں کرتا۔

  • آپ دونوں کُوکنگ ایکسپرٹ (cooking expert) ہیں، کیا ایک دوسرے پر تنقید کرتے ہیں؟

  • گلزار حسین: ہم ایک دوسرے کے کھانے پر زیادہ نہیں بولتے کیوں کہ دونوں کو پتا ہے کہ ذائقے میں کہاں خرابی ہے۔ ہم ہلکا پھلکا تجزیہ کر دیتے ہیں تاہم کھانے کی تعریف نہیں کرتے۔

  • بیٹی کو شیف (chef) بننے کا شوق ہے؟

  • گلزار حسین: ایمانہ کو شیف بننے کا کوئی شوق نہیں ہے لیکن اگر وہ کچھ پکاتی ہے تو بہت مزے کی بنتی ہے۔

  • کیا زندگی میں کسی بات کا پچھتاوا ہے؟

  • گلزار حسین: میں نے بزنس (business) میں کچھ نقصانات کئے اور کثیر سرمایہ ضائع کردیا جس کا پچھتاوا ہے۔ مجھے والد صاحب کے انتقال پر نہ پہنچنے کا ہمیشہ افسوس رہے گا۔ اُن کی سخت گیری کے باوجود میں اُن سے بےحد محبت کرتا ہوں۔ اُن کی تربیت آج بھی میری زادِ راہ ہے۔

More related articles to اداکاری کا جُنون کی حدتک شوق ہے Acting Is My Passion and Hobby Chef Gulzar:

  • Thanks for reading our artilcle about "اداکاری کا جُنون کی حدتک شوق ہے Acting Is My Passion and Hobby Chef Gulzar" filed under Chefs and Experts articles. one of thousands of originally written Articles published exclusively at khanaPakana.com.

Tried out this recipe? Let us know how you liked it?

Pleasebe judicious and courteous in selecting your words.

Name:
Email:

 
Submit your comments

Comments posted by users for اداکاری کا جُنون کی حدتک شوق ہے Acting Is My Passion and Hobby Chef Gulzar

  1. A-O-A.Gulzar uncle. Your show is very good. Your Dance is very fine.Kindly let me know the diabetic receipe,Thanx

    on Mar 20 2012 11:52AM Report Abuse KHANSA FAROOQ

Featured Brands


Payment Methods
Secure Online Shopping